انسان ہزاروں سالوں سے زمین پر بس رہا ہے لیکن جمہوریت چند سو سال سے ہی کچھ معاشروں میں پنپ سکی ہے۔ اب بھی اکثر معاشرے غیر جمہوری ہیں، اگرچہ ان میں انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔ جن معاشروں میں جمہوریت آئی ہے ان میں اس سے پہلے علمی ماحول آیا ہے۔ سائنس اور دوسرے علوم پر کتابیں لکھنے اور ان پر یونیورسٹیوں کے علاوہ ہوٹلوں اور چائے خانوں تک میں عمومی مباحثے ہونے کا رواج پیدا ہوا ہے۔ فضولیات میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کائنات کو سمجھنے پر تبادلۂ خیال اور علمی تحقیق کا ذوق پیدا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت کا عقل سے گہرا تعلق ہے۔ جمہوریت تب ممکن ہوئی جب چھاپہ خانے کی ایجاد کے بعد عام لوگوں کیلئے تعلیم حاصل کرنا اور خود سے سوچنا ممکن ہوا۔ مغربی ممالک میں بھی پہلے لوگ ہماری طرح نسل در نسل چلتے آئے رسوم و رواج کے مطابق سوچتے اور عمل کرتے تھے۔ عوام کے اذہان بہت محدود ہوتے تھے۔ جمہوریت اصل میں عقلمندوں کے آپس میں مشورے سے مشترکہ مسائل کا حل نکالنے اور خطرات کا مقابلہ کرنے کا نام ہے۔ معاشرے میں عقلمندوں کی تعداد زیادہ ہو تبھی ایسا ممکن ہے۔ بصورت دیگر جلسے جلوس صرف مریدوں کے جتھے بنانے کا کام کریں گے اور ریوڑ صرف تباہی مچا سکتا ہے۔ مسائل کا حل یا خطرات سے مقابلہ کرنا جذباتی اور بے عقل لوگوں کا کام نہیں ہوتا۔
عقل کیا ہے؟
عقل کے بارے میں سب سے فصیح و بلیغ بات قرآن میں آئی ہے۔ سورہ زمر میں ہم پڑھتے ہیں:
فَبَشِّرْ عِبَادِ● الْذِینَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ اَحْسَنَہٗ اُولٰٓئِکَ الَّذِینَ ہَدَاہُمُ اللّٰہُ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمْ أُولُوا الْأَلْبابِ● (سورہ زمر، آیات 17، 18۔)
ترجمہ: ”میرے ان بندوں کو بشارت دے دو، جو باتوں کو غور سے سنتے ہیں اور ان میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے اور یہی عقل مند ہیں۔“
گویا عقل وہ صلاحیت ہے جس سے انسان مختلف باتوں میں سے بہتر کا انتخاب کرتا ہے۔ یہ تجربے اور مطالعے سے بڑھتی ہے۔ جمہوریت کے فلسفی کانٹ نے کہا ہے:
”روشن خیالی، انسانیت کا خود اپنے آپ پر مسلط کردہ بچپنے (self-incurred immaturity) سے جان چھڑوانا ہے۔ کسی دوسرے کی رہنمائی کے بغیر اپنی تفہیم کو بروئے کار لانے کی اہلیت کا نہ ہونا ہی بچپنا ہے ۔ اس نااہلی کی بنیادیں اگر سمجھ بوجھ میں کمی کی بجائے ارادے سے محرومی اور کسی دوسرے کی رہنمائی کے بغیر اپنے ارادے کو بروئے کار نہ لا سکنے پر استوار ہوں تو یہ ایک ناپسندیدہ شے ہے۔ سوچنے کی ہمت کرو! اپنے ذاتی فہم کو استعمال کرنے کی جرات کرو! بس یہی روشن خیالی کا دستور العمل (ماٹو)ہے۔ کاہلی اور بزدلی کی بدولت انسانیت کا بیشتر حصہ ہنوز بچپنے کی حالت میں زندگی بسر کرنے پہ خوش ہے اور اسی سبب دوسروں کے لیے خود کو ان کا سرپرست بنا لینا سہل ہے حالانکہ فطرت نے عرصہ دراز سے ان کو دوسروں کی رہنمائی سے چھٹکارا دلوا دیا ہے۔“
