مکالمہ - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 127 )

میری وزیر آغا مرحوم سے بحثا بحثی کی ایک واردات۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 میں جب بھی لاہور جاتا، ڈاکٹر وزیر آغا کے دولت کدے پر ہی ٹھہرتا۔ اوپر والی منزل پر ایک طویل و عریض کمرہ اور غسل خانہ میری عارضی املاک تھے۔ شام تک تو احباب (جن میں ڈاکٹر انور سدید اور←  مزید پڑھیے

محکمہ زراعت کی کارکردگی ۔۔۔رانا اورنگزیب

پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔پاکستان کی ستر فیصد آبادی کسی نا کسی طور زراعت سے وابستہ ہے۔زراعت کے پاکستان کی معیشت پر بہت گہرے اثرات ہیں۔پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے زرعی ترقی بہت ضروری ہے۔پاکستانی زراعت کو ہمہ←  مزید پڑھیے

جھانسہ۔۔۔۔عبدالرحمن وڑائچ

پاکستان میں عمومی طور پر نوجوان نسل میں سے بہت کم لوگ  ادب  ،فنون  ِ  لطیفہ کے حوالے سے با ذوق ہیں   ۔ان بہت کم میں سے کچھ کے پاس موبائل فون میں اپنے اپنے فرقے کے علما کی مذہبی←  مزید پڑھیے

ہندو مسلم دشمنی کی کہانی یا تقسیم کی شعوری کوشش۔۔۔۔ڈاکٹر عرفان شہزاد

یہ نظریہ کہ ہندوستان میں ہندو، مسلمانوں کے ساتھ اس لیے ٹھیک رہے کہ حکومت مسلمانوں کی تھی، تاریخی تناظر میں ایک غلط مفروضہ ہے۔ ہندوستان پر مسلمانوں کے حملوں سے بہت پہلے سے مسلمان عرب تاجر یہاں آباد ہوئے۔←  مزید پڑھیے

ڈچ حکومت کا ناپاک منصوبہ۔۔۔منصور ندیم

دنیا بھر میں مختلف مکتبہ فکر، مختلف مذاہب کے لوگ موجود ہیں، یقیناً  یہ تمام مختلف مذاہب و عقائد کے ماننے والے یا مذاہب یا عقائد کے نہ ماننے والے ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ لیکن انسانی حقوق اور←  مزید پڑھیے

گمشدہ دن۔۔۔۔داؤد ظفر ندیم

میں بڑے شوق سے پائلٹ سکول میں چھٹی کلاس کے داخلے کا ٹیسٹ دینے آیا تھا ۔ ۔ میرا سارا لباس نیا تھا ؛مجھے پرائمری پاس کرنے پر گھر والوں نے نئےکالے جوتے لے کر دیئے تھے، سیالکوٹ کے بازار←  مزید پڑھیے

جابر بن حیان بریانی والا۔۔۔گل نوخیز اختر

میری پریشانی عروج کو پہنچی ہوئی تھی۔ سوچا پروفیسر صاحب سے ڈسکس کرتے ہیں۔ اگرچہ پروفیسر صاحب انتہائی احمقانہ اوربونگی دلیلیں گھڑتے ہیں لیکن پھر بھی پتا نہیں کیوں میں بلاوجہ ان کی طرف دوڑا چلا آتا ہوں۔ میرے چہرے←  مزید پڑھیے

ایک مزدور کا خواب۔۔۔سبطِ حسن گیلانی

میں بارہ سال کا تھا اور ساتویں کلاس میں پڑھتا تھا جب والد صاحب کا ایکسیڈنٹ ہوا ۔ وہ شہر میں چلنے والی ہائی ایس کے ڈرائیور تھے ۔ صبح  منہ اندھیرے کام کے لیے گھر سے نکلتے تھے ۔←  مزید پڑھیے

ایک غیر سیاسی طلسماتی کہانی۔۔۔عبدالرحمن قدیر

آج سے پوری دس صدیاں قبل۔۔۔ چاند، سورج، اور زمین بالکل متوازی آگئے تھے۔ سورج کے طوفان براہ راست جب چاند پر پڑنے لگے تو چودھویں کا چاند خون کی طرح سرخ ہو چکا تھا۔ تمام چرند پرند۔۔۔ انسان حیوان،←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔۔۔جاوید خان/قسط27

مائی کی باتیں: سڑک کے دائیں طرف گھاس کے چھوٹے سے میدان کنارے خیمے لگے تھے۔سڑک پہ ایک بُزرگ عورت اَور دو لڑکے کھڑے تھے۔اُنھوں نے ہماری گاڑیوں کو ہاتھ سے رُکنے کا اِشارہ کیا۔وقاص نے گاڑی تو نہ روکی←  مزید پڑھیے

