زندگی میں کتنا ٹھہراؤ تھا! آہستہ آہستہ رواں دواں زندگی کوئی مسئلہ نہیں، کوئی پریشانی نہیں لیکن ذ ہن کہیں کھویا ہوا اور جسم ہمیشہ تھکا ہوا یہ بے چین سوچیں اور ٹوٹتے ہوئے انگ نہ پھولوں کی مہک، نہ← مزید پڑھیے
صادقہ نصیر کے افسانے پڑھتا گیا مجھ پر یہ منکشف ہوتا گیا کہ صادقہ نصیر ایک افسانہ نگار ہی نہیں ایک ماہر نفسیات بھی ہیں جو بچوں اور عورتوں کے مسائل کے بارے میں ہمدرد دل اور حساس ذہن رکھتی ہیں۔← مزید پڑھیے
بینا نے زندگی کی جمالیاتی قدروں کو بھی سمجھا ہے اور ثقافتی شناخت کے بیانیے کو بھی سمجھا اوراس پر لکھا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہماری دوست بینا گوئندی نے شرق و غرب کی تہذیبی و ثقافتی شکست و ریخت کو جس انداز میں سمجھا ہے← مزید پڑھیے
ہماری کالونی میں جہاں اور بہت سے عرب ممالک کے باشندے رہتے تھے وہاں ایک بہت پیارا سا دوست ، بھائی نجیب بھی جو بہت ہنس مکھ اور دیکھنے میں پاکستانی ۔ بلکہ وہ یہ کہتا کہ مجھے اکثر لوگ← مزید پڑھیے
ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان-تبدیلی؟۔۔سلیم مرزا/مشہور صحافی صداقت علی ناز اور میں موٹر سائیکل پہ جارہے تھے ۔ناکے پہ پولیس نے روک لیا ۔۔اس سے پہلے پولیس والا کچھ کہتا شیخ صاحب نے پوچھا← مزید پڑھیے
ڈاکٹر غلام حسین کا شمار پاکستان پیپلزپارٹی کے ان رہنماوں میں ہوتا ہے جو خود کو نظریاتی کہتے ہیں۔وہ ضلع جہلم کے ایک پسماندہ گاوں چرغمال میں گذشتہ صدی کی چوتھی دہائی میں پید اہوئے تھے۔مڈل تک تعلیم اپنے گاوں← مزید پڑھیے
ستیہ پال آنند صاحب کی خود نوشت ’’نقوشِ پائے رفتگاں‘‘ پہلی بار پڑھی تو یہ قندِ مکرّر تھا کہ اس سے پہلے ان کی سوانح عمری ’’کتھا چار جنموں کی‘‘ پڑھ چکا ہوں اور اس کے حوالے سے کچھ گزارشات← مزید پڑھیے
رمضان کا مہینہ ایوو ( yiwu ) شہر میں اپنی ایک الگ بہار دکھاتا ہے ۔ بلکہ میں تو یوں کہوں گا کہ آپ پاکستان سے باہر نکل جائیں اور کسی بھی غیر مسلم ملک میں چلیں جائیں، رمضان کا← مزید پڑھیے
جنگلی۔۔سیّد ایم زاہد/وہ شادی کے لیے تیار تھی لیکن ساتھ یہ شرط رکھ دی۔ پہلے پہل تو حشمت کو بہت دکھ ہوا کہ وہ اس کی محبت کو اتنی چھوٹی سی بات سے آزما رہی ہے۔ گرچہ یہ اس کی پسند کے خلاف تھا لیکن زمرہ نے واضح الفاظ میں کہہ دیا۔ ← مزید پڑھیے
ایوو ( yiwu ) شہر میں ہمارے ٹیکسلا شہر کے کافی لوگ رہتے تھے اور سارے ہی جان پہچان والے ۔ اکثر ہم ایک دوسرے کی طرف جاتے رہتے تھے اور اکثر اکٹھے کھانا کھاتے ۔ ان میں فاروقی صاحب← مزید پڑھیے
