گونگا( حصّہ اوّل)۔۔افتخار بلوچ/مشین کی گُھر گُھر سے پاس سے گزرنے والوں پر وہ کڑی کیفیت بیت جاتی تھی کہ وہ پھر اُدھر سے گزرنے کا ارادہ ہی چھوڑ دیا کرتے تھے مگر کیا کرتے،ساری فیکٹری کا دارومدار ہی اسی مشین کی کارکردگی پر تھا← مزید پڑھیے
“آئے ہائے یہ اتنی گندی بدبو کہاں سے آرہی ہے۔” باجی نے دروازہ کھولتے کھولتے کہا اور عجلت میں باہر قدم رکھا دوسرے ہی لمحے کراہیت کے شدید احساس کے ساتھ وہ اپنی فینسی سینڈل ہوا میں جھاڑ جھاڑ کے← مزید پڑھیے
سفید کاسہ لہو سے لبریز ہو چکا ہے لہو کے دریا میں تیرتی ہے سفید ٹوپی کسی نمازی کے سَر سے گِر کے! یہ اُس عبادت گزار بندے کی التجا ہے جوحق کا نعرہ بلند کرکے گرا زمیں پر خدا← مزید پڑھیے
مشرف عالم ذوقی ایسے لکھاری تھے جن کے 14 ناول اور افسانوں کے 8 مجموعے شائع ہوچکے ہیں ۔مشرف عالم ذوقی کا فکشن نئی معاشرتی تبدیلیوں ، وقت کے نئے تقاضوں ، گرتی ہوئی اخلاقی اقدار ، ٹیکنالوجی کی یلغار جیسے مسائل پر اپنا نشتر چلاتا ہے← مزید پڑھیے
شادی کے 3 سال بعد لان میں رات کی رانی سے اٹھتی خوشبو سے معطر فضا میں دہکتی لکڑیوں کے آلاؤ کے گرد بیٹھی اپنے مہربان، شفیق اور غمگسار شوہر کے ساتھ ضحی دور آسمان پر چودھویں رات کے چاند← مزید پڑھیے
رودادِ سفر(12) چائینہ:ایوو شہر کے مسلم رہائشی ۔۔شاکر ظہیر/ چائنا کا شہر ایوو ( yiwu ) ایک بین الاقوامی شہر ہے ۔ دنیا کے ہر ملک کا باشندہ آپ کو یہاں مل جائے گا اور ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے ۔ بلکہ چائنا کے ہر صوبے کا باشندہ بھی آپ کو یہاں مل جائے گا ۔← مزید پڑھیے
صفر۔۔نادیہ عنبر لودھی/وحشت میں انسان کاآخری سہارا مذہب ہوتا ہے اور جس کے پاس یہ سہارا نہ ہو تو اس کی داخلی شخصیت ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے ۔ میراں جی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، اُنہوں نے اپنی وحشت کوخود پر طاری کرلیا اور اسی وحشت نے انہیں ختم کردیا← مزید پڑھیے
سیّد فاضل حسین شاہ انہی ہدایت شاہ بخاری ؒ کی دوسری اَولاد تھے۔اَگرچہ کوئی بڑی عالمانہ ڈگری ان کے پاس بھی نہ تھی۔قاریات کاکورس کیاہواتھا۔قرآن پاک اچھاپڑھتے تھے۔زبان پر عجمی لہجے کااَثر تھا۔صوفیانہ کلام یہ بھی بہت خوب صورت پڑھتے تھے۔ذکر و واعظ کی مجالس میں ان سے خصوصی کلام پڑھوایا جاتاتھا۔
← مزید پڑھیے
پا مردی سے کھڑی ہوئی سرکش آبادی اک شطرنج کے مہرے سی پھر ڈٹی ر ہی باغی فوجوں کے رستے میں دیوار اٹھا کر پھر دو طرفہ پسپا ئی میں یہ آبادی (سخت جاں، سرکش آبادی) اس مڈ بھیڑ میں← مزید پڑھیے
بچپن میں جب آس پاس کے لوگ آپ کی تعریف کر رہے ہوں تو آپ کے اندر خود اعتمادی آ جاتی ہے۔ ایک ایسی خود اعتمادی جو آپ کو وقت کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط شخصیت بنا دیتی ہے۔ لیکن← مزید پڑھیے
