راستہ کہتا ہے ، مجھ سے بچ نہیں سکتے تمہارے پاؤں اور میں لازم و ملزوم ہیں زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں۔ اور میں کہتا ہوں میرے پاؤں چلتے ہیں کہ آگے منزل ِ مقصود میری منتظر ہے! راستہ ہنس← مزید پڑھیے
بغداد کی رات کے اِس پہلے پہرجب میں دجلہ کے پانیوں میں ڈوبی روشنیوں کے عکس، کہیں اُن سے بنتے کہکشاں جیسے راستے، کہیں چمکتے دمکتے چھوٹے چھوٹے گولے سے پانیوں میں مستیاں کرتے، کہیں قریبی ہوٹلوں کی روشنیاں ستاروں← مزید پڑھیے
پتا جی نے میرا ہاتھ زور سے پکڑ رکھا تھا تاکہ میں کہیں اِدھر اُدھر نہ چلا جاؤں اور بھیڑ میں گُم ہو جاؤں۔ میرے ساتھ میری ماں اور بڑی بہن بھی تھی جو عمر میں مجھ سے آٹھ سال← مزید پڑھیے
اکھاڑے پر دونوں جانب سے ایک ہی وقت میں گوپی اور جوکھو کے دَل پہنچے۔ دونوں دَلوں نے جے جے کی۔ مارُو باجے زور زور سے بجنے لگے۔ ماحول کے ذرے ذرے سے ویر رَس جاری ہو رہا تھا۔ بھیڑ← مزید پڑھیے
عزیزم نسیم خان کی انوکھی دلفریب آزاد شاعری کی کتاب “رنگریز” پڑھتے ہوئے جب انگ انگ ان دیکھے رنگوں میں رنگتا چلا گیا تو یوں محسوس ہوا جیسے قدموں تلے بچھے قالین کے دھیمے رنگ دھنک بن کر لہرانے لگ← مزید پڑھیے
ستیہ پال آنندکا ایک مکتوب۔ایک غزل گو شاعر دوست کے نام، جس ک ترنم کی وجہ سے اس کی شہرت کا ڈنکا بر صغیر اور باہر کے ملکوں میں بھی بجتا ہے۔ مکتوب الیہ کا نام صیغہ راز میں رکھا← مزید پڑھیے
ایک اس دن صبح گوپی چندکی بیوہ بھابھی گھر سے لاپتہ ہو گئی، تو محلے کے لوگوں نے مل کر یہی فیصلہ کیا کہ یہ بات اپنوں میں ہی دبا دی جائے، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ ان← مزید پڑھیے
ڈاکیہ تین بار اس ایڈرس پر مجھے ڈھونڈنے گیا تھا لیکن تینوں بار مایوس ہو کر لوٹ آیا۔ اس نے دروازے پر کئی بار دستک دی تھی، بلند آواز میں میرا نام پکارا تھا اور پھر دائیں بائیں دیکھ لیا← مزید پڑھیے
بحر خفیف میں ’’رن آن لائنز‘‘ میں اردو میں پہلا تجربہ مالا دی دامور (Paris 1984) آپ کے شہر میں سُنا تھا، بہت پھول ہوتے ہیں، پھولوں کی مانند تازہ مسکان، ادھ کھِلے غنچوں کا تبسم ہے ۔۔۔ چاند راتوں← مزید پڑھیے
8 اکتوبر 1970 میری پیاری۔ حیات کے اس گھور اندھیرے میں، میں تمہیں اور صرف تمہیں ہی سوچ رہا ہوں اور حیران ہوں کہ مقدر ہمارے ساتھ کیا کھیل کھیلنے والا ہے۔ اب جبکہ میں خوش گمان تھا کہ مجھے← مزید پڑھیے
تیس سالوں کے بعد میں اپنی سسرال لوٹ آئی تھی۔ جو سچ کہوں تو میں تو اس واپسی کے حق میں نہیں تھی کہ میں دیار غیر میں اپنے دونوں بیٹوں کے قریب رہنے کی آرزو مند۔ ماں ہونا بھی← مزید پڑھیے
ان کے جانے کے بعد میں نے فلافل کھایا،کولا پیااور چاہا کہ تھوڑی دیر لیٹ جاؤں۔ تبھی ایک ادھیڑعمر کے انتہائی خوش شکل اور سمارٹ سی شخصیت کو میں نے تین نوجوانوں کے ساتھ اندر آتے دیکھا۔دیوار کی غربی سمت← مزید پڑھیے
تاریخ عورت کیخلاف ایسے لرزہ خیز واقعات کا مجموعہ ہے۔ مذہب اور مذہبی لوگوں، دونوں نے ہر مقام پر عورت کا استحصال کیا ہے۔ اگر کوئی مذہب یہ دعویٰ قائم کرتا ہے کہ وہ عورت کو مرد کی طرح ہی انسان سمجھتا ہے تو اسے ہیگل کے اس قول کہ " حقیقی عقلی ہے اور عقلی حقیقی " Ideal is real and real is ideal پر عمل کرکے اپنی اپنی مذہبی تاریخ کو تنقیدی جائزے کیلئے کھلا چھوڑنا ہوگا۔← مزید پڑھیے
دہلی کے یہ پھبتی باز، بیکار، آوارہ اردو شاعر اور افسانہ نگار جو سارا دن کناٹ پلیس میں ایک یا دو میزوں کو قابو کیے بیٹھے رہتے تھے، میرے قیام کے دوران خبروں اور افواہوں کا بہترین ذریعہ تھے۔← مزید پڑھیے
لگاتار برف باری نے باہردھند کا سا سماں بنا رکھا ہے۔ہوائیں تھم چکی ہیں لیکن سردی کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی ۔کھڑکی کے پردےسرکا کر شیشوں کے پار جھانک بھی لو تو ایک جھرجھری سی سراپے کو چیر← مزید پڑھیے
ڈاکٹر خالد سہیل کی ہمہ جہت اور متنوع شخصیت اپنی ذات میں ایک انجمن کا درجہ رکھتی ہے۔ انجمن بلاشبہ پنجابی فلم والی بھاری تن و توش سمجھ لیں جو درختوں کے اردگرد گول گول گھوم کر گانا گاتے ہوئے← مزید پڑھیے
کینیڈا اور امریکہ کے بڑے بڑے شہروں کا منظر بے شمار لوگ جو بہت زیادہ مصروف ہیں۔سڑکوں پہ اَن گِنت گاڑیاں فراٹے بھرتی ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کے لیے بے قرار۔ہر دوسرے موڑ پر شاپنگ پلازے،دلچسپ اور خوبصورت۔ان← مزید پڑھیے
ایک خاص موضوع جس پر میں نے عرق ریزی کی حد تک کام کیا ، وہ اردو میں صنف غزل کے منفی اثرات کی وجہ سے آزاد نظم (یعنی بلینک ورس۔۔فری ورس نہیں ، جسے آج کل نثری نظم کہا جاتا ہے ) میں رن ، آن سطروں سے لا تعلقی کا رویّہ تھا← مزید پڑھیے
راگنی کی کھوج میں
ایک بے قرار روح
متلاشی متلاشی
شاید ازل سے ہی روح کے سفر میں منزلیں سیراب اور راستے گرد ہوۓ جاتے ہیں چشم بینا سے دیکھنے پر باطن کی عریانی اور کمینگی سے خود شرمندگی محسوس ہوتی ہے← مزید پڑھیے