گزشتہ سال مرزا یاسین بیگ صاحب نے ایک تحفہ مجھے بھیجا تھا اس کے بارے میں اپنا اظہار ِ خیال پیش خدمت ہے : یاسین بیگ صاحب کا ایک پارسل جسے میں سالِ نوء کا تحفہ کہوں گا، وصول ہوا← مزید پڑھیے
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ مذاق پسند نہیں کرتے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان سے بس سنجیدہ بات کی جائے اور جب آپ ان سے پوری سنجیدگی سے کوئی بات کرتے ہیں تو جواباً وہ بھی← مزید پڑھیے
نوید کی زندگی میں سب سے بڑا چھناکا تب ہوا جب کوئی اس کی تنہائیوں میں مخل ہو گیا لیکن یہ انجانے میں نہیں بلکہ مدہوشی کے ایک خاص وقفے کے تسلسل میں جانے بوجھے کو انجانے میں گنوانے سے← مزید پڑھیے
ڈئیر سہیلی صاحبہ! یہ جان کر افسوس ہوا کہ آپ کو میرے فوت ہونے کا کوئی افسوس نہیں ہوا۔ الٹا آپ کو فکر پڑ گئی ہے کہ میں 72 حوروں کو لئیے بیٹھا ہوں۔ اگر 72 حوریں حقیقت میں ملتیں← مزید پڑھیے
اگر کوئی اسے غلو نہ سمجھے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حفاظت اور اسلامی مزاحمت کی معجزانہ پیشرفت میں تین افراد کا کردار بنیادی ہے۔ ایک سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ← مزید پڑھیے
تہذیب زمانوں کی پیداوار ہوتی ہے اور اس میں سانس لینے والی روایتیں ، رسوم، لفظ، محاورے اور ضرب الامثال کسی ایک دہائی یا صدی پر محیط نہیں ہوتیں بلکہ ان کی پیدائش اور تراش خراش کئی کئی نسلوں کا← مزید پڑھیے
ایوو کی ہانگو ( Hong Lu ) ہوٹل مسجد کے امام ابوبکر بہت پیاری شخصیت تھی ۔ بہت ہنس مکھ اور ملنسار ۔ بہت پیاری قرات کرتے تھے ۔ ان کا تعلق چائنا کے سن ڈونگ ( Shang dong )← مزید پڑھیے
ایمپریس مارکیٹ سے چرچ کی طرف جاتی کو رائٹ ہینڈ کو اوزار والا گلی میں مڑنا مانگتا اور پھر فوراً ہی کھبے ہاتھ کو مڑنے کا۔ یہاں ایک لین میں دس بارہ چھوٹے چھوٹے کواٹر ہوتے اور ان میں جو← مزید پڑھیے
“یہ وہ شخص ہے کہ شاید ہی کوئی ہو جو نہ جانتا ہو کہ انعام رانا کون ہے۔ لیکن اس کو مجھ سے بہتر شاید ہی کوئی جان پایا ہو۔ خد و خال میں وہی مماثلت جو آؤٹ آف فوکس← مزید پڑھیے
اب تو خیر وہ کیا ہی جیتی ہو گی اور جو بد قسمتی سے جیتی بھی ہوئی تو کوئی ہزار بار مر کر بھی نہ مانے گا کہ یہ پھونس بڑھیا کبھی اپسرا دیکھتی تھی۔ نہیں !! اب تو کمپیوٹر← مزید پڑھیے
یہ نظم میں نے اپنی موت کے بعد لکھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ سر پھرا ، پاگل تھا وہ اک شخص جس نے دل کے بیت المال سے حاصل شدہ الفاظ کے عمدہ، نمو پرور لہو سے شاعری کی پرورش کی تھی← مزید پڑھیے
مری چشم بینا سے پٹّی تو کھولو مجھے دیکھنے دو یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہاں جنگ کی آگ میں جلتے ملکوں سے بھاگے ہوئے مرد و زن، صد ہزاروں سمندر کی بے رحم لہروں میں غرق ِ اجل ہو← مزید پڑھیے
رودادِ سفر (29) ۔۔شاکر ظہیر/ دو تین دن بعد سردار صاحب بالکل مطمئن ہو گئے کہ وہ تندرست ہو رہے ہیں اور ان کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے کی تکلیف بھی اب بہت ہی کم ہے ۔ یعنی شاید← مزید پڑھیے
رودادِ سفر (28) ۔۔شاکر ظہیر/دو دن بعد سردار صاحب نے پھر شکایت کی کہ انہیں پھر اسی مقام پر کمر میں درد ہو رہا ہے ۔ میں نے نرس کو بلا کر بتایا تو اس نے جواب دیا کہ مسٹر وانگ ( Wang ) شام کو آئیں گے تو ڈاکٹر سے مل لیں گے← مزید پڑھیے
نیکی کر دریا میں ڈال’۔ پہلی بار جب پتن پر دریا دیکھا تو خیال آیا، نیکی کرنے کے لیے کتنا دور آنا پڑتا ہے۔ خیر یہ تو بڑوں کاکام ہے ۔ چلو پہلی بار نیکی دیکھنے کا موقع تو ملے گا۔ میرا خیال تھا لوگ اپنی اپنی جیبوں سے نیکیاں نکال نکال دریا میں پھینکیں گے← مزید پڑھیے
مرنے والے تو سب یوکرینی ہیں، لیکن کوئی یہ بتائے کہ یہ آگ اس ملک میں کس عدو نے لگائی۔۔۔کہ ہے کون جو پھوس کے ڈھیر پرتیل لحظہ بہ لحظ چھڑکتا چلا آ رہا ہے؟ مغربی طاقتوں نےیہ ترغیب دی← مزید پڑھیے
گذشتہ برس کی اس نظم نے کئی دوستوں کو رُلا دیا تھا۔ میں تو اسے بھول گیا تھا لیکن کابل سے آنے والی تاذہ ترین خبروں میں عورتوں کے حقوق کی پامالی اب برداشت کی حد سے آگے بڑھ چکی← مزید پڑھیے
بابا! منصف کا مطلب کیا ہے؟ بیٹا! انصاف کرنے والا اور فیصلہ کرنے والا۔ انصاف لرنے والوں کو لوگ پسند کیوں نہیں کرتے! جب منصف یعنی عادل غلط فیصلے کرے یا جانبداری دکھائے تو پھر لوگ پسند نہیں کرتے۔ یہ← مزید پڑھیے
مصنف: فرانز فینن ترجمہ: سید سجاد باقر رضوی ریویو: ہمایوں احتشام یہ کتاب میری پسندیدہ ترین کتابوں میں سے ایک ہے اور فرانز فینن پسندیدہ مصنفین میں سے ایک۔ فینن کا شاندار کام نوآبادیاتی نظام (Colonialism) اور استعمار (Imperialism) پر← مزید پڑھیے
پرانے زمانے میں، (تم ہی بتاؤ) کہاں تھے یہ مشروب دونوں؟ نہ ’’کافی‘‘، نہ چائے۔۔۔ فقط شوربہ، دودھ، یا سُوپ (بد ذایقہ، بکبکا، ترش، کھٹّا) کبھی گھر کے’’ ـلاہن‘‘کا ’’دس نمبری‘‘ تیز ٹھرّا ‘ یہی سب تھیں پینے کی چیزیں← مزید پڑھیے