ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 92 )

عمر رفتہ کی ایک یاد دل گداز/ماسٹر نذیز۔۔شاہین کمال

محمد پور میں بھلا ماسٹر نذیر کو کون نہیں جانتا تھا۔ وضع دار، خوش اخلاق، دبلے پتلے سرو قد،گندمی رنگت والے ماسٹر نذیر ۔ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے لٹھے کا خالتہ پائجامہ اور کالی دھاری دھار شیروانی،←  مزید پڑھیے

ہجوم۔۔سیّد محسن علی

معاشی اور سماجی بوجھ کاوزن اپنے کاندھوں پر اٹھائے مفلوک الحال لوگوں کا ایک ہجوم شہر سے گزر رہا تھا۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر کھلے گٹروں کے بہتے گندے پانی سے وہ بچتے اور ان معصوم بچوں کو یاد کرکے←  مزید پڑھیے

مجھے میری محبوبہ سے بچاؤ۔۔احمد شہزاد

مجھے میری محبوبہ سے بچاؤ۔۔احمد شہزاد/  محبوبہ تو محبوبہ ہوتی ہے چاہے جیسی بھی ہو۔ کچھ ناز نخرے دکھاتی ہیں اور کچھ ناز نخرے اٹھاتی ہیں، پر ہمارے والی تو انوکھی اولڑی بلکہ وکھری ٹائپ کی ہے۔ کوئین بننے کا بڑا شوق ہے لیکن پکی ”سیاپا کوئین“ ہے یعنی محبوبہ کم ماسی مصیبتے زیادہ ہے۔←  مزید پڑھیے

سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار/ قسط 8۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار کی آٹھویں قسط کا آغاز شہر سلطان کے سید اللہ وسایا بخاری جنہیں دنیائے ادب مہجور بخاری کے نام سے جانتی ہے کے شعر سے کرتے ہیں کہ: پاڑیے سویچ ویندن اے وی امید ہے←  مزید پڑھیے

ڈرامہ رائٹر و ڈائریکٹر فصیح باری خان کے ساتھ ایک نشست

ڈرامہ رائٹر و ڈائریکٹر فصیح باری خان کے ساتھ ایک نشست/  فصیح باری خان کو اگر میں دورِ جدید کا سب سے نڈر ڈرامہ رائٹر کہوں تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ ایک وقت تھا جب اس نام کو بہت کم لوگ جانتے تھے، لیکن آج یہ نام فلمی حلقوں سے باہر بھی جانا پہچانا نام بن چکا ہے۔←  مزید پڑھیے

محبت ایسا دریا ہے (افسانہ)۔۔محمد وقاص رشید

رضا ریل گاڑی کے انتظار میں پلیٹ فارم پر ٹہل رہا تھا۔ ابھی گاڑی کے آنے میں کچھ دیر تھی، اچانک اسکی نگاہ ایک بینچ پر پڑی۔تو اس پر ایک سکتہ سا طاری ہو گیا۔بینچ پر ایک خاتون اپنے دو←  مزید پڑھیے

حرفِ آخر۔۔عطیہ

اس نے اپنی نم آنکھوں کو دوپٹے کے پلّو سے رگڑ کر صاف کیا اور ماں کی طرف التجائیہ نظروں سے دیکھا ۔ اس سے پہلے کہ رابعہ بیگم کچھ کہتیں چودھری امتیاز علی رعب دار آواز میں گویا ہوۓ←  مزید پڑھیے

سلگتی ذات(2،آخری قسط)۔۔رمشا تبسّم

جھنجھلا کر اس نے ٹانگ نیچی رکھی اور اسکے دونوں پاؤں روتی ہوئی شانزے کے جھکے سر کے قریب زمین پر تھے۔وہ اس وقت اس کو ان قدموں کو چومنے کا   کہتا تو بھی وہ تیار ہو جاتی ۔بس وہ←  مزید پڑھیے

سلگتی ذات(1)۔۔رمشا تبسّم

سلگتی ذات(1)۔۔رمشا تبسّم/فون کان سے لگائے وہ بالوں کو انگلی پر لپیٹنے میں مصروف تھی۔ فون پر رِنگ مسلسل سنائی دے رہی تھی اور اسکی نظریں گویا کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوئیں  بھی کچھ دیکھنے سے قاصر نظر آ رہی تھیں ۔←  مزید پڑھیے

ہندو کش کے دامن میں۔۔پروفیسر محمد ایاز کیانی

ہندو کش کے دامن میں۔۔پروفیسر محمد ایاز کیانی/معروف ادیب اور متعدد سفر ناموں کے خالق مستنصر حسین تارڑ نے سفر نامے کے بارے میں لکھا ہے کہ"سفر نامہ ایسی آوارہ صنف ہے جسے محض قادر الکلامی اور زبان دانی سے نہیں لکھا جا سکتا,جب تک لکھنے والےکے اندر جنون جہاں گردی نہ ہو, حیرت کی کائنات نہ ہو اور طبع میں خانہ بدوشی اور آورگی نہ ہو"۔←  مزید پڑھیے

