بندر جانے کس کس بستی سے کس کس جنگل سے چل کر آئے تھے۔ ایک قافلہ، دوسرا قافلہ، قافلہ کے بعد قافلہ۔ ایک منڈیر سے دوسری منڈیر پر، دوسری منڈیر سے تیسری منڈیر پر۔ بھرے آنگنوں میں لپک جھپک اُترتا،← مزید پڑھیے
یہ ان بیت چکے زمانوں کی داستان ہے، جب میں نے مذہبِ کاروبار اور عقیدہ معاش ترک کرکے صرف ادب کے صنم خانے کا طواف کرنے کا فیصلہ کرلیا کہ اگر زندگی کرنی ہے تو قلم کی مزدوری کی جتنی← مزید پڑھیے