چھٹی کے دن ستیہ پال آنند اور میں کوسموس جیبوں میں بھر کر اکثر چاند کے پیچھے والے آسمان میں جا کر کھیلا کرتے ہیں۔ سات ستارے اوپر کے ۔۔ دو نیچے رکھ کر نو پتھّر کا پِٹھّو کھیلنا ‘کِرمِچ’← مزید پڑھیے
مکتوب بتاریخ ۳ ؍مارچ ۲۰۰۴ اقتباس (ایک) روایت کے انجذاب اور انعکاس کے بارے میں جو بات آپ نے تحریر کی ہے ، میں اس سے متفق ہوں۔ آپ کتنے ہی پڑھ لکھ کیوں نہ جائیں، باہر کے ملکوں میں← مزید پڑھیے
مکتوب ۔ تاریخ مئی ۱۸؍ ۱۹۹۲ یعنی کہ وہی بات ہوئی جس کا مجھے خدشہ تھا۔ پہلے تو آپ اقبال کے اس مقولے پر مضبوطی سے قائم تھے کہ دل اور دماغ میں کدورت کے امکان کے بارے میں سوچنا← مزید پڑھیے
ڈاکٹر وزیر آغا سے میری خط و کتابت پینتیس چالیس بر س کے لمبے عرصے تک پھیلی ہوئی ہے۔ چالیس برس پہلے انڈیا میں فون لگ بھگ نایاب تھا اور دوسرے کسی ملک میں بات کرنے کی خاطر کال بُک← مزید پڑھیے
حلقہ ارباب ِ ذوق: ایک مختصر تاریخ! ابتدائی نوٹ: اس مختصر مضمون کی تالیف میں درجنوں رسالے، یاداشتیں اور رسالوں میں مطبوعہ مضامین بطور ماخذمیرے رہنما رہے ہیں۔ کچھ بھی میرا اپنا نہیں ہے اس لیے کسی بات کی درستی← مزید پڑھیے
ا ردو کی ”نئی بستیاں“ ،کچھ مفروضات،کچھ حقائق، کچھ توقعات! ’اردو کی نئی بستیاں“ اصطلاح کے طور پر ۱۹۹۷ء کے لگ بھگ راقم الحروف نے ”کتاب نما“ دہلی کے مہمان اداریے میں پہلی بار استعمال کی۔ ۱؎ اس سے مراد← مزید پڑھیے
شاعری کی اقسام کیا شاعری مختلف ”اقسام“ میں تقسیم کی جا سکتی ہے؟ کیا اس کی درجہ بندی کر کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس قسم کی شاعری اعلی ہے اور اس قسم کی اسفل ہے؟ تسلیم کہ← مزید پڑھیے
جامعات کی سطح پر میری زندگی کا ایک رُخ تدریس و آموزش۔۔ ایک سکے کے دو رُخ! اپنی کلاسز میں، انیس بیس سالہ لڑکوں اور لڑکیوں کو پڑھاتے ہوئے اگر ملٹن کے حوالے سے (اس کی در پردہ شیطان دوستی)← مزید پڑھیے
لنڈین میں ستر کی دہائی میں ایک شعری وبا ء سی انگلینڈ میں 1972-74کے برسوں میں پھیلی جب میں وہاں تھا۔نگریزی میں یہ نظمیں اس قدر مقبول ہوئیں کہ ”دی گارڈین“ سمیت کئی روزانہ اخباروں نے باقاعدگی سے اپنے میگزین← مزید پڑھیے
کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط34 یورپ میں کچھ آوارگی کے دن! اس سے اگلے برس کا یورپ کا سفر صرف دو وجوہات سے تھا ایک تو یہ تھی کہ ہائیڈل برگ یونورسٹی سے (جس میں کسی زمانے← مزید پڑھیے
لندن کے ان برسوں (1972-75)میں میرا تعلیمی، تدریسی اور کسی حد تک ادبی لین دین اپنے ساتھی اسکالرز سے ہی رہا جو انگریزی کے حوالے سے تھا۔ اردو کے احباب سے کبھی کبھی ہی ملاقات ہوئی۔ اور وہ بھی بر← مزید پڑھیے
ریاض میں قیام کی باقیات! وقت کی تنگی کا شکوہ ہم سبھی کرتے ہیں، لیکن وقت کے وافر مقدار میں ہونے اور اسے گذارنے کے لیے شغل تلاش کرنے کی شکایت ہم کبھی نہیں کرتے۔ میرے پاس اپنے تخلیقی کام← مزید پڑھیے
واقعہ ایک ہندوستانی ناولسٹ سے ملنے کا! لندن میں یا اس کے قریب ہی اپنی یونیورسٹی (برٹش اوپن یونیورسٹی، ملٹن کینز) میں رہتے ہوئے تب تک ایک برس بیت چکا تھا۔ چچا ملک (ڈاکٹر ملک راج آنند) سے اس دوران← مزید پڑھیے
شوکت صدیقی اور میں! پاکستان کے اہل قلم کے حوالے سے جس شخصیت کا ذکر میں اب تک نہیں کر سکا، لیکن اب کرنا چاہتا ہوں، وہ شوکت صدیقی تھے۔ میری ان سے غائبانہ دوستی تیس برسوں تک رہی۔میں انہیں← مزید پڑھیے
ادب کے بارے میں کچھ لیکھا جوکھا آئینہ در آئینہ سے ماخوذ! سوال: ایک شاعرکی زندگی اور موت کی بند عمارت میں دروازے کی درزوں میں سے امکانیات کا سود وزیاں دیکھنے سے عبارت ہے۔ یہ کھلم کھلا آسمانی مشاہدہ← مزید پڑھیے
اردو کے ایک فرزانہ و دیوانہ کی کتھا! میں جب واشنگٹن ڈی سی کے ایک نواحی قصبے آرلنگٹن میں اقامت پذیر ہو گیا تو اردو کے جن احباب سے میری ملاقات سب سے پہلے ہوئی ان میں دس بارہ کی← مزید پڑھیے
کچا چِٹھّا وزیر آغا اور میری خط و کتابت کا (۱) (گذشتہ سے پیوستہ) اگر میں یہ کہوں کہ ڈاکٹر وزیر آغا سے میرے تعلقات ایک بے حد خوشگوار سطح مرتفح پر استوار میری واشنگٹن ڈی سی میں آمد کے← مزید پڑھیے
1945ء تک نوشہرہ ایک برس، پھر دو برس راولپنڈی، پھر ایک برس نوشہرہ اور پھر آخری دو برس راولپنڈی۔۔اس طرح یہ ہجرتوں کا سلسلہ جاری رہا۔تین برسوں کے اس عرصے کے دوران میں کوٹ سارنگ صرف دو بار جا سکا،← مزید پڑھیے
ایک سال گزر گیا۔ مگر ایسے کہ مُکالمہ کو زندگی اور فطرت کا حصہ بنا گیا۔ جب “ہم سب” چھوڑنے پر بھائی مجاھد حسین نے کہا کہ آپ اپنی سائیٹ بنائیے تو پہلا خیال تھا، “بھلا میں کیسے بنا سکتا← مزید پڑھیے