با
باب نمبر :۴ امرتسر
۱۔ گرنتھ صاحب کا ہرروز منہ اندھیرے پالکی میں لانے اور شام کو اکال تخت واپس لے جانے کے عمل کا بھی دیکھنے سے تعلق ہے۔
۲۔ دوپہر امرتسر کا لنڈا بازار دیکھنے،گول گپے پاپڑیاں کھانے اور شام اے حمید،منٹو اور عطا الحق قاسمی کے گھر ڈھنڈونے میں گزری۔
یہ میری ہند کیلئے تیسری یاترا تھی اور یہ بھی مفتے میں تھی۔ امر تسر کی ایک بڑی سماجی اور فلاحی شخصیت ہر بھجن سنگھ برا ر جو میاں میر فاؤنڈیشن امر تسرکے سرگرم اور فعال ممبر ہیں۔حضرت میاں میرصاحب کے حوالے سے ایک پروگرام کر رہے تھے۔ لاہور سے کوئی دس بارہ اور پنجاب سے چالیس کے قریب لوگ مدعو تھے۔مزے کی بات کہ نیلم احمد بشیر کو ویزہ نہیں ملا ۔ ان کی والدہ مودی بشیر کو مل گیا۔ دوست اور وہ بھی نیلم جیسی کے ساتھ سفر کا اپنا ہی مزہ ۔سیماں بھی نہیں جارہی تھی۔سوچا کہ نہ جاؤں ۔ مگر نیلم کا اصرار ۔
‘‘امی جانا چاہتی ہیں۔پلیز تم چلی جاؤ۔مجھے تسلی رہے گی۔’’
‘‘تمہیں تو تسلی رہے گی اور میں کیا کروں گی ’’۔
ٍٍٍ میں ہنسی ۔‘‘ تم سیوا کرنا ماسی کی ۔سُنی نہیں وہ حدیث ۔ماں نہ ہو تو ماسی کا دم غنیمت سمجھو ۔’’ اسکے انداز میں ہمیشہ والا لا اُبالی پن اور تمسخر تھا۔
واہگہ بارڈر پر میں خوشی و مسرت اور دُکھ و تاسف کی دونوں کیفیات سے یکے بعد دیگرے دوچار ہوئی تھی۔نئی نکور لشکارے مارتی کسٹم امیگریشن کی عمارت دیکھ کر رگ رگ میں طمانیت و سرشاری کی لہروں نے رقص کیا تھا۔ جتنی بار بھی ہندوستان گئی پاکستانی کسٹم کی
پٹری واسوں جیسی عمارت نے تکلیف دی تھی۔چلو خدا کا شکر ہے۔ پر جونہی کرنسی ایکسچینج والوں نے سو کے بدلے 58روپے ہاتھوں میں تھمائے تو جیسے جھٹکا کھا کر تڑپنے والی بات تھی۔
‘‘75سے58پر آگئے ہیں۔یا اللہ کہاں جارہے ہم۔’’
دُکھ جیسے اندر ہی اندر کھولتے پانی کی طرح پیچ و تاب کھارہا تھا۔
اٹاری بارڈر پر لوگ گاڑیاں اور گیندے کے ہار لیئے استقبال کو موجود تھے۔ڈھول والے بھی تھے۔ڈھول والوں کی صحبت میں آگے بڑھے ۔گاڑیوں میں بیٹھے اور پولیس کی چھتر چھاؤں میں سفر شروع ہوا۔
سردیوں کے دن تھے اور امر تسر کی سڑک کے دونوں اطراف میں گندم کے کھیتوں نے تا حد نظر گویا سرسبز قالین بچھا رکھے تھے۔دل نے تسلی دی،دلداری کی۔
‘‘ گھبراؤ نہیں۔ خوش ہونا سیکھو۔تمہاری طرف بھی ایسے ہی لش پش ہے۔’’
خفت کا سا احساس ہوا۔‘‘ کیا کریں۔ہندوستان سے مقابلے بازی کی عادت نہیں جاتی ۔’’
قیام برار ہوسٹل میں ہوا ۔ جو خالصہ کالج اور پبلک سکول کے بالمقابل امر تسر کی ایک مضافاتی کالونی میں تھا۔
ہوسٹل کے ٹھنڈے ٹھار کمروں نے گویا رگ رگ میں یخ لہروں کی ایک ر و سی دوڑا دی تھی۔ میں اور آنٹی ایک کمرے میں بستروں پر سکڑے بیٹھے صورت حال کا جائزہ لیتے تھے ۔گو کمبل تھے اور رضائیاں بھی ۔مگر ٹھٹھرنے والی بات تھی۔ہم لوگ ہیٹروں کے عادی ۔ سردی کو ماننے زیادہ لگے تھے۔ تاہم یہ بھی بات تھی کہ بوڑھے ہو رہے تھے اور بڑھاپے میں سردی گرمی دونوں زیادہ محسوس ہوتی ہیں۔
خدا جانے میزبانوں کے پروگرام کیا تھے۔عفت علوی سے پوچھا۔اُس نے کندھے اُچکائے۔محبت سے مسکرئی اور بولی
‘‘آپا ابھی تو مجھے خود بھی نہیں معلوم۔’’
سوچا دفع کرو انہیں۔چپکے سے اپنی سیر پر نکل چلو ۔گولڈن ٹمپل بھی ابھی تک نہیں دیکھا ۔’’
ناشتہ چائے پراٹھے والا تھا۔ پراٹھا تو تھوڑا تھوڑا لیا ۔ ہاں چائے پی اور ہم دونوں نکل پڑیں ۔
سائیکل رکشے پر جیسے آنٹی کو بٹھایا گیا۔ اُس کا کریڈٹ مجھ سے زیادہ رکشے والے
کو جاتا تھا کہ وہ منحنی سا ہونے کے باوجود اندر سے بڑا مظبوط تھا۔یا شاید تکنیکی مہارت حاصل کیئے ہوئے تھا۔ اُترائی بھی ایسے ہی ہو گئی ۔
ایک عظیم الشان عبادت گاہ ہمارے سامنے تھی۔گورونانک جیسی عظیم ،روحانی،دینی اوردنیوی علم سے مالا مال ہستی کے پیروکاروں کا مرکز عبادت۔
موجودہ امر تسر زمانوں پہلے ایک گھنا جنگل تھا ۔ایک بڑا تالاب بھی اسمیں تھا۔ روایت ہے کہ کہیں لارڈ بُدھا یہاں سے گزرے اور کچھ وقت یہاں ٹھہرے ۔ماحول دیکھ کر انہوں نے کہا یہ تو بدھ بھکشوؤں کے نروان کیلئے بہترین جگہ ہے۔ گورونانک بھی کچھ عرصہ یہاں رہے۔اُن کے اندر بھی ایسی ہی خواہش مچلی تھی۔
کہہ لیجیئے کہ ایشیاکی عبادت گاہوں وہی درگاہوں اورخانقاہوں والا مخصوص ماحول تھا ۔ امر تسر کے بازاری سلسلے دائیں بائیں پھیلے ہوئے تھے۔سویرے سویرے ہی زائرین کی کثرت نے میلے کا سا سماں پیدا کر رکھا تھا۔
عبادت گاہ کی بڑی خوبی رضاکارانہ کام کرنے والوں کی بھی تھی۔کہ جن کی
آنکھوں میں عقیدتوں کے دئیے جلتے تھے۔چہرے پر ہر کہ خدمت کرداُو مخدوم شد والے اثرات بکھرے تھے۔ہاتھوں میں برقی قوت دوڑتی تھی۔ صفائی ستھرائی انتہا درجے کی۔جوتیاں رکھنے اور پرشاد کے برتنوں کی دھلائی سکھائی جیسے سب کام جذبو ں اور عقیدتوں کے مرہون منت تھے۔
ٹمپل میں داخلے سے قبل اُس شفاف بہتے پانی میں پاؤں دھونے پڑتے ہیں جو ایک اتھلے سے نالے کی صورت بہتا ہے۔گزرگاہ کے ساتھ ہی مرکزی سکھ میوزیم ہے۔جسے دیکھے بغیر ہم آگے بڑھ گئے تھے۔صبح خوشگوارمیٹھی سی سونے رنگی دھوپ میں ڈوبی ہوئی تھی۔
ایک وسیع و عریض تالاب میں ہلکورے لیتا سبزی مائل پانی جسکے بیچوں بیچ کھڑی ایک حسین عمارت اور اسکے گُنبدیوں لشکارے مارتے تھے کہ جیسے سارے میں سونا ہی سونا بکھرا ہوا ہو۔ اطراف میں دودھیا عمارتوں کے سلسلے پانیوں میں اپنے عکس چھوڑتے تھے۔ پورا ماحول ایک الوہی سکون اور تقدس کے رنگ میں ڈوبا پڑا تھا۔
گرنتھ صاحب کی بایناں موسیقی کے پروں پر سوار سارے ماحول میں بکھر کر فسوں کی سی کیفیت پیدا کرتی تھیں۔ سری مندر کو جانے والے راستے پر اگر زائرین کی کثرت تھی تو واپسی کا راستہ بھی اٹا پڑا تھا۔ پانیوں پر تیرتے یہ راستے دل کش نظر آتے تھے۔ بڑا خوبصورت ،من موہ لینے اور فسوں خیزی والا ماحول تھا۔
گرنتھ صاحب پوجا پاٹھ کا عمل جاری تھا۔لوگوں میں نظم و ضبط تھا۔ سونے کے گنبد تلے زائرین گرنتھ پاٹھ کو تھوڑی دیر سُنتے اور پھر دوسری جانب سے نکل جاتے۔
میں نے آنٹی سے لنگر کھانے کا پوچھا۔
میرا تو پراٹھا ابھی سینے پر دھرا ہے۔تھوڑا سا پرشاد کھا لیں گے۔
اُن کے قدموں میں مجھے تھکاوٹ واضح محسوس ہوئی تھی۔
گولڈن ٹمپل میں اکال تخت کی عمارت بڑی اہم سمجھی جاتی ہے کہ یہاں ایک شاندار کنوپی جو ہیرے جواہرات سے سجی ہوئی ہے۔رکھی ہوئی ہے۔گرنتھ صاحب سکھو ں کی مذہبی کتاب اسی اکا ل تخت میں رکھی جاتی ہے۔جسے ہرروز منہ اندھیرے خوبصورت پالکی میں عقیدتوں اور محبتوں کے جلو میں یہاں لایا جاتا ہے۔شام کو اسی اندازمیں اسکی واپسی اکال تخت کی طرف ہوتی ہے۔اِس رسم کا بھی دیکھنے سے تعلق ہے۔میں نے اوقات معلوم کیئے تو وہ ایسے تھے کہ بغیر کسی کی مدد کے اس منظر کو دیکھا نہیں جاسکتا تھا۔
گوروارجن سنگھ کا یہ ہری مندر اب گولڈن ٹمپل ہے۔
گولڈن ٹمپل پر لٹریچر پڑھتے ہوئے مجھے اِس مندر کی حملہ آوروں کے ہاتھوں تباہی کی داستانوں نے ملول کیا۔پر بلیو سٹار آپریشن اور بابری مسجد کی شہادت جیسے واقعات کی یادوں نے تسلی دی کہ انسانی فطرت کا وحشیانہ پن کب اِس فلسفے پر دھیان دیتا ہے کہ جنکی مذاہب تعلیم دیتے ہیں۔ فاتح مصر حضرت عمر بن العاص کو خلیفہ وقت حضرت عمر کی جانب
سے پیغام ملا تھاکہ ایک بھی درخت نہیں کٹنا چاہیے۔
