نگارشات    ( صفحہ نمبر 132 )

سید ابوالحسن امام علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم/حیدر جاوید سیّد

سید ابوالحسن امام علی ابنِ ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم 13 رجب المرجب 30 عام الفیل (اعلانِ رسالتﷺ سے نو یا دس برس قبل) کو بیت اللہ میں ورود مسعود کی سعادت حاصل کرکے دنیا میں تشریف لائے۔ 21←  مزید پڑھیے

خواجہ سراؤں کی طرح عورت بھی ادھوری تھی/عثمان انجم زوجان

کوئیر کمیونٹی کے وہ افراد جن کو ہیجڑا، زنانہ اور ٹرانس جینڈر کہا جاتا ہے وہ کوئی دوسری دنیا کی مخلوق نہیں۔ یہ بھی ویسے ہی پیدا ہوتے ہیں جیسے ایک مرد اور عورت، پھر بھی ان کو یہ معاشرہ←  مزید پڑھیے

یوم شہادت علی کرم اللہ وجہہ/محمود اصغر چودھری

کچھ نام اتنے پیارے ہوتے ہیں کہ زبان پر آتے ہی حلاوت محسوس ہوتی ہے جیسا کہ علی رض ۔ بچپن میں ہمارے گاؤں میں بہت سے پیشہ ورگداگر آتے تھے جودروازے پر صدا لگاتے اور آٹے کی ایک پلیٹ←  مزید پڑھیے

سیاسی رمضان/فرزانہ افضل

ماہ رمضان کی رونقیں عروج پر ہیں بلکہ اس سال تو پچھلے سال کی نسبت کچھ زیادہ ہی اونچی پرواز پر ہیں ۔ جیسے ہی اس بابرکت مہینے کا آغاز ہوا تو بمشکل چار روزوں کے بعد ہی دھڑا دھڑ←  مزید پڑھیے

ایچی سن کالج میں اسلام کی فتح/محمد وقاص رشید

خبردار ! کسی نے ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے باریش گورنر صاحب کی طرف کوئی انگلی اٹھائی اور وہ بھی ایک غیر مسلم اور غیر قومی شخص کے لیے۔ پانچ وقت کے نمازی پرہیز گار←  مزید پڑھیے

ایک نہیں ،دو پاکستان/طیبہ ضیا چیمہ

ایک نہیں دو پاکستان ایک نہیں دو پاکستان، نواز شریف نکالے جائیں تو ادارے زندہ باد، عمران خان نکالے جائیں تو ادارے مردہ باد، جسٹس قاضی اور صدیقی نکالے جائیں تو ادارے زندہ باد، چھ جج آواز اٹھائیں تو ادارے←  مزید پڑھیے

ماسکو سے مکّہ (7)ڈاکٹر مجاہد مرزا

کھانا کھانے وہیں گئے تھے۔ میں نے تو پاکستانی کھانا کھا لیا تھا لیکن جمشید مزید “مرچین” کھانے سے انکاری تھا۔ وہ پوچھ رہے تھے کہ “کے ایف سی” (کینٹکی فرائیڈ چکن) کا جوائینٹ کہاں ہے۔ مجھے ایک نوجوان پہلے←  مزید پڑھیے

بوڑھے بابے کے آنسو اور لاعلمی کی نعمت /ڈاکٹر نوید خالد تارڑ

دیکھو لاعلمی کتنی بڑی نعمت ہے کہ گلی کی نکر پہ دودھ دہی کی دکان پہ بیٹھا بوڑھا بابا جو ہنسنا بھول گیا ہے، وہ جانتا ہی نہیں کہ اس کی مسکراہٹ چھیننے والا کون ہے۔ چھ ماہ پہلے جوان←  مزید پڑھیے

بہترین قومیں کیسے بنتی ہیں/توقیر بُھملہ

مسافر جو سیاح بھی ہو اس کی آنکھ حیرتوں کا جہاں ہوتی ہے، وہ اپنے تسکین تجسّس کی خاطر وہ کچھ بھی دیکھ لیتا ہے جو عام بلکہ ظاہری آنکھ سے پوشیدہ رہتا ہے۔ وہ سات بچے تھے جن کی←  مزید پڑھیے

کتاب چھپوانے کا سفر – ایک روداد ( قسط چہارم و آخری قسط)-عاطف ملک

گم نام  مصنف آراء کا  منتظر تھا، ایسے میں دو اصحاب نے اپنی رائے سے نوازا۔ محبی محمد حسن معراج سے کبھی بالمشافہ  ملاقات نہیں ہوئی  مگر انہوں نے اس نئے مصنف کی کچھ تحریریں  انٹرنیٹ پر پڑھی تھیں سو←  مزید پڑھیے

ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ماریہ عرش پر/محمد وقاص رشید

“ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ماریہ عرش پر ” (ماریہ کی روح کا عرشِ معلیٰ پر حاضری کا چشمِ تصور سے دیکھا گیا منظرنامہ) خدا کا دربار لگا ہوا ہے۔ فرشتے روز ہی سر جھکائے ہوتے ہیں۔ مگر آج تو گویا←  مزید پڑھیے

ایک زندگی ایک مکان کے لیے/امتیاز احمد

جس رات آپ کا بچہ روتا ہے، آپ نیم خوابیدہ آنکھوں کے ساتھ اسے اٹھا کر چپ کروانے کی کوشش کرتے ہیں، پہروں اُسے اٹھا کر کمرے میں ٹہلتے رہتے ہیں، کسی پنڈولم کی طرح دائیں سے بائیں اور بائیں←  مزید پڑھیے

قرض کی پیتے تھے مئے/سعدیہ بشیر

وطن عزیز میں میاں قرض کی بہت دھوم تھی۔ دھوم بھی ایسی ویسی! سمجھیے بینڈ باجے کے ساتھ دھوم۔ میاں قرض فرض کی نیکیاں ناپ تول کر بانٹا کرتے تھے اور تشہیر والی نیکیوں پر سونے چاندی کے ورق سجا←  مزید پڑھیے

ٹورنٹو (مکتوب /4)-انجینئر ظفر اقبال

ان دنوں ٹورنٹو کے مرکزی پارک میں بے گھر مہاجرین کے کیمپوں کے میڈیا میں خوب چرچے ہیں جن کی وجہ سے مقامی لوگ اپنے آپ کو کافی غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ بین الاقوامی طلبا اور عارضی ورکر پروگرام←  مزید پڑھیے

ڈرامے کی شادی/محمد وقاص رشید

کل میرے پیرو مرشد نے ایک “مذہبی” ٹاک شو میں انسانی تاریخ کی سب سے عقل مندانہ گفتگو کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ڈراموں میں میاں بیوی کا کردار ادا کرنے والے حقیقی زندگی میں بھی میاں بیوی تصور ہونگے۔←  مزید پڑھیے

پاکستانی اُردو فکشن اور کم مائیگی کا مسئلہ/عامر حسینی

ادب ان مسائل سے معاملہ نہیں کر رہا ہے جن کی طرف ہم یہاں توجہ دلانا چاہتے ہیں، جیسے کہ ‘بھیڑ ہتھیا’ (موب لنچنگ)۔ حقیقت میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ ادبی دنیا اور میڈیا ہاؤسز جیسے ادارے ان آوازوں کو←  مزید پڑھیے

ٹورنٹو-مسی ساگا (مکتوب /3)-انجینئر ظفر اقبال

مسی ساگا ٹورنٹو کے بعد GTA کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اسے منی پاکستان بھی کہتے ہیں۔ مسی ساگا کا نام تو قدیم مقامی کینیڈین قبیلے کے نام پر رکھا گیا تھا لیکن اب اسے مسلم ساگا بھی کہتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

دی گلگت گیم /اشفاق احمد ایڈوکیٹ

ویسے تو گلگت اور اس کے مضافات میں کھیل تماشے روز ہی دیکھنے کو ملتے ہیں. کبھی پولو کی شکل میں تو کبھی فرقہ واریت کے ناسور کی شکل میں۔ لیکن یہاں گلگت گیم سے مراد اس عظیم کھیل کے←  مزید پڑھیے

اسماعیلی اور ان کے فرقے/لیاقت علی ایڈووکیٹ(2،آخری قسط)

گیارھویں صدی میں ایک دفعہ پھر یمن سے اسماعیلی داعیوں کا ہندوستان میں ورود شروع ہوا۔ یمن سے جو پہلے اسماعیلی بغرض تبلیغ ہندوستان آئے، ان کے ناموں کے بارے میں بھی ابہام پایا جاتا ہے۔ پہلے اسماعیلی داعی کا←  مزید پڑھیے

راستے سے محروم خواجہ سراء کمیونٹی کا پہلا ہسپتال/ثاقب لقمان قریشی

وطن عزیز میں خواجہ سراء کمیونٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں کی بِنا پر ملک کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا حصہ خیبر پختون خوا ، پنجاب اور بلوچستان پر مشتمل ہے۔ جہاں آئے روز←  مزید پڑھیے