اس نے جواب دینے کی بجائے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی۔ کاجل نے بات جاری رکھی ”تمہارے میری بہن سے تعلقات کب بنے؟“ ”اس کا جواب دینا ضروری ہے؟“ وہ استفساریہ لہجے میں بولا۔ اسے افسردہ دیکھ کر پھر← مزید پڑھیے
گاؤں میں ہمارے گھر کے صحن میں نیم کا بوڑھا درخت تھا۔ جہاں کبھی دو کالی اور ایک بھوری گائے باندھی جاتی تھیں۔ لیکن بعد ازاں نہ جانے کیوں یہ سب جانور بیچ دیئے گئے ۔ اب گرمیوں کی چھٹیوں← مزید پڑھیے
تنہائی کا خالی سینہ اور باشک ناگ کا دل(1)۔۔سیّد محمد زاہد/کاجل نے کیفے سے باہردیکھا۔ برف پوش وادی چاندنی میں دُھلی ہوئی تھی۔ بل کھاتی لمبی سڑک اورحد ِنظر تک پھیلے سبزہ زار سفید اوڑھنی اوڑھے درد انگیز خاموشی میں ڈوبے ہوئے تھے۔← مزید پڑھیے
رودادِ سفر(11) چائینہ:ایوو شہر کے مسلم رہائشی ۔۔شاکر ظہیر/ جس ہوٹل میں ہماری رہائش تھی ، وہ ایسا ہی پرانا سا ہوٹل تھا جیسے لاہور ریلوے اسٹیشن پر حافظ ہوٹل ۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس کی دو بلڈنگز تھیں← مزید پڑھیے
فکر فی نفسہ (۷)غالب : Short Notes jotted down in India House Library, London, in 1972-73 ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۰ کلکتے کا سفر اگست 26 کو شروع ہوا۔ فروری 28 کو وہاں پہنچ گئے۔ نومبر 29 کو واپس دِلّی پہنچے۔ (ڈاکٹر← مزید پڑھیے
آغا گُل اُردو زبان و ادب کا معتبر نام ہے۔عصر ِ حاضر کے افسانہ نگاروں میں آغا گُل جداگانہ تشخص کا حامل ہے۔یوں تو آغا گُل نے فکشن میں نت نئے تجربات کئے ہیں مگر اس کا اہم ترین پہلو ‘‘ سبالٹرن فکشن’’ ہے۔← مزید پڑھیے
رحیم نے جب گھر میں قدم رکھا تو اس کی بےپناہ حیرت بجا تھی کہ صورت حال اس کی توقع کے عین برعکس۔ میز پر بھاپ اڑاتے اشتہا انگیز کھانے، صاف ستھرا ، قرینے سے سجا بنا نکھرا گھر اور← مزید پڑھیے
اک پھیرا اپنے دیس کا (3)۔۔کبیر خان/عزیزہ کی شادی کی تیاریوں کا نازک ترین مرحلہ آیا تو گھر میں ایک ہنگامی صورتِ حال پیدا ہوگئی ۔ بیگم نے نہار منہ اپنی خدمتِ اقدس میں طلب فرما کر پوچھا: ’’راولاکوٹ میں دیمک پروانی ہے کیا؟‘‘۔ اس پُرسشِ احوال پر ہم کافی گہرائی تک سٹپٹا گئے ۔← مزید پڑھیے
آ تجھ سے کروں بات کہ کیا ہے فنا فی العشق اس نے کہا، سمجھایا تو رومیؔ نے بھی تھا، پر رومیؔ کی کوئی بات سمجھ آتی بھی کیسے رومی ـ کے ہاں تو “عشق” ہے بس ایک جھمیلا ہاں،← مزید پڑھیے
رودادِ سفر(10) چائینہ:اورمچی کی گھٹن زدہ فضا میں قیام۔۔شاکر ظہیر/جیسا کہ گزشتہ قسط میں ذکر کیا تھا کہ چائنا کا ویزہ لگوانے کے لیے راولپنڈی میں ایک ٹریول ایجنٹ سے رابطہ کیا اور ویزہ لگوانے کے لیے ڈاکیومنٹس اس کے حوالے کر دیے تھے۔← مزید پڑھیے