گرے لسٹ میں شمولیت اور گلے پڑتے اثاثے۔۔۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

دنیا گلوبل ویلج کی شکل اختیار کرچکی ہے، دنیا بھر کے ممالک کے باہمی مفادات ایک دوسرے سے منسلک ہوچکے ہیں، جب صورتحال ایسی ہو کہ سعودی عرب اور کویت یا کسی بھی تیل پیدا کرنے والے ملک میں ایک←  مزید پڑھیے

انسانی خدا ـــ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ۔۔۔رشاد بخاری/قسط3

انسانی خدا ـــ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ۔۔۔۔رشاد بخاری/قسط 2 قحط کے بعد انسانوں کے دوسرے سب سے بڑا دشمن وبائی امراض تھے ،جو کسی ایک علاقے میں پھیلتے تو انسانوں کی نسلوں کی نسلیں تباہ کردیتے۔ وہ گنجان آباد←  مزید پڑھیے

ہونا تو یہ چاہیے تھا ۔۔مجاہدافضل

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم نظام  تعلیم  کو تبا و برباد کرنے والوں کے لیے ،اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے، مگر ہم پرائیوٹ نظام تعلیم کیلئے پیسے لیکر لائسنس جاری کرنے والے ،سیاسی لٹیروں کی الیکشن کمپین میں لگے←  مزید پڑھیے

آپ کون ہیں؟۔۔۔۔سید شاہد عباس کاظمی

پاکستان میں سیاسی دنگل کی تیاری زور و شور سے جاری ہے۔ پارٹی ٹکٹ اس وقت کاغذ کا ایسا پرزہ بن چکا ہے کہ  جس کے لیے اُمیدوار ہر حد سے گزرنے کو تیار ہیں۔ یہاں یہ بات یقیناً  قابل←  مزید پڑھیے

جلانتک ۔۔۔ قمر سبزواری/افسانہ

اپنے ہی بیٹے پر ۔۔۔۔۔  خالی  کمرے میں رسی سے بندھے ،  بلوری آنکھوں والے اپنے ہی جوان بیٹے پر پستول تانے، نیم پاگل حالت میں کھڑا ، چھ فٹ کا مرد، ملک ریاض، قابل رحم لگ رہا تھا۔ وہ←  مزید پڑھیے

رشوت خوری سے بچاو ممکن ہے۔۔۔۔محمدابرار

آج  ایک سرکاری دفتر میں کسی کام سے جانا ہوا۔ ۔ صاحب کو اپنا کام بتایا تو انہوں نے کچھ وقت انتظار کرنے کو کہا، میں ایک بینچ پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگا، اتنی دیر میں ایک سفید ریش←  مزید پڑھیے

عوامی شعور اپنے آخری پڑاؤ پر۔۔۔۔محمد انس انیس

ابھی تو صرف تسلسل کے ساتھ جمہوری عمل دوسرے مرحلے کو عبور کرتے ہوئے اختتام پذیر ہوا ہے اور صورتحال یہ ہے کہ مجموعی قومی شعور اپنے افق کو چھو رہا ہے آپ اس دس سالہ دور میں مجموعی طور←  مزید پڑھیے

مقامے فیض ۔۔۔۔شکور پٹھان

تالیوں کی گونج میں پردہ گرا دیا گیا۔ ڈرامہ ختم ہوا  اور حاضرین کمر سیدھی کرنے کھڑے ہوگئے۔ کچھ اٹھ کر باہر سگریٹ پینے چلے گئے۔ ” اب آپ مرزا ببن بیگ سے ایک غزل سنیں گے” اسٹیج کے پیچھے←  مزید پڑھیے

سامراج سے نوآبادیاتی نظریاتی ، فکری اور ادبی تنقید کا سفر، کچھ باتیں۔۔۔احمد سہیل

۱۹۹۹ میں خاکسار کی کتاب ” ساختیات { تاریخ، نظریہ اور تنقید} شائع ہوئی۔ اس کتاب میں ” نوآبادیات” اور خاص طور پر میں نے اپنا ایک نیا نظریہ اور فکریہ بعنوان  ” سابقہ نو آبادیاتی نیوکلیائی مخاطبہ” ۔۔۔ سامنے←  مزید پڑھیے

زبوں حال اقتصادی مستقل۔۔۔لال خان

پاکستان کے حکمران طبقات کے جو چند سنجیدہ معیشت دان رہ گئے ہیں وہ موجودہ معاشی بحران اور مستقبل کی مزید اقتصادی زبوں حالی سے خاصے پریشان لگ رہے ہیں۔ ویسے تو یہاں کی تاخیرزدہ اور مستقل بیمار سرمایہ داری←  مزید پڑھیے