نگارشات    ( صفحہ نمبر 64 )

یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہے شیر کے خلاف کلیلہ کی کھلی بغاوت (3)- محمد ہاشم خان

جب کلیلہ جنگل کے جانوروں کو بوڑھے شیر کے خلاف ورغلا رہا تھا اور ان کے اندر بغاوت کا جوش و ولولہ پیدا کر رہا تھا تو اس وقت سیدالقرود مسمیٰ الفرطوت ایک ڈال سے دوسری ڈال پر گلاٹیاں مار←  مزید پڑھیے

کراچی کا اسٹائلش ڈرگ ڈیلر ساحر حسن /طحہ عبیدی

میری دلچسپی میں اُس وقت اضافہ ہوا جب پاس بیٹھے ایک شخص نے کہا “آزاد خان یا مقدس حیدر” ہٹا دیئے جائیں گے اور بگڑے نوابوں کی تفتیش آگے نہیں بڑھے گی ، میں سوچنے پر مجبور ہوگیا یہ اتنے←  مزید پڑھیے

ڈی این اے کا ڈیزائنر کون ہے؟-تحسین اللہ خان

دنیا میں ہر چیز کا “ڈیزائنر” موجود ہے۔ ہر ایک ڈیوائس کسی کمپنی میں ضرور کسی ڈیزائنر نے ہی ڈیزائن کیا ہے اور اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرتا، کیونکہ انکار کرنے والے کو ہم پھر پاگل کہیں←  مزید پڑھیے

مدینے کا سفر ہے/طیبہ ضیاء چیمہ

مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ، جبیں افسردہ افسردہ قدم لغزیدہ لغزیدہ۔ ماہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ قافلے حرمین شریفین کی جانب رواں دواں ہیں۔ یوں تو اب بارہ مہینے جم غفیر رہتا ہے←  مزید پڑھیے

جنگل کے امیر کا انتخاب(2) اب بادشاہ کو ہم اور زیادہ برداشت نہیں کر سکتے: کلیلہ /محمد ہاشم خان

میرے پیارے دوستو تمہیں معلوم ہے کہ تم جنگل کی شان ہو، جنگل کی رونق تمہارے دم سے قائم ہے۔ سنت منصور و قیس تم سے زندہ ہے، کوئے جنوں تم آشفتہ سروں سے آباد ہے۔ مجھے فخر ہے کہ←  مزید پڑھیے

اردو نامہ – میری مادری زبان/زید محسن

چاہے آپ اس بات کو تسلیم کر لیں کہ زبانیں کسی مذہب کی نہیں ہوا کرتیں اور زبانیں مذہب کی چار دیواری سے الگ ہوتی ہیں ، لیکن اس بات کو تسلیم کرنے میں آپ کو کوئی دقیقہ نہیں لگے←  مزید پڑھیے

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ/سعدیہ بشیر

کنویں کا پانی گدلا ترین ہوتا جا رہا تھا۔ جب کبھی کوئی پانی کے گدلے پن کو دور کرنے کنویں میں اترتا، لوگوں کے چہروں پر امید جگمگانے لگتی۔ طویل انتظار کے بعد جب وہ پانی کے گدلا پن میں←  مزید پڑھیے

طارق بن زیاد/طیبہ ضیاء چیمہ

ایک مصرعے “ہر ملک ملکِ ماست کہ ملکِ خدائے ماست” میں طارق کے پورے خطبے کو جس صراحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے، یہ اقبال کے فن کا اعجاز ہے۔ اس ایک مصرعے میں طارق کا جوشِ ایمانی،←  مزید پڑھیے

ملک معراج خالد؛مادری زبانوں کا مخالف/لیاقت علی ایڈووکیٹ

7۔ جولائی 1972 کو سندھ اسمبلی نے سندھی لیگویج بل منظور کیا۔ یہ بل منظور ہونے کی دیر تھی کہ کراچی اورحیدرآباد کے اردو بولنے والوں نے آسمان سر پر اٹھالیا۔رئیس امروہی نے اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے←  مزید پڑھیے

امریکی صدور جنہوں نے امریکہ کو عظیم بنایا(1)-زبیر حسین

چند سال قبل سی سپان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر برائن لیمب اور کو پریزیڈنٹ سوسن سوین نے مورخین ڈگلس برنکلے، ایڈنا گرین میڈفورڈ، اور رچرڈ نورٹن سمتھ کے تعاون سے اپنی کتاب دی پریزیڈنٹس (امریکی صدور) شائع کی۔ اس کتاب←  مزید پڑھیے

امیر کا انتخاب اور دمنہ کی سازش (1)-محمد ہاشم خان

پچیس سال تک شیر کی صحبت میں رہنے کے بعد دمنہ کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ جنگل کا اگلا امیر وہ بن سکتا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ شیر بوڑھا ہو گیا ہے، اب اس کے اندر←  مزید پڑھیے

لوڈوگ وون مائیسس: فکری ہمت و دلیری کی داستان/سجیل کاظمی

ایک ایسے وقت میں جب مارکسزم اور فاشزم تیزی سے یورپ پر چھائے رہے تھے۔ بشمول آسٹریا کے، اور یہ نظریات صرف حمایت حاصل نہیں کررہے تھے بلکہ اس کے حمایتیوں نے لوگوں کا ذہن ایسا بنا لیا تھا کہ←  مزید پڑھیے

پیسے کی اندھی دوڑ اور ہماری نئی نسل/توصیف اکرم نیازی

یہ دور ایک عجیب کھیل بن چکا ہے. ہر طرف صرف ایک ہی آواز گونج رہی ہے: “یہ کورس کرو، لاکھوں کماؤ!” “یہ اسکل سیکھو، کروڑوں بناؤ!” “ڈگری کا کوئی فائدہ نہیں، بس ہنر لو اور پیسے کماؤ!” جیسے پیسہ←  مزید پڑھیے

اردو اور ہندی /ایم اے فاروقی

سن ۱۹۷۶ یا ۷۷ کی بات ہے، میں الہ آباد سے بنارس آرہا تھا،شام کی پسنجر ٹرین تھی، کچھ لوگ میرے سامنے والی برتھ پر بیٹھے تھے ، لباس اور بات چیت سے لگا کہ مہذب اور تعلیم یافتہ لوگ←  مزید پڑھیے

پشتو کا جشن -مادری زبانوں کے عالمی دن/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

ہر سال 21 فروری کو دنیا مادری زبانوں کا عالمی دن مناتی ہے، یہ دن لسانی تنوع کو فروغ دینے اور مادری زبانوں کے تحفظ کے لیے وقف ہے۔ خیبر پختونخواہ (کے پی کے)، قبائلی اضلاع اور پاکستان اور افغانستان←  مزید پڑھیے

کچھ سچے اور ہولناک واقعات/پرویز مظفر

۱ : والد صاحب کے انتقال کے بعد غالباََ نومبر یا  دسمبر ۲۰۲۰ کے شروع میں شمیم حنفی صاحب نے ویڈیو کے ذریعہ والد محترم کو خراج عقیدت پیش کیا، اُس میں ایک ہلکا سا اشارہ یہ بھی تھا کہ←  مزید پڑھیے

چوتھی دوستی پشاور ادبی فیسٹیول 2025 ایک یادگار تجربہ/عارف خٹک

چوتھی دوستی پشاور ادبی فیسٹیول 2025 اپنے اختتام کو پہنچا۔ بظاہر یہ محض دس روزہ تقریبات تھیں، مگر میرے نزدیک یہ خیبر پختونخوا میں ادبی بیداری کا پہلا قطرہ ثابت ہوا اور وہ بھی ایسا قطرہ جس کے برسنے سے←  مزید پڑھیے

زبان اور کلچر کے عروج و زوال کا راز /پروفیسر فضل تنہا غرشین

زبانیں سماجی ضروریات کے تحت لاشعوری طور پر وجود میں آتی ہیں اور شعوری طور پر معاشی، سیاسی، سائنسی، مذہبی اور قانونی ضروریات کے لیے بامِ عروج پر پہنچا دی جاتی ہیں۔ زبانیں عام طور پر انسانی رابطوں کے لیے←  مزید پڑھیے

محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی /ناصرالدین مظاہری

سوامی دیال میرے گاؤں مرزاپور لکھیم پور کھیری کے پردھان تھے، بڑے نیک انسان تھے ، جب سے ہوش سنبھالا تو انھیں اپنے والد ، چچا رحمت اللہ اور دیگر اچھے مسلمانوں سے ان کا ہمیشہ تعلق رہا۔یہی سوامی دیال←  مزید پڑھیے

ٹھنڈی میٹھی رُت/شہزاد ملک

مارچ کا مہینہ بھی گذرا جارہا تھا اور دسمبر جنوری کی سرمائی بارشوں کا کہیں اتا پتا ہی نہیں تھا چار دن چمکیلی دھوپ پڑی اور موسم نے تیور بدلنا شروع کر دئیے سردی رخصت ہوتی نظر آنے لگی اور←  مزید پڑھیے