تو اب جلیا نوالہ باغ بھی دیکھنا ضروری تھا۔ امر تسر کے شہر میں آپ ہوں اور اِسے نہ دیکھیں کیسے ممکن ہے۔ آنٹی کچھ پس و پیش کی کیفیت میں تھیں ۔میں نے ہلا شیری دی ذرا حوصلہ ،ذرا سی دلیری ۔
‘‘ارے احمد بشیر جیسے جرنلسٹ اور لکھاری کی بیوی آزادی کی اِس عظیم یادگار کو دیکھے بغیر چلی گیئں تو انکی سر فروشی کو بٹہ لگنے والی بات ہو جائے گی۔ چلیئے چلیئے۔ تاریخ بھی کیسی ظالم ہے۔دنوں ،ہفتوں ،سالوں چھوڑ گھنٹوں اور منٹوں کا بھی حساب رکھ لیتی ہے۔ واقعات اور شخصیات کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔اُسے کوئی غرض نہیں کون کیسا تھا۔ جنرل ڈائر جیسا ظالم یا غریب ہندوستانیوں جیسے غریب مظلوم
لوگ۔دن تو بہت خوبصورت تھا یوں اسے خوفناک بھی کہا جاسکتا ہے۔
13اپریل 1919۔ بیساکھی کا موسم تھا۔ خوشیوں بھرا ۔کسانوں نے اپنے پھڑولے بھر لیئے تھے اور کچھ ابھی بھر رہے تھے۔ میلے ٹھیلوں کے رنگ آنکھوں میں روشن تھے۔ کیسے یہ رنگ بُجھے ۔ بڑی المناک داستان تھی جو جلیا نوالہ باغ کے درودیوار پر پھیلی ہوئی تھی۔
شہد ا کی یاد میں جلنے والے شعلے کو دیکھتے ہوئے ماحول پر نگاہ ڈالی۔دروازے کے ساتھ ہی بورڈوں پر تفصیلات درج تھیں۔اُنہیں پڑھا۔
انڈین گورنمنٹ نے اُس جگہ ایک شاندار کالم بنایا ہے۔جہاں لوگوں کے ایک ہجوم نے آزادی کی جنگ لڑی ۔ اپنے حق کیلئے آواز بلند کی ۔ اپنے دیش کی غلامی پر احتجاجی آوازیں اُٹھائیں۔یہی ان پر گولی چلی تھی۔یہیں مظلوم لوگوں کا خون بہا تھا۔یہیں تاریخ بنی تھی جسے مجھ جیسی آج دیکھنے آئی تھی۔
دو رویہ درختوں اور آہنی باڑھ میں سے گزر کر وہاں پہنچے۔ دیوار پر گولیوں کے واضح نشان دیکھے۔شہدا کا کنوئیں جسمیں چھلانگیں لگا ئی گئی تھیں۔آزادی کے رہنماؤں کی تصویریں شہدا گیلری میں سجی ہوئی تھیں۔ اُدھم سنگھ ،بھگت سنگھ جیسے جیالے یہی وہ ہیں جو مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔
یادگار سے نکل کر وہیں ہم نے گرم گرم سموسے کھائے ۔جلیبیوں سے منہ میٹھا کیا ۔ واپس آئے تو ہوسٹل ویران پڑا تھا۔
آنٹی تو تھک کر لیٹ گئیں۔پر میں بے چین رُوح ۔ نہ لیٹ سکوں نہ کمرے کے یخ بستہ سے ماحول میں بیٹھ سکوں ۔وضعداری پاؤں پکڑے بیٹھی تھی۔گروپ کے لوگ میرے خیال میں کانفرنس میں تھے ۔ کھانے پینے کا بھی وہیں انتظام تھا۔ انہیں رضائی اوڑھا
کر میں نے کچن میں جاکر چائے بنائی۔ انہیں پلائی۔ انکے خراٹوں کی آواز آئی توہوسٹل سے نکل کر مرکزی شاہراہ پر آگئی ۔
سامنے خالصہ کالج تھا۔ سرسبز لانوں اور قدیم گیروے رنگی عمارت کے سر پر کھڑا سجا سنورا آنکھوں کو کتنا بھلا لگا تھا۔ اندر گئی۔کسی نے روکا نہیں، ٹوکا نہیں۔ آگے بڑھتی گئی۔ کمروں کو دیکھا ۔امرتسر کی خوشبو میں سانس کھینچتی رہی ۔
دیر بعد سڑک پر آکر آٹو رکشے پر بیٹھی۔یہ ہمارے ہاں کے چنگ چی جیسا ہی تھا۔آمنے سامنے چھ سواریوں ،ہرسٹاپ پر رکنے، سواریاں بٹھانے اور اتارنے والا ۔ایک نوجوان لڑکی ایک سٹاپ سے بیٹھی۔کسی ٹیوشن سینٹر میں شاید پڑھنے جارہی تھی۔ آگے سٹاپ سے ایک نوجوان لڑکا سوار ہوا۔وہ لڑکی والی سائیڈ پر بیٹھ گیا۔میری آنکھوں میں جیسے سوکن کی سی آنکھ فٹ ہوگئی تھی۔دیکھوں تو سہی ہمسائیوں کے ہاں گھورنے اور چھیڑ خانیوں کی شرح کیا ہے؟مجال ہے جو اُس نے لڑکی پر ٹوٹی پھوٹی بھی نگاہ ڈالی ہو ۔دو سٹاپ بعد لڑکا اُتر گیا۔
اب اگلے سٹاپ سے مزید دو افراد ایک لڑکا اور ایک مرد بیٹھے۔عجب بات تھی انہوں نے بھی ہم دونوں کو قطعی توجہ کے قابل نہ سمجھا۔ لڑکی اُتری ۔بس ریلوے اسٹیشن تک یہی سلسلہ چلا۔بڑی رجی پجی نظریں ہیں ہمسائیوں کے چھوکروں اور مردوں کی ۔کہنے کو ہم مسلمان ہیں جنکا مذہب مردوں کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ہم اپنے مردوں کی آنکھوں کا کیا علاج کریں؟ اُنکا بس چلے تو آنکھوں کی راہوں سے ہی نوخیز بچیوں کو سمولچا نگل جائیں۔
مجھے اب یا د نہیں کہ وہ کونسی جگہ تھی جہاں میں اُتری تھی۔شاید آخری سٹاپ تھا۔یہاں بہت بڑی عوامی مارکیٹ دیکھنے کو ملی ۔یہاں لنڈا زوروں پرتھا ۔ گول گپے اور دہی بھلے والی ریڑھیوں پر رش تھا۔
لنڈے کو دیکھتے ہی میری تو آنکھوں میں جیسے ستارے ناچ اٹھے ۔ کئی ریڑھیوں پر ٹہری ۔ ٹھیٹ پنجابی بولتے ہوئے پھولا پھرولی کی۔ بھاؤ تاؤ کیئے۔کِسی کو بھنک بھی نہ پڑی کہ یہ جو اتنا ٹر ٹر بول رہی ہے۔ سرحد پار کی عورت ہے۔ کئی دکانوں میں گُھسی ۔
لنڈے نے جب مجھے رجا دیا ۔پھر میں نے پاپڑیاں والے دہی بھلے کھائے۔
حغظان صحت کے اصولوں پر دو حرف لعنت کے بھیجے یہ کہتے ہوئے کہ ارے اِس ہیپا ٹائٹس کے وہم میں اُلجھ کر یہ پاپڑیوں والے دھی بھلّے نہ کھاؤں تو خود پر کتنا ظلم ہوگا؟یہ تو ایسا ہی ہے کہ بازار جاؤں اور چاٹ کھائے بغیر لوٹ آؤں ۔ بھئی یہ نہیں ہوگا ۔اللہ مالک ہے۔ مولا مالک ہے۔ یوں بھی ہم کو نسا ہائی فائی قسم کے لوگ ہیں۔ساری عمر گند بلا ہی کھاتے رہے ہیں۔چلو شکر ہے اُس کا یہاں تک آہی گئے ہیں۔
وہاں سے قریبی مندر میں گئی ۔ عبادت کے رونق میلے دیکھے۔ کچھ وقت وہاں گزارا ۔
زمانوں سے امر تسر کو دیکھنے، اُسکی ہواؤں کو سونگھنے، اسکے نظاروں کو لوٹنے کیلئے بے تاب تھی۔سو ہر خواہش گھومتے پھرتے ،یہاں وہاں، بیٹھتے اٹھتے پورا کر رہی تھی۔ چیزوں کی قیمتوں سے دونوں ممالک میں مہنگائی کی شرح زیر غور تھی۔ حساب کتاب نے مجھے سمجھایا تھا کہ پاکستان مقابلے میں کچھ اتنا مہنگا نہیں۔ چیزوں کا اُتار چڑھاؤ ہر جگہ ہوتا رہتا ہے۔
مغرب کے وقت واپسی ہوئی۔
اگلے دن صبح کا سیشن اٹینڈ کیا ۔اور شام کو پرانے امر تسر کے گلی گوچوں میں گھومتی، اے حمیدمنٹو اور عطاالحق قاسمی کو یاد کرتی رہی کہ اُنکے گھر کہاں تھے؟
تیسرا دن ہم نے مدھو کے گھر گزارا۔ریلوائی میں ملازم مدھو اسکا شوہر اسکے دو
بچے جنہوں نے ہندو ہونے کے باوجود ہمیں چکن کڑاھی کھلائی اور خود بھی کھائی ۔
اگلے دن میں نے اور آنٹی نے میزبانوں سے اجا زت لیکر واپسی کی ۔مدھو نے کسی کی گاڑی میں ہمیں اٹاری تک ڈراپ کیا۔مدھو جیسے محبت کرنے والے لوگ جب بھی یاد آتے ہیں۔ آنکھیں بھگودیتے ہیں۔
٭٭٭
باب نمبر : ۵ دلّی میں سارک لٹریچر فیسٹیول
۱۔ اجیت کور کو ہندوستانی اور پاکستانی دونوں پنجابوں سے سخت شکایت تھی کہ وہ اپنی مادری زبان کیلئے مخلص نہیں۔
۲۔ افغانستان کے مندوبین کے ساتھ خصوصی شفقت بھرا برتاؤ کچھ سیاسی رحجانات کی بھی عکاسی کرتا تھا۔
۳۔ جوگندر پال کو دیکھنا ،اُن سے ملنا، اُن سے باتیں کرنا گویا میری ایک دیرینہ خواہش کی تکمیل تھی۔
چوتھی ہند یاترا مارچ 2011 میں ہوئی۔سارک لٹریچر فیسٹیول کے مہمان بنے۔یہ مہمان جس کی روح ورواں اجیت کور ہے ۔اجیت کورپنجابی ادب کا ایک بڑا نام۔دلّی کی ایک بڑی ادبی شخصیت۔ پاکستان میں اِس تنظیم کے نمائندے لاہور میں عائشہ ذی خان،نثار احمد خان عرف سنی تھے۔اسلام آباد میں احمد سلیم اورفرحین چودہری تھے۔
آجکل تو تین چوتھائی کاموں کی تکمیل انٹرنیٹ پر ہوتی ہے۔دوستوں کا ایک ٹولہ اس بار بھی لسٹ پر یاوری کا منتظر تھا۔نیلم اور میرے کاغذات کی خانہ پُری آخری دن ہی ہوئی۔
واہگہ بارڈر پر بہت سارے لوگ تھے۔فیصل آبادیوں کی تو بہار لگی پڑی تھی۔ طاہراقبال،انجم سلیمی،نوعمر شاعرات جن میں ناز فاطمہ نامی خوبصورت لڑکی بڑی نمایاں تھی۔خوبصورت ،سنجیدہ افسانہ نگار اور ناول نگار طاہرہ اقبال جو حمیرا راحت جیسی پیاری
