ایسی خوشیوں کے موقعوں پر شادیانے بجائے جاتے ہیں۔ سہیلیاں مہندی لگاتی ہیں۔ سکھیاں گیت گاتی ہیں۔ لڑکیاں لڑکے اپنے سارے شوق پورے کرتے ہیں۔ شادی کے بعد تو ہنی مون، رشتہ داروں میں دعوتیں، دلہا دلہن خاص مہمان بنتے← مزید پڑھیے
بنجر آنکھیں کبھی خواب نہیں دیکھ سکتیں۔۔آغر ؔندیم سحر/معاشرے کی عمارت اخلاقیات،برداشت،رواداری اور بھائی چارے کے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے اور جب یہ اعلیٰ قدریں رخصت ہو جائیں تو سماج تباہی کی جانب سفر شروع کر دیتا ہے۔پاکستانی معاشرے کو بھی اسی گھمبیر صورت حال کا سامنا ہے← مزید پڑھیے
میں نے پوچھا، کیا آپ کسی کو راہ چلتے ہوئے بغیر کسی وجہ کے گالی دے سکتے ہیں جس کو آپ پہلے سے نہ جانتے ہوں، نہ اس کے ساتھ کبھی سفر کیا ہو اور نہ کوئی کاروباری معاملہ، کیاآپ← مزید پڑھیے
“تم وہابی ہو اور میں تم سے نفرت کرتا ہوں ” نوجوان کا منہ سرخ تھا، آواز غصے سے تھرتھرا رہی تھی اور ہاتھ کانپ رہے تھے، وہ میرے سامنے کھڑا تھا اور مجھے محسوس ہورہا تھا میں نے منہ← مزید پڑھیے
احساسِ تحفظ۔۔پروفیسر عامر زریں/ عورتیں معاشرے کی تعمیر میں ایک ماہرِ تعمیرات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایک عورت معاشرے میں کتنے ہی رشتوں میں مرد کی زندگی پُر آسائش بنائے ہوئے ہیں۔← مزید پڑھیے
عمران خان اس وقت جنرل مشرف کو اپنی دی گئی حمایت سے دستبردار ہو چکے تھے اور وہ فوجی جنتا کو خوب تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ اور صاف لفظوں میں یہ بتاتے ہیں کہ اگر وہ اقتدار میں آگئے تو کس طرح فوج کو اس کے اس رول تک محدود کردیں گے جو آئین میں لکھا ہوا ہے۔← مزید پڑھیے
بیٹی۔۔آغر ندیم سحرؔ/دس روز قبل میانوالی میں عمران نامی درندے نے اپنی سات دن کی بیٹی کو گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتاردیا’کیوں؟ کیوں کہ وہ بیٹی کی بجائے بیٹے کی پیدائش کا خواہش مند تھا۔اس دل دہلا دینے والے واقعے کو آج دس دن گزر چکے ہیں← مزید پڑھیے
جیسا کہ اس واقعہ کے رونما ہونے کے ساتھ ایک لفظ ہر زبان پر واضح تھا کہ مقتول کا ذہنی توازن درست نہیں تھا اور جس شخص کا ذہنی توازن درست نہ ہو تو کیا اس سے کوئی بھی عقلمندی ، معقول طرز کی توقع کرنے والوں کی جسارت کرنے والوں کے ذہنی توازن پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔؟← مزید پڑھیے
اس میں شک نہیں کہ ہمارے ہاں برصغیر پاک وہند میں استشراقی افکار ، ان پر تنقید ، اور ان کی سنجیدہ تحقیق کے حوالے سے جو کام ہوا ہے وہ اس تحریک کے منفی اثرات اور اس کے دیرپا خطرناک نتائج کے مقابلے میں نہایت محدود ہے۔
← مزید پڑھیے
غیر مسلم معاشرے میں جہاں رومن کیتھولک کی اکثریت ہے ، یہ لوگ کیسے زندگی گزارتے ہوں گے اور ان کی آئندہ نسلیں کیسے اپنی مذہبی اور تہذیبی روایات کو برقرار رکھیں گی؟← مزید پڑھیے
اسلامی معاشرہ میں مسجد کو ایک مرکزی مقام حاصل ہے جو محض عبادات تک محدود نہیں۔ مسلمانوں کی دنیوی و اخروی زندگی کی فلاح مسجد کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مسجد کو اسلامی معاشرہ میں وہی اہمیت حاصل ہے جو انسانی جسم میں دل کو حاصل ہے← مزید پڑھیے
ادب ایک لطیف طرزِ احساس کا نام ہے جس کے ذریعے ادیب اپنے ماضی الضمیر کو منتقل کرتا ہے۔ یہ عمل موضوعی بھی ہے اورمعروضی بھی۔ موضوعی عمل میں ادیب اپنی ذات سے وابستہ غم و رنج کو منتقل کرتا ہے جبکہ معروضی حوالے سے اُس کی ذات کا غم اجتماعیت کا حامل ہوتا ہے۔← مزید پڑھیے
معاشی اور سماجی بوجھ کاوزن اپنے کاندھوں پر اٹھائے مفلوک الحال لوگوں کا ایک ہجوم شہر سے گزر رہا تھا۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر کھلے گٹروں کے بہتے گندے پانی سے وہ بچتے اور ان معصوم بچوں کو یاد کرکے← مزید پڑھیے
دور اور کہیں لے چل۔۔رؤف الحسن/مملکت اسلامیہ میں پہلا واقعہ جس نے مجھے جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا، وہ اس بٹالین کا ہے جہاں میرا بچپن گزرا۔ گھر کے سامنے پارک میں آوارہ کتوں کو ٹریپ کر کے پارک کے دروازے بند کر دیے گئے اور انہیں ڈنڈوں اور بیلچوں سے مار دیا گیا۔← مزید پڑھیے
آنرایبل استاد سڑکوں پر۔۔ڈاکٹر چوہدری ابرار ماجد/دنیا میں اگرکسی شعبہ کو سب سے عظیم کہا جاتا ہے تو وہ استاد کا ہے ۔ استاد کا احترام ہر کسی پر لازم ہے ۔ جتنا کوئی معاشرہ مہذب ہے اتنا ہی اس کے دل میں استاد کا احترام ہوتا ہے ۔ کیونکہ معاشرے کی ترقی میں سب سے زیادہ کردار استاد کا ہوتا ہے ۔← مزید پڑھیے
درزی سے فارغ ہونے کے بعد ہم ایک بیکری میں جا گھسے ابھی شاپنگ میں مصروف تھے کہ قریبی مسجد سے اذان کی صدا بلند ہوئی۔ بیٹی کہنے لگی کیوں نا یہاں نماز ادا کی جائے اور اس کی آنکھوں میں اتری چمک دیکھ کر مجھ سے انکار نہ ہو سکا ،لہذا ہم نے مسجد کا رخ کیا اور وضو سے فارغ ہو کر آخری صف میں بیٹھ کر امام صاحب کا انتظار کرنے لگے۔← مزید پڑھیے
سوشل میڈیا پر ان دنوں جہیز کے خلاف مہم زور و شور سے چل رہی ہے۔ یہ مہم اس وقت شروع ہوئی جب معروف ڈیزائنر علی ذیشان نے اپنے ایک فیشن شوٹ کو جہیز کے خلاف عوام میں شعور اجاگر← مزید پڑھیے
وہ ایک دیوی تھی ، حُسن کی دیوی ، اس کی پیدائش کے دن ماں نیم بے ہوش تھی ، اسی مدہوشی ، کرب اور تکلیف کے مابین اس نے ایک خواب دیکھا اور سوچ کا تسلسل قائم ہو گیا۔۔← مزید پڑھیے
ہماری تہذیب میں ڈاکٹر کو مسیحا کہتے ہیں اور یہ ہماری تہذیب کا وہ رُخ ہے کہ جو عالمی تہذیب میں اور کہیں نظر نہیں آتا ۔لیکن افسوس صد افسوس کہ مسیحاؤں کو کہ جو ہمارے مریضوں کے لئے اللہ← مزید پڑھیے
ترقی کی منزلوں کو چھونے کے لیے ہمیشہ آگےکی طرف دیکھنا پڑتا ہے نہ کہ پیچھے کی طرف ۔زندگی اور اس سے جڑے ہوئے مسائل اور حقیقتیں جامد و ساکت نہیں ہوتیں بلکہ بہتے ہوئے پانی کے تسلسل کی طرح← مزید پڑھیے