کہنے کو ہم سب اس دنیا میں رہتے ہیں لیکن یہ پوری بات نہیں۔ کیونکہ ہم میں سے ہر کسی کی اپنی ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ جو ان واقعات اور حالات سے بنتی ہے۔ جو اس کی پیدائش کے← مزید پڑھیے
دنیا میں وہی تحریریں تادیر پڑھی جاتی ہیں جن میں انسانی مصائب وآلام اور وقت کی miseries کو ہائی لائٹ کر کے انسانوں کے آلام کم کئے گئے ہوں۔ دانتے۔ٹالسٹائی۔دوستووسکی۔ چیخوف۔پشکن۔ ہیوگو۔کالوینو۔ شیکسپیر اور سیکڑوں دوسرے مصنفین نے ظلم وآلام← مزید پڑھیے
لکھنا میرا پہلا شوق تھا۔ میں نے بچپن میں کھلونوں کی جگہ پینسل سے کھیلا ہوا ہے ۔ اداسی ہوتی، خوشی ہوتی یا ناراضی ہوتی، میرا کتھارسس لکھنے میں ہی تھا۔ لیکن میں کبھی اپنے آپ کو مبالغے میں نہیں← مزید پڑھیے
ہم بازار جاتے ہیں تو کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے دو تین دکانوں سے چیز کا معیار اور قیمت معلوم کرتے ہیں یہاں تک کہ ایک سستی سی سبزی یعنی آلو بھی خریدنے ہوں تو دو تین ٹھیلوں کا← مزید پڑھیے
آج کا نوجوان چاہتا کیا ہے وہ کون کون سی خواہشات دل میں بسا کر کوئٹہ جیسے شہر کا رخ کرتا ہے جہاں مسائل ہی مسائل کا راج ہے۔ اندرونِ بلوچستان کا نوجوان کئی سو کلومیٹر کی مسافت طے کرکے← مزید پڑھیے
یقین مانیں کہ اگر آپ کو کوئی ایسا دوست میسر ہے، جو آپ کو خوش رکھتا ہے، آپ اس کی موجودگی میں لطف اندوز ہوتے ہیں تو یہ بہت کمال کی بات ہے۔ اگر آپ ہنسنا جانتے ہیں اور دوستوں← مزید پڑھیے
باجی بھوک لگ رہی تھی کھانا مل جاۓ گا۔ دنیا جہاں کی ہمت یکجا کر کے بھی بس اتنا ہی کہہ پائی تھی وہ ۔۔۔۔صبح سے کام کا کہا ہوا وہ تو تم سے ہوا نہیں ابھی تک۔۔ جب تک← مزید پڑھیے
ایڈیٹر کا نوٹ: فاطمہ بھٹو کا دوسرا ناول ‘رن ایوئےز’ دنیا کے تین دور دراز گوشوں سے تین زندگیوں کو اکٹھا کردیتا ہے جن میں سے ہر ایک مختلف طریقوں سے تشدد اور دکھ کا متاثرہ ہے۔ انھوں نے ایک← مزید پڑھیے
اس ملک میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کوفت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، جہاں ہزاروں باتیں آپ کو ہر روز مختلف قسم کی ذہنی اذیتوں سے دوچار کرتی ہیں وہیں ایک بات معیار کی تنزلی بھی ہے← مزید پڑھیے
“چھوٹو اٹھو صبح ہوگئی” اسی طرح کے جملوں کے ساتھ میری صبح کا آغاز ہوجاتا ہے۔۔ اور آنکھ کھلتے ہی مجھے احساس ہوتا ہے کہ آج کا دن بھی مصروف گزرے گا۔ صبح اٹھو اسکول جاو اور پھر گھر آجاؤ← مزید پڑھیے
مکتوب بتاریخ ۳ ؍مارچ ۲۰۰۴ اقتباس (ایک) روایت کے انجذاب اور انعکاس کے بارے میں جو بات آپ نے تحریر کی ہے ، میں اس سے متفق ہوں۔ آپ کتنے ہی پڑھ لکھ کیوں نہ جائیں، باہر کے ملکوں میں← مزید پڑھیے
چند دن پہلے میری دادی اماں نے لگ بھگ سو یا ایک سودس سال کی عمر میں انتقال فرمایا وہ ایک ان پڑھ خاتون تھیں’مگر انہوں نے اپنی ساری کی ساری زندگی بھر پور طریقے سے گزاری’ اپنا بچپن انہوں← مزید پڑھیے
بجلی کی آنکھ مچولی جاری تھی بالآخر آنکھیں جھپکاتی ہوئی چلی گئی تھی۔ خاصے انتظار کے باوجود نہ آئی، ہمت فین جھلتے جھلتے کلائی دُکھنے لگی تو میں تنگ آ کر باہر نکل گیا۔ کیا دیکھتا ہوں ”میرا دوست باغیچے← مزید پڑھیے
انتہائی نگہداشت کے کمرے میں موجود روشنی کے سبب اسے آنکھیں کھولنے میں دشواری محسوس ہورہی تھی، تاہم اس نے اپنی نیم وا آنکھوں کو آہستہ سے کھولا، بالکل اس طرح جیسے کوئی نومولود دنیا کو پہلی بار دیکھتا ہے۔← مزید پڑھیے
اب قوم کو بلا چوں و چرا ٹھنڈے پیٹوں سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا ،یہ اک آخری امید کی کرن تھی جس پر قوم تکیہ کیے بیٹھی تھی ،اب اگر یہ جماعت بھی پچھلوں کی طرح اسی ڈگر← مزید پڑھیے
سارہ دروازے کی کھڑ کھڑ اہٹ پر چونکی پتا نہیں کب اس کی آنکھ لگ گئی اس نےسامنے گھڑی کی طرف نظر دوڑائی، رات کا آ خری پہر تھا۔ وہ آنکھیں ملتے سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگی تاکہ باہر کا← مزید پڑھیے
گھبرائیے نہیں، ہم آپ کو کہیں بھی ہزار بار یا بار بار نہیں بھیجنے والے۔ بس آپ کو یہ بتلانے والے ہیں کہ اگر آپ کو پیشاپ کے لئے بار بار واش روم جانے کی حاجت محسوس ہوتی ہو تو← مزید پڑھیے
(اس شخص کا قصہ جس کی شکل مسخ ہو گئی تھی ) بس مناسب رفتار سے کشادہ سڑک پر دوڑی جارہی تھی ۔! کوئی مسافر سو رہا تھا تو کوئی اونگھ رہا تھا ۔! اچانک بس بری طرح لہرائی ۔← مزید پڑھیے
مجھے دفتر آنے کے لئے عموماً لفٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے کیونکہ میرا دفتر کسی مین روڈ پر نہیں ہے اور اگر میں اپنے گھر سے مین روڈ تین کلومیٹر پیدل آ بھی جاؤں تو دفتر تک مجھے تین← مزید پڑھیے
جنرل ضیاالحق کی نام نہاد اسلامائزیشن کے بعد ریاست نے اظہار خیال پر قدغنیں لگا دیں، مذہبی تعصب اور فرقہ پرستی کی آبیاری کی، جہاد کے نام پر مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیا۔ مذہبی اقلیتوں کے خلاف جرائم کی← مزید پڑھیے