شاعرہ کے ساتھ واہگہ بارڈر پر موجود تھیں۔طاہرہ فیصل آباد اور حمیرا راحت کراچی سے تشریف لائی تھیں۔
رخشندہ نوید، نیلم اور میں نے ہنسی ہونٹوں پر بکھیری اور ایک دوسرے سے کہا ‘‘ چلو مزہ آئے گا۔’’
سنی اونچا لمباخوبصورت نوجوان ہے جوراہبر کے طور پر سامنے آیا تھا۔مگر سچی بات ہے سلیقے طریقے کا بڑا فقدان نظرآتا تھا۔امرتسر سے دلی کیلئے ٹرین بذریعہ سفرتھا۔اپریل کا مہینہ اے سی کے بغیر کمپارٹمنٹ خاصا گرم مگر وہ جو کہتے ہیں کہ دوزخ بھی ہے قبول اگر یار لوگ ساتھ ہیں کی سچی تفہیم آج سمجھ آئی تھی۔
طاہرہ اقبال ایک بیوروکریٹ کی بیگم گرمی اور کھڑکی کے راستے آتی گردوغبار سے کبھی کبھی پریشان ہو اُٹھتی۔
ہم ہنستے ہوئے کہتے۔‘‘طاہرہ صبر،صبربے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔’’
گانے گاتے ،گندے مندے لطیفے سُنتے، سُناتے،ہنستے کھیلتے رات کے نوبجے دلّی جا پہنچے۔
اسٹیشن پر ساتھیوں کے مختلف ہوٹلوں میں بٹوارے کے بعد ہمارا داخلہ سائیں دھام انٹرنیشنل گیسٹ ہاؤس میں ہوا۔بس ایویں سا تھا۔میں تو کمرے میں جاکر اطمینان سے لم لیٹ ہوگئی ۔
نیلم احمد بشیر میرے خراٹوں سے الرجک رخشندہ نوید کے ساتھ جاجڑی اور گیسٹ ہاؤس کے منتطمین سے کمرہ بدلنے کیلئے دونوں بحث مباحثے میں رات گئے تک اُلجھی رہیں۔صبح مجھے تازہ دم کچن کے ڈائننگ ہال میں دیکھ کر نیلم تیکھے اور غصیلے لہجے میں بولی۔
‘‘بڑی فریش لگ رہی ہو۔ہماری تو بک بک جھک جھک کرتے ساری رات گزری ہے۔سردرد سے پھٹا جارہا ہے۔’’
چائے کا کپ میرے ہونٹوں سے چپکا ہوا تھا اور میری ہنستی آنکھیں اُس کے کناروں کے پار سے اُسے دیکھتی تھیں۔
‘‘تو کس نے تمہیں اس سیاپے میں پڑنے کو کہا تھا۔آرام کرتیں۔’’
اور وہ چیخی۔
‘‘کمبخت تیرا کیا ہے؟پوستی کہیں کی۔کوڑے کے ڈھیر پر بھی سر رکھے تو پل جھپکتے میں خراٹے گونج اٹھتے ہیں۔کمرے کی دیواروں کا حال دیکھنا تھا۔باتھ روم میں گویا کاکروچوں کی بارات اُتری ہوئی تھی۔’’
میرا قہقہ گونجا۔
‘‘چل بھگت پھر۔’’یوں میں جانتی تھی نیند اُس کا مسئلہ ہے۔بہرحال فرحین چودہری بہت اچھی روم میٹ ثابت ہوئی تھی۔میٹھے بول بولنے اور تعاون کرنے والی۔اُسے نہ میرے خراٹوں سے کوئی شکایت ہوئی ،نہ صبح نورپیر کے ویلے اٹھ جانے سے۔
یہ حوض خا ص کا علاقہ تھا۔اِس ریسٹ ہاؤس کے سامنے سری فورٹ آڈیٹوریم تھا۔اور ساتھ چند قدم کی واک پر ہوٹل جہاں کانفرنس کا انعقاد ہورہا تھا۔
خوبصورت عمارت ،خوبصورت ماحول ،پھولوں سے لدے پھندے برآمدے۔ نیپالی اور سری لنکن اپنے اپنے ملکوں کی نمائندگی کرتے ہوئے خاصے پرجوش نظرآئے تھے۔افغانی بھی تھے،بنگلہ دیشی بھی ۔بڑا بھرپور سیشن تھا۔سردارنی گرشارن کور مہمان خصوصی کی نشست پر متمکن تھیں۔
صدارتی خطبہ اور روایتی تقریروں کے مرحلے نپٹے۔ایوارڈز کی تقسیم میں ہماری
دلچسپی کا محور جوگندر پال تھے۔جوگندر پال کو دیکھنے کی کتنی تمنا تھی۔چلئیے وہ پوری ہوئی۔باتیں واتیں بھی کیں۔چائے پر بہت لوگوں سے ملاقات ہوئی۔اگلے سیشن میں حاضرین کی تعداد گھٹ گئی۔تین دن کی اس کانفرنس کی نمایاں باتیں درج ذیل تھیں۔
افغانستان کا مندوب پرتاونادری جو درازقد خوبصورت نوجوان تھا۔بنگلہ دیش کی روینا حق بیس اکیس سال کی دھان پان سی جینز اور ٹی شرٹ میں ہمہ وقت ملبوس اور مالدیپ کا ابراھیم وحید زیادہ چھائے ہوئے نظرآئے۔خصوصی توجہ کے بھی یہی حقدار تھے۔
البتہ محبت اور پیار کی بانٹ کا جو اظہار و اہتمام افغانیوں کے ساتھ ہورہا تھا اور جس طرح انتظامیہ کے اہم لوگ انکے آگے پیچھے پھرتے تھے۔وہ کچھ سیاسی رحجانات کی بھی عکاسی کرتے تھے۔
اجیت کور بغیر اُس بڑے بدمعاش کا نام لئیے کہ آخر اُسے وسط ایشیا کی ریاستوں میں کیا چاہیے؟کیوں اُس نے دنیا کا امن داؤ پر لگایا ہوا ہے۔ایسے دکھ بھرے اظہارکی بار بار ادائیگی ان کے اندورنی کرب کو ظاہر کرتی تھی اور یہ سمجھ آتی تھی کہ آخر اِس سے اُنکا مدّعا کیا ہے؟
اُن کے ہاں ایک اور دکھ کا شدید اظہار تھا اور یہ بھی گاہے بگاہے اُن کی زبان سے ادا ہوتا تھاکہ ہندوستان کا مشرقی پنجاب ہی نہیں پاکستان کا پنجاب بھی اپنی مادری زبان کے بارے میں بہت بے حسی کا مظاہرہ کررہا ہے۔انگلش میڈیم میں پڑھنے والے بچے اپنی مادری زبان کو صحت کے ساتھ بول ہی نہیں پاتے۔یہاں بے چارے بچوں کی کیا خطا؟انہیں تو جس راستے پر ڈالا جائے گا انہوں نے اسی پر چلنا ہے۔والدین مادری زبان کو پرکاہ برابر اہمیت نہیں دیتے۔ریڑھی بان تک اس خواہش میں مرے جارہے ہیں کہ بچہ فر فر انگریزی بولے،انگریزی پڑھے اور انگریزی میں ہی سوچے۔
یہ ایک لاحاصل سی بحث تھی۔زبان کی سرپرستی حکومتی سطح پر نہیں ہوگی اور بڑے لوگ اِسے نہیں اپنائیں گے تو یہ یونہی خجل خوار ہوتی رہے گی۔ہمارے ہاں کے پنجابی دانشور،لکھاری اور شاعر لوگ بھی ایسے ہی خودساختہ اندیشوں اور فکروں میں مبتلا نظرآتے ہیں۔
ہم برّصغیر کے لوگ تو یوں بھی دوہرے معیار اپنائے ہوئے ہیں۔تعلیم سے لیکر صحت اور دیگر امور میں امیروں اور غریبوں میں ناقابل یقین حد تک فاصلے حائل رکھنے کے خواہش مند اور اس کیلئے ہمہ وقت سرگرم عمل رہتے ہیں۔
پاکستانی مرد لکھاری تو جیسے بس سیر سپاٹوں کیلئے ہی آئے تھے۔علی اکبر ناطق تو کہیں نظر ہی نہیں آتا تھا۔کچھ اس سے کم کم حال اجمل کمال کاتھاجو آڈیٹوریم میں نہیں البتہ برآمدوں میں ضرور دیکھا جاتاتھا۔
یہ کہنا پڑے گا کہ کمپیرنگ کرنے والی شخصیت آلوک بھلّہ کی تھی۔بے حد سمارٹ ،بے حد دلکش اور انگریزی میں رواں اور بذلہ سنج قسم کی ۔اُنہیں سُننے میں لُطف آتا تھا۔مقرر کیلئے بس دس منٹ ضروری تھے پر وہ مقرر ہی کیا جو سٹیج پر چڑھے اور اِس پابندی پر عمل پیرا ہوجائے۔
شاعری میں جن موضوعات پر اظہار خیال ہوا۔وہ ٹیگور،فیض اور نذرُل اسلام کی
شاعری کے حوالوں سے تھا۔اچھے تجزئیے سُننے کو ملے۔بنگلہ دیش کے مسٹر بمل گوہا نے نذرل اسلام اور ٹیگور کی شاعری کے بنیادی فرق پر بات کی۔
یہ موضوع میرے لیے خصوصی دلچسپی کا حامل تھا کہ 1969اور 70میں ڈھاکہ یونیوسٹی کے گرلز ہوسٹل رقیہ ہال میں میری شامیں اکثرو بیشترپوکھر (تالاب)میں کشتی رانی کرتی لڑکیوں سے ٹیگور اور نذرل کے گیتوں کو سُنتے اور دونوں کی شاعری کے موازنوں میں
گزرتی تھیں۔مسلسل اک تواتر کی اس مشق اور تبادلہ خیال کے نتیجے میں مجھے دونوں شاعروں میں فرق کرنا آگیا تھا۔کہیں ریڈیو پر سُنتے یا ٹی وی پرکِسی کو گاتے دیکھ کر میں جان جاتی تھی کہ یہ رابندروشنگیت ہے۔ ٹیگور کی شاعری میں غنایت اور موسیقی کا ایک دریا سا رواں رہتا ہے۔
نئی شاعرات نے خوب رنگ جمایا۔ایسی خوبصورت شاعری سُننے کو ملی کہ مزہ آگیا۔اب چشم غزال اور گیسوئے دراز کے علاوہ بھی زندگی اور اس کے طرز سلوک سے متعلق ان گنت موضوعات ہیں۔
برصغیر کے سیاسی اور سماجی ٹکراؤ میں تخلیقی ادب کا ناقدانہ جائزہ، پاکستان سے عائشہ ذی خان نے اس پر جامع مضمون پڑھا۔
گیتوں اور نغموں نے اچھی رونق لگائی۔ہماری نیلم احمد بشیر تو پھر رنگ جمانے میں بڑا نام رکھتی ہیں۔محفل جھومنے لگی۔
کلدیپ نائر کی زیر صدارت جس سیشن میں سب سے زیادہ باتیں اور گفتگو ہوئی۔وہ تقسیم میں ہونے والی دہشت گردی اور تشدد کی سیاست تھی۔
کھانے مزے دار تھے۔مقالے معلومات افزا تھے۔بہت لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں نور ظہیر،جوگندر پال،خواجہ محمد اکرم،اختر واسع،شیخ دہلوی،رخشندہ جلیل وغیرہ۔نور ظہیر سے ملنے کا لطف آیا۔انہوں نے حال میں ہی چھپنے والی اپنی کتاب “میرے حصّے کی روشنی “دی۔