سورج کا ساتواں گھوڑا-دھرم ویر بھارتی(3،آخری حصّہ)۔۔مترجم:عامر صدیقی

متفرقات جمنا کی زندگی کی کہانی ختم ہو چکی تھی اور ہم لوگوں کو اس کی زندگی کا ایسا خوشگوار حل دیکھ کر بہت اطمینان ہوا۔ ایسا لگا کہ جیسے تمام تردھاتی کشتے گھس گھس کر ٹھنڈے یافائدہ مند بنائے←  مزید پڑھیے

مداری۔۔عارف خٹک

مداری۔۔عارف خٹک/فیس بک پر موجود چھوٹے موٹے گروپس نہ تو علم بانٹ رہے ہیں نہ آپ کے یا ہمارے کسی کام کے ہیں۔ ان کا کام گاؤں دیہاتوں کے میلوں میں دکھائے جانے والے مداریوں کے تماشے جیسا ہے۔ چرب زبان اور انسانی نفسیات کو سمجھنے والے، جو آواز لگا کر آپ کو متوجہ کرتے ہیں کہ←  مزید پڑھیے

اردو زبان کے جدید کلاسک شاعر ستیہ پال آنند۔۔فاروق سرور

ستیہ پال آنند کی خوفناک تصویر آنند جی دکھ کی باتیں نہ کریں پشتو زبان کی خوبصورت لہجے کی شاعرہ حسینہ گل تنہا کاکا خیلہ کی نظم “لچهے والا” رہتا تو یہ شخص یورپ میں ہے ،ہے بهی بوڑها ،←  مزید پڑھیے

قائدآباد کی قمر سلطانہ۔۔شاہین کمال

گھر میں ہفتے بھر سے مرگ جیسی خاموشی طاری ہے۔ جیسے یہاں کوئی ذی نفس نہیں بستا بلکہ سرگوشیاں کرتے گھٹتے بڑھتے سائے ایک دوسرے پر گِرے جاتے ہیں۔ اب سب اتنے خوش نصیب بھی کب کہ مرگ ہی ہو←  مزید پڑھیے

غالب و آنند(1)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ع۔ ​جب جب غالب نے آنند کو لفظوں سے زود وکوب کیا بھلا اسے نہ سہی کچھ مجھی کو رحم آتا اثر مرے نفس ِ بے اثر میں خاک نہیں ستیہ پال آ نند حضور، مصرع ِ اولیٰ کو ملتوی←  مزید پڑھیے

سورج کا ساتواں گھوڑا-دھرم ویر بھارتی(2)۔۔مترجم:عامر صدیقی

متفرقات اس کہانی نے اصل میں ہم لوگوں کو متاثر کیا تھا۔ گرمی کے دن تھے۔ محلے کے جس حصے میں ہم لوگ رہتے ادھر چھتیں بہت تپتی تھیں، اس لئے ہم سب لوگ حکیم جی کے چبوترے پر سویا←  مزید پڑھیے

بلا عنوان…..ڈاکٹر صابرہ شاہین

جھوٹ کی شال اڑھانے کی خواہش تھی اس کی میں بھی جانچنے اور پرکھنے کی کو شش میں اس کی فرضی جنت کے دالان میں اتری تو یہ دیکھا اک اک پھول ہر ایک کیاری وحشت کے ننگے پن کی←  مزید پڑھیے

سورج کا ساتواں گھوڑا-دھرم ویر بھارتی(1)۔۔مترجم:عامر صدیقی

ترتیب پہلی دوپہر۔۔۔۔نمک کی ادائیگی دوسری دوپہر۔۔۔۔گھوڑے کی نال تیسری دوپہر۔۔۔۔عنوان مانک ملّا نے نہیں بتایا چوتھی دوپہر۔۔۔۔مالوا کی یُورانی دیوسینا کی کہانی پانچویں دوپہر۔۔۔۔کالے دستے کا چاقو چھٹی دوپہر۔۔۔۔گزشتہ سے پیوستہ ساتویں دوپہر۔۔۔۔سورج کا ساتواں گھوڑا **** پہلی دوپہر←  مزید پڑھیے

بدچلن۔۔حبیب شیخ

وینو، دودھ، وینو۔ یہ تکون پریتی کا سر پھاڑ کے رکھ دے گی۔ ایک وینو روتا ہے کہ وہ دودھ نہیں پیے  گا اور دوسرا دودھ کے لئے ضد کر تاہے۔ یہ کیسا جہاں ہے جہاں ایک کسی چیز کے←  مزید پڑھیے

مری جان آؤ…..ڈاکٹر صابرہ شاہین

مری جان آؤ چلو خواب بنتے ہیں پھر سے مری جاں مگر اپنی آنکھیں تو۔۔۔ گدلا چکی ہیں کوئی خواب بھولے سے اترا بھی ان میں تو کالا سا۔۔۔۔میلا ۔ ۔یونہی ادھ موا سا پھٹی آنکھوں کی چھدری چھدری سی←  مزید پڑھیے