• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بحران کی علامت یا انقلاب کی چنگاری؟ ایران کا احتجاج ایک نہج پر /عمر شاہد

بحران کی علامت یا انقلاب کی چنگاری؟ ایران کا احتجاج ایک نہج پر /عمر شاہد

تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ انقلاب اس وقت پھوٹتے ہیں جب جبر اپنے عروج پر ہو، بلکہ اس وقت جب حکمران طاقت اپنی کمزوری ظاہر کر دے۔ ایرانیوں کے لیے، وہ لمحہ اب آیا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ ایک تباہ کن 12 روزہ جنگ کے بعد جس نے ناقابل تسخیر ریاست کے اسطورے کو چکنا چور کر دیا، اور گرتی معیشت کا سامنا کرتے ہوئے، ریاست اپنی سب سے زیادہ کمزور حالت میں ہے۔ 2026 کا آغاز ایرانی ریاست کے لیے پراگندہ حالات کا ثبوت دیا جب معاشرے میں احتجاج کے نئے اور تازہ مناظر دیکھنے میں آئے۔ اس بار تاجر اور بیوپاری مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ احتجاج 28 دسمبر 2025 کو اس وقت بھڑکا جب ایرانی ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 14 لاکھ 50 ہزار کے ریکارڈ کم سطح پر پہنچ گیا۔ بڑھتی ہوئی افراط زر (تقریباً 50%)، خوراک کی بڑھتی قیمتیں، اور پانی و بجلی کی کٹوتی سمیت شدید توانائی کی قلت نے ابتدائی طور پر تہران کے گرینڈ بازار سے دکانداروں اور تاجروں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ ان کے اعلان کردہ مطالبات تھے: مستقل شرح تبادلہ، افراط زر پر قابو، قابل اعتماد اقتصادی سرگرمیاں اور بازار کے اتار چڑھاؤ سے ہونے والے نقصانات کا سدباب۔ شروع میں، احتجاج چھپانے کے عام طریقے کے برعکس سرکاری میڈیا آؤٹ لیٹس نے ان اجتماعات کو کور کیا اور احتجاج کرنے والوں کے چہرے دھندلاتے ہوئے، انہیں “صرف احتجاج” قرار دیا۔ یہ کام اسی ریاست نے کیا ہے جو ہمیشہ مزدور طبقے کے احتجاج کو فساد اور سازش کہتی رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ واضح ہے کہ یہ بازار روایتی طور پر ریاست کی سماجی بنیادوں میں سے ایک سمجھے جاتے رہے ہیں۔ جب یہ سطریں لکھی جا رہی ہیں، متعدد جامعات تک احتجاج پھیلنے کی اطلاعات ہیں۔ تہران یونیورسٹی، شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، خواجہ نصیر الدین طوسی یونیورسٹی، شہید بہشتی یونیورسٹی، امیرکبیر یونیورسٹی، طباطبائی یونیورسٹی، اصفہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور یزد یونیورسٹی کے طلبہ احتجاج میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہ احتجاج اب ایران کے مختلف حصوں میں پھیل چکا ہے، اس تحریک نے معاشرے کے اندر تضادات کو آزاد کر دیا ہے۔ اب طلبہ، عوام، خواتین اور معاشرے کے مختلف طبقات بھی ان احتجاجوں میں شامل ہو گئے ہیں۔

اپنے مرکز میں، یہ دو بالکل مختلف قسم کے احتجاج ہیں۔ دکاندار اور کاروباری افراد معاشی بحران سے بیزار تھے، لیکن ان کا مقصد نظام کو گرانا نہیں بلکہ اسے بچانا ہے۔ انہیں زندہ رہنے اور منافع کمانے کے لیے استحکام درکار تھا۔ دوسری جانب، احتجاج کرنے والے مزدور خود نظام میں بنیادی تبدیلی کے مطالبہ کر رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں، جب اکثریت معاشی دباؤ کے تحت جھکی ہوئی ہے، بازاروں کا احتجاج بھی حکمران نئے لبرل، رینٹیئر (کرائے پر مبنی) اور بدعنوان معیشت کے خلاف عام چیخ کا ایک حصہ ہے اور اسے بالکل غیر اہم نہیں سمجھنا چاہیے۔ دوسری طرف، ہمیں طبقاتی وہم میں نہیں پڑنا چاہیے۔ بازاروں کے مفادات مزدوروں اور نچلے طبقات کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں تھے اور نہیں ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ حکومت سے وابستہ پیشہ ورانہ تنظیموں کی تحریک نے احتجاج کے راستے کو کنٹرول اور محدود کرنے کی کوشش کی۔ یہ واضح ہونا چاہیے کہ مزدور طبقے کو کسی ایک دھڑے کی حمایت کر کے اس تقسیم سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ یہ دھڑے خود سرمایہ دارانہ نظام کو بحال کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ جیسے ہی بورژوازی کی یہ پرت اپنے مفادات حاصل کر لے گی، یہ عوامی تحریک سے غداری کرے گی اور ایک بار پھر استحصالی ریاست سے سمجھوتہ کر لے گی۔ تاریخی طور پر، ہم نے 1979 کے انقلاب میں بھی یہی چیز دیکھی تھی۔ اگرچہ جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، تاجروں کا احتجاج زیادہ تر حکومت کو ایک کنٹرول شدہ، مخصوص انتباہ ہے۔ ان کا پیغام بنیادی طور پر یہ تھا: “اسے ٹھیک کرو، ورنہ ہم تباہ ہو جائیں گے۔” یہ انقلاب سے کم اور ریاست کی حمایت کرنے والے گروہ کی جانب سے ایک سخت انتباہ زیادہ تھا۔ حکومت کے رد عمل نے اسے ثابت کر دیا۔ انہوں نے فوری طور پر مرکزی بینک کے سربراہ کو برطرف کر دیا اور بازاروں کو پرسکون کرنے کے لیے انقلابی گارڈز کو میدان میں اتارا جو صورتحال کو منظم کرنے کے لیے کوشش کر رہے تھے. یہ پچھلے احتجاجوں سے مختلف تھا جو براہ راست ریاست کی بنیادوں کو للکارتے تھے۔ 2004 کے احتجاج میں موجودہ قوانین کے اندر بہتر انتظام چاہتے تھے. اگرچہ اگر ان کے مطالبات مسلسل نظرانداز ہوتے رہے تو یہ بدل سکتا ہے۔

ایرانی حکمران ریاست کے اندرونی تضادات اپنے عروج پر ہیں۔ ایک طرف، صدر مسعود پزشکیان کہتے ہیں کہ وزیر داخلہ کو احتجاج کرنے والوں کے مطالبات سننے چاہئیں۔ دوسری طرف، سپریم لیڈر سے وابستہ ادارے (جیسے تسنیم) اور دیگر حلقے عوامی احتجاج کو ‘دشمنوں کی سازش’ قرار دے رہے ہیں۔ یہ تضاد اس بات کی علامت ہے کہ حکمران طبقاتی اتحاد میں گہری دراڑ پڑ گئی ہے۔ تاہم، یہ دراڑ صرف اس لیے موجود ہے کیونکہ حکمران اشرافیہ کے مختلف حصے اپنی