اجیت کو ر کو بہت اچھی اور سخت منتظم کا کریڈٹ ضرور جاتا ہے۔کامیابی سے اِس سہ روزہ کانفرنس کو بھگتایا۔سیر سپاٹے کیلئے صرف ایک دن عنایت ہوا۔شام کو گاڑی پر چڑھ جانے کا حکم تھا۔
مجھے ڈاکٹر خواجہ اکرام جو نہرو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں سے ملنا تھا۔سو دوستوں سے اپنا راستہ الگ کیا۔یونیورسٹی بہت خوبصورت ہے۔جب ڈپارٹمنٹ پہنچی تو علی اکبر ناطق اور فیصل آباد کی شاعرہ ناز فاطمہ کو بیٹھے دیکھا۔مختصر سے وقت میں خواجہ صاحب نے طلبہ کے ساتھ ہماری بات چیت کا اہتمام کروایا۔کھل کر باتیں ہوئیں۔ہندوستان میں اُردو کے مستقبل پر بحث ہوئی۔امید افزا باتیں سُننے کو ملیں۔
رکشے میں بیٹھی اور سیدھی میٹا محل پہنچی۔میٹا محل میں کھانے پینے کا خاصا اہتمام ہے۔حلوائیوں کی دکانوں پر ہی ہمہ وقت ہمارے ہاں کی طرح پوریاں بھاجی دستیاب ہوتی ہیں۔چپہ بھر آٹے کی پوریاں پرلُطف آیا۔سیر ہوکر باہر نکلی۔شاپنگ میں مجھے صرف شال خریدنی تھی۔موتی بازار شالوں کی مارکیٹ ہے۔وہاں کوئی دس کے قریب دوکانوں میں گُھسی۔ڈھیروں ڈھیر شالوں کا پوسٹ مارٹم کیا۔مجال ہے جو کسی کو بھنک بھی پڑی کہ خیر سے بی بی بیگم پاکستانی ہیں۔اکیلے گھومنے میں بڑا مزہ آیا۔بالکل رنگ محل اور کشمیری بازار جیسا ماحول تھا۔
اُردو بازار جانا چاہتی تھی کہ کتابیں دیکھوں اور خریدوں۔مگر چار بج رہے تھے واپسی کی۔
جب ہم نے گاڑی میں سیکنڈ کلاس کے ڈبے میں خاصی خجل خواری کے بعد اپنی اپنی نشستیں سنبھال لیں اور پرسکون ہوئے تو جن باتوں پر تبصرے کئیے اُن میں سرفہرست پاکستانیوں سے سلوک کچھ کچھ سوتیلوں جیسا ہی تھا۔اجیت کور کا رویہ بھی امتیازی سا تھاکے ساتھ ساتھ اُن غلطیوں پر بھی حاشیہ آرائی ہوئی جو وفد کے اراکین نے کیں۔ اس میں ایک تو اُن آپ پھدرے قسم کے فیصل آبادی نوجوانوں کی تھی کہ جنہوں نے افتتاحی سیشن میں مہمان خصوصی کو اپنے جٹ جپّھے میں گھیر کر چادر اوڑھائی اور نتیجے میں اجیت کور سے جھڑکیاں
کھائیں۔
اس پر زور دار بحث ہوئی کہ آخر کرایہ بھاڑا کیوں ادا نہیں کیا گیا۔اندر کی باتیں اللہ جانتا ہے کہ ادا ہی نہیں ہوا یا بیچ کے لوگ کھا پی گئے۔ویسے عجیب سی بات تھی کہ جب بلا یا گیا تھا تو کرائے کی ادائیگی لازمی تھی۔سب نے اپنا اپنا کرایہ خود ادا کیا تھا۔
واپس آکر نیلم نے اس پر بحث مباحثے کاایک سلسلہ شروع کیا۔انٹر نیٹ پر جو اعتراض اورباتیں ہوئیں وہ ایک اور دلچسپ ایپی سوڈتھا۔اجمل کمال اس میں سرگرمی سے شامل ہوا۔بہتوں نے اپنا اپنا حصّہ ڈالا۔کہیں سنی زیر بحث آیا کہ وہ کِس حسابوں سٹیج پر چڑھا اور سیشن کی صدارت کی۔وہ بزنس مین اُس کا قلم کتاب سے تعلق؟سنی کو بھی تپ چڑھی۔وہ بھی خم ٹھونک کر میدان میں اُترا۔عائشہ زی خان نے تھوڑی سردی گرمی دکھائی۔طاہرہ اقبال اور حمیرا راحت نے چُپ سادھی اور اچھی رہیں۔ہاں البتہ میرے اور نیلم پر خوب پھٹکار برسی۔
اِس سفر کی ایک اور خوبصورت یاد جو میرے پلّو سے بندھ گئی ہے وہ امرتسر ریلوے اسٹیشن کی ہے۔رات بھر کے سفر کے بعد صُبح سویرے اپنے اٹیچی کیس کے ساتھ پلیٹ فارم کی سیڑھیاں چڑھنا کس قدر دشوار کام تھا کہ گوڈے اب بیمار شمار رہنے لگے ہیں۔اور پھر صُبح صُبح بغیر چائے پانی کے۔بڑھاپے کی نڈھالی چال سے لیکر صورت تک ہویدا تھی۔جی چاہتا تھا کہ پچیس تیس سیر کا یہ اٹیچی کیس اٹھا کر سامنے ریلوے کی پٹڑیوں پر پھینک دوں اور سبک سر ہوکر سیڑھیاں چڑھتی جاؤں۔
تبھی میری پشت سے ایک ہاتھ آیا اور اس نے اٹیچی کیس میرے ہاتھ سے لیتے ہوئے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔کیسا لمحہ تھا؟بس لگا جیسے میرا بیٹا کہیں سے آیا اور اپنی ماں کو پھول کی طرح ہلکا کردیا۔
جیتا رہے وہ۔سلامت رہے وہ جس کا نام اجمل کما ل ہے۔
سلمیٰ اعوان
0301-4038180
www.salmawam.com
انڈیا کا سفرنامہ
چوتھی ہند یاترا مارچ 2011 میں ہوئی۔سارک لٹریچر فیسٹیول کے مہمان بنے۔یہ مہمان جس کی روح ورواں اجیت کور ہے ۔اجیت کورپنجابی ادب کا ایک بڑا نام۔پاکستان میں اِس تنظیم کے نمائندے لاہور میں عائشہ ذی خان،نثار احمد خان سنی،اسلام آباد میں احمد سلیم فرحین چودہری۔اب تو تین چوتھائی کاموں کی تکمیل انٹرنیٹ پر ہوتی ہے۔دوستوں کا ایک ٹولہ اس بار بھی لسٹ پر یاوری کا منتظر تھا۔نیلم اور میرے کاغذات کی خانہ پُری آخری دن ہی ہوئی۔واہگہ بارڈر پر طاہرہ اقبال فیصل آباد اور حمیرا راحت کراچی سے ساتھ تھیں۔رخشندہ نوید، نیلم اور میں نے ہنسی ہونٹوں پر بکھیری۔اور ایک دوسرے سے کہا کہ چلو مزہ آئے گا۔
سنی اونچا لمباخوبصورت نوجوان تھا۔جوراہبر کے طور پر سامنے آیا تھا۔مگر سلیقے طریقے کا بڑا فقدان نظرآتا تھا۔امرتسر سے دلی کیلئے ٹرین بذریعہ سفرتھا۔اپریل کا مہینہ اے سی کے بغیر کمپارٹمنٹ ۔اُس محاورے کہ دوزخ بھی ہے قبول اگر یار لوگ ساتھ ہیں کی سچی مابیت اب سمجھ آئی تھی۔گانے گاتے ،گندے لطیفے سُناتے،ہنستے کھیلتے رات کے نوبجے دلّی جا پہنچے۔
اسٹیشن پر بٹوارے کے بعد سائیں دھام انٹرنیشنل گیسٹ ہاؤس آئے۔بس ایویں سا تھا۔میں تو کمرے میں جاکر اطمینان سے لم لیٹ ہوگئی۔نیلم احمد بشیر میرے خراٹوں سے الرجک رخشندہ نوید کے ساتھ جا جڑی اور گیسٹ ہاؤس کے منتظمین سے کمرہ بدلنے کیلئے بحث مباحثے میں رات گئے تک اُلجھی رہی۔صبح مجھے تازہ دم کچن کے ڈائننگ ہال میں دیکھ کر غصّے سے بولی ۔بک بک جھک جھک کرتے رات گزری۔سردرد سے پھٹا جارہا ہے۔
چائے کاکپ میرے ہونٹوں سے چپکا ہوا تھا اور میری ہنستی آنکھیں اُس کے کناروں کے پارسے اُسے دیکھتی تھیں۔فرحین چودہری بہت اچھی روم میٹ ثابت ہوئی تھی۔
یہ حوض خا ص کا علاقہ تھا۔اِس ریسٹ ہاؤس کے سامنے سری فورٹ آڈیٹوریم تھا۔اور ساتھ چند قدم کی واک پر اجیت کا قائم کردہ
جہاں کانفرنس کا انعقاد ہورہا تھا۔
خوبصورت عمارت ،خوبصورت ماحول پھولوں سے لدا پھندا ۔نیپالی اور سری لنکن اپنے ملکوں کی نمائندگی کرتے ہوئے خاصے پرجوش نظرآئے تھے۔افغانی بھی تھے۔بنگلہ دیشی بھی ۔بڑا بھرپور سیشن تھا۔سردارنی گرشارن کور مہمان خصوصی کی نشست پر متمکن ہوئیں۔
روایتی تقریریں صدارتی خطبہ ہوا۔ایوارڈز کی تقیسم اور پھر چائے۔اگلے سیشن میں حاضرین کی تعداد گھٹ گئی۔تین دن کی اس کانفرنس کی نمایاں باتیں بس درج ذیل تھیں۔
افغانستان کا مندوبین پرتاونادری جو اونچا لمبا خوبصورت نوجوان تھا۔بنگلہ دیش کی روینا حق بیس اکیس سال کی دھان پان سی جینز اور ٹی شرٹ میں ہمہ وقت ملبوس اور مالدیپ کا ابراھیم وحید زیادہ نظرآئے۔خصوصی توجہ کے بھی یہی حقدار تھے۔ہاں البتہ جو اھتمام افغانیوں کے ساتھ ہورہا تھا وہ کچھ سیاسی رحجانات کے عکاس تھے۔پاکستانی مرد لکھاری تو جیسے بس سیر سپاٹوں کیلئے ہی آئے تھے۔علی اکبر ناطق تو کہیں نظر ہی نہیں آتا تھا۔کچھ اس سے کم کم حال اجمل کمال کاتھاجو آڈیٹوریم میں نہیں البتہ برآمدوں میں ضرور نظرآتاتھا۔یہ کہنا پڑے گا کہ کمپیرنگ والی شخصیت آلوک بھلّہ کی تھی۔بے حد سمارٹ ،بے حد دلکش اور انگریزی میں رواں اور بذلہ سیخ ۔اُنہیں سُننے میں لُطف آتا تھا۔مقرر کیلئے دس منٹ ضروری تھاپر وہ مقرر ہی کیا جو سٹیج پر چڑھے اور اِس پابندی پر عمل پیرا ہوجائے۔
