نظم باہم ضم ہوتی ہوئی تین movements کے امتزاج سے ترتیب پاتی ہے۔ بہاؤ کی پہلی لہر ڈرامائی انداز میں نظم کے واحد متکلم کے شانوں پر بیٹھے ہوئے دو فرشتوں کا انتباہ ہے جو اسے (یعنی متکلم کو) آگے بڑھنے اور کوئی قدم اُٹھانے سے پہلے سنبھلنے اور عفو و رحمت کے فلسفے کو سمجھنے کی تلقین کر رہے ہیں← مزید پڑھیے
انگریزوں کے قاعدے قانون آج بھی ہمارے ملک میں رائج ہیں۔ دیوانی قانون، فوجداری قانون، تعزیراتِ ہند۔! ہندستان ہی کیا پورے برِصغیر کی یہی حالت ہے۔ انگریزوں نے ہمارے نظام کو اتنا مسخ کر دیا کہ اب یوں لگتا ہے← مزید پڑھیے
شبدوں میں رس گھولنے والا محبت ،دھنک ،رنگ اور خوشبو اوڑھ کر مسرتوں کی گلبانگ راہ پہ چلتا ہوا شبدوں میں رس گھولنے والا وہ اک شخص جو مقدر کا ستارہ ہے سنہرا جھلمل سایہ شبنمی پھولوں میں بھیگا سفر← مزید پڑھیے
یہ گنگناتی ہوا کے نغمے وہ شاخ-جامن کی نرم شاخوں پہ دف بجاتے ہوئے پتاور وہ سامنے ادھ کھلے گلابوں کی سرخیوں پر، یوں چمچماتے ، سفید موتی حسین سبزے کے نرم سینے میں جھولتے چھوٹے، چھوٹے پھولوں کی مستیاں← مزید پڑھیے
یہ ایک سچّی کہانی ہے مگر میری گزارش ہے کہ ان کرداروں کو آپ ڈھونڈنے نہیں نکلنا کیونکہ اب وہ وہاں پر نہیں رہتے ہیں۔ نہ جانے ٹرانسفر ہو کر کہاں چلے گئے۔ منوہر کھرے کام تو کسی اور سنٹرل← مزید پڑھیے
" دنیا مری ہتھیلی پر" کا تہہ ِ دل سے خیر مقدم کرتا ہوں ۔اور ظہور چوہان کا ہدیۂ تشکر کہ اُنہوں نے پہلے کی طرح اب بھی یاد رکھا اور اپنی نئی تخلیق سے نوازا← مزید پڑھیے
از سر نو محبت کا سوچیں کہ بات زندگی جینے کی ہے بات محبت کی ہے اور محبت میں شرک کیسا جاؤ کسی مزارکی جالی سے دھاگہ باندھو کبوتروں کو دانہ ڈالو پرندوں کو آزاد کرو رشتوں کی گرہیں کھولو← مزید پڑھیے
آرزوؤں کی اُڑان کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ وہ نہ مالی حالت دیکھتی ہے اور نہ سماجی رتبہ۔ شعبان ڈار کی دِلی آرزو تھی کہ اس کے دونوں بیٹے، خالد اور اشتیاق ڈاکٹر بن جائیں۔ در اصل ان دنوں اکثر← مزید پڑھیے
حسیات کا تنوع 'سکوت' میں واضح نظر آتا ہے۔ زندگی کے بیشتر پہلوؤں کو 'سکوت' میں مجتمع کردیا گیا ہے۔ نام نہاد ترقی کی اندھی دوڑ میں، پوری دنیا فطرت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس نام نہاد ترقی کا خمیازہ جنگلات کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔← مزید پڑھیے
عمر کے اس آخری پڑاؤ میں اپنے شجر سایہ دار تلے سانس لینا یقیناً نعمت خداوندی ہے کہ بےشک اولاد اللہ تعالیٰ کا بیش بہا تحفہ ہے اور اگر سعادت مند اولاد ہو تو کیا ہی کہنے ۔ زندگی کسی← مزید پڑھیے
پھر جیسے وہ خوابناک سی آواز میں بولنا شروع ہوئے۔ ہمارا نوجوان زُلزل عود Oudبجاتا تھاتو گلیوں میں چلتے لوگوں کے قدموں کو زمین جکڑ لیتی تھی استادوں کا استاد جس نے بے شمار راگنیوں کو ایجاد کیا۔اسحاق اُسی کا← مزید پڑھیے
ایک زمانہ تھا کافی ہاؤس کشمیری سیاست کا بیرومیٹر ہوا کرتا تھا۔ دن ڈھلنے سے پہلے ہی سیاست دان، صحافی، دانشور، فن کار، گورنمنٹ ملازم اور طلبہ کافی ہاؤس میں جمع ہو جاتے اور حالات حاضرہ پر بحث و مباحث← مزید پڑھیے
شور ش ِ باطن کے ہیں احباب منکر، ورنہ یاں دل ِ محیط ِ گریہ و لب آشنائے خندہ ہے ۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند اہل ِ فارس کی طرح، اے بندہ پرور، آپ بھی کچھ عجب اغلاط کے وہم و← مزید پڑھیے
اردو ادب کی تحریکات یا رجحانات میں ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کے زیر ِاثر اردو شعر و فکشن فکری وفنی اور موضوعاتی سطح پر کئی دوررس تبدیلیوں سے روشناس ہوا۔ ترقی پسند تحریک کی بدولت پہلی بار اردو ادب← مزید پڑھیے
میری پہلی پوسٹنگ تھی۔ تجربے کی کمی ہونے کے سبب فائیلوں پر فیصلے دینے میں ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ مگر مرتا کیا نہ کرتا۔ فائلیں تو نپٹانی تھیں۔ آخر تنخواہ کس بات کی لے رہا تھا۔ ماتحتوں پر بھروسہ← مزید پڑھیے
کچھ کتابیں ایک جلد اور چند صفحات تک محدود نہیں ہوتیں ۔ان کے اندر کسی زمانے کی کہانی ہوتی ہے اور اس ایک کہانی کے ساتھ ماضی حال اور مستقبل سے وابستہ ہزار داستانیں ہوتی ہیں ۔ یہ الف لیلہ← مزید پڑھیے
بندگی میں بھی وہ آزادہ و خود بیں ہیں، کہ ہم اُلٹے پھر آئے، در کعبہ اگر وا نہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند آپ اگر کہتے , بصد نخوت و طرہ بازی الٹے پھر آئے، در میکدہ گر وا← مزید پڑھیے
یہ اتنا شور کیوں ہو رہا ہے؟ ایک اونچی دیوار بن رہی ہے، میں ا بھی ادھر ہی سے دیکھ کر آ رہی ہوں۔ دیوار، وہ کیوں؟ وہ تو راستہ روکنے کے لئے بنائی جاتی ہے نقل و حرکت کو← مزید پڑھیے
میں نے گواہوں کی تلاش میں سارا شہر چھان مارا مگر کوئی گواہی دینے کے لیے تیار نہ ہوا۔ انھیں عدالت میں جھوٹ نہیں بولنا تھا بلکہ سچائی بیان کرنی تھی، پھر بھی کسی کو میرے ساتھ ہمدردی نہ ہوئی۔← مزید پڑھیے
لاہور تری ان سڑکوں پر اک خوشبو عشق ۔۔۔کی آتی ہے۔۔۔ پھر شام کے کہرے میں لپٹی اک یاد مسلسل روتی ہے تب۔۔۔۔کاسنی دھند آترتی ہے چپ چاپ سی۔۔۔کالی آنکھوں میں۔۔۔۔ اسلام پورے کی سڑک پہ جا۔۔۔۔ ارمان مچلنے لگتے← مزید پڑھیے