ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 94 )

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت( 15،آخری قسط)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

گھر آکر اداس مٹرو چٹائی پر پڑ رہا۔ اداس دھوپ پھیل گئی ہے۔ دودھ کے مٹکے ایک طرف پڑے ہیں۔ ان پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ تھکی ہوئی لکھنا کی ماں کو جیسے کوئی ہوش ہی نہیں۔ سچ مچ گھر←  مزید پڑھیے

دہلی میں ایک شام ڈاکٹر ستیہ پال آنند کے نام۔۔سہیل انجم

سہ ماہی ادبی جریدہ ’ادب ساز‘ کے مدیر نصرت ظہیر کہتے ہیں: ’ڈاکٹر ستیہ پال آنند کے فکر و فن کی تفہیم اردو ادب میں ان کی اس انفرادیت کے سبب بھی ضروری ہو جاتی ہے کہ پہلے انہوں نے←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(14)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

سولہ پڑتال کیا ہونی تھی، جو ہوتی۔ کتنی ہی دھاندلیوں کی طرح یہ بھی کسانوں کو ڈرانے دھمکانے کی ایک ذمہ دارانہ اورافسرانہ چال ہی تھی۔ اور پھر گنگا میا کی مایا کہ اس سال پانی ہٹا، تو دو دھارائیں←  مزید پڑھیے

سنائپر۔۔شاہین کمال

میرا دفتر سنڑل پارک کے پُرفضا مقام پر ہے۔ بیسویں منزل سے یہ بھاگتی دوڑتی دنیا اتنی فتنہ خیز نہیں لگتی اور اتفاق سے میری کیوبکل کی کھڑکی بھی پارک کی سمت کھلتی ہے۔ میں عموماً اپنا کافی کا پہلا←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/ڈاکٹر ندال جمعہ سے ملنا میرے لیے بہت اہم تھا(قسط22)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ڈاکٹر ندال جمعہ سے ملنا بھی دلچسپ اور خوبصورت یادیں دینے والا تجربہ تھا۔ مگراِس سے بھی پہلے ایک اور مسرورکن تجربے سے دوچار ہونا پڑا۔کرنل بصیر الحانی کے گھر سے چلے توپونے دو بج رہے تھے۔سیدھی شفاف سڑک پر←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(13)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

’’ کیا کہیں بیٹا، گھر میں ایک کرنے دھرنے والی تھی، وہ بھی ۔۔۔‘‘ ’’ وہ تو سن چکا ہو، بابوجی ۔۔۔‘‘ ’’ کیا بتاؤں، مٹرو بیٹا، ایسی لائق تھی وہ کہ اس کی یاد آتی ہے، تو کلیجہ پھٹ←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(11)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

منڈیر پر آگ سلگ رہی ہے، پاس ہی تمباکو اورکھینی رکھی ہوئی ہے۔ جو تمباکو پیتا ہے، وہ چلم بھر رہا ہے۔ جوکھینی کھاتا ہے، وہ خوردنی تمباکو پھٹک رہا ہے۔ تھوڑی دیر تک بوڑھے بوڑھیوں کی کھوںکھوں سے فضا←  مزید پڑھیے

مکالمہ مہاتما بدھ اور ان کے چیلے آنند کے مابین​(جنم سے چتا تک)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میں نے پہلی بار یہ منظر تبھی دیکھا تھا جب رتھ بان نے مجھ کو بتایا تھا کہ مُردہ جسم کے انتم چرَن کی یاترا میں ۰ اس کو اگنی کے حوالے کر دیا جاتا ہے ۔۔۔ تب اک بار←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/نہ شیعہ،نہ سنی اور نہ کُرد-سب گروپوں اور گرہوں میں بٹے ہوئے ہیں(قسط21)۔۔۔سلمیٰ اعوان

تو وہ منحوس گھڑی آگئی۔آنکھوں میں آنسو، لب پر دُعائیں۔اور جب بغداد جل رہا تھا میں خود سے پوچھتی تھی۔”وہ آخر اتنی فوجیں کیا ہوئیں؟ ڈھائی کروڑ آبادی والے مُلک کی باقاعدہ فوج کوئی چار لاکھ کے قریب ری پبلیکن←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(10)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

پھر کیا ہوا کچھ پتہ نہ چلا۔ سرکارکا دربار بہت دور ہے، جاتے جاتے پکار پہنچے گی، ہوتے ہوتے سماعت ہوگی۔ اس وقت تک کیا دِیّر میں کوئی نشان باقی رہ جائے گا؟ اور پھر کچھ ہوگا، تو دیکھا جائے←  مزید پڑھیے