شاعری میں جن موضوعات پر اظہار خیال ہوا۔وہ ٹیگور،فیض اور نذرل اسلام کی شاعری کے حوالوں سے تھا۔اچھے تجزئیے سُننے کو ملے۔بنگلہ دیش کے سٹربمل گوہا نے نذرل اسلام اور ٹیگور کی شاعری کے بنیادی فرق پر بات کی۔یہ موضوع میرے لیے خصوصی دلچسپی کا حامل تھا کہ 1969اور 70میں ڈھاکہ یونیوسٹی کے گرلز ہوسٹل رقیہ ہال میں میری شامیں اکثرو بیشترپوکھ (تالاب)میں کشتی رانی کرتی لڑکیوں سے ٹیگور اور نذرل کے گیتوں کو سُنتے ہوئے گزری تھیں۔مسلسل اک تواتر کی اس مشق اور تبادلہ خیال کے نتیجے میں مجھے دونوں شاعروں میں فرق کرنا آگیا تھا۔ٹیگور کی شاعری میں غنایت اور موسیقی کا ایک دریا سا رواں رہتا تھا۔
برصغیر کے سیاسی اور سماجی ٹکراؤ میں تخلیقی ادب کا ناقدانہ جائزے پاکستان سے عائشہ ذی خان نے اس پر جامع مضمون پڑھا۔
گیتوں اور نغموں نے اچھی رونق لگائی۔ہماری نیلم احمد بشیر تو پھر رنگ جمانے میں بڑا نام رکھتی ہیں۔محفل جھومنے لگی۔
کلدیپ نائر کی زیر صدارت جس سیشن میں سب سے زیادہ باتیں اور گفتگو ہوئی۔تقسیم میں ہونے والی دہشت گردی،voilenceکی سیاست۔
کھانے مزے دار تھے۔مقالے معلومات افزا تھے۔بہت لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں نور ظہیر،جوگندر پال،خواجہ محمد اکرم،اختر واسع،شیخ دہلوی،رخشندہ جلیل سے ملنا تھا۔
پاکستانیوں کو تھوڑی سی شکایت بھی رہی کہ انہیں اہمیت کم ملی۔اجیت کور کا رویہ کچھ امتیازی ساتھا۔
کرایہ بھاڑا بھی ادا نہیں کیا گیا۔اندر کی باتیں اللہ جانتا ہے کہ ادا ہی نہیں ہوا یا بیچ کے لوگ کھا پی گئے۔ویسے عجیب سی بات تھی کہ جب بلایا گیا تھا تو کرائے کی ادائیگی لازمی تھی۔واپس آکر نیلم نے اس پر ایک بحث مباحثے کا سا سماں باندھ دیا تھا۔انٹرنیٹ پر جو اعتراض اور باتیں ہوئیں وہ بھی ایک دلچسپ
لیجئے بھگواڑا آگیا ۔ گاڑی میں اُبھرتی آواز نے بے اختیار ہی ہونٹوں کو مسکرانے پر مجبور کر دیا کہ کچھ یاد آیا تھا۔ کِسی انڈین چینل پر تھرکتا شور مچاتا ایک اشتہار جو بھگواڑہ کی بنی ہوئی ساڑھی سے متعلق تھا۔ سارے پنڈ وچ پہ گیا ساڑا (سارے گاؤں نے جلنا اور حسد کرنا شروع کر دیا جونہی میں نے بھگواڑہ کی ساڑھی پہنی)۔
چندی گڑھ انڈیا کے شمالی حصہ میں پنجاب اور ہریانہ کا کیپیٹل سٹی فرانسیسی ، ماہر تعمیر لئی کوربیسر Le. Corbusierکا ڈیزائن کہ وہ شاہکار ۔ ہریالیوں میں گھرا پھولوں میں ہنستا اشجار میں سے مسکراتا اور اپنی چھب دکھلاتا۔ اپنے اسلام آباد جیسا تاثر دیتا۔ ایک خوبصورت شہر گل لالہ سے سما پیشوائی کر رہا تھا۔ تھکن تو ساری اُڑنچھوہوگئی تھی۔ شوالک ویو ہوٹل شوالک پربت مالا جیسا حُسن لیئے ہوا تھا۔ خوبصور ت ٹی وی لاؤنج میں ہی بتا دیا تھاکہ تیار ہوکر نیچے آنا ہے ۔کہ دیوسماج کالج میں وفد کے اعزاز میں تقریب تھی۔ استقبالیہ کیسا رنگا رنگ تھا۔ ڈھول کی تھاپ تھی۔ دل کش اور من موہنی لڑکے لڑکیوں نے رنگوں کی برسات میں جو رقص کیا اُسنے مسحور کیا۔ کالج کے آڈیٹوریم کی سٹیج پر پنجاب کے وزیراعظم شری ہرنام داس جوہر کالج کی پرنسپل مسز ڈھلوں اور پٹیالہ یونیورسٹی کے رجسٹرار پرم بخشیش سنگھ فخر زماں کے ساتھ بیٹھے خوب سج رہے تھے۔برقی روشنیوں میں نوخیز بچیاں بھی بڑی دلکش لگتی تھیں۔وزیرتعلیم کی تقریر میں بڑا والہانہ پن تھا۔ اچھا لگا اگر اچھا نہیں لگاتو اُس نوخیز بچی کا انداز گفتگو جو بڑے میٹھے لہجے میں سوال کرتی تھی کہ ایک کلچرایک جیسی ریتل اور ایک جیسی وسیب کے ہوتے ہوئے بھلا الگ ہونے کی کوئی ضرورت تھی۔کچھ اسی سے ملتا جلتا انداز وزیر تعلیم کا تھا۔ جو ہمیں بھارتی پنچاب کے اناج کا گھر ہونے کا مثردہ سُناتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ویزہ کی پابندیاں نرم ہونی چاہیئے تاکہ جب اور جسوقت پاکستانی پنچاب کے لوگ بے شک سائیکلوں پر امر تسر آئیں اور گندم کے توڑے اپنے کیئریئر پر رکھ کر لے جائیں۔پاکستانی تو ان کی گندم لے جائیں اور ہندوستانی لاہور سے کیا لے کر آئیں اسکا کہیں ذکر نہیں تھا۔افضال شاہد مرحوم کا ایک گیت بوہے کھول دیو جسے شوکت نے کمپوز کیا تھا۔ سُنوایا گیا۔بہر حال اعزاز احمد آذر نے سٹیج پر آکر ہمارے اندر کے مچلتے جذبات کو زبان دی کہ سرحدیں تو اب بن گئی ہیں۔ سلامتی امن قائم کرنے اور اچھے ہمسائیوں جیسے تعلقات رکھنے میں ہے۔چلو شکر کوئی تو کلمہ حق بولا۔ کلچر شو دیکھا اور واپسی ہوئی۔
میں بہت سویرے اُٹھنے کی عادی ہوں نماز سے فارغ ہوکر باہر نکل آئی۔چندی گڑھ اسلام آبا د سے بہت ملتا جلتا شہر ہے۔
نو بجے سے بارہ تک تقاریر تجاویز کی بھرمار سُنی۔دونوں ملکوں کی فوج اور بیوروکریسی ویزہ پالیسیاں نرم کرنے کی راہ میں مائل تھیں۔یقیناََ دونوں کے مفادات تھے۔
سیما اور میں راک گارڈن دیکھنے کے لئے مری جارہی تھیں۔جونہی لنچ سے فارغ ہوئے اور سیر سپاٹے کے لئے گاڑی لی بگٹٹ اس کی طرف بھا گے ۔ نک چند کا عظیم الشان کارنامہ 1924ء پیدا ہونے اور ایک متوسط کسان برادری تعلقات رکھنے والے نک چند سینی جسنے اٹھارہ سال کی عمر میں میڑک کیا۔ جسکا گاؤں لاہور سے کو ئی چھپن میل پر بریاں کلان تھا۔1947ء کی تقسیم میں نقل مکانی ہوئی اور جب شوالک سلسلہ ہائے کوہ کے دامن میں چندی گڑھ شہر بسانے کا فیصلہ ہوا اُسے چندی گڑھ پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ میں روڈ انسپکٹر کی نوکری مل گئی سچ تو تھا کہ وہ پہاڑوں اور فطرت کی خوبصورتیوں سے سحر زدہ تھا۔
مر کزی دروازے پر رُک گئے تھے ۔ سنگِ مرمر کی تختی پر لکھے ہوئے کو پڑھنے کیلئے۔
اس عظیم کارنامے کا ۷جولائی 1988ء کو افتتاح ہوا تھا۔ ایک سادہ عام سے انسان کا عظیم کارنامہ ایک دیسی بندے کا تخلیقی شاہکار جس کی دھوم دنیا میں مچی تھی ۔ پستہ قامت دروازوں کا ایک سلسلہ تھا۔ قدرے جھک کر ایلس ان ونڈرلینڈ کی طرح ایک نئی دنیا سامنے آتی تھی۔یہ پستہ قامتی کیا قصداََ اپنائی گئی تھی کہ انسان کو عاجزی انکساری اور حلیمی کا درس دینا بھی نک چند کا موٹو تھا کہ وہ بذات خود ایسا ہی ہے۔
ہر پل ایک نئی دنیا میں داخل ہوتے ہوئے میں سوچتی تھی کہ نک چند ایک خود ساختہ فنکار ہیں۔ ایک خیال پرست مصور جسنے اپنی تخلیقات کو روپ دیا ۔ ناکارہ اور دھتکاری ہوئی چیزوں سے مگر ضروری تفصیلات جن میں نفاست اور باریک بینی آتی ہیں انہیں اپنانے سے انکار کر دیا۔
سائیکلوں کے ناکارہ حصے ،ٹوٹی ہوئی چوڑیوں ،بلب ، ٹیوبیں،بوتلوں کے ڈھکن ،ٹوٹی پیالیوں ،ٹوٹے ہوئے مٹی کے برتن ،جلی ہوئی اینٹوں ،نایؤں کی دوکانوں کے باہر پھینکے ہوئے بال اِس جگہ پر بنے گاؤں کو مسمار کرتے اور نئے خوبصورت شہر کی تعمیر کے دوران فالتوسامان سیمنٹ پتھر جنہیں وہ اپنی سائیکل پر جتنوں سے لادتا اور اِس خفیہ جگہ پر جو تب ایک جنگل تھی لاتا
اِس جگہ پر اُسکا آنا بھی ایک معجزہ ہی تھا۔کام کے دوران وہ اِس مضافاتی جگہ پر آنکلا تھا ۔ پرسکون درختوں اور سبزے گھری آبشاروں سے سبھی نیلے چمکتے آسمان کی رعنائیوں بھری چھت سے ڈھپی اُس جیسے مذہبی آدمی کو بھگوان ہی متحدد روپ میں نظر آیا تھا۔یوں بھی چندی گڑھ کی تعمیر نے اُن سب لوگوں کو جو یہاں کاشت کار تھے جو یہاں رہتے تھے۔نئے شہر نے انہیں بے گھر کر دیا تھا۔ انکے بین اور آہوں نے اُسے بھی متاثر کیا تھا۔ اُس نے خود بھی دربدری کا مزہ چکھا تھا۔ یہاں اُسے سکون ملا تھا۔
