ان گونجتی سرگوشیوں نے کہنے سے زیادہ بولنے پر اُکسایا ،کہا کہ وہ سب بول دو جو ہم جیسی کروڑہا عورتیں ہونٹوں میں دبائے دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں۔ اس کتاب کی تخلیق میں ان سات حساس لیکن نڈر← مزید پڑھیے
وہ شام اسے اچھی طرح یاد تھی جب اس کے ماں بننے کے دن قریب تھےاور وہ اپنےہونے والے بچے کی گود بھرائی کے فنکشن پر آۓ مہمانوں کو رخصت کرکے فارغ ہوئی۔ بہت خوش تھی مگر خاموشی سے← مزید پڑھیے
’’ مگر میں جاننا چاہتی ہوں کہ تم راولاکوٹ کی گلیوں میں جب کسی شریف عورت کو دیکھتے ہو تو پورا منہ کھول کر کیوں دیکھتے ہو ۔؟‘‘ خواتین خواہ لکھائی پڑھائی میں طاق ہوں ، چاہے سلائی کڑھائی میں← مزید پڑھیے
بانجھ کہاوت کی اس بنجر کوکھ کوجب میں چیر کے باہر نکلی تو میں نےکیا دیکھا؟ میں تو اپنے جیسے کئی ہزاروں، آدھےمُردہ، آدھے ِزندہ بچوں کی زنجیر میں خود بھی پڑی ہوئی تھی یہ بچے جو اپنی پیدائش کی← مزید پڑھیے
میں ان لوگوں میں سے ہوں جو نثری نظم کی ترکیب کے خلاف ہیں، لیکن اس عنوان کے سائے تلے ہونے والی بعض تخلیقات کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے شعریت شدت ِاحساس کی تپش سے پگھلی اور اپنے سانچے← مزید پڑھیے
کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی ان کے در کبھی در بدر غم عاشقی تیرا شکریہ ہم کہاں کہاں سے گزر گئے میں نے چائنہ جانے کا حتمی فیصلہ کر تو لیا اور منہ بھی طرف چائنا شریف کر← مزید پڑھیے
سب مل ملا کر نتیجہ شدید سر درد اور طبیعت میں بے زاری اور چڑچڑاپن۔ گھر پہنچی تو نور بےچین، روئے جائے، روئے جائے۔ پیٹ کی مالش بھی کر دی، اسپنج باتھ بھی دے دیا۔ الٹا لیٹا کر ہلکے ہاتھوں← مزید پڑھیے
وہ نیک لڑ کی تھی صلح کل، پاکباز، بے داغ، بھولی بھالی وہ اپنی معصوم نیک چلنی میں لپٹی، لپٹائی باکرہ اک غریب گھر کی کنواری کنیا ذرا سے اونچے، امیر گھر میں بیاہی آئی تو اپنے شوہر کے لڑ← مزید پڑھیے
سکول سے واپسی پر اپارمنٹ کے سامنے میدان میں کار پارک کر کے میری متلاشی نظریں بلی کی کھوج میں تھیں تاکہ لنچ باکس میں اہتمام سے رکھی ہوئی ہڈیاں اور چوتھائی بچی ہوئی سینڈوچ اس کے پیٹ پوجا کا← مزید پڑھیے
’’چھی چھی چھی۔۔۔ میں کہتی ہوں ، بھگیاڑجتنا منہ کھول کر مت دیکھو ، اُوپر والے نے اس کام کے لئے تمہیں یہ بڑی بڑی دوآنکھیں دے رکھی ہیں ۔ بندہِ خدا! گورے کالے، نیلے پیلے براعظموں میں جوتیاں چٹخا← مزید پڑھیے
الجھنوں کے ساتھ جیتے دیکھیں گے تو اس بات کا امکان پیدا ہوگا کہ آپ اس کی فردیت ، اس کی یکتائی ، اس کے چھوٹے چھوٹے دکھ سکھ ، اس کی جنسی زندگی سچائی اور جھوٹ ، اس کی← مزید پڑھیے
سترہ جنوری کی رات حرکت قلب کچھ دیر کے لیے بند ہو گئی۔ میں بستر پر نیم بے ہوش ساکت پڑا رہا ، لیکن پھر ایک جھٹکےسےدل کی دھڑکن استوار ہو گئی۔ اس دوران میں ذہن ماؤف تھا یہ موت← مزید پڑھیے
بچے اسکول گئے تو گھر سمیٹتے سماٹتے گیارہ بج گئے ۔ اپنے لئے چاء بنائی۔ دوسرے گھونٹ پہ ہی یاد آگیا “مجھے تو نہانا تھا ۔؟ کپ وہیں چھوڑکر غسلخانے جاکے ٹونٹی کے نیچے ہاتھ رکھا ۔شکر ہے ۔۔پانی ہلکا← مزید پڑھیے
وہ اتوار کی ایک مصروف صبح تھی۔ میں ڈسٹنگ کر رہی تھی کہ بیڈ روم کی ڈسٹنگ کے دوران میری نظر آنگن میں بیٹھے ہوئے باصر پر پڑی اور یہ کیا! میں وہیں منجمد ہو گئی ۔ باصر کے ہاتھوں← مزید پڑھیے
کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے ہر زمانے میں شہادت کے یہی اسباب تھے تائیوان پانچ چھ سال گزارنے کے بعد وہاں کی حسین یادیں اور کچھ مشاہدات کے ہمراہ میں واپس پاکستان پہنچ گیا۔ ایئرپورٹ پر← مزید پڑھیے
عورتیں زرخیز اچھی لگتی ہیں۔ دادا حضور کو اللہ جنت نصیب فرمائیں آمین، کہا کرتے تھے کہ عورت وہ ہے جس کو اپنا انگوٹھا نظرنہ آئے اور کولہے ایسے ہوں کہ پانی کا بھرا گلاس رکھ دو اور وہ سو← مزید پڑھیے
شکیل عادل زادہ کےفن اور شخصیت پر پاکستان نے کتنا کام کیا ؟ کیا کچھ لکھا گیا ، فن پر ناقدوں نے کیا رائے قائم کی یہ سب میری نظر میں نہیں ہے ۔کتابیں بھی مشکل ہی سے ملتی ہیں ۔ اور یوں بھی آدمی کی دسترس میں تقریر و تحریر کے ابلاغیہ حُسن کا بہ یک رُخ یکجا ہوناخاصہ دشوار ہوتا ہے← مزید پڑھیے
A clip from BBC Urdu 19 جنوری کو تمنا زریابی پریانی کو حقوق نسواں کے احتجاج میں حصہ لینے کے بعد کابل کے پروان-2 محلے میں ان کے اپارٹمنٹ سے ‘گرفتار‘ کر لیا گیا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ ان کی← مزید پڑھیے
مکرو فریب کی ،کشتی لے کر مانجھی ، چھیل چھبیلا، چل منزل ۔ دھن کا پیلا پربت ، رستہ روکے ، نیلا جل سائے میں جوبن کے راہی کاٹ کے اک دوپہر، گیا مُرلی تیرے پیار کی پگلی ، آج← مزید پڑھیے
کہاں ہے سوندریہ کی شوبھا کہاں یوون کی چھوی ہے، مترو؟ (چھوی : chhavi تصویر) نہیں ہے ایسی کوئی سندرتا اُن بچوں میں پھٹے پرانے کپڑے پہنے جو کوڑے کے ڈھیروں میں کومل ہاتھوں سے کاغذ، کانچ ، پرانے کپڑے،← مزید پڑھیے