تائیوان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 60 ہزار کے قریب ہے۔ یہ تعداد اب انڈونیشیا کے ورکرز کی وجہ سے بہت بڑھی ہے اس کے علاوہ جن لوگوں نے وہاں مقامی لوگوں سے شادیاں کی ہیں ان سے بھی مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔← مزید پڑھیے
گیان چند جین کو اردو کا قاری ایک محققق اور ماہر لسانیات کے طور پر جانتا ہے۔ مگر وہ اعلیٰ پائے کے شاعر بھی تھے۔ ان کا ایک شعری مجموعہ ” کچے بول” 1991 میں لکھنؤ سے شائع ہوا ہے۔← مزید پڑھیے
مسکان! میں تمہیں سلام پیش کرتا ہوں خراجِ عقیدت کے لیے اپنا کلام پیش کرتا ہوں بے شک مسکان کی ستائش فرض ہے ہر انسان پر انسانیت کا ایک قرض ہے مسکان کی توصیف کون نہیں کرے گا ایک مظلوم← مزید پڑھیے
خوفناک تھا چلتی پھرتی سڑک کا یہ منظر نامہ کل اکڑوں ہو کر لوگ ، خدا جانے، کس سمت چلے جاتے تھے دیکھے بھالے،جانے پہچانےسب اپنے چلتے پھرتےزندہ پُتلے جُڑے ہوئے ٹکڑوں کے سانچے ہیرو غلیفی گُڑیاوں، گُڈـوں کے ایک← مزید پڑھیے
ڈاکٹرسہیل ایک ایسی قد آور شخصیت ہیں جن کی کسی تحریر ’ کتاب یا تخلیق پر اپنی رائے کا اظہار کرنا اسی طرح مہماتی کرشمہ ہے جس طرح ان کی تحریریں، کتب، اور دیگر تخلیقات بذات خود تخلیقی مہماتی کرشمے ہیں۔← مزید پڑھیے
تائیوان میں لوگ اپنے الگ رسوم ورواج رکھتے ہیں ، عقائد یا صرف نام کی حد تک ہی مسیحیت کے پیروکار ہیں ۔ بہت سے لوگ چرچ جاتے ہیں اور دعا میں بھی شریک ہوتے ہیں ۔← مزید پڑھیے
بہت سے رت جگے جھیلے بہت آہ وبکا میں وقت گذرا غم پرستی کے سیہ حُجرے میں پہروں بیٹھ کر روئے صنم پوجے ملال و حُزن کے ان بُت کدوں میں، جو سخن کے بُت تراشوں اور غزل کے آذروں← مزید پڑھیے
مجھ سے تیرا کیا جھگڑا ہے، کیوں رکھتا ہے بیَر کیوں رکھتا ہے بَیر، مانگ تُو میرے سر کی خَیر پاپ پُن سے بیگانہ ہوں میں اک بھولا بالک میں اک بھولا بالک بھیّا، تُو میرا لے پالک تُو مُنشی،← مزید پڑھیے
ایک دن جب عالم ِ ارواح میں بیٹھے ہوئے ایون” کے شاعر ’شیکسپیئر‘ نے یہ پوچھا جارج برنارڈ شاء سے” اے مسخرے ، کیا تو نے غالبؔ کو پڑھا ہے؟ مسکرایا جارج برنرڈ شا ۔۔۔ بولا ہند کے اس شاعر← مزید پڑھیے
طوفانوں کے ٹلنے میں، موسم کے بدلنے میں اِک سوزِ دروں رکھنا، آنکھوں میں نمی رکھنا تائیوان کے شہر hualien کے ریلوے سٹیشن پر اُترنے کے بعد میں اور فاروقی صاحب نے ٹیکسی پکڑی اور مختلف سڑکوں سے گزرنے کے← مزید پڑھیے
یہ تین دن بڑے بھاری ہیں مجھ پہ جانتا ہوں مجھے یہ علم ہے، تم میری کجروی کے لیے مری حیات کا اعمال نامہ پرکھو گے برائیوں کا ، گناہوں کا جائزہ لو گے میں جانتا ہوں فرشتو کہ مجھ← مزید پڑھیے
گذشتہ دنوں فرصت نصیب رہی اور موبائل سے دوری بھی رہی اسی واسطے کچھ کتابیں پڑھنے کا وقت ملا۔ انہیں کتابوں میں سے ایک کتاب کا ذکر کرنا چاہوں گا جو تاریخ کی انوکھی کتاب ہے جس میں کہانی، افسانے← مزید پڑھیے
میری زندگی کی سب سے پر مسرت گھڑی جب میری گڑیا ، میری گیتی اس دنیا میں آئی تھی۔ یہ پہلی چیخ اولاد کا واحد وہ “رونا” ہے جس پر ہر ماں ہنستی ہے۔ گیتی میری تتلی تھی، میری گوریا← مزید پڑھیے
یہ نظم 1972 میں لکھی گئی، یعنی لگ بھگ نصف صدی پیشتر۔ کنوارے جسم پر اک گیلی ساڑھی بیاہے ہاتھ میں پوجا کی تھالی کھنکتی پائلوں میں لاکھ نغمے شوالے کو چلی جاتی تھی ناری میں کچّا تھا، بہت نادان← مزید پڑھیے
تمہاری پہلی چیخ مانو میری زندگی کی تجدید تھی۔ تمہارا سارا پہلا پل مجھے یاد ہے۔ وہ تمہارا پہلا دانت ہو ،پہلا قدم یا اسکول کا پہلا دن، سب ابھی بھی میری یادداشت میں جھلملاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد← مزید پڑھیے
بیگم کے آپریشن کے بعد میرا خیال تھا کہ ڈاکٹر ان کو شام کی واک منع کردے گا ، مگر انہیں پھر سے سیر کرنے کا لکھ دیا گیا ۔ “بیگم کی بلا، شوہر کی ٹنڈ ” چنانچہ میں وہ← مزید پڑھیے
اس میں شک نہیں کہ ہمارے ہاں برصغیر پاک وہند میں استشراقی افکار ، ان پر تنقید ، اور ان کی سنجیدہ تحقیق کے حوالے سے جو کام ہوا ہے وہ اس تحریک کے منفی اثرات اور اس کے دیرپا خطرناک نتائج کے مقابلے میں نہایت محدود ہے۔
← مزید پڑھیے
صبح ہی صبح سَلو سے منہ ماری ہو گئی۔ میں لکڑی کے چولہے پر چائے چڑھا کر، شاہو کو جھگی کے پاس نالی پہ بیٹھا کر فارغ کروا رہی تھی کہ چائے اُبل گئی، بس اسی بات پر جھگڑا بڑھ← مزید پڑھیے
جاوید خان ایک پریشان روح ہے۔ کس کی ہے؟ کم ازکم میری تو نہیں ہے۔یہ ‘‘پکّی پروہڑی’’ روح ہے۔جواپنے ہم عصروں کی تلاش میں بھٹک رہی ہے۔ اس کا رخ شمال اور شمال مغرب کی طرف ہے← مزید پڑھیے