دیوی۔۔عارف خٹک

اس کو ہمارے فلیٹ میں آئے ہوئے ایک ماہ ہوگیا ہوگا۔ مجھے بھی لگ بھگ ایک ماہ ہوچکا تھا۔ دبئی کی  ایک پرانی بلڈنگ میں ہم مرد و عورتیں سب مشترکہ طور پر رہتے تھے۔ جہاں ایک کمرے میں عارضی←  مزید پڑھیے

​ذاتی فیصلہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اور پھر ایسے ہُوا’ اک نرتکی نے (نرتکی۔ رقـاصہ) خوب رُو آنند کو بانہوں میں بھر کر یہ کہا: ’’تم سَنگھ سے باہر چلے آؤ، یہ میری دولت و ثروت’ یہ جاہ و حشم، یہ اونچا محل اور سب سے←  مزید پڑھیے

سنگ مزار /گی دَ موپاساں (2،آخری حصّہ)۔۔مترجم : محسن علی خاں

یکدم اُس کے جسم میں جنبش ہوئی جیسے بید کے درخت کو ہوا چیرتی ہے۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ اب رونا شروع کر دے گی۔ پہلے وہ آہستہ سے رونا شروع ہوئی ، پھر اپنی گردن اور شانوں←  مزید پڑھیے

میڑو پہائی ۔۔جاویدخان

کبھی پیمائش کرکے نہ دیکھا،اَندازاًساڑھے چار فٹ کاقد،اُس پر بالکل گول، قدرے جھومتا ہوا سر،اُس پر جالی دارسفید ٹوپی،کسی قدر سیاہی مائل چہرہ،اِس پر داڑھی۔جب مَیں نے دیکھا تو وہ آدھی سفید ہو چکی تھی۔ہنستے تو سامنے کے سارے دانت←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(9)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

دس یہ کتنی ناممکن بات تھی، بھابھی جانتی تھی۔ پھر بھی اس بات کو اپنے دل میں پالے جا رہی تھی۔ آخر کیوں؟ آدمی کیلئے جینے کا سہارا اسی طرح ضروری ہے، جیسے ہوا اور پانی۔ کسی کے پاس کوئی←  مزید پڑھیے

سنگ مزار /گی دَ موپاساں (1)۔۔مترجم : محسن علی خاں

درمیانی عمر کے پانچ دوستوں نے اکھٹے رات کا کھانا کھایا۔ اپنی دنیا میں مگن یہ پانچ دولت مند دوست جن میں سے تین شادی شدہ اور دو کنوارے تھے۔ یہ ہر ماہ رات کے کھانے پر اپنی جوانی کی←  مزید پڑھیے

کلیڈو سکوپ(2،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

راگنی دو دن سے مختارے سلام کو نہیں آیا, کدھر ہے وہ؟ جرنیلی نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے تیکھے لہجے میں پوچھا؟ میں خبر لیتی ہوں میڈیم، کہیں دو دن کی لگاتار بارش میں بھیگ کر بیمار نہ ہو گیا←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(8)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

مٹرو کے منہ سے ایک لفظ نہیں پھوٹ رہا تھا۔ وہ تو کچھ اور سوچ کر چلا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ وہ کتنے ہی درد کے سوئے ہوئے تاروں کو چھیڑنے جا رہا ہے۔ آہستہ آہستہ کافی دیربعد←  مزید پڑھیے

سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار/ قسط 6۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

سرائیکی شاعری جہاں مسدس اور ڈوہڑا بنیادی اصناف ہیں لیکن اِس زبان میں غزل کے تجربے کی تابناکی اور بے باکی بھی کئیوں کو متاثر کر چکی ہے۔ اسی طرح جہاں تحصیل تونسہ نے جدید شعراء کی کھیپ مہیا کی←  مزید پڑھیے

دلنواز بستی کے شام و سحر۔۔سیّد مہدی بخاری

بلتستان کا ضلع گانچھے الگ تھلگ سربلند پہاڑوں کے بیچ بسی دلکش وادیوں، دلنواز بستیوں اور کھلی دریائی زمینوں کے ساتھ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے کوئی دوشیزہ اپنے حسن و جمال کے پورے ادراک کے ساتھ سہمی گھبرائی ہوئی←  مزید پڑھیے