کچھ دن پہلے میں ایک عجیب مخمصے کا شکار تھا جب میرے پاکستانی دوستوں کی سوشل میڈ یا پر افغانستان کے حوالے سے مبارکباد کی تصویریں لگ رہی تھیں اور وہ ایک دوسرے کو افغانستان کے یوم استقلال کے حوالے← مزید پڑھیے
(ایک صاحب علم کے سوالات کے جواب میں لکھی گئی) سوالات نظم قرآن کا تصور اور تفسیر میں مخاطب کے تعین کا مسئلہ (اورا س کے ساتھ اتمام حجت کا قانون بھی ) سامنے آنے کے بعد احکام کی تحدید← مزید پڑھیے
سوشل میڈیا پہ کمی نہیں ان لوگوں کی جو مصنوعی بہادری کے قصے بیان کرکر کے ہمارے جرنیلوں کو ایک الف لیلوی کہانی کاکردار ثابت کرتے رہتے ہیں- اس طرح کی پالش ہم جیسے اوسط درجہ کی ذہنی استعداد رکھنے← مزید پڑھیے
تاریخِ اسلام میں مسجدِ نبویؐ ہی وہ جگہ ہے جہاں سے پھوٹنے والی توحید کی کرنیں پوری دنیا کو منور کر رہی ہیں، مسجدِ نبوی ہی سے ہمیں مسجد و منبر کے اسلامی معاشرے میں کردار کا صحیح تعین ہو← مزید پڑھیے
وہ گھر میں اپنے مخصوص کمرےمیں آئی۔ ہرچیز جوں کی توں تھی جیسے ابھی بھی یہیں رہ رہی ہو۔ اس نے اپنی الماری کامقفل دراز کھولا۔وہ محبت نامے جن میں آج بھی خوشبو رچی ہوئی تھی،یونہی پڑے تھے۔ رومانوی← مزید پڑھیے
ہمارے ملک پاکستان میں ہر طرح کے رنگ ہیں، ثقافتی، معاشرتی، سیاسی. جب پاکستان معرض وجود میں آیا اس وقت خواتین بہت کم تعداد میں فعال تھیں. تحریک پاکستان میں خواتین کی شمولیت کا سبب قائد اعظم کے وہ سنہری← مزید پڑھیے
آج کا پیپر باؤنڈریز کے بارے میں ہے۔ جب ہم لوگ امریکہ شفٹ ہوئے تو سارے بہن بھائی اسٹوڈنٹس تھے۔ ہم سب پڑھ بھی رہے تھے اور جابز بھی کررہے تھے۔ میڈیکل اسٹوڈنٹ ہونے کے دنوں میں ڈاکٹر روتھ ملر← مزید پڑھیے
پیارے دوست آصِف سٹیفن، اُمیدِ کامِل ہے کہ تم قطعی خیریت سے نہیں ہو گے۔ اور ہو بھی کیوں کہ تُم قید خانوں کی صرصر میں جل جل کے انجُم نُما ہونے والے، آنے والے دِنوں کے سفیر تو ہو← مزید پڑھیے
موسیقی، آرٹ یعنی فن کی ایسی ثقافتی شکل ہے جس میں آواز کو ایک مخصوص وقت کے لیے منظم کیا جاتا ہے. موسیقی کے عمومی عناصر میں پچ یعنی آواز کی نرمی اور ہم آہنگی، تال، آواز کی بلندی ،← مزید پڑھیے
(مضامین کا یہ سلسلہ مغرب کے ساتھ ہمارے پیچیدہ تعلق کے نفسیاتی پہلوؤں کی یافت کی ایک کوشش ہے۔ استعمار کا جبر اور اسکے نتیجے میں تشکیل پاتی ردعمل کی نفسیات کا جائزہ مسلم دنیا بالعموم اور پاکستان کے مخصوص← مزید پڑھیے
آج بہت زیادہ تعداد میں لوگوں نے سوشل میڈیا پر حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کے عقد کا تذکرہ کیا۔آج ان کا یوم عقد ہے۔ کائنات کے افضل ترین جوڑوں میں ایک جوڑا رشتہ ازدواج میں بندھ گیا ہے۔اسلام کے← مزید پڑھیے
گذشتہ برس جب امریکی سینٹ میں اس حوالے سے زور دار بحث چل رہی تھی کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ” ڈبل گیم ” کر رہا ہے اور کہا جا رہا تھا کہ پاکستان کی دفاعی امداد← مزید پڑھیے
کون کہتا ہے؟پاکستان میں قوانین اور ادارے موجود نہیں۔یہاں پر قانون موجود ہے مگر ادارے ان قوانین پر عملدرآمد کے لیے مخلصانہ کوشش نہیں کرتے۔ چنانچہ ایسے میں اگر کسی ادارے کا سربراہ قانون کی عملداری کے لیے کمر بستہ← مزید پڑھیے
سی پیک کی تکمیل کے ساتھ ہی اگلے چند سالوں میں چینیوں کا ایک سیلابی ریلہ پاکستان میں داخل ہونے والا ہے۔ ایسے میں وقت کی ایک اہم ضرورت ہے کہ آج چینی زبان اور کلچر کو سیکھنے کی طرف← مزید پڑھیے
کہا جاتا ہے کہ یہ سرمایہ دار جب سرمایہ کاری کرتے ہیں تو اس طرح کئی لوگوں کو روزگار میسر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ورکرز کو کیا دیا جاتا ہے؟ اگلی تنخواہ تک بمشکل زندہ رہنے کے← مزید پڑھیے
پاکستان میں کرکٹ شائقین کو ہر دور میں ایسے کھلاڑی دیکھنے کو ملتے ہیں جو اپنی پرفارمنس سے کم تنازعات کی وجہ سے زیادہ یاد رہ جاتے ہیں.سابق کھلاڑیوں کے تنازعات کبھی اس طرح سے کھل کر سامنے نہیں آئے← مزید پڑھیے
کسی بھی معاشرے میں اگرجتھے بندی کا رواج عام ہو جائے تو جان لینا چاہئے کہ انصاف کی فراہمی کا نظام تباہ ہو چکا ہے اور عام آدمی کا اس سے یقین اٹھ گیا ہے۔ اب لوگوں کے پاس← مزید پڑھیے
آئیے ڈاکٹر اختر احسن کے بیان کردہ چوتھے اسلوب Mechanism کے ذریعے استعمار اور محکوموں کے درمیان بننے والے تعلق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر اختر احسن نے یہ اسلوب بچے اور والدین کے تعلق← مزید پڑھیے
میں نےکمرے میں پڑی نیندکی گولیاں اور بلیڈ کی طرف دیکھ کر سوچا کہ ۔۔ گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لوں ،یا اپنی نبض کاٹ لوں۔ مگر میں عورتوں کی طرح رومانوی طریقے سے مرنا نہیں چاہتا۔۔۔۔میں مرد← مزید پڑھیے
پاکستان میں خواتین استحصال کا شکار ہیں ، میرا مطلب عمومی استحصال سے ہے،جنسی استحصال میرا موضوع نہیں ،اس کے لیے الگ سے بات ہو گی۔پاکستانی معاشرے میں خواتین کو قدم قدم پر مصائب اور استحصال کا سامنا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں خواتین گودسے گور تک دکھ سہتی ہیں،خواتین کے ساتھ ہونے والے اس ظلم کا ذمہ دار عام طور پر مرد کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں حقوق نسواں کے نام نہاد علمبردار مرد طبقے کو روایتی تنقید کا نشانہ بناکر اپنی طرف سے گمان کر لیتے ہیں کہ ہم نے خواتین کو درپیش مسائل کا خاتمہ کر دیا جبکہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو صورتحال یکسر مختلف نظر آتی ہے، خواتین کے استحصال کے خاتمے کے لیے حقیقت کی تلاش ازحد ضروری ہے ۔کیونکہ جب تک مرض کی وجوہات کا علم نہ ہوگا،کوئی← مزید پڑھیے