نگارشات    ( صفحہ نمبر 827 )

بیس سال بعد کیا ہوگا؟۔۔۔ کیمیکو ڈی فری ٹاس تامورا

لندنـــ صدیوں بعد نہیں بلکہ 20 سال بعد ہمارا مستقبل کیا ہو گا ؟ اگر ہم یول نوح ہراری پر یقین کریں جو اسرائیلی مؤرخ ہیں اور جنہوں نے ” سیپینز’ اور ” ہومو ڈیوز ” جیسی دو بے مثال←  مزید پڑھیے

ادب اور ادیب کی سمت۔۔منیب

انسانی معا شرے کی حرکیات سمجھنا آ سا ن کام نہیں ۔دنیا کی معلوم تا ریخ میں کو ئی دانشور،تاریخ دان،فلسفی، یا ادیب یہ دعوی نہیں کر سکا کہ وہ سما ج کی کلی تفہیم کر چکا ہے ۔سما جی←  مزید پڑھیے

تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں۔۔۔سعدیہ سلیم بٹ

شام کے سائے بڑھتے ہی ایسے لگتا ہے جیسے زندگی کروٹ لے کر بیدار ہو گئی ہے۔ کسی گھر میں پلی بلی کی طرح٬ جو سارا دن سوتی ہے اور شام ڈھلتے ہی بیدار ہو جاتی ہے اور پھر صبح←  مزید پڑھیے

اخروٹ، ایجبسٹن سے ڈی چوک تک۔۔شکور پٹھان

کالج کا پہلا سال تھا۔ امتحان کی تیاری زور وں  پر تھی کہ ہماری کرکٹ ٹیم انگلستان جا پہنچی۔ زندگی میں جو مسائل خود پیدا کردہ ہیں اس میں کرکٹ کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ بھلا کرکٹ ہورہی ہو←  مزید پڑھیے

ہماری سلامتی کو لاحق اندرونی خطرات۔۔ذوالقرنین ہندل

آج پاکستان مختلف  خطرات کی وجہ سے متعدد محاذ  پر الجھا ہوا ہے۔ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کی سیاست کا ماحول اس کے جغرافیائی مقام کی اہمیت پر منحصر ہے۔ کسی بھی ملک کے لئے اس←  مزید پڑھیے

فنگر پرنٹس۔۔بلال الرشید

ساڑھے چار ارب سال پہلے جب کرّہ ء ارض پر خدا نے 92عناصر میں سے کچھ کو جوڑ کر زندگی تخلیق کی تو اس سے پہلے اس زندگی کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے ۔ ان جانداروں کے جسموں←  مزید پڑھیے

عشق رسول کا سیاسی استعمال۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

معروف کالم نگار جاویدچوہدری ، سابق بیوروکریٹ الطاف گوہر صاحب کی زبانی ایک واقعہ درج کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں : ’’شاہ سعود کو بنگال کا دورہ کرنا تھا ۔ ہم اس کے استقبال کے لئے بڑی تیاریاں کرر ہے تھے←  مزید پڑھیے

مسلمانوں کو سزا دو۔۔محمود اصغر چوہدری

برطانیہ میں کچھ شر پسندوں نے تین اپریل کا دن ” مسلمانوں کو سزا دینے کا دن“ منانے کا اعلان کیا ہے ۔ برطانیہ کے مختلف شہروں میں بذریعہ ڈاک ایسے لیٹر بھیجے گئے ہیں جس میں برطانوی شہریوں کو←  مزید پڑھیے

بھارت کی آبی دہشتگردی۔۔ شاہانہ جاوید

ایک بہت ہی خوف ناک مسئلہ جس سے ہماری حکومت نظریں چرا رہی ہے وہ ہے پانی کی قلت کا بحران، یہ وہ مسئلہ ہے جس پر کسی کی توجہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی توجہ دینا چاہتا ہے.←  مزید پڑھیے

بین الاقوامی تجارتی تعلقات کے لیے حضرت محمد علیہ السلام کا اسوہ۔۔۔حافظ صفوان محمد

نبوت سے قبل جنابِ محمد بن عبد اللہ نے جو  کاروباری سرگرمی فرمائی اس کی بنیاد میں مذہب شامل نہیں تھا۔ لیکن آپ نے یہ کاروباری تجارتی سرگرمی ایسی شاندار پیشہ ورانہ اخلاقیات کے ساتھ فرمائی کہ بعدِ نبوت آپ←  مزید پڑھیے