اب یوں ہوا ۔ وہ کام سے فارغ ہوتا ۔ سائیکل کے پیڈلوں سے کشتی کرتا یہاں آجاتا۔ناکارہ ٹائی جلاتا اور انکی روشنی میں کام کرتا رہتا حتیٰ کہ صبح ہوجاتی ۔ اُس کے لیے یہ کام ایک عبادت تھی اور یہ جگہ مقدس ترین ۔آغازمیں یہاں اُس نے ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنائی جو ایک ندی کے کنارے تھی ۔نہ اُسے جنگل کے مچھروں کا ڈر نہ اُسے سانپوں کا ڈر………….اور نہ اُسے جنگل کے بھیڑیے اژدھوں کا کوئی احساس ۔ وہ مجسمے بناتا جاتا ۔ اپنے تصور کی سرزمین سے نکال کر اُنہیں حقیقی دنیا میں لاتا۔جانوروں ،پرندوں انسانوں کے مجسمے انکے چہروں پر اپنے ذہن کے مطابق احساسات بکھیرتاجاتا ۔ ہر ایک دوسرے سے مختلف ،تاثرات میں منفرد ،قدرت کے عناصر ،تبدیلی کے نمائندہ ،پانی ،جانور ،پرندے سب اُسکے تخلیقی دوست تھے۔ایک جہان تخلیق ہورہا تھا۔ دنیا سے چوری چُھپے۔
پھر ایک دن ایسا ہوا کہ راز فاش ہوگیا ۔ گورنمنٹ کی ایک سروے ٹیم اتفاقیہ اِس طرف آنکلی ۔ٹیم کے افراد گنگ کھڑے اِس رنگ و بو کو دیکھتے تھے ۔ جسکی خوبصورتی اور حُسن نے انہیں سحر زدہ کر دیا تھا۔
جیسا کہ نک چند نے کہا ۔میں نے ہر وہ شے استعمال کی جسے لوگوں نے پھینک دیا تھا۔ دھاگہ اُدھڑے کپڑے جو کسی کے لیے کسی دلچسپی اور کام کے نہیں تھے۔ مگر وہ میرے لیئے تھے۔کپڑوں سے بنی یہ گدھے گھوڑے بہت مظبوط ہیں۔ آپ کو نیچے نہیں گرائیں گے۔
نواب ایک شادی میں جاتے ہوئے جب اُسے لیبر میسر آگئی تو اُسنے ایک بڑا مجسمہ تین چار دنوں میں مکمل کیا۔
دیوتاؤں اور دیووں کی سلطنت ۔ میں نے تو ایسا کبھی سوچا بھی نہ تھاجو اسوقت میرے سامنے ہے۔یہ صرف میرے ہاتھ ہیں ۔ شاید میری چیزیں کھیتی باڑی سے جڑی ہوئی تھیں۔ میں ایک کسان تھا۔ جو ہل چلاتا،بیج بوتا اور پھر اسمیں پھول پھل نکلتے دیکھنے کا آرزو مند تھا۔
ایک دیہاتی اپنی بھینس کا دودھ دوہتا۔
میں چاہتا ہوں لوگ خود کو محفوظ کریں ۔ اور انہیں کرنا جاری رکھیں۔ حتیٰ کہ جب میں زندہ نہ ہوں کسی بھی موقع پر راک گارڈن مجھے زندہ رکھے گا۔
نک چند ایک ایسا پروڈیوسر نہیں جسنے آلات کو بیچنے کے لیے بنایا یا کسی مصر ف کیلئے تخلیق کیا۔ اُس کی زندگی اور تخلیق کا مقصد بہت روحانی تھا۔ وہ ایک سادہ لوح ، بہت مذہبی اور عاجز سا انسان ہے۔ اُسے اپنے آرٹ پر اپنے فن پر بات کرنے کا تو کوئی شوق ہی نہیں نہ وقت نہ شوق۔ وہ ابھی بھی اپنے کام میں مصروف ہے اسی سال کی عمر میں بھی۔
کھوج کیا پتہ چلا ایک سادہ سے عاجز سے بندے کا عظیم کام ۔
‘‘یہ غیر قانونی حرکت ہے’’
گورنمنٹ کی زمین پر ناجائز طور پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اِسے مسمار کر دینا چاہیے۔ بعض سازشی اور حاسد چلاّئے تھے۔
لیکن بھگوان سے پیار کرنے والے اُسے اپنے من میں بسانے والے کی مدد خود بھگوان نے کی کہ بیچ میں سے ہی اُسکے حامی لوگ پیدا کر دیئے جنہوں نے نہ صرف اُسے ہلاّ شیری دی بلکہ ہر سہولت بھی مہیا کی۔
حاسدی بیوروکریٹ ،سازشی وکلاء اُسے عدالت میں بھی گھسیٹ کر لے گئے ۔مگر وہ جیتا اُسکا عزم جیتا ،اُسکی لگن جیتی اُسکی کا وشیں سرخرو ہوئیں۔اُ س نے دنیا کو بتا دیا کہ ناکارہ چیزیں کارآمد ہو سکتی ہیں۔ اور یہی اُسکا آرٹ ہے کہ اُسکا کہنا ہے کہ قدرت تو خود اِس پر عمل پیرا ہے تو اِنسان کیوں نہ ہو۔
نک چند سے پہلی ملاقات میں مجھے محوس ہو ا تھا کہ وہ اگر اپنے اندر کی وجدانی ، الہامی اور روحانی قوتوں اور جزبوں سے متاثر تھے تو وہیں ایسی سلطنت بھی کہیں اُنکے خوابوں میں تھی ۔ جسے اُنہوں نے ڈیزائن کیا۔ راک گارڈن تین فیزز میں منقسم ہے اور ہر فیز مختلف وقتوں میں مکمل ہوا۔ ہر فیز کا خاکہ اُنکے دماغ میں تھا۔اُنکے دل میں تھا۔ اُنکی رگ و پے میں اُترا ہوا تھا جسے انہوں نے جزبوں کی بلندیوں سے دیکھا۔مسرتوں اور حیرتوں کے حصار میں لے کر اُسکا احاطہ کر دیا۔ کچھ چیمبرز میں بادشاہ کی عدالت کے منظر ہیں۔ ملکہ کے محل کا کمپلیکس۔ موسیقاروں کیلئے انکے فن کی ادائیگی کیلئے خوبصورت جگہ ۔اور اس کے ساتھ ساتھ دیہائی زندگی کے منظر۔
فیز اول اور دوم زیادہ تر بھُول بھلیو ں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ پستہ قامت دروازے ایک کے بعد ایک نئی دنیا میں کھلتے اور آپ پر ایک نیا جہاں کھولتے ہیں۔شوخ رنگوں سے جھلملاتے آراستہ پیراستہ بلند و بالا دیواروں میں گھرے چہروں پر مختلف تاثرات کی دنیا بکھیرے آپ کو داستانیں سناتے ملتے ہیں۔ایک سے دوسرے تنگ تنگ راستے ٹیڑھی میڑھی صورتوں میں پراسرار سے انداز میں خود مڑتے اور آپ کو موڑے کبھی اُوپر چڑھاتے کبھی نیچے اُتارتے چلے جاتے ہیں۔یہی تنگنائیاں پھر آپکو ایک کشادہ جگہ لے جاتی ہیں جہاں ایک بڑی آبشار آپ کے ہونٹوں کو متحرک کرتے ہوئے کہتی ہے واہ۔ ایک فسوں ایک خوشگوار حیرت ،ایک اسرار ،ایک تجسس آپکے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔
فیز سوم باغ کا سب سے زیادہ شائقین کیلئے دلچسپ حصّہ ہے کہ اسمیں کوئی پچاس کے قریب دیو ہیکل قسم کی سیمنٹ کی بنی ہوئی محرابیں ہیں اور ہر محراب میں ایک بڑا فیملی سائز جھولا ہے۔ جسے دیکھتے ہی کیا بچے کیا بوڑھے کیاعورتیں اور مہاجر بے چین و بے تاب ہو اُٹھتے ہیں اور شاعر کے الفاظ میں غزل اُسنے چھیڑی مجھے ساز دنیا کی تصوریرں
سکھنا جھیل پر میں نے بڑا دلچسپ وقت گزارا۔ میں اور سیما بہت دیر اسکے پانیوں کو دیکھتے ناریل پیتے لوگوں سے باتیں کرتی رہیں۔ جو اپنے بچوں کے ساتھ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے اسکی ساحت کیلئے آئے ہوئے تھے۔ تین مربع کلو میڑ پر پھیلی ہوئی یہ جھیل بھی چندی گڑھ کے شہر یوں کیلئے ایک تحفے سے کم نہیں۔
ہلکے ہلکے ہلکورو ں میں بہتے پانی جسپر گرتی سورج کی دھوپ اِس پر چلتی کشتیاں اُن میں بیٹھے لوگ جنکے چہرے خوشیوں اور مسرتوں سے گلال ہوئے پڑتے تھے۔ چاندنی راتوں میں اسکا حُسن کیسا مدہوش کن ہوگا۔ میں نے سوچا اور تصور کیا۔
اگلے دن شملہ جانے کا پروگرام تھا ہماچل پردیش کا کیپیٹل ۔ مری کا بھائی کہہ لیجیئے ۔ سبھوں نے کہا تھا۔ مری جیسا ہی ہے۔ مگر راستہ بہت ٹیڑھا میڑھا ہے۔بہت بل دار ہے۔ پل پل کے زگ زیگ میں اُلجھا ہوا۔ بندہ پہاڑی راستوں کا عادی نہ ہو تو اُسکا حشر ہو جاتا ہے۔مگر صنوبر،دیودار اور چیڑ کے درختوں کے دامنو ں میں ایک ڈھلوانی ترتیب میں بکھرے دو منزلہ سہہ منزلہ گھروں کی رنگین برسات نے سفر کی ساری کلفت کو دور کر دیا۔آنکھیں مسلسل انہیں دیکھتے گھورتے مسحور ہوتی رہیں۔شملہ ایک اہم حوالے سے ہر پاکستانی کیلئے مانوس ہے۔ کہ پاکستانیوں کا محبوب لیڈر اپنے محصور فوجیوں کی رہائی کیلئے مسز گاندھی سے ملنے شملہ آیا تھا۔
شملے کو صرف ہاتھ لگانے والی بات ہوئی ۔مال پر گھومتے گھومتے ہی لنچ برگروں کی صور ت کیا۔ ثروت کی فخر زماں سے بحث سُنی کہ جو شملے میں رات گزارنے کیلئے بضد تھی۔ ہم اسکی تائید کرتے تھے کہ ہاں نہ ہم کوئی برگر کھانے تو شملہ نہیں آئے ۔ مگر وہاں انکار تھا۔ ٹاؤن ہال دیکھا۔ سڑکوں کو ایک دوسرے سے ملانے کیلئے لفٹیں ہیں۔
انڈین ایڈوانس سڈیز کی عمارت گوتھک طرز تعمیر کی خوبصورت اور پر وقار عمارت جو کبھی وائسرے رج تھی۔
شملہ کالجوں، سکولوں اور ریسرچ اداروں کیلئے خصوصی شہرت رکھتا ہے۔ یہاں مندروں اور گرجاؤں کی بھی کثرت ہے۔ شاید کوئی مسجد بھی ہو مجھے نظر نہیں آئی۔
ہمالیہ کے جنوب مغربی سلسلے کی پہاڑیوں میں شملہ استنبول اوم اور روم، استنبول کی طرح یہ بھی سات پہاڑیوں کی چوٹیوں پر تعمیر ہوا ہے۔ٹاؤن ہال کا اعلان ہوا۔گاڑی میں بیٹھے بیٹھے شاندار ہوٹلوں کے ظاہر ی روپ دیکھے۔
شملہ میں بچھی ریلوے لائن دیکھ کر دُکھ ہوا۔میرے ملک میں تو ریلوے کا جو حشر ہوا۔ٹرانسپورٹ مافیا کے چکروں اور خود غرضیوں نے جو کھیل کھیلے انکی تفصیل بہت ہی گھناؤنی ہے۔جو ریلوے کے ملازموں نے اِس سے محبت نہیں کی اور اسے اُجاڑ دیا۔
اگلے دن امر تسر کیلئے روانگی تھی۔استقبال بی بی کے ڈی رے وی کالج کی پرنسپل مسز جے کا کڑیا اور انکے عملے نے کیا۔
لنچ کے بعد شام کا سیکشن ٹورزم اینڈ ڈویلپمینٹ کے اعتبار سے بہت اہم تھا۔ پروفیسر دربار ی رل جو خود ایک ماہر تعلیم ہیں۔ اُن دنوں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر تھے۔اِس سیمینار میں جو بات میرے سامنے کھل کر آئی وہ ہندوستان کی سیاحت کے حوالے سے آگاہی اور شعور تھا۔مسز کا کڑیا نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ہمارے لیے آپ لوگوں کا پنجاب آپ لوگوں کے مکے مدینے کی طرح ہے۔آج مذہبی سیا حت صنعت کا درجہ اختیار کر گئی ہے۔ اِجدید تقاضوں کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرح یہ سیمینار پاک بھارت دوستی کا مظاہر ہ بن گیا۔ فخر زماں نے اپنے خطاب میں ٹورسٹ ویزہ کے اجر ا کی تجویز پیش کی ۔ انہوں نے سکھوں کے مذہبی مقامات کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ راج کٹا سب کا بھی ذکرکیا۔جسے اب زیارت گاہ بنایا جارہا ہے۔انہوں نے نفرتوں کی سیا ست چھوڑ ک محبتوں کے راستے اپنانے پر زور دیا۔
کلچرل شو بہت خوبصورت تھا۔ مسز کاکڑیا کی بیٹی پیڑول کا کڑیا نو عمری کے باوجو د بہت اچھی فنکارہ تھی۔ مزہ آیا کھانا شاندار تھا۔ ہندو اور سکھ مزے سے چکن کھا رہے تھے۔
کل سہہ پہر دلی کے لئے روانگی تھی۔شتہ بدی سے سفر کرنا تھا۔ ٹرین کا سفر مجھے ہمیشہ بڑا ہانٹ کرتا ہے۔صبح گولڈن ٹمپل گئے۔جلیانوالہ باغ دیکھا۔بازار بھی گئے مگر میں نے کچھ نہیں خریدا کسی نے کہا تھا کہ واپسی پر امر تسر ٹھہرنا ہے ۔ چلوپھر دیکھوں گی۔شتا بدی کیا مزے کی گاڑی تھی۔ٹرین کا سفر اور وہ بھی دوستوں کے ساتھ۔ساتھ افضال شاہد جیسے ہنس مکھ اور مجلسی بندے کا ساتھ۔گاڑی کسی پتی ورتا قسم کی خاتون جیسی تھی جو شوہر کے د ل میں اُترنے کیلئے اُسکے معدے میں سے گزرنا پسند کرتی ہے۔ شتابدی کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔ ابھی امر تسر سے نکلے ہی تھے۔ گرما گرم چھوٹے چھوٹے سموسے ،چارے ،کافی اور رس گلے آگئے۔اُن سے دو دو ہاتھ کیئے ۔ جالندھر ،لدھیا نہ اور پانی پت گزرے تو کھانا آگیا۔ تینوں شہروں نے دل ودماغ میں ہیجان سے پیدا کیا ۔ لدھیانہ ڈاکٹر کیول دھیر جیسے پیارے انسان کا شہر ہے ۔پانی پت جنگوں کے اعتبار سے کبھی نہیں بھولتاکہ انہیں یاد کرنے کیلئے گھوٹے رگانے پڑتے تھے۔دلی کا ریلوے اسٹیشن کی وسعت اور گاڑیوں کے اژدہام نے حیرت میں ڈالے رکھا۔دلی آنے کی کتنی تمنا تھی۔آج دلی سامنے تھی۔ رات تھی۔کہیں اجنبیت نہیں تھی۔ایک جیسا ماحول ،زبان کا بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔وہی اُردو تیرے کو میرے کو بولا جارہا تھا۔کرول باغ میں پال ر یجنسی ہوٹل پہنچے ۔ درمیانے درجے کا ہو ٹل تھا۔ مگر دلی جیسے شہر میں ایسا ہوٹل ملنا بھی غنیمت تھی۔ میں اور سیما حسبِ معمول اکٹھی تھیں۔گاڑیوں کا انتظام تھا۔ میں اور سیما نے ایک گاڑی کو قابو کیا اور نکل بھا گیں۔
یہ میری ہند کیلئے تیسری یاترا تھی اور یہ بھی مفتے میں تھی۔ امر تسر کی ایک بڑی سماجی اور فلاحی شخصیت ہر بھجن سنگھ برا ر جو میاں میر فاؤنڈیشن امر تسرکے سرگرم اور فعال ممبر ہیں۔حضرت میاں میرصاحب کے حوالے سے ایک پروگرام کر رہے تھے۔ لاہور سے کوئی دس بارہ اور پنجاب سے چالیس کے قریب لوگ مدعو تھے۔مزے کی بات کہ نیلم احمد بشیر کو ویزہ نہیں ملا ۔ ان کی والدہ مودی بشیر کو مل گیا۔ دوست اور وہ بھی نیلم جیسی کے ساتھ سفر کا اپنا ہی مزہ ۔سیماں بھی نہیں جارہی تھی۔سوچا کہ نہ جاؤں ۔ مگر نیلم کا اصرار ۔ امی جانا چاہتی ہے۔پلیز تم چلی جاؤ۔مجھے تسلی رہے گی۔‘‘تمہیں تسلی رہے گی اور میں کیا کروں گی ’’۔ میں ہنسی ۔ تم سیوا کرنا ماسی کی ۔سُنی نہیں وہ حدیث ماں نہ ہو تو ماسی کا دم غنیمت سمجھو ۔ اسکے انداز میں ہمیشہ والا لا اُبالی پن تھا۔
واہگہ بارڈر پر میں خوشی و مسرت اور دُکھ و تاسف کی دونوں کیفیات سے یکے بعد دیگرے دوچار ہوئی تھی۔نئی نکور لشکارے مارتی کسٹم امیگریشن کی عمارت دیکھ کر رگ رگ میں طمانیت و سرشاری کی لہروں نے رقص کیا تھا۔ جتنی بار بھی ہندوستان گئی پاکستانی کسٹم کی پٹری واسوں جیسی عمارت نے تکلیف دی تھی۔چلو خدا کا شکر ہے۔ پر جونہی کرنسی ایکسچینج والوں نے سو کے بدلے 58روپے ہاتھوں میں تھمائے تو جیسے جھٹکا کھا کر تڑپنے والی بات تھی۔75سے58پر آگئے ہیں۔ ‘‘یا اللہ کہاں جارہے ہم’’دُکھ جیسے اندر ہی اندر کھولتے پانی کی طرح پیچ و تاب کھارہا تھا۔اٹاری بارڈر پر لوگ گاڑیاں اور گیندے کے ہار لیئے استقبال کو موجود تھے۔ڈھول والے بھی تھے۔ڈھول والوں کی صحبت میں آگے بڑھے ۔گاڑیوں میں بیٹھے اور پولیس کی چھتر چھاؤں میں سفر شروع ہوا۔
سردیوں کے دن تھے اور امر تسر کی سڑک کے دونوں اطراف میں گندم کے کھیتوں نے تا حد نظر گویا سرسبز قالین بچھا رکھے ہوں۔دل نے تسلی دی گھبراؤ نہیں خوش ہونا سیکھو۔تمہاری طرف بھی ایسے ہی لش پش ہوگی۔
خفت کا سا احساس ہوا۔ کیا کریں۔ہندوستان سے مقابلے بازی نہیں جاتی ۔
قیام یرار ہوسٹل میں ہوا ۔ جو خالصہ کالج اور پبلک سکول کے بالمقابل امر تسر کی ایک مضافاتی کالونی میں تھا۔
ہوسٹل کے ٹھنڈے کمرے میں اور آنٹی ایک کمرے میں ۔کمبل تھے اور رضائیاں بھی ۔مگر ٹھٹھرنے والی بات تھی۔ہم لوگ ہیٹروں کے عادی ہیں۔ سردی کو ماننے زیادہ لگے تھے تاہم یہ بھی بات تھی کہ بوڑھے ہو رہے تھے اور بڑھاپے میں سردی گرمی دونوں زیادہ محسوس ہوتی ہیں۔ خدا جانے میزبانوں
کے پروگرام کیا تھے۔عفت علوی سے پوچھا۔اُس نے کندھے اُچکائے۔سر نفی میں ہلایا کہ ابھی تو وہ بھی کچھ نہیں جانتی ۔ سوچا دفع کرو انہیں۔چپکے سے اپنی سیر پر نکل چلو گولڈن ٹمپل بھی ابھی تک دیکھا نہیں۔گرنتھ صاحب کی بایناں موسیقی کے پروں پر سوار سارے میں بکھر کر فسوں کی سی کیفیت پیدا کرتی تھیں۔ ہری مندر کو جانے والے راستے پر اگر زائرین کی کثرت تھی تو واپسی کا راستہ بھی اٹا پڑا تھا۔ پانیوں پر تیرتے یہ راستے دل کش نظر آتے تھے۔بڑا فسوں خیزی والا ماحول تھا۔ ناشتہ چائے پراٹھے والا تھا۔ پراٹھا تو تھوڑا تھوڑا لیا ۔ ہاں چائے پی اور ہم دونوں نکل پڑیں ۔ سائیکل رکشے پر جیسے آنٹی کو بٹھایا گیا۔ اُس کا کریڈٹ مجھ سے زیادہ رکشے والے کو تھا کہ وہ منحنی سا ہونے کے باوجود اندر سے بڑا مظبوط تھا۔یا شاید تکنیکی مہارت حاصل کیئے ہوئے تھا۔ اُترائی بھی ایسے ہی ہو گئی ۔ ایک عظیم الشان عبادت گاہ ہمارے سامنے تھی۔گورونانک جیسی عظیم روحانی اور دینوی علم سے مالا مال ہستی کے پیروکاروں کا مرکز عبادت۔
موجودہ امر تسر زمانوں پہلے ایک گھنا جنگل تھا ایک بڑا تالاب بھی اسمیں تھا۔ روایت ہے کہ کہیں لارڈ بُدھا یہاں سے گزرے اور کچھ وقت یہاں ٹھہرے ۔ماحول دیکھ کر انہوں نے کہا یہ تو بدھ بھگشوؤں کے نروان کیلئے بہترین جگہ ہے۔ گورونانک بھی کچھ عرصہ یہاں رہے۔
کہہ لیجیئے کہ ایشا کی عبادت گاہوں وہی درگاہوں خانقاہوں ،والا مخصوص ماحول تھا ۔ امر تسر کے بازاری سلسلے دائیں بائیں پھیلے ہوئے تھے۔سویرے سویرے ہی زائرین کی کثرت نے میلے کا سا سماں پیدا کر رکھا تھا۔عبادت گاہ کی بڑی خوبی رضاکارانہ کام کرنے والوں کی بھی تھی۔صفائی ستھرائی انتہا درجے کی ۔جوتیاں رکھنے ،پرشاد کے برتنوں کی صفائی جیسے سب کام جذبو ں اور عقیدتوں کے مرہون منت تھے۔ ٹمپل میں داخلے سے قبل اُس شفاف بہتے پانی میں پاؤں دھونے پڑتے ہیں جو ایک اتھلے سے نالے کی صورت بہتا ہے۔گزرگاہ کے ساتھ ہی مرکز ہی سکھ میوزیم ہے۔جسے دیکھے بغیر ہم آگے بڑھ گئے تھے۔صبح خوشگوار
میٹھی سی سونے رنگی دھوپ ۔
ایک وسیع و عریض تالاب میں ہلکورے لیتا سبزی مائل پانی جسکے بیچوں بیچ کھڑی ایک حسین عمارت اور اسکے گنبد یوں لشکارے مارتے تھے کہ جیسے سارے میں سونا ہی سونا بکھرا ہوا ہو۔ اطراف میں دودھیا عمارتوں کے سلسلے پانیوں میں اپنے عکس چھوڑتے تھے۔ پورا ماحول ایک الوہی سکون اور تقدس کے رنگ میں ڈوبا پڑا تھا۔ پوجا پاٹھ کا عمل جاری تھا۔لوگوں میں نظم و ضبط تھا۔ سونے کے گنبد تکے گرنتھ پاٹھ کو تھوڑی دیر سنتے اور دوسری جانب سے نکل جاتے۔
میں نے آنٹی سے لنگر کھانے کا پوچھا۔میرا تو پراٹھا ابھی سینے پر دھرا ہے۔تھوڑا سا پرشاد کھا لیں گے۔
گولڈن ٹمپل میں اکال تخت کی عمارت بڑی اہم سمجھی جاتی ہے کہ یہاں ایک شاندار کنوبی جو ہیرے جواہرات سے سجی ہوئی ہے۔گرنتھ صاحب سکھو ں کی مذہبی کتاب اسی اکا ل تخت میں رکھی جاتی ہے۔جسے مہرزور منہ اندھیرے خوبصورت پالکی میں عقیدتوں اور محبتوں کے جلو میں یہاں لایا جاتا ہے۔شام کو اسی طرح سے اکال تخت لے جاتا ہے۔اِس رسم کا بھی دیکھنے سے تعلق ہے۔
گوروارجن سنگھ کے اس مندر کو ہری مندر کہا جاتا تھا۔ اب یہ گولڈن ٹمپل ہے۔
گولڈن ٹمپل پر لٹریچر پڑھتے ہوئے مجھے اِس مندر کی مخل حملہ آوروں کے ہاتھوں تباہی کی داستانوں نے ملول کیا۔پر بلیو سٹار آپریشن اور باہری مسجد کی شہادت جیسے واقعات کی یادوں نے تسلی دی کہ انسانی فطرت ایسی ہی خباثتوں والی ہے۔شہر میں لتھڑنے کیلئے مری جاتی ہے۔ اُ س فلسفے سے منکر ہو جاتی ہے جسکی مذاہب اُسے تعلیم دیتے ہیں۔
تو اب جلیا نوالہ باغ بھی دیکھنا ضروری تھا۔ امر تسر کے شہر میں آپ ہوں اور اِسے نہ دیکھیں کیسے ممکن ہے۔ آنٹی کچھ پس و پیش کی کیفیت میں تھیں ۔میں نے ہلا شیری دی تھیں۔ تاریخ بھی کیسی ظالم ہے۔دنوں ،ہفتوں ،سالوں چھوڑ گھنٹوں اور منٹوں کا بھی حساب رکھ لیتی ہے۔ واقعات اور شخصیات کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔اُسے کوئی غرض نہیں جنرل ڈائیر جیسا تھا۔دن توہ بہت خوبصورت تھا یا اسے خوفناک بھی کہا جاسکتا ہے۔
13اپریل 1919۔ کوئی مہربان تھا۔ ہمدرد اور غم گسار تھا۔ کوئی ظالم تھا۔ جابر تھا۔بیساکھی کا موسم تھا۔ خوشیوں بھرا ۔کسانوں نے اپنے پھڑولے بھر لیئے تھے اور کچھ بھرا رہے تھے۔ میلے ٹھیلوں کے رنگ آنکھوں میں روشن تھے۔ کیسے یہ رنگ بُجھے ۔ بڑی المناک داستان تھی جو جلیا نوالہ باغ کے درودیوار پر پھیلی ہوئی تھی۔
شہد ا کی یاد میں جلنے والے شعلے کو دیکھتے ہوئے ماحول پر نگاہ ڈالی۔دروازے کے ساتھ ہی بورڈوں پر تفصیلات درج تھیں۔اُنہیں پڑھا۔انڈین گورنمنٹ نے اُس جگہ ایک شاندار کالم بنایا ہے۔جہاں لوگوں کے ایک ہجوم نے آزادی کی جنگ لڑی ۔ اپنے حق کیلئے آواز بلند کی ۔ اپنے دیش کی غلامی پر احتجاجی آوازیں اُٹھائیں۔یہی ان پر گولی چلی تھی۔یہیں مظلوم لوگوں کا خون بہا تھا۔یہیں تاریخ بنی تھی جسے مجھ جیسی آج دیکھنے آئی تھی۔دو رویہ درختوں اور آہنی باڑھ میں سے گزر کر وہاں پہنچے۔ دیوار پر گولیوں کے نشانا ت دیکھے۔شہدا کا کنوئیں جسمیں چھلانگیں لگا دی تھیں۔آزادی کے رہنماؤں کی تصویرں شہدا گیلری میں سجی ہوئی تھیں۔ اُدھم سنگھ ،بھگت سنگھ جیسے جیالے یہی وہ ہیں جو مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔

وہ تو تھک کر لیٹ گئیں۔پر میں بے چین رُوح ۔ نہ لیٹ سکوں نہ کمرے کے یخ بستہ سے ماحول میں بیٹھ سکوں ۔وضعداری پاؤں پکڑے بیٹھی تھی۔گروپ کے لوگ میرے خیال میں کانفرنس میں تھے ۔ کھانے پینے کا بھی وہیں انتظام تھا۔ انہیں رضائی اوڑھا کر میں نے کچن میں جاکر چائے بنوائی انہیں پلائی اور پھر باہر نکلی۔
ہوسٹل سے نکلی تو مرکزی شاہراہ پر آگئی ۔ سامنے خالصہ کالج تھا۔ سرسبز لانوں اور قدیم گیروے رنگی عمارت کے سر پر کھڑا سجا سنورا آنکھوں کو کتنا بھلا لگا تھا۔ اندر گئی۔کسی نے روکا نہیں ٹوکا نہیں۔ آگے بڑھتی گئی ۔کمروں کو دیکھا ۔امرتسر کی خوشبو میں سانس کھینچتی رہی ۔پھر سڑک پر آکر آٹو رکشے پر بیٹھی۔یہ ہمارے ہاں کے چنگ چی جیسا ہی تھا۔آمنے سامنے چھ سواریوں والا ۔ سٹاپ پر رکنے سواریاں بٹھانے اور اتارنے والا ۔ایک نوجوان لڑکی ایک سٹاپ سے بیٹھی۔کسی ٹیوشن سینٹر پر پڑھنے جارہی تھی۔ آگے سٹاپ سے ایک نوجوان لڑکا سوار ہوا۔وہ لڑکی والی سائیڈ پر بیٹھ گیا۔میری آنکھوں میں جیسے سوکن کی سی آمکھ فٹ ہوگئی تھی۔دیکھوں تو سہی ہمسائیوں کے ہاں گھورنے اور چھیڑ خانیوں کی شرح کیا ہے؟مجال ہے جو اُس نے لڑکی پر ٹوٹی پھوٹی بھی نگاہ ڈالی ہو ۔دو سٹاپ بعد لڑکا اُتر گیا اور وہاں سے مزید دو فرد ایک لڑکا اور ایک مرد بیٹھے۔عجب بات تھی انہوں نے بھی ہم دونوں کو قطعی توجہ کے قابل نہ سمجھا۔ لڑکی اُتری ۔بس ریلوے اسٹیشن تک یہی سلسلہ چلا۔بڑی رجی پجی نظریں ہیں ہمسائیوں کے چھوکروں اور مردوں کی ۔کہنے کو ہم مسلمان ہیں جنکا مذہب مردوں کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے۔مگر ہمارے مردوں کی آنکھوں کا اگر پتا چلے تو وہ صنف نازک کو سمو لچا نگل جائیں۔
مجھے اب یا د نہیں کہ وہ کونسی جگہ تھی جہاں میں اُتری ۔ بہت بڑی عوامی مارکیٹ ۔لنڈا زوروں پر ۔ گول گپے اور دہی بھلے والی ریڈیوں پر رش ۔لنڈے کو دیکھتے ہی میری تو آنکھوں میں جیسے ستارے ناچ اٹھے ۔ کئی ریڑیوں پر ٹہری ۔ کئی دوکانوں میں گُھسی ۔ لنڈے نے جب مجھے رجا دیا ۔پھر میں پاپڑیاں والے دہی بھلے کھائے۔حغظان صحت کے اصولوں کو لعنت بھیجو دفع کرو جیسے خطابو ں سے نوازا ۔زمانوں سے امر تسر کو دیکھنے اُسکی ہواؤں کو سونگھنے اسکے نظاروں کو لوٹنے کیلئے بے تاب تھی۔اب یہ پاپڑیوں والے دھی بھلے بھی نہ کھاؤں۔ کچھ نہیں ہوتا۔ ہم کو نسا ہائی فائی قسم کے لوگ ہیں۔ساری عمر گند بلا ہی کھاتے رہے ہیں۔وہاں ایک مندر میں گئی ۔ کچھ وقت وہاں گزارا ۔
مغرب کے وقت واپسی ہوئی۔
اگلے دن صبح کا سیشن اٹینڈ کیا ۔اور شام کو پرانے امر تسر کے گلی گوچوں میں گھومتی اور اے حمیدمنٹو اور عطاالحق کو یاد کرتی رہی کہ اُنکے گھر کہاں تھے؟
تیسر دن ہم نے مدھو کے گھر گزارا۔ریلوائی میں ملازم مدھو اسکا شوہر اسکے دو بچے جنہوں نے ہندو ہونے کے باوجود ہمیں چکن کڑاھی کھلائی اور خود بھی کھائی ۔اگلے دن میں نے اور آنٹی نے میزبانوں سے اجا زت لیکر واپسی کی ۔مدھو نے کسی کی گاڑی میں ہمیں اٹاری تک ڈراپ کیا۔مدھو جیسے محبت کرنے والے لوگ جب بھی یاد آتے ہیں۔ آنکھیں بھگودیتے ہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں