خبر معمولی سی تھی ،افواہ بھی ہو سکتی تھی لیکن انفارمیشن کے بے ہنگم ہجوم کے اس دور میں کسے یہ توفیق اور فرصت کہ وہ افواہوں کی تصدیق کرتا پھرے۔چنانچہ لیڈیز سٹاف روم کے اس سرے سے اس سرے← مزید پڑھیے
وہ اپنے بھاری جسم کو جیسے گھسیٹ رہی تھی۔ چہرے پر دھرے ماسک کے پیچھے اس کا منہ کھلا ہوا تھا اور اسے سانس لینے میں دقت ہورہی تھی۔ آ ج وہ آفس میں پھر پندرہ منٹ لیٹ تھی، اس← مزید پڑھیے
ماٹی کو مِلنا ، ماٹی سے پانی بدرا بن ، اُڑ جائے پوَن پریشاں گھومے ،ہر سو سورج پیلا پڑتا جائے سمے کا ، سادھو انت کی تسبیح ، پھیرے اور ہر دم مسکائے مرتی گھاٹ پہ ماضی ،← مزید پڑھیے
بھیڑیوں میں حفظ مراتب کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ شکار پہ پہلا حق سینئر موسٹ بھیڑیے کا ہوتا ہے اور پھر یونہی درجہ بدرجہ۔ اس میں قباحت یہ ہوتی ہے کہ برادر خورد کی باری آنے تک عموماً کچھ← مزید پڑھیے
جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ میں بہت سیانا کوا تھا۔ میں اپنے پی۔اے اور ڈرایور کو ہمشہ اپنی مٹھی میں رکھتا تھا۔ ان پر نوازشات کی بارش کر کے ان کی زبان اور ایمان کو اپنے پاس← مزید پڑھیے
کوٹلہ حاجی شاہ لیہ کے مشہور عزادار، مرثیہ نگار، نقیبِ مجلس اور شاعر مظہر یاسر نے کیا ہی اعلی شعر کہا ہے کہ: من وچے عشق دے مچکے مچے وت وی رہیاں کچیاں مونجھاں (من میں عشق کے شعلے اٹھے← مزید پڑھیے
میری زندگی پر سکون دریا پر ہلکورے لیتی بادبانی کشتی کہ مانند تھی۔ اس کو تند و تیز لہروں کے حوالے میں نے خود کیا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ میں خود ہی سراسر قصوروار ہوں۔جب آپ چیزوں← مزید پڑھیے
لسان العصر ،خان بہادر اکبر الہ آبادی اپنے عہد کے ان چند نامور شاعروں میں سے تھے جن کی تخلیقات کو خاص و عام میں پسند کیا گیا ۔لسان العصر کا خطاب انہیں سر عبدالقادر نے اپنے مجلہ “مخزن ”← مزید پڑھیے
عالیہ حسن جو اب جاپانی گڑیا بن چکی تھی ساری اسٹاف کالونی میں مشہور تھی تین سال کی عمر میں ہی اسے ماں اور خالاؤں کی طرح چوڑیاں پہننے اور مہندی لگوانے کا شوق تھا۔ ماموؤں اور ان کے دوستوں کے ساتھ کھیلتی گڑیا ایک دن چکرا کر گر پڑی← مزید پڑھیے
اچھی چائے کا ایک کپ،اچھی کتاب اور سیر سپاٹا کوئی ان کے بدلے ہفت اقلیم بھی دے تو نہ لوں۔ قہوے کی خوشبو کمزوری کِسی گلی محلے سے گزرتے ہوئے یہ مہک باورچی خانے کی کھڑکی سے اُچھلتی کُودتی باہر← مزید پڑھیے
جب تک میں نے خود لکھنا شروع نہیں کیا،تب تک مجھے پتہ نہیں تھا کہ بہترین تحریر بہترین مشاہدے کا نچوڑ ہوتی ہے ۔پھر جیسے جیسے لوگوں کی مجھ سے توقعات بڑھتی گئیں، مجھے ہر جملے ہر لائن پہ توجہ← مزید پڑھیے
بول کر سب کو سنا، اے ستیہ پال آنند! بول اپنی رامائن کتھا، اے ستیہ پال آنند ! بول تو کہ کامل تھا کبھی، اب نصف سے کم رہ گیا دیکھ اپنا آئینہ ، اے ستیہ پال آنند ! بول← مزید پڑھیے
“میں تم لوگوں سے تنگ آ گیا ہوں اور سب کچھ تیاگ کر پاک پتن جا رہا ہوں، باقی کی عمر بابا فرید کے مزار پہ گزاروں گا۔ اب مجھ سے کوئی رابطہ نہ رکھا جائے” جمال کا لکھا نوٹ← مزید پڑھیے
اللہ کسی کو اولادوں کی قطار میں بیچ کی اولاد نہ بنائے، انہیں نہ تو بڑی اولا جیسا مان سمان ملتا ہے اور نہ ہی چھوٹوں جیسا لاڈ دلار ، بس ذمہ داریوں کی جکڑ بندیاں ہی نصیب ہوتی ہیں۔← مزید پڑھیے
سوشل میڈیا پہ بلاوجہ عورتوں کے حقوق پہ بات ہورہی ہو تو یقین کریں لکھنا، بولنا تو دور کی بات ، جس عورت کو کھانسنا بھی آتا ہے ۔وہ بھی مردوں کے خلاف کھانس رہی ہوتی ہے ۔ اور مردوں← مزید پڑھیے
جی تو چاہا تھاپُوچھوں اور پھر پُوچھ بھی لیا۔ ”میاں ہم تو ابھی اِسی راستہ سے گزرے تھے۔کوئی زیادہ دیر کی بات تھوڑی ہے۔ یہی کوئی گھنٹہ بھر ہوا ہوگا۔بے شک چیزوں اور منظروں کا کھلارا بے حدو حساب سا← مزید پڑھیے
یہ تین دن بہت بھاری ہیں مجھ پہ جانتا ہوں مجھے یہ علم ہے، تم اپنے اختیارات کے تحت مری حیات کا اعمال نامہ پرکھو گے برائیوں کا، گناہوں کا جائزہ لو گے میں جانتا ہوں فرشتو کہ مجھ پہ← مزید پڑھیے
الصبر تا الظفر وقل من جد فی امر بطالبہ فلستصحب الصبر الا فاز با الظفر (حضرت علیؑ) علیؑ مشکل کشا سے پوچھنا ،مشکل تو تھا، لیکن مرا علم الیقیں رکھتے ہوئے یہ پوچھنا بے حد ضروری تھا کہا، مشل کشا،← مزید پڑھیے
بس مالک! اب تجھ سے بھی ہم کیا مانگیں؟ رت جیون کی، تنہا روتے بیت گئی سندر خواب، سہانے کل کے راکھ ہوئے قندیلیں بھی ،آس کی اپنی، خاک ہوئیں تار،تار ہے دامن بھی امیدوں کا اور چہرے پر سایہ← مزید پڑھیے