(ایک) صحن میں رینگتی، مسکین سی، مَیلی سی دھوپ اور منڈیر پر اِک کوّے کی کائیں کائیں عود، اگر بتّی جلاتا ہوا بوڑھا پنڈت زیرِ لب باتوں میں مصروف کچھ گاؤں کے لوگ سر کو نیوڑھائے ہوئی عورتیں دالان کے← مزید پڑھیے
چلو دفنا ہی آتے ہیں چلو دفنا ہی آتے ہیں محبت کے حسیں لاشے کو صدیوں سے پڑا سڑتا ہے۔۔۔۔ چوراہے ۔۔پہ اب بھی ، جو۔۔۔ یہ چوراہا کہ جس کے سارے رستوں پر فقط اک لوبھ ، لالچ اور← مزید پڑھیے
گیسوؤں کے سائے میں آرام کش سر برہنہ زندگی تھی، میں نہ تھا دیر و کعبہ میں “عدم” حیرت فروش دو جہاں کی بدظنی تھی، میں نہ تھا فلپائن سے تائیوان جانے کے لیے منیلا ایئرپورٹ پہنچے, میں اور فاروقی← مزید پڑھیے
گونجتی سرگوشیاں میں بظاہر سات افسانہ نگار شامل ہیں مگر تخلیقی رویئے سات سے زیادہ تشکیل پا گئے۔ ابصار فاطمہ کا تخلیقی برتاؤ حقیقت اور خواب کے مابین ہے، وہ اپنی کہانی کے خدو خال حقائق کی دھجیاں اکٹھی کر کے بناتی ہیں← مزید پڑھیے
ادب کی تعریفیں وسیع پیمانے پر مختلف ہوتی ہیں، اگر عام طور پر روایتی طرز کی تعریفوں سے خلاصہ کیا جائے: "ابتدائی شاعری اور کہانیاں آج کے دور میں کہانیاں اور خیالات اور نظریات بتاتی ہیں۔← مزید پڑھیے
غیر مسلم معاشرے میں جہاں رومن کیتھولک کی اکثریت ہے ، یہ لوگ کیسے زندگی گزارتے ہوں گے اور ان کی آئندہ نسلیں کیسے اپنی مذہبی اور تہذیبی روایات کو برقرار رکھیں گی؟← مزید پڑھیے
میں اب پچاس کے پیٹے میں ہوں مگر وہ فقط پانچ سال کا ۔ہیپی برتھ ڈے میرے دوست ۔میں نے جھک کر اس کی قبر پر اس کی پسندیدہ ڈِنکی رکھتے ہوئے کہا ۔← مزید پڑھیے
ریت کے ٹیلے تھے، سوکھی کائی تھی پانی اُترتا جا رہا تھا ہر طرف اک مضمحل ، بیمار سی بوُ تھی ہوا میں آنے والی شام کی گہری اداسی اور گہری ہو رہی تھی برق پا ہِرنوں سے کالے، گیلے← مزید پڑھیے
آج کا کالم کچھ کتابوں سے سجاؤں گا’ایسی کتابیں جو رواں ماہ ڈاک سے موصو ل ہوئیں ۔آج صرف تین کتابوں کا ذکر کروں گا’ایک سنجیدہ شعری مجموعہ اور دو مزاح نامے۔
← مزید پڑھیے
انسان دنیا کی مخلوقات کے لیے اجنبی ہے کیونکہ یہ کسی اور سیارے سے آیا ہے ۔یہ اجنبی جب پہلی بار اس اجنبی سرزمین پر آسمان کی کھڑکی سے نیچے پھینکا گیا تو اسے بقول اقبال کہا گیا : کھول← مزید پڑھیے
سنو غور سے سنو کیا تمہیں سوکھے پتوں کے چرمرانے کی آواز آ رہی ہے! دیکھو غور سے دیکھو وہ دور چیختی ہوئی اک لڑکی کسی لاش سے لیپٹی رو رہی ہے! محسوس کرو زمین کے سارے رنگ اڑ گئے← مزید پڑھیے
مجھے وقت کی پابندی کرنے کے لیے نہ کہا جاتا تو میں توفی البدیہہ تقریر کرنے اور شعر گھڑنے کا ماہر ہوں، لیکن ڈاکٹر ظفر اقبال ایک کائیاں شخص ہیں۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ آنند صاحب آپ سے ایک شکا یت ہے، آپ جب زبانی بولتے ہیں، تو اگر آپ کو کوئی نہ ٹوکے تو آپ مسلسل بولتے چلے جاتے ہیں۔← مزید پڑھیے