ظاہر ہے کہ اپنی فکر سے کام لینے والوں سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں، لیکن وہ ان کی اصلاح کر لیتے ہیں۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ عقلمند تر ہوتے جاتے ہیں۔ تفسیرِ نمونہ میں اس آیت کے ذیل میں آیا ہے:
”یہ آیت ایسے لوگوں کو جو ہر بات کو بغیر کسی قید و شرط کے قبول کر لیتے ہیں اولو الالباب اور ہدایت یافتہ افراد شمار نہیں کرتی۔ ان کی مثال ان بھیڑوں کی سی ہے جو کسی سبزہ زار میں چرتے وقت کوئی تحقیق نہیں کرتیں۔ آیت ان دو اوصاف کو ایسے لوگوں کے ساتھ مخصوص کرتی ہے جو نہ تو بے قید و شرط تسلیم کے افراط میں گرفتار ہیں اور نہ ہی خشک اور جاہلانہ تعصبات کی تفریط میں۔“
قرآن میں جگہ جگہ عقل کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔ حتی کہ یہ کہا گیا ہے کہ:
وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ● (سورہ یونس، آیت 100۔)
ترجمہ: ”جو لوگ عقل استعمال نہیں کرتے ان پر نجاست طاری کر دی جاتی ہے۔“
ماضی میں کاغذ کے عام اور سستا نہ ہونے کی بدولت کتابیں عام لوگوں کی پہنچ سے دور تھیں۔ لہٰذا مسلمان معاشروں میں بھی قرآن کو پڑھنے کا رواج نہیں تھا۔ شہر میں اکا دکا ہی پڑھے لکھے ہوتے تھے اور دیہاتوں میں تو سب لوگ ہی ان پڑھ ہوتے تھے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کی ابتداء میں تو حریتِ فکر اور تنقیدی سوچ (critical thinking) کے مظاہر ملتے ہیں لیکن جب بہت تیزی سے فتوحات ہوئیں اور صرف نماز روزے والے مسلمان زیادہ ہو گئے تو یہ ذہنیت ماند پڑ گئی۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ خوارج جیسے نامعقول لوگ پیدا ہونے لگے۔ انہوں نے اسلام سے عبادات تو سیکھی تھیں لیکن عقل کو استعمال کر کے فکری استقلال پیدا کرنا نہیں سیکھا تھا۔ یہی فکری استقلال وہ چیز ہے جسے علامہ اقبال خودی سے تعبیر کرتے ہیں۔ خودی سے مراد ہٹ دھرمی نہیں بلکہ روشن فکری ہے۔ جس میں خودی ہو وہ سنی سنائی باتوں پر نہیں چلتا۔ چنانچہ حضرت علی ؑ فرماتے ہیں:
اَلا وَ اِنَّ اللَّبيبَ مَنِ اسْتَقْبَلَ وُجوهَ الاْآراءِ بِفِكْرٍ صائِبٍ وَ نَظَرٍ فِى الْعَواقِبِ● (غرر الحکم)
ترجمہ: ”جان لو کہ عقلمند وہ ہے جو مختلف آراء کا صحیح سوچ کے ساتھ استقبال کرتا ہے اور کچھ کرنے سے پہلے اس کے نتائج پر غور کر لیتا ہے۔“
حضرت عمرؓ کا واقعہ
حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے قریش کے کچھ لوگوں سے کہا:
”مجھے خبر ملی ہے کہ تم لوگ مجلسیں برپا کرتے ہو، لیکن اس طرح کہ دو آدمی بھی ایک جگہ بیٹھیں تو ایک دوسرے کا تعارف اس طرح پوچھتے ہیں کہ: تم فلاں کے ساتھیوں میں سے ہو؟ اور فلاں کے ہم نشینوں میں سے ہو؟ یہاں تک کہ مجلسیں (خاص طرح کا تعلق رکھنے والوں کے لیے) مخصوص کر دی گئی ہیں۔ خدا کی قسم! یہ بات تمہارے دین پر برا اثر ڈالے گی، تمہاری عزت میں خلل کا موجب ہوگی، اور تمہاری باہمی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچائے گی۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ (بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچے گی کہ آرا اور خیالات کی بنیاد پر بھی مسلمان تقسیم ہونے لگیں گے اور) تمہارے بعد آنے والے کہیں گے: یہ فلاں کا نظریہ ہے (اور یہ فلاں کا)۔ لوگ اسلام کو ٹکڑوں میں بانٹ دیں گے۔ پس اپنی مجلسوں کو آپس میں عام رکھو، اور (ہر طرح کے خیالات رکھنے والے) اکٹھے بیٹھا کرو، کیونکہ یہ تمہاری الفت کو زیادہ پائیدار بنائے گا اور لوگوں کی نگاہ میں تمہیں زیادہ باوقار بنائے گا۔“ (تاریخ الطبری ج ۴ ص ۲۱۳، ترجمہ: مولانا عمار خان ناصر )
یورپ کے چار تاریک ادوار
یورپ کا تاریک دور صرف وہی نہیں جب پادری کسی کو بولنے نہیں دیتے تھے۔ بلکہ وہاں روشن فکری کا چراغ کئی مرتبہ بجھا ہے۔ مغرب میں پہلا تاریک دور قرون وسطی کو کہا جاتا ہے۔ دوسرا تاریک دور انقلاب فرانس کے فوری بعد کا زمانہ ہے جب بادشاہت ختم ہونے کے بعد جتھے گھومنے لگے۔ لوگوں کو آزادی کے ساتھ جڑی ذمہ داری کو سنبھالنا نہ آیا۔ کبھی کسی شخص کی گردن ماری دی جاتی تو کبھی کسی اور کی گردن اڑا دی جاتی۔ پھر نپولین نامی جرنیل کو حکومت سونپی گئی تاکہ نظم و ضبط قائم ہو۔ فرانس نے پڑوسیوں پر حملے شروع کر دیئے۔ پڑوسیوں کو فرانس سے لڑنا پڑا اور نپولین کی شکست کے بعد دوسرے تاریک دور کا خاتمہ ہوا۔ پھر اہل فکر و نظر نے جمہوریت کی داغ بیل ڈالی۔ تیسرا تاریک دور بیسویں صدی میں شروع ہوا۔ لاؤڈ سپیکر اور ریڈیو کی ایجاد نے مقررین کو عوام کے بڑے اجتماعات سے خطاب کی سہولت فراہم کی تو لوگ لیڈروں کی گفتگو کے سحر میں عقل کھو بیٹھے۔ اس کا نتیجہ جنگ عظیم دوم کی شکل میں آیا اور اس تاریکی نے یورپ کی دنیا پر حکمرانی کو ختم کر دیا۔ امریکہ اور روس نے اس کی جگہ لی۔ چوتھا تاریک دور اب شروع ہو رہا ہے جس میں سوشل میڈیا کی مدد سے نفرت پھیلا کر لوگوں کو دوسروں کی بات سننے اور ان کا موقف جاننے سے باز رکھا جا رہا ہے۔ وہ ڈربوں میں بند ہو رہے ہیں۔ جمہوریت ہر اس وقت خطرے میں ہوتی ہے جب عقل خطرے میں ہوتی ہے۔ یہ کوئی کنکریٹ سے بنی عمارت نہیں بلکہ عوام کے دماغوں میں پائی جانے والی سوچ ہے۔ جمہوریت کوئی نظام نہیں بلکہ یہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق باہمی مشورے سے معاشرتی قوانین اور نظام کو بدل سکنے کی صلاحیت ہے۔
جدید دور میں جمہوریت کو خطرہ
جدید دور میں سوشل میڈیا کی وجہ سے نوجوان نسل کا وقت فضولیات میں ضائع ہو رہا ہے۔ سنجیدہ کتابیں پڑھنے کا رجحان پہلے سے بھی کم ہے۔ مسلمان معاشروں میں پہلے بھی کتب خوانی کم رہی ہے۔ یہ علمی پسماندگی اور عوامی تعلیم نہ ہونا ہی تھا جس کی وجہ سے ہم مغربی اقوام کے غلام بنے تھے۔ اب رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے نکال دی ہے۔ عقل کے زوال سے بڑا خطرہ جمہوریت کیلئے کوئی اور نہیں ہے۔ دنیا بھر میں یہ کام ہو رہا ہے۔ اسی لئے تشدد بڑھ رہا ہے۔ انسان بڑے پیمانے پر قتل ہو رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اخلاقی صفات بھی اسی شخص میں پیدا ہوتی ہیں جو خود سے سوچ سکتا ہے۔ احمق شخص انجانے میں برائی کرتا ہے۔ اچھائی کرنے کیلئے علم اور عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقل نہ ہو تو انسان بندر کا بھائی بن جاتا ہے، چمپنزی کی طرح شہوت اور غضب کے درمیان ہی گھومتا رہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں شوشل میڈیا پر یا تو شہوانی چیزیں گردش کر رہی ہوتی ہیں یا پھر گالم گلوچ اور غصے کا اظہار ہو رہا ہوتا ہے۔ اس معاملے پر انگریزی میں کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں کہ سوشل میڈیا روشن خیالی کے زوال کا سبب بن رہا ہے۔
البتہ سوشل میڈیا پر بعض لوگ تنقیدی سوچ بھی سیکھ رہے ہیں۔ جنہیں سکول میں اچھی تعلیم میسر نہ ہو وہ یوٹیوب پر کسی پروفیسر صاحب کا لیکچر سن کر تعلیم حاصل کر لیتے ہیں۔ انٹرنیٹ کا یہ استعمال جمہوریت اور امن کیلئے فائدہ مند ہے۔
پاکستان میں بھی جمہوریت نہ آنے کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں شروع سے تنقیدی سوچ نہیں سکھائی گئی۔ تعلیمی اداروں میں استاد صرف کمائی کرنے جاتے ہیں۔ چنانچہ ایسے ماحول میں سیاسی پارٹیاں مریدوں کے جتھے بناتی ہیں، کہ یہی ان کی بقا کی ضرورت ہے۔ انتخابات میں عوام کسی بحث و مباحثے کے بغیر ووٹ دیتے ہیں۔ چنانچہ کلٹ فالونگ عام ہے۔ شدت پسندی بہت زیادہ ہے۔ کوئی دوسرے کو سننا گوارا نہیں کرتا۔ اسلام کی بھی ایسی تشریح کر لی گئی ہے جس میں عقل کو دبایا جاتا ہے۔ ہر کوئی دوسروں کا لیڈر اور پیر و مرشد بننے کے چکر میں ہے۔ اب سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ حماقت اور جہالت ناچ رہی ہے۔ ہندوستان اور افغانستان سے مسلح گروہوں کو مدد مل رہی ہے جو ریاستی ڈھانچہ توڑ کر ایٹمی طاقت تک رسائی چاہتے ہیں۔ ان کیلئے انٹرنیٹ پر سادہ لوح پاکستانی نوجوانوں سے رابطہ کرنا اور ان کو بھرتی کر کے مروانا آسان ہو چکا ہے۔ سادہ لوحی اور بیوقوفی سے بڑی کوئی برائی نہیں۔ ایسے میں ملک ہائیرڈ نظام سے ہی چلے گا۔
البتہ انٹرنیٹ کے مثبت استعمال سے مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔ علمی ماحول بن سکتا ہے۔ ہم سب کو چاہئے کہ اس مشکل کام کا بیڑا اٹھائیں اور شہوت اور غصے کو بھڑکانے والی چیزوں سے ہر ممکن دور رہا کریں۔ مکمل پرہیز تو شاید ممکن نہ ہو، لیکن اپنی خودی کی حفاظت کریں۔ مستقل مزاجی پیدا کریں اور اپنی عقل اور فکر کی آزادی کی حفاظت کریں۔ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کیا کریں اور دوسروں کی غلطیوں سے بھی یہ سوچ کر درگزر کریں کہ کبھی ہم سے بھی غلطی ہوئی تھی۔
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں