ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 97 )

راستہ اور میں ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

راستہ کہتا ہے ، مجھ سے بچ نہیں سکتے تمہارے پاؤں اور میں لازم و ملزوم ہیں زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں۔ اور میں کہتا ہوں میرے پاؤں چلتے ہیں کہ آگے منزل ِ مقصود میری منتظر ہے! راستہ ہنس←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/اپنے وقت کا ایک عظیم کلاسیکل شاعر ابونواس مجھ سے ہمکلا م تھا (قسط18)۔۔۔سلمیٰ اعوان

بغداد کی رات کے اِس پہلے پہرجب میں دجلہ کے پانیوں میں ڈوبی روشنیوں کے عکس، کہیں اُن سے بنتے کہکشاں جیسے راستے، کہیں چمکتے دمکتے چھوٹے چھوٹے گولے سے پانیوں میں مستیاں کرتے، کہیں قریبی ہوٹلوں کی روشنیاں ستاروں←  مزید پڑھیے

موت کا کنواں ۔۔دیپک بدکی

پتا جی نے میرا ہاتھ زور سے پکڑ رکھا تھا تاکہ میں کہیں اِدھر اُدھر نہ چلا جاؤں اور بھیڑ میں گُم ہو جاؤں۔ میرے ساتھ میری ماں اور بڑی بہن بھی تھی جو عمر میں مجھ سے آٹھ سال←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(2)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

اکھاڑے پر دونوں جانب سے ایک ہی وقت میں گوپی اور جوکھو کے دَل پہنچے۔ دونوں دَلوں نے جے جے کی۔ مارُو باجے زور زور سے بجنے لگے۔ ماحول کے ذرے ذرے سے ویر رَس جاری ہو رہا تھا۔ بھیڑ←  مزید پڑھیے

انگ انگ رنگریز۔۔ناصر خان ناصر

عزیزم نسیم خان کی انوکھی دلفریب آزاد شاعری کی کتاب “رنگریز” پڑھتے ہوئے جب انگ انگ ان دیکھے رنگوں میں رنگتا چلا گیا تو یوں محسوس ہوا جیسے قدموں تلے بچھے قالین کے دھیمے رنگ دھنک بن کر لہرانے لگ←  مزید پڑھیے

ایک غزل گو شاعر دوست کے نام ڈاکٹر ستیہ پال آنند کا مکتوب

ستیہ پال آنندکا ایک مکتوب۔ایک غزل گو شاعر دوست کے نام، جس ک ترنم کی وجہ سے اس کی شہرت کا ڈنکا بر صغیر اور باہر کے ملکوں میں بھی بجتا ہے۔ مکتوب الیہ کا نام صیغہ راز میں رکھا←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(1)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

ایک اس دن صبح گوپی چندکی بیوہ بھابھی گھر سے لاپتہ ہو گئی، تو محلے کے لوگوں نے مل کر یہی فیصلہ کیا کہ یہ بات اپنوں میں ہی دبا دی جائے، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ ان←  مزید پڑھیے

اب میں وہاں نہیں رہتا۔۔دیپک بدکی

ڈاکیہ تین بار اس ایڈرس پر مجھے ڈھونڈنے گیا تھا لیکن تینوں بار مایوس ہو کر لوٹ آیا۔ اس نے دروازے پر کئی بار دستک دی تھی، بلند آواز میں میرا نام پکارا تھا اور پھر دائیں بائیں دیکھ لیا←  مزید پڑھیے

​گِنی چُنی نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بحر خفیف میں ’’رن آن لائنز‘‘ میں اردو میں پہلا تجربہ مالا دی دامور​ (Paris 1984) آپ کے شہر میں سُنا تھا، بہت پھول ہوتے ہیں، پھولوں کی مانند تازہ مسکان، ادھ کھِلے غنچوں کا تبسم ہے ۔۔۔ چاند راتوں←  مزید پڑھیے

تھری ناٹ تھری(2،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

8 اکتوبر 1970 میری پیاری۔ حیات کے اس گھور اندھیرے میں، میں تمہیں اور صرف تمہیں ہی سوچ رہا ہوں اور حیران ہوں کہ مقدر ہمارے ساتھ کیا کھیل کھیلنے والا ہے۔ اب جبکہ میں خوش گمان تھا کہ مجھے←  مزید پڑھیے

تھری ناٹ تھری(1)۔۔شاہین کمال

تیس سالوں کے بعد میں اپنی سسرال لوٹ آئی تھی۔ جو سچ کہوں تو میں تو اس واپسی کے  حق میں نہیں تھی کہ میں دیار غیر میں اپنے دونوں بیٹوں کے قریب رہنے کی آرزو مند۔ ماں ہونا بھی←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/بغداد عہد ساز اور صاحبِ علم و فن ہستیوں سے بھرا پڑا ہے۔ (قسط17)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ان کے جانے کے بعد میں نے فلافل کھایا،کولا پیااور چاہا کہ تھوڑی دیر لیٹ جاؤں۔ تبھی ایک ادھیڑعمر کے انتہائی خوش شکل اور سمارٹ سی شخصیت کو میں نے تین نوجوانوں کے ساتھ اندر آتے دیکھا۔دیوار کی غربی سمت←  مزید پڑھیے

سبلیمیشن(Sublimation)۔۔۔جنید جاذب

دریا، لہریں بہاؤ، اٹھانیں تصور، اُڑانیں پاتال، اونچائیاں ریگ، چٹانیں وسعتیں، حدود اندھیار، نور طاقت، بے نوائیاں جبر اورسُپردگِیاں اتصال کے اتھاہ گہرے سمندر میں ایک ہوئے! انیک ہوئے! دریا، صحرا اور روانی !←  مزید پڑھیے

عورت اور تاریخ کا رویّہ۔۔حمزہ جلال

تاریخ عورت کیخلاف ایسے لرزہ خیز واقعات کا مجموعہ ہے۔ مذہب اور مذہبی لوگوں، دونوں نے ہر مقام پر عورت کا استحصال کیا ہے۔ اگر کوئی مذہب یہ دعویٰ  قائم کرتا ہے کہ وہ عورت کو مرد کی طرح ہی انسان سمجھتا ہے تو اسے ہیگل کے اس قول کہ " حقیقی عقلی ہے اور عقلی حقیقی " Ideal is real and real is ideal پر عمل کرکے اپنی اپنی مذہبی تاریخ کو تنقیدی جائزے کیلئے  کھلا چھوڑنا ہوگا۔←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی” سے ایک اقتباس-جدیدیت کا منظر نامہ۔ دہلی (۱۹۷۵) کے حوالے سے(2)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دہلی کے یہ پھبتی باز، بیکار، آوارہ اردو شاعر اور افسانہ نگار جو سارا دن کناٹ پلیس میں ایک یا دو میزوں کو قابو کیے بیٹھے رہتے تھے، میرے قیام کے دوران خبروں اور افواہوں کا بہترین ذریعہ تھے۔←  مزید پڑھیے

بٹ آئی ایم سوسٹوپِڈ ۔۔جنید جاذب

لگاتار برف باری نے باہردھند کا سا سماں بنا رکھا ہے۔ہوائیں تھم چکی ہیں لیکن سردی کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی ۔کھڑکی کے پردےسرکا کر شیشوں کے پار جھانک بھی لو تو ایک جھرجھری سی سراپے کو چیر←  مزید پڑھیے

ادبی محبت نامے(تبصرہ کتاب)۔۔۔احمد رضوان

 ڈاکٹر خالد سہیل کی ہمہ جہت اور متنوع شخصیت اپنی ذات میں ایک انجمن کا درجہ رکھتی ہے۔ انجمن بلاشبہ پنجابی فلم والی بھاری تن و توش سمجھ لیں  جو درختوں کے اردگرد گول گول گھوم کر گانا گاتے ہوئے←  مزید پڑھیے

اجنبی….ڈاکٹر انور نسیم

کینیڈا اور  امریکہ کے بڑے بڑے شہروں کا منظر بے شمار لوگ جو بہت زیادہ مصروف ہیں۔سڑکوں پہ اَن گِنت گاڑیاں فراٹے بھرتی ایک دوسرے سے آگے  نکل جانے کے لیے بے قرار۔ہر دوسرے موڑ پر شاپنگ پلازے،دلچسپ اور خوبصورت۔ان←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی” سے ایک اقتباس- سطروں کی تراش کے بارے میں(1)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ایک خاص موضوع جس پر میں نے عرق ریزی کی حد تک کام کیا ، وہ اردو میں صنف غزل کے منفی اثرات کی وجہ سے آزاد نظم (یعنی بلینک ورس۔۔فری ورس نہیں ، جسے آج کل نثری نظم کہا جاتا ہے ) میں رن ، آن سطروں سے لا تعلقی کا رویّہ تھا←  مزید پڑھیے

راگنی کی کھوج میں ۔۔نجیبہ عارف/تبصرہ:۔۔عاصم کلیار

راگنی کی کھوج میں ایک بے قرار روح متلاشی متلاشی شاید ازل سے ہی روح کے سفر میں منزلیں  سیراب اور راستے گرد ہوۓ جاتے ہیں چشم بینا سے دیکھنے پر باطن کی عریانی اور کمینگی سے خود شرمندگی محسوس ہوتی ہے←  مزید پڑھیے