ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 89 )

اثر گرمیٔ رفتار۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

خارہااز اثر گرمی رفتار می سوخت منّتے ہرقدم راہ روانست مرا (غالب) شعر کا آزاد ترجمہ کچھ یوں ہے: میری تیز روی کی حدت نے راہ میں بکھرے ہوئے کانٹوں کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔ اس لئے اب←  مزید پڑھیے

عمر گزار دیجیے! عمر گزار دی گئی۔۔علامہ اعجاز فرخ

عابد شاپ دراصل یوں مشہور ہو گئی  کہ آصف سادس نواب میر محبوب علی خان کے دور میں ایک یہودی مسٹر عابد نے یہاں ایک دوکان کھولی تھی جس میں ضرورت کی ہر چیز مل جاتی تھی، یوں کہیے کہ←  مزید پڑھیے

عورت ہو ں نا۔۔عارفہ شہزاد/ تبصرہ :رابعہ الرَبّاء

" عورت ہو ں نا۔۔۔" چند ما ہ قبل یہ کتا ب ملی ، لکھا تھا ‘‘ پیاری رابعہ کے لئے،، ۔ دیکھ کر ایک لمحہ کو خاموشی میرے اندر طو اف کر نے لگی ۔ خو د کلامی سی ہو ئی‘‘ عارفہ سے مجھے کم از کم یہ امید نہیں تھی۔ جس عارفہ کو میں جا نتی تھی ، وہ تو ایسی نہیں تھی۔  ←  مزید پڑھیے

عبداللہ حسین-ایک ادھو ری ملا قا ت کی کہا نی۔۔رابعہ الرّباء

عبد ا للہ حسین بھی ایک ایسا ہی د نیا وی کر دار تھا۔جو اس دنیا میں مو جود ہو تے ہو ئے بھی مو جو د نہ  تھا۔اس کی ایک اپنی کا ئنات تھی جس میں وہ مقیم نظر آتا تھااور یہ کا ئنا ت اتنی وسیع تھی کہ عا م انسان  کی دستر س ودانست سے ذرابا ہر تھی۔←  مزید پڑھیے

محمد نصیر زندہ کا کلام فکر و فن کے آئینے میں۔۔۔ سید شاہ زمان شمسی

غزل کے مختلف لہجوں اور فکر و احساس کی نئی نئی صورتوں کے باوصف محمد نصیر زندہ کی غزل گوئی کلاسیکی شعراء کے زمانے سے لے کر دورِ حاضر تک مختلف رجحانات کی عکاس ہے۔ وہ کلاسیکیت کے پیرہن میں←  مزید پڑھیے

برص زدہ، بدصورت چہرہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہم فاسق، فاجر ہیں، مولا ہم عاصی، بدکار ہیں، لیکن ہم تیرے بندے ہیں، مالک ناقص، اسفل، خطا کار ہیں نا بکار، آثم، بے تائب لیکن تیرے روپ کے داعی ہم تیرے ہی جنم جات ہیں ولی، سنت ، صوفی←  مزید پڑھیے

“لاہور- ڈھاکہ- کراچی؛ ایک کتابچے کا سفر نامہ”۔۔انور اقبال

ریگل صدر کراچی میں پرانی کتابوں کا بازار جو ہر اتوار کو سجتا ہے وہاں ہم جیسے کچھ کم علم بھی قلیل رقم میں علم کی پیاس بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ فُٹ پاتھی←  مزید پڑھیے

لیے پھرتا ہے قاصد جابجا خط(4)۔۔عاصم کلیار

پتی بھگت بانو آپا لاہور شہر میں”داستان سراۓ”کے نام سے کچھ عرصہ پہلے تک ایک گھر موجود تھا مجھ جیسے تازہ واردانِ بساط ادب ایک زمانے میں اس کے سامنے سے گزرتے ہوۓ کن اکھیوں سے آدھ کھلے گیٹ کے←  مزید پڑھیے

جونک۔۔شاہین کمال

اس وقت میں دنیا سے بیزار اور بور ترین شخص ہوں۔ گو میرے چاروں طرف کھلکھلاتے، چہکتے لوگوں کا مجمع ہے ۔ بھئ اب دلوں کے بھید تو اللہ ہی جانے ، پر بظاہر سب ہی کی باچھیں چری کھلیں←  مزید پڑھیے

نصیر زندہ، رباعی زندہ۔۔۔ رحمان حفیظ

صورت گری ارتباط سے ہوتی ہے ہر بودنی اختلاط سے ہوتی ہے کھلتا ہے نشاطِ غم سے ایجاد کا در تخلیق غمِ نشاط سے ہوتی ہے رباعی کے بارے میں عموماً اوّلیں خبر یہی نشرکی جاتی ہے کہ رباعی لکھنا←  مزید پڑھیے

