مکالمہ - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 120 )

ریحام خان کی کالی دال۔۔۔۔عارف خٹک

ریحام نے کتاب کیا لکھی کہ  ماسوائے خان صاحب کے باقی سب کے پسینے چُھوٹ گئے۔ اکیس کروڑ عوام میں دو کروڑ جن کو انگریزی پڑھنی آتی ہے۔ وہ کتاب پڑھ کر گیلے ہوگئے۔ جن کو انگریزی پڑھنی نہیں آتی۔وہ←  مزید پڑھیے

صحافت اہم ہے،صحافی اہم تر۔۔۔۔سید عدیل رضا عابدی

ایک بندہ نافرماں ہے حمد سرا تیرا۔۔۔۔۔ شنید ہے کہ ڈان میڈیا گروپ کے روح و رواں جناب حمید ہارون صاحب نے بی بی سی لندن میں پروگرام ’’ہارڈ ٹاک‘‘ میں گرما گرم انٹرویو دیا جو ناقدین کو ہضم نہ←  مزید پڑھیے

عملی بانجھ پن۔۔۔۔علی خان

ہمارے اردگرد رونما ہونے والے واقعات ہمیں مختلف طرح سے متاثر کرتے ہیں۔ آج کل ملک میں الیکشن کا سیزن ہے اور ہر طرف آپ کو گہما گہمی دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف امیدواروں کے وعدوں کا شور ہے اور←  مزید پڑھیے

انصاف کے تقاضے ۔۔۔۔سبطِ حسن گیلانی

 بیلجیم میں ہمارے ایک دوست تھے  بٹ صاحب ۔ جنرل سٹور چلاتے تھے ۔ یار باش اور زندگی سے لطف لینے والے بندے تھے ۔ جو کماتے سال بعد پاکستان جا کر لٹا آتے ۔ زیادہ وقت بازار حسن میں←  مزید پڑھیے

سوشل میڈیا اور ہماری ازلوں کی چخ چخ۔۔۔آصف وڑائچ

برصغیر کے پنڈتوں اور مولویوں نے جو مذہبی منافرت کے بیج بوئے تھے اور پھر ان کی آبیاری کی تھی آج ان سے پھوٹنے والی زہریلی بیلیں ہمیں چاروں جانب سے اژدھوں کی طرح لپیٹے ہوئے ہیں اور اس سے←  مزید پڑھیے

میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں ۔۔۔۔۔ حسنین چوہدری

محمد اختر شاہ انبالہ میں پیدا ہوا تھا، سال 1928ء کا تھا،والدین کی اکلوتی اولاد تھا اور متمول گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ اختر شاہ اپنے اکلوتے ہونے کا غم یوں بیان کرتے ہیں۔۔۔ “میں نے دنیا میں خداوندِ رحیم←  مزید پڑھیے

دانشور کی درخواست ملازمت۔۔۔۔۔۔۔ژاں سارتر

بخدمت جناب چیف ایگزیکٹیو آفیسر پاکستان پیپلز پارٹی پرائیویٹ لمیٹیڈ عنوان: درخواست برائے اسامی “دانشور” پیارے جناب مجھے قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آپ کے موقر ادارے میں، آپ ہی کے زیر سایہ “دانشوروں” کی چند اسامیاں←  مزید پڑھیے

ٹرین سے کرانچی تک، ست رنگی نواب بھائی۔۔۔کے ایم خالد

وہ جولائی کی حبس زدہ صبح اسکول کی اسمبلی میں آج پھر قومی ترانہ پڑھتے ہوئےاپنی سوئی ”پاک سرزمین کا نظام “پر پھنسا بیٹھا تھا ہیڈ ماسٹر سمیت پورا اسکول ترانے کے احترام میں الرٹ کھڑا تھا جھنڈے کو سیلوٹ←  مزید پڑھیے

آئیے میں آپ کا ڈیم بنواتا ہوں ۔۔۔۔ابوبکر قدوسی

بہت شور ہے ڈیم بنانے کا – پنجابی میں کہتے ہیں “ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں ” یعنی نماز تو وہ ہوتی ہے جو وقت پر ادا کی جائے بے وقت تو ٹکریں ہی ہوتی ہیں – سو←  مزید پڑھیے

مغل اور مون سون۔۔۔۔ ثنا اللہ خان احسن

بابر اور ہمایوں ساون میں جام پر جام لنڈھاتے! شہنشاہ اکبر مون سون دریائے جمنا میں کھڑی پرتعیش کشتیوں میں گزارتا۔ شہزادہ سلیم بارش کے دوران انارکلی اور کنیزوں کے ساتھ باغ میں بھیگتا اور چہلیں کرتا! شاہجہان ممتاز محل←  مزید پڑھیے

بچوں کی اموات سے گرد آلود منظر نامہ۔۔۔اسد مفتی

جاری سال یعنی 2018ء جہاں لاکھوں کروڑوں افراد کیلئے مسرت و شادمانی کا پیغام لارہا ہوگا۔ وہاں یہ دنیا کے پس ماندہ ممالک کے ان کروڑوں بچوں کیلئے آخری سانسوں کی خبر لارہا ہے جو دنیا کی عدم توجہی کے←  مزید پڑھیے

میرے دیش کی خوبصورت وادی چترال۔۔۔۔ سلمیٰ اعوان

اس وقت میں اپنے اِس پیارے سے ملک میں برپا ہونے والے الیکشن کے شوروغوغا،امیدواروں کی بھانت بھانت کی بولیوں،گالیوں اورکوسنوں کی یلغار میں پھنسی سوچے چلی جارہی ہوں کہ کہیں بھاگ جاؤں۔کہیں پہاڑوں میں سکون اور شانتی کے لئیے←  مزید پڑھیے

دہشت گردی کی نئی لہر ۔۔۔محمد عامر رانا

عام انتخابات سے قبل دہشت گردی کی لہر نے انتخابی سیاسی منظر نامے پر اثرات مرتب کیے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ھم 2013 کے انتخابی ماحول میں لو ٹ آئے ہیں ۔ تب تحریک طالبان پاکستان تشدد←  مزید پڑھیے

یہ تو ہوتا ہے‘ یہ تو ہوگا۔۔۔۔گل نوخیز اختر

میرے معتبرذرائع کے مطابق دُنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو کبھی نہیں بدل سکتیں۔میں آج اِن میں سے کافی ساری چیزیں آپ کے سامنے پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔انشاء اللہ اگر یہ کالم پچاس سال بعد←  مزید پڑھیے

الیکشن 2018 ہما کس کے سر بیٹھے گا۔۔۔۔۔ اے وسیم خٹک

موجودہ دور میں ملک ایک خطرناک دوراہے پر کھڑا ہے جس میں ہر طرف ایک بے چینی کی فضا قائم ہے ملک بھر میں جو حالات ہیں اس کے ذمہ داروں کا کوئی پتہ نہیں چلتا کوئی اس کو اب←  مزید پڑھیے

نوازشریف الیکشن جیل میں گزاریں گے۔۔۔۔اعظم خان

آج کی سماعت کی خاص بات یہ ہے کہ جس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ نوازشریف کی اپیلوں پرسماعت کررہی تھی ،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر احتساب عدالت میں عام مقدمات نبٹارہے تھے۔ وہ آج العزیزیہ ریفرنس کی سماعت←  مزید پڑھیے

چل جھوٹی ۔۔۔۔آصف محمود

کس ادا سے وہ کہتی تھی صاف چلی شفاف چلی۔ یہ میرے لڑکپن کی محبت ہوتی تو میں اس کے منہ پرہلکی سی چپت لگا کر کہتا : ’’ چل جھوٹی‘‘۔یہ مگر اب گھاگ سیاست دانوں کا ایک لشکر جرار←  مزید پڑھیے

کراچی کی کروٹ بدلتی سیاست ۔۔۔۔محمد ارشد قریشی

کراچی میں سیاست ہر  تیس چالیس  سال بعد کروٹ ضرور لیتی ہے  اور اس مرتبہ کراچی کی سیاست پھر کروٹ لینے کو تیار ہے ۔ کراچی کی تیزی سے بدلتی صورتحال میں بہت سی حیران کن تبدیلیاں مسلسل دیکھنے میں←  مزید پڑھیے

پاکستان پر رحم کی ضرورت۔۔۔۔ممتازیعقوب خان

بچپن سے پڑھتے آئے ہیں کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ اس کے بعد سے آج تک یہی پڑھنے سننے کو مل رہا ہے۔ ترقی کس چڑیا کا نام ہے ، اس کا اندازہ پاکستان کے بعد معرض وجود←  مزید پڑھیے

کپتان کے نام ایک کھلا خط ۔۔۔۔روبینہ فیصل

مسٹر خان !! جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں ؟ ہماری نسل اور ہم سے پہلے کی ایک نسل (جو آپ کی ہے )اور ایک ہم سے بعد کی نسل یہ تین نسلیں آپ سے محبت میں گرفتار←  مزید پڑھیے