جمہور کا ابہام۔۔زاہد سرفراز

  ہمارے علمی دیوالیہ پن کا یہ عالم ہے کہ ہم اکیسویں صدی میں بھی جمہوریت کو محض ایک طریقہ انتخاب ہی سمجھتے ہیں ہمارے اس ابہام نے جہاں ہماری علمیت کو مسخ کر دیا ہے وہیں ہماری عملی جدو←  مزید پڑھیے

پاکستانی میڈیا پر چلنے والی ملالہ مخالف مہم کا جواب۔۔/آخری حصہ

سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ کاشف مرزا اس اخلاق باختہ حرکت کی بھی مہمل توجیہات پیش کرتے دکھائی دیئے، اور بغیر کوئی شرمندگی دکھائے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق اس کا ذمہ دار بھی ملالہ←  مزید پڑھیے

اپریل فول۔۔درِ صدف ایمان

یوں تو ہماری قوم ایک بات میں نہیں ہر بات میں ،ہر معا ملے میں مغرب کی تقلید کر رہی ہے ،اب چاہے جنوری میں نیو ایئر ہو ،یا فروری میں و یلنٹا ینز ڈے ،مارچ میں خواتین کا عالمی←  مزید پڑھیے

مولانا ابو الوفاء عظیم اللہ اعظمی۔۔ڈاکٹر محمد مبارکپوری

شہر مئو ناتھ بھنجن جو علم وادب کے حوالے سے محتاج تعارف نہیں ہے۔ اس شہر میں فیض قدرت نے جن عظیم شخصیات کو وجود بخشا ہے‘ ان میں مولانا ابو الوفا عظیم اللہ صاحب کا اسم گرامی علمی حلقوں←  مزید پڑھیے

مرزا حامد بیگ کا”انار کلی“ ایک تاریخی دستاویز ۔۔۔ محمد کامران شہزاد رانجھا

تاریخی شعور کی چاشنی سے لبریز ایک ایسا ناول ہے۔جس میں ناول نگار قاری کو بیک وقت ناول میں ماضی اور حال میں محو سفر رکھتا ہے۔ ناول کی حیثیت دستاویزی ہے جس میں فلم یونٹ کے ارکان کی طرف←  مزید پڑھیے

غدار ملالہ اور پاکستانی ہیرو ہونے کا معیار۔۔افراز اختر

میں پچھلے دنوں یہودیوں اور مسلمانوں کے  کامیاب اور ناکام ہونے کی وجوہات پر کالم لکھ رہا تھا جو ابھی پورا نہیں ہو سکا لیکن اس دوران ملالہ پاکستان کے اچانک دورے پر چلی گئی ا ور پھر ہمارے فیس←  مزید پڑھیے

ایک زندہ اور ایک مردہ بچی کی کہانی ۔۔حاشر ابن ارشاد

1945 میں نازی عقوبتی کیمپ میں مرنے والی پندرہ سالہ یہودی بچی اینیلیز فرینک محض یہودی ہونے کے جرم کی مرتکب تھی۔ اسی جرم میں گرفتار ہونے سے پہلے 1942 سے 1944 تک اپنے گھر کی پرچھتی پر بیٹھ کر←  مزید پڑھیے

جوانی ضائع نا کریں۔۔ ڈاکٹر عامر میر

پچھلے سال ستمبر میں میرے ہاسپٹل میں ایک نئے ڈاکٹرصاحب آئے۔متھے پہ پاکستانی لکھا ہوا تھا۔آتے ساتھ  ہی مجھ  پہ  ٹھاہ ٹھاہ انگریجی  کے فائر کرنے لگے۔میرا پہلا جملہ یہی تھا۔ڈاٹرشاب،پاکستانی ہو؟ ہاں وہ نہیں میں تو امریکن نیشنل ہوں۔←  مزید پڑھیے

سائیکل والا۔۔عارف خٹک

وہ میری ہم عمر ہے۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ 1997 میری گریجوایشن کا سال تھا کامیابی کی خوشی اور مادر علمی سے جدائی کی اداسی کے ملے جلے احساسات تھے۔ پڑھائی مکمل ہو چکی تھی اکا دکا←  مزید پڑھیے

تاریخ ، عوام اور بیانیے کی حجامت۔۔ابو بکر

اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ کالونیل راج ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ تک ہم پر مسلط رہا ہے۔ہم نے انہی سے آزادی حاصل کی اور آزادی کی میراث بھی انہی سے پائی۔ کالونیل راج کا بنیادی←  مزید پڑھیے