دِیر بالا۔۔ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بُخاری/ہندوکش کے دامن میں دریائے پنجکوڑہ کنارے آباد ایک خوبصورت وادی:اگرآپ کسی نہایت خوبصورت جگہ پہنچ جاہیں تو یہ آپکی قسمت ہے لیکن اگر آپ چند ہفتوں کے وقفے سے اُسی جگہ دوبارہ اور پھر سہ بارہ جا پہنچیں تو یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا← مزید پڑھیے
{ جیف شلز کی کتاب ” نراجیت کا بھوت/ بدروح: ادب اور نراجی تمثالیت” کے حوالے کے ساتھ} Specters of Anarchy: Literature and the Anarchist Imagination , by Jeff Shantz (Author) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نراجیت پسندی{Anarchism} ایک سیاسی نظریہ ہے جو اختیار← مزید پڑھیے
میلا حُسن۔۔افتخار بلوچ/غازی عباس کے اندر بلوچانہ خصوصیات کے تمام دھارے اپنے حسن کے ساتھ موجود تھے۔ علاقے کے شوق و روایت کے عین مطابق اس نے تعلیم کو بڑی جلدی خیر باد کہہ دیا تھا← مزید پڑھیے
رودادِ سفر (21) نومسلموں کی مشکلات۔۔شاکر ظہیر/ ایوو (yiwu) شہر میں اس وقت تک سڑکوں پر گاڑیوں کا ایک ہجوم ہوتا تھا ۔ اور حالت یہ ہوتی تھی کہ بندہ سوچتا کہ گاڑی کی بجائے پیدل ہی جلدی پہنچ جاؤں گا← مزید پڑھیے
تقریباً 27 برس قبل میں نے اُمتِ مُسلمہ کی تاریخ، حالیہ صورتِ حال اور امکانات کے حوالے سے اس عنوان کے ساتھ ایک نظم لکھی تھی جو گزشتہ چند دنوں سے وطنِِ عزیز کی موجودہ صورتِ حال کے حوالے سے← مزید پڑھیے
سرکاری وفد میں شرکت سے پرہیز، حکومتی اداروں سے کتاب چھپوانے سے گریز، درباری انعامات سے نفرت، کتابوں کی رونمائی سے پہلو تہی، عجیب انسان ہے کام سے لگن نمود سے گھبراہٹ. ابھی مَسیں نہیں بھیگی تھیں کہ شاعری اور← مزید پڑھیے
غالب کے۲ اشعار پر ریدکتیو اید ابسردم تکنیک سے استوار کی گئی نظم ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ قافیہ بندی صفحہٗ قرطاس پر بکھرے ہوئے الفاظ نا بینا تھے شاید ڈگمگاتے، گرتے پڑتے کچھ گماں اور کچھ یقیں سے آگے بڑھتے پیچھے← مزید پڑھیے
سوئزرلینڈ کی عورت۔۔عاطف ملک/وہ ایک ادھیڑ عمر آدمی تھا، ادھیڑ عمر اور شرارتی، کلین شیو، سر سے گنجا، بھاری جسم اور مسکراتا چہرہ۔۔جیسے ہی اُس نے بات شروع کی، مجھے علم ہوگیا تھا کہ وہ ایک شرارتی آدمی ہے۔← مزید پڑھیے
سوال مسخ شدہ، بد زیب، اُوپرا چہرہ بد وضعی، بد زیبی کی تزئین میں اجبک کل کا حسن مثالی ۔۔۔آ ج کا بد ہیئت، بے ڈھنگا بول آ ئینے، کیا پیری کا یہی ہے چہرہ؟ جواب حجریات سے باہر نکلو،← مزید پڑھیے
ہمارے ڈائنگ ہال میں ایک مختصر قد و قامت اور جھلسی رنگت کا حامل عیسائی ہندوستانی بھی رہائشی تھا۔ وہ بنگال کے سحر آفریں شہر یعنی دارجلنگ کا باسی تھا اور عموماً وسیع ڈائنگ ہال کے پچھلی جانب، آتش دان← مزید پڑھیے