کھڑکی میں سایہ۔۔ڈاکٹر صابرہ شاہین

سال نیا آیا ہے دیکھو دیکھو اپنی کھڑکی کھولو روشنی کی بارات سجے گی جھومر ڈالو کہ ّپتوں پر شبنم کچھ ایسے چمکے گی جیسے بس اک سال کے بچے کے ہونٹوں پر رال کی چمکی چمکے گھر کی کچی←  مزید پڑھیے

یک سنگھے- ہاروکی مورا کامی/تبصرہ:ربیعہ سلیم مرزا

جو ہم سوچتے ہیں،یا لکھتے ہیں، وہ انہی خیالوں کی کاپی پیسٹنگ ہے جو اس سے پہلے سوچے جاچکے ہیں ۔ المیے اور خوشیاں ہر خطے کے سماجی رحجان کی وجہ سے مختلف تو ہو سکتے ہیں،مگر لکھنے والوں کے←  مزید پڑھیے

اومیکرون کی بیٹیاں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پچھل پیریاں ہیں، چڑیلیں ہیں ، کیچڑ میں دھنستی ہوئی اپنی ماہواریوں تک ! انہیں کیمائی گِل و آب میں آج دھنسنے نہ دو ، اے عزیزو کہ یہ کِشت و خوں کی مشینیں ہیں قدرت کی بھیجی ہوئی اس←  مزید پڑھیے

تکمیل(افسانچہ)۔۔شاہین کمال

میرے میاں بڑے جانے مانے انٹلکچول ہیں۔ ایک دنیا ان کی گرویدہ و شیدا، خاص کر خواتین میں تو وہ بے حد مقبول و پسندیدہ ۔ ہمارے تین بچے ہیں اور میں سر تا پا گھریلو ذمہ داریوں میں غرق۔←  مزید پڑھیے

لیے پھرتا ہے قاصد جابجا خط(3)۔۔عاصم کلیار

احمد بشیر ایک ہنگامہ خیز شخصیت کے مالک تھے حکمران وقت سے لے کر عالم ِ دین تک کے ساتھ وہ چونچیں لڑا کر خوش ہوتے ،ان کو متنازع  بننے کا تو ہرگز کوئی شوق نہیں تھا مگر وہ اپنے←  مزید پڑھیے

یقین و ایمان۔۔عارف خٹک

ہسپتال کاؤنٹر پر دو لاکھ جمع کرواتے ہوئے میرے ہاتھ کپکپانے لگے۔ ریسیپشن پرموجود لڑکے نے جلدی جلدی کمپیوٹر انٹری کرکے مجھے وصولی کی رسید تھما دی اور میرے بقایاجات کا بل بنانے لگا۔ میں تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر←  مزید پڑھیے

ایک طرحی غزل۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 ( کینیڈا میں یوم ِ غالب پر اطہر رضوی صاحب کے سالانہ جلسے میں دس بر س پہلے، یعنی 2012 میں پڑھی گئی) مصرع طرح: ہماری زندگی کیا اور ہم کیا ہے یہ بے فیض انساں کا جنم کیا ہماری←  مزید پڑھیے

کیا مولوی نذیر احمد کا ناول ” ایامیٰ” شعوری رو سے پہلا اُردو ناول ہے؟ ( پس منظر اور ایک تفہیمی تاثر)۔۔احمد سہیل

ایامیٰ نذیر احمد کا چھٹا ناول ہے  ۔یہ ناول 1891ء میں منظر عام پر آیا ، اس ناول میں انھوں نے  ایک شرعی مسئلےسے متعلق عدم تعمیل کی بنِا پر پیدا شُدہ سماجی تشدد کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول←  مزید پڑھیے

کربلا سے بچھڑے ہوئے سپاہی۔۔عامر حسینی

بیگم نصرت بھٹو سے بی بی شہید کو کربلا ورثے میں ملی تھی اور جب اس کربلا تک جانے والے امام مظلوم کے لشکر کا بچھڑا سپاہی “ذوالفقار علی ” راولپنڈی کے کوفے میں سولی پہ چڑھا دیا گیا جو←  مزید پڑھیے

کیڑا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(خواب میں خلق ہوئی ایک نظم) اپنے اندر اس طرح داخل ہوا وہ جیسے رستہ جانتا ہو جیسے اس بھورے خلا کی ساری پرتوں کو کئی صدیوں سے وہ پہچانتا ہو اپنے اندر دور تک جانے کی کیا جلدی ہے←  مزید پڑھیے