ایک جاپانی لڑکی سے ملاقات ہوئی جو شمالی علاقہ جات سے واپس آرہی تھی اور مردوں کے سفر کے دوران پیش آنے والے رویے پر افسوس کر رہی تھیں ۔ میں نے اس سے بات چیت شروع کی اور بات یہ کی کہ آج یہ سب لوگ اچھے اور بُرے اعمال کر رہے ہیں کسی کا اسے صلہ مل جائے گا اور کچھ رہ جائیں گے اور جو صلہ ملے گا وہ بھی کیا اس کے عمل کے مطابق ہو گا ؟← مزید پڑھیے
بانو قدسہ کے دولازوال کردار”خالدہ ریاست اور افضال احمد” مرد: تم اپنے انجام سے واقف نہیں ہو۔ تم مرد بننے کی کوشش کر رہی ہو۔ حالانکہ تمہارا اصلی مقام عورت ہونے میں تھا۔ عورت: وہ تو اُس صورت میں ہوتا← مزید پڑھیے
چند دِن اُدھر کا ذکر ہے، ہم نے لاہور کے سماگ سے اپنی بیگم کے سہاگ کو مردانہ وارکھینچ دھروکرلا جامشورو کی ریتلی ہوا میں پٹخا ہی تھا ، سانسیں ابھی تک بے قابو اور سماعتیں ہنوز بے ترتیب ہی← مزید پڑھیے
متحرک سائے(1)۔۔شاہین کمال/بیشتر لوگ بڑھاپے کی تنہائی سے خوفزدہ رہتے ہیں جبکہ بڑھاپے کی انجمن آرائی الگ ہی ہے۔ فارغ وقت زندگی کے ہر گوشے میں فراخدلی سے جھانکنے کی سہولت فراہم کرتا ہے کہ کسی نے آنا نہیں اور ہم نے کہیں جانا نہیں گویا← مزید پڑھیے
سفر ہم ٹرین سے ہی کرتے تھے۔ بعض اوقات ان ٹرینوں میں جب میں اکیلا غیر ملکی ہوتا، تو پاس بیٹھے چائنیز میں سے کوئی نہ کوئی اسلام کے متعلق اپنے تبصرے سے ضرور نوازتا ۔ چائنا کے زیادہ تر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ مسلمان بہت جھگڑالو ہیں، مذہب کے نام پر پوری دنیا میں قتل عام اورغارت گری مچا رکھی ہے← مزید پڑھیے
(اپنی جوانی کے نام) تو۔۔۔۔۔تو تم جا رہی ہو۔۔۔ مجھے خیر باد کہنے کیلئے ہاتھ ہلا رہی ہو، جس دل میں تم رہتی تھی اسی کو توڑ کر جا رہی ہو، جس گھر میں تم بستی تھی اسے چھوڑ کر← مزید پڑھیے
‘‘مولاچھ’’-ایک خوبصورت پہاڑ ی ناولٹ۔۔قمر رحیم خان/انسان نے کم و بیش تین ساڑھے تین ہزار قبل مسیح میں مٹی سے اعدادو شمارکی باقاعدہ شکلیں بنانے کا آغاز کیا۔پھر ان شکلوں کو مٹی کی تختیوں پر منتقل کیااورایک وقت ایسا آیا کہ ان شکلوں نے حروف تہجی کی معراج حاصل کر لی۔← مزید پڑھیے
(الف) اردو میں افسانہ ایک طویل سفر کر تے ہو ئے داخل ہو ا ۔ حکا یات ، اساطیر ، مثنو ی ، داستان ، اور پھر نا ول کے بعد افسانہ اپنی جگہ بناتا ہے ۔ کہا جا تا ہے کہ ضرورت ایجا د کی ماں ہو تی ہے ، لہذا یہ ایجا د اس وقت کی ضرورت تھی ۔ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ افسانہ (short story) ضرورت کیسے ہو سکتا ہے۔؟← مزید پڑھیے