ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 83 )

سیٹو اور سنی(1 )۔۔شاہین کمال

کبھی کبھی کوئی یاد بجلی کی طرح کوندتی ہے۔ ایسے ہی آج بیٹھے بٹھائے ” سیٹو ” یاد آگئی۔ جاپانیوں کی اصلی عمر جاننا بھی کار دشوار ہے کہ یہ نہایت عمر چور ہوتے ہیں۔ ایسی ہی فنکار سیٹو بھی←  مزید پڑھیے

یادوں کی الماری (2)۔۔ کبیر خان

یادوں کی الماری میں ’’چودہ اُنّی‘‘( ۱۴۱۹) ، پہاپولہ ٹرانسپورٹ اور موٹرسائیکل کو صفحہ در صفحہ ’’ٹاپو ٹاپ‘‘دوڑتے دیکھ کر ایک طرف ہمارے کان بجنے لگے: میری جھانجر چھن چھن چھنکے ، چھنکارا جاوے گلی گلی←  مزید پڑھیے

رودادِ سفر (20) ڈراموں فلموں کے ذریعے کلچر سے واقفیت۔۔شاکر ظہیر

کچھ عرصہ بعد میمونہ جو میری بیوی کی سہیلی تھی نے اپنی رہائش تبدیل کی اور اس کالونی ( duan tou ) تون تھو میں شفٹ ہو گئی ۔ وہ کالونی جس میں وہ پہلے رہتی تھی فانگ چھن (←  مزید پڑھیے

صبر کیا ہے۔۔ڈاکٹر صابرہ شاہین

ہائے۔۔۔سارے رتن چھین کر لے گئی موت کی کپکپی چار جانب، سراسیمگی اک۔۔۔وہی سر پٹختی رہی بال کھولے ہوئے لعل رولے ہوئے گھر کی دیوار و در سے چپک ہی گئی وحشت-دو جہاں رنگ کوئی بھی اب گھر میں باقی←  مزید پڑھیے

نظم/ذکیہ غزل

تن کی سوکھی شاخ سے گرتے پیلے زرد گلاب نین ہمارے ساون بھادوں غم ہووے سیراب یاد کی ٹیس سے ہوویں سارے زخم ہرے شاداب ہڈی ماس کو چاٹے جائے رشتوں کا تیزاب جیون کے چولے سے ادھڑے زردوزی ۔۔کمخواب←  مزید پڑھیے

سلمان رشدی کا ناول ” شالیمار کا مسخرہ “۔۔احمد سہیل

مرقع ذات سلمان رشدی ایک ہندوستانی نژاد انگریزی ناول نگار، نقاداور اشتہاری فلمموں کے اداکار ہیں، جو مشرق اور مغرب کی ثقافتوں کے درمیان نوآبادیاتی دور کے بعد کے تعلقات کے بارے میں شاندار ناولوں کے لیے مشہور ہیں۔ احمد←  مزید پڑھیے

رودادِ سفر (19) ۔۔شاکر ظہیر

ٹرین کا سفر بس کے سفر سے زیادہ طویل اور تھکا دینے والا تھا ۔ ٹرین میں سفر کےلیے بس میں تین گھنٹے گاؤں سے لان زو ( Lanzhou ) شہر ، وہاں چار پانچ گھنٹے کا قیام ، پھر←  مزید پڑھیے

میرا دوسرا وجود۔۔۔ محمد نصیر زندہ

میں عدم سے پہلے ایک آئینہ تھا مجھے تشنہ آرزوؤں کے فریم میں جڑ دیا گیا تشنگی کے دریا میرے ساتھ ساتھ بہتے تھے میں ان کے حصار میں دیدۂ حیرت کی تصویر بن کر رینگتی تمنّا کا عکس تھا←  مزید پڑھیے

آزمائش (افسانہ)۔۔پروفیسر عامرزرین

آزمائش (افسانہ)۔۔پروفیسر عامرزرین/  روزینہ کے لئے یہ ماحول ناقابلِ برداشت تھا۔لیکن اس حا لتِ مجبوری اور بے بسی میں وہ کیا کرسکتی تھی۔یہ فلاحی سینٹر کسی قید خانہ سے کم نہیں تھا۔ لیکن ایک عورت اور وہ بھی بے گھر ہوتے ہوئے ،لیکن یہاں اُسے کسی حد تک تحفظ تھا←  مزید پڑھیے

رودادِ سفر (18) ۔۔شاکر ظہیر

بیٹی کی رجسٹریشن کےلیے تھانے گئے ۔ پہلے تو انہیں سمجھ ہی نہ آئی کہ اس کو کرنا کیسے ہے ۔ پھر فون کیے صوبے کے دارالخلافہ ( Lanzhou ) کہ ہمارے پاس ایک عجیب کیس آ گیا کہ مقامی←  مزید پڑھیے

ایک یادش بخیریا ۔۔کبیر خان

وہ بڑی بھولی بیٹی، سیانی بہن ، سادی ماں، سیدھی بیوی اور انتہائی اکھڑ ڈاکٹر ہیں ۔ کھنگ کھرک ، تاپ دھڑک ، سوُل بیلے اور پیلے تیلے سے لے کر چوٹ چرکے تک ہر درد کا درماں’’وِکس‘‘سے کرتی ہیں←  مزید پڑھیے

رودادِ سفر (17) ۔۔شاکر ظہیر

شادی چائنا میں صرف ایک نکاح پڑھانا نہیں بلکہ اس کی باقاعدہ متعلقہ علاقے میں جا کر رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے ۔ ویسے یہ اب ہمارے ہاں بھی ایسے ہی ہے کہ باقاعدہ نادرا جا کر رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے←  مزید پڑھیے

ملال دروں۔۔شاہین کمال

آنکھیں کھلیں اور ہاتھ میکانیکی انداز میں بیڈ سائیڈ پر پڑے سل فون کی طرف بڑھا۔ تازہ خبروں کی شہ سرخیاں پڑھتے ہی مجھے گویا چار سو چالیس وولٹ کا جھٹکا لگا۔ یہ متوقع تو تھا مگر پھر بھی مجھے←  مزید پڑھیے

ادب کے آئینے میں سائنس داں :ڈاکٹر انور نسیم…..ڈاکٹرافشاں ملک

میرے لیےیہ انکشاف بہت حیران کن تھا کہ بحیثیت سائنٹسٹ بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت قائم کرنے والے ڈاکٹر انور نسیم کو اردو زبان و ادب سے بھی والہانہ عشق ہے اور ان کایہ عشق صرف زبانی کلامی  نہیں←  مزید پڑھیے

روشن خیالی۔۔سید محسن علی

وہ اپنے یار دوستوں کے ساتھ گالم گلوچ کرتا، بازاروں میں خواتین کو تاڑنے اور آوارہ گردی کرنے کے بعد گھر میں داخل ہوا تویک دم سنجیدگی اور بردباری اس کے مزاج میں سرائیت کرچکی تھی۔ اس کی ماں نے←  مزید پڑھیے

رالف رسل-انگریز اُردو دان۔۔/تحریر-پروفیسر عامرزرین

کسی بھی مُلک و قوم یا علاقہ کی زبان وہاں کی تہذیب و تمدن کا ایک اہم جُز تصور کی جاتی ہے۔لسانی اعتبار سے زبان کسی بھی معاشرے میں ایک فرد کے دوسرے فرد سے گفتگو ،رابطہ اور طبقہ کی←  مزید پڑھیے

شادھینتی۔۔شاہین کمال

آدمیوں سے بھرے میدان میں ایسا گمبھیر سکوت کہ سوئی بھی گرے تو دھماکہ۔ وسط میدان میں لکڑی کی ایک سبز پوش میز اور اس پر قرینے سے دھرے قلم دان۔ اس میز کے ساتھ ہی ایستادہ دو سادی سی←  مزید پڑھیے

ہولی (1956)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہر موڑ پہ اک شور سا ہے صبح سویرے رنگوں میں نہائے ہوئے بالوں کو بکھیرے یہ گلیوں میں پھرتے ہوئے رنگین سپیرے اس طرح سے بھی دیکھے ہیں ہولی کے نظارے گلیوں کی منڈیروں پہ یہ بچوں کی قطاریں←  مزید پڑھیے

رودادِ سفر (16)خضر اور چائنیز بابے۔۔شاکر ظہیر

ہم نے رہائش کےلیے ایک چھوٹا سا ایک فلیٹ کرایے پر لیا تھا جو پانچویں  منزل پر تھا ، جس میں مَیں اور میری بیوی رہتے تھے۔ دو چھوٹے چھوٹے کمرے ایک واش روم ، ایک بڑا کچن اور ایک←  مزید پڑھیے

ان کہی بات۔۔سیّد محمد زاہد

اس لاش کو دفنانا آسان کام نہیں تھا۔ رعنائی سے ہم آغوش پرسکون موت سامنے لیٹی تھی۔ جہد مسلسل اپنی معراج کو پہنچ چکی تھی۔ دل کے نقائص اور تقدیر میں لکھے مصائب سے لطف اندوز ہوئی  کبھی بھی اس←  مزید پڑھیے