میں ملتان شہر میں روز اس لیے نہیں جاتا کہ میں وہاں سے نکلنے والے ایک اردو زبان کے روزنامے میں کام کرتا ہوں ۔ میں وہاں روزانہ اس لیے بھی نہیں جاتا کہ وہاں مختلف سرکاری محکموں کے دفاتر← مزید پڑھیے
امریکی صدر جوبائیڈن سے حال ہی میں پوچھا گیا کہ کیا انہیں افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کے انخلا کے اپنے فیصلے پر کوئی پچھتاوا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔ عیدین کے موقع پر افغان طالبان اور کابل← مزید پڑھیے
اشارے پر ٹریفک رکی ہوئی تھی۔میرے ساتھ گاڑی میں دیرینہ دوست شوکت صاحب تشریف فرما تھے اور سیٹ سے ٹیک لگائے آنکھیں بندکئے قوالی سن رہے تھے۔ اچانک دھڑام کی آواز آئی اور گاڑی کو ایک جھٹکا سا لگا۔ ہم← مزید پڑھیے
میں یہ طے نہیں کرسکتا کہ عمران حکومت کی جگہ اقتدار سنبھالتے ہوئے پی ڈی ایم نامی اتحاد میں شامل جماعتوں نے جوتے کھائے یا پیاز۔ ان دونوں میں سے “سو” مگر ایک محاورے کے مطابق کھائے جاچکے ہیں۔ اب← مزید پڑھیے
پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں سیاسی صوت حا ل اس حد تک گھمبیر ہو چکی ہے کہ جنرل انتخابات کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آرہا’وفاق میں چند کلومیٹر تک محدود نون لیگی حکومت نے جیسے پنجاب میں شب← مزید پڑھیے
پاکستان کی سیاست کے انداز ہی نرالے ہیں۔ کبھی اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں مسائل کی ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے، تو کبھی یہ ملبہ سیاسی جماعتوں پر آن گرتا ہے۔ عمران خان کی حکومت ہٹائے جانے کے بعد ملک← مزید پڑھیے
یوں تو پاکستانی سیاست میں کچھ بھی نا ممکن نہیں لیکن عمران خاں کے سیاست میں قدم رنجہ فرمانے کے بعد تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم کوئی قسط وار ڈرامہ دیکھ رہے ہوں جس کی ہر قسط← مزید پڑھیے
سوشل میڈیا کی قباحتیں اپنی جگہ پر مگر اس کا یہ فائدہ کیا کم ہے کہ گاہے گاہے اس پر ان موضوعات پر گفتگو چھڑجاتی ہے جن پر ہمارے تعلیمی اداروں اور مین سٹریم میڈیا نے کبھی نظر ہی← مزید پڑھیے
پاکستان میں سیاست کبھی اپنے قدرتی بہاؤ کے ساتھ نہیں چلی – ہمیشہ یہاں اَن دیکھے سائے متحرک رہتے ہیں ، یہاں سو فی صد درست پیش گوئی کرنا تقریباً ناممکن ہے ۔21 جولائی کی شام ایک نجی چینل پر← مزید پڑھیے
پاکستان میں ہوش کی آنکھ تو کھلی نہیں اس لیے ہمیں مجموعی حیثیت کے لیے اس محاورے کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ ہمارے ہوش کےصرف کان کھلے ہیں جس میں چند جملے اور الفاظ سماعت کے پردوں کے ساتھ چپکے← مزید پڑھیے
دنیا بھر میں انتخابات کے بعد ہیجان کم ہو جاتا ہے اور معاملات تھم سے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں انتخابات کے بعد پھر ایک ہیجان اور انتشار کی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم ایک← مزید پڑھیے
1970میں ہونے والے الیکشن پاکستان کی تاریخ کے وہ پہلے الیکشن تھے جو ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر ہوئے تھے۔ اس الیکشن سے قبل جتنے بھی الیکشن ہوئے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر نہیں ہوئے تھے۔1970 کے← مزید پڑھیے
سترہ جولائی کے ضمنی انتخابات کے بعد، چوہدری پرویز الٰہی کے پاس زیادہ نمبر موجود ہونے کے باوجود، میں آج ہونے والے انتخابات کے نتائج کی پیشین گوئی نہیں کر سکتا حالانکہ چوہدری پرویز الٰہی کے پاس اکثریت موجود ہے← مزید پڑھیے
ہماری سیاست میں الزامات کی ثقافت عروج پکڑتی جا رہی ہے۔ ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگائے جاتے ہیں اور بعد میں کہہ دیا جاتا ہے، وہ سیاسی بیان تھا۔ کیا سیاست جھوٹ کا نام ہے یا جھوٹ کو نالائق← مزید پڑھیے
مسلم لیگ (نون)کا واقعتا اگر کوئی سوشل میڈیا سیل ہے تو وہ منظم انداز میں متحرک نہیں۔ اس جماعت کے چند حامی مگر اپنے تئیں کچھ جلوہ دکھانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ان میں سے چند ان دنوں← مزید پڑھیے
گزشتہ کچھ عرصے سے ایران، روس اور ترکی کے درمیان آستانہ مذاکرات کا سلسلہ چل رہا ہے۔ اب تک اس مذاکراتی سلسلے کی 18 نشستیں منعقد ہو چکی ہیں جن میں انسانی ہمدردی کے امور، باہمی تعاون کے فروغ، خطے← مزید پڑھیے
ہمارے خطے میں حالات بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی قوتیں اپنے اپنے پتے بڑی ہوشیاری سے کھیل رہی ہیں۔ ایک دن تجریہ نگار کہہ رہے ہوتے ہیں کہ مغربی بلاک کا پلڑا بھاری ہے تو اگلے← مزید پڑھیے
بندوق اور حوصلے کی جنگ ۔۔رشید یوسفزئی/آزادی کی جنگ میں غفار خان صمد خان اور میرزا علی خان وزیر ایک ہی قطار میں کھڑے ایسے حریت پسند تھے جو پختونوں کو ایک خودمختار وحدت میں متحد کرنا چاہتے تھے، جہاں پر ان کا مستقبل محفوظ ہو← مزید پڑھیے
شاہدرہ سے شبیر صاحب کہ دیرینہ قاری ہیں، ایک ناتے سے عزیز بھی ہیں اور عمدہ ذوقِ شعر و سخن و فلسفہ رکھتے ہیں، واٹس ایپ پر خاصی مداراتِ افکار کیے رکھتے ہیں۔ مغربی فلاسفہ کے افکار بڑی فراخدلی سے← مزید پڑھیے
میرے وہ صحافی دوست درست ثابت ہوئے جو مصدقہ ذرائع اور متحرک روابط کی بنیاد پر مجھے سمجھاتے رہے کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات کے نتائج کی وجہ سے شہباز شریف وزارت عظمیٰ سے ازخود مستعفی نہیں ہوں گے۔ پی← مزید پڑھیے