نگارشات    ( صفحہ نمبر 15 )

انسانیت کی گم شدہ بیٹیوں کا نوحہ/ابو جون رضا

زمانۂ قدیم میں سفر کا راستہ محض فاصلہ طے کرنے کا نام نہ تھا؛ یہ خوف، بے یقینی اور اندیشے کی ایک مسلسل گزرگاہ تھی۔ انسان کسی اجنبی درخت کے سائے میں بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا تھا۔←  مزید پڑھیے

جدید طبیعیات کی بنیادیں: کتاب کا تعارف / حمزہ ابراہیم

موجودات کو بہتر طور پر سمجھنے کیلئے عقلیاتِ معاصر سے رجوع کیا جانا چاہئے۔ معقولات سے مراد واقعیت کا وہ بیان ہے جس پر ہمارے اپنے دور کے عقلاء کا اتفاق ہو۔ یہ باتیں عموماًیونیورسٹیوں کی درسی کتب میں جمع←  مزید پڑھیے

ججز استعفیٰ کیوں دے رہے ہیں ؟-ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

پاکستان کا آئینی و عدالتی ڈھانچہ ہمیشہ سے ایک مسلسل ارتقا کا حصہ رہا ہے۔ پارلیمان کی مختلف ترامیم نے نہ صرف ریاستی اداروں کے اختیارات کے توازن کو متاثر کیا بلکہ عدلیہ کی ساخت اور کردار پر بھی گہرا←  مزید پڑھیے

فن، جمالیات اور مزاحمت- مارکس سے مارکیوز اورفینن تک ( دوئم،آخری حصّہ )-سائرہ رباب

فینن: ثقافت اور ذہنی آزادی فرانز فینن (Frantz Fanon) کہتا ہے کہ استعمار سب سے پہلے ’’دماغ‘‘ کو غلام بناتا ہے۔ “Colonialism colonizes the mind.” فینن کے نزدیک نوآبادیاتی غلامی صرف سیاسی اور معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی اور جمالیاتی غلامی←  مزید پڑھیے

الفاظ کی کثرت، معنی کی قلت اور فکر کا افلاس /مرزا بشارت

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے بات چیت کا ماحول ختم کر دیا ہے اور یہ ہماری لیاقت یا دانست سے نہیں بلکہ ہماری انانیت کی وجہ سے ہوا ہے۔ ہمارے اہلِ علم ابھی تک فراخ دل اور بردبار←  مزید پڑھیے

ارض پاک میں گُزرے ایام(7)-سراجی تھلوی

*شمس الدین شگری کے سنگ  یادِ ایّام لکھ رہا ہوں۔ زندگی ایک سفر ہے جہاں قدم قدم پر محبتوں کا مالا، نفرتوں کا جالا اور اذیّتوں کا ہالا ملتا ہے۔جہاں خوابوں کی تعبیر ڈھونڈتے ہوئے تنگ و تاریک گلیوں،سربفلک پہاڑوں،گنجان←  مزید پڑھیے

طنز و تحقیر بطور ہتھیار : دلیل کی کمزوری کا اعتراف/ وحید مراد

علم کی روایت یہ سکھاتی ہے کہ استدلال کا مقصد سوال کو دبانا نہیں بلکہ اس کی سمت واضح کرنا اور فہم کے دروازے کھولنا ہے۔علم سوال سے جنم لیتا ہے اور مکالمہ اس کی روح ہے۔ جہاں گفتگو دلیل←  مزید پڑھیے

اقتدار (3)-مرزا مدثر نواز

اقتدار میں آتے ہی انسان کے رشتہ داروں‘ دوستوں‘ مدّاحوں اور حاسدوں میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کو یہ گمان ہو کہ اس کی ذات سے آج تک کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوا اور اس کا←  مزید پڑھیے

معاشرے میں سوچ اور سوال جرم کیوں ؟-شیر علی انجم

سب سے خطرناک قسم کی بے خبری وہ ہے جب کوئی خود کو سب کچھ جاننے والا سمجھے۔ ہمارا سماج بھی کچھ اس طرح کے حالات سے دوچار ہیں۔ یہاں اگر کوئی باشعور بات کرے تو اسے دشمن سمجھا جاتا←  مزید پڑھیے

مہنگائی بڑھ کر کال بنی، ساری بستی کنگال بنی / عمر شاہد

پچھلے کئی دہائیوں سے پاکستان کی معیشت پر افراط زر کا خوف طاری ہے مگر اب یہ خوف اب ایک دائمی بیماری کی شکل اختیار کرچکا ہے، ایک ایسی بیماری جس نے عوام کی ریڑھ کی ہڈی توڑ کر رکھ←  مزید پڑھیے

مودی اور بہار/آصف مسعود

صبح کے وقت دہلی کی فضا میں ہلکی سی خنکی تھی۔ نیوز چینلوں کے دفاتر میں غیر معمولی گہماگہمی تھی۔ سب کی نظریں ایک ہی ریاست پر جمی تھیں۔ بہار۔ وہی بہار جو بھارت کے سب سے غریب مگر سب←  مزید پڑھیے

فیس لیس یوٹیوب، غربت سے نکلنے کا نیا دروازہ؟-سید بدر سعید

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ وہ دور گزر گیا جب نوکری ہی واحد ذریعہ آمدن سمجھی جاتی تھی۔ اب “ڈیجیٹل معیشت” کا زمانہ آ چکا ہے جہاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم صرف تفریح نہیں بلکہ روزگار کا ذریعہ بن←  مزید پڑھیے

جذبات-— جدید دنیا کا اہم ترین علم؟-ندااسحاق

میری زندگی میں زیادہ تر مسائل کا تعلق جذبات سے ہی جڑا رہا۔ وقت گزرنے اور نفسیات پڑھنے کے ساتھ سمجھ آیا کہ یہ مسئلہ صرف میرا نہیں بلکہ انسانیت کا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کونسا کام صحیح اور←  مزید پڑھیے

بوگس شناختی کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین/ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

افغان مہاجرین کا مسئلہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ پیچیدہ اور طویل المیعاد انسانی و انتظامی چیلنجوں میں سے ایک رہا ہے۔ یہ معاملہ صرف سرحدی نقل مکانی یا پناہ گزینی تک محدود نہیں بلکہ اس نے پاکستان←  مزید پڑھیے

فلم ریویو: ہیومنز ان دا لوپ/فرزانہ افضل

پیشتر اس کے کہ میں آرنیئا ساہے کی لکھی اور ڈائریکٹ کی ہوئی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے موضوع پر مبنی اس فلم پر تبصرہ کروں میں ہیومن ان دا لوپ کے معنی واضح کرنا چاہوں گی اپنے قارئین کی معلومات میں←  مزید پڑھیے

پاکستان میں شہری بحران /عمر شاہد

پچھلی کئی دہائیوں سے حکمران طبقے نے عوام کو یہ بیانیہ تھمایا ہوا ہے کہ پاکستان ایک دیہاتی معاشرہ ہے جہاں صرف 39 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ لیکن عالمی بینک کی تازہ رپورٹ نے اس جھوٹے بیانیے کی←  مزید پڑھیے

پُڑیا/حسان عالمگیر عباسی

ایک بہت اہم نکتہ نظر سے گزر گیا ہے۔ ہم جواب دینے کے لیے سنتے ہیں۔ ہمارے پیش نظر مسئلے کا حل نکالنا تو بہت دور سمجھنا یا نوعیت جاننا بھی کبھی نہیں رہا۔ ہمارے میڈیا سے لے کر محلے،←  مزید پڑھیے

مارکسی تاریخی مادیت کا فکری و تجزیاتی مطالعہ /محمد فاروق نتکانی

یہ مقالہ مارکسی تاریخی مادیت (Marxist Historical Materialism) کے نظریاتی اصولوں اور اس کے عملی اثرات کا تحقیقی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مقالے میں یہ سوال مرکزی حیثیت رکھتا ہے کہ انسان کے خیالات (human consciousness) اور اس کے اعمال←  مزید پڑھیے

کھیت کی مُولی/ راجا ناصر محمود

تم کِس کھیت کی مُولی ہو؟ آج کل سوشل میڈیا کے آسرے پر جینے والا ہر شہری یہ سوال صرف مُولی سے نہیں پوچھ رہا بلکہ کسی بھی قسم کا پھل یا سبزی خریدنے سے پہلے اُس کی تاریخِ پیدائش،←  مزید پڑھیے

خلطِ مبحث: فلسفیانہ مغالطہ یا مکالمے کو دبانے کا دفاعی میکنزم /وحید مراد

خلطِ مبحث محض ایک منطقی لغزش نہیں، علمی اور فکری دنیا میں یہ کبھی کبھی ایک ایسا پوشیدہ ہتھیار بن جاتا ہے جو دلیل کے بوجھ سے بچنے، سوال کی طاقت کو بے اثر کرنے اور مکالمے کی روح کو←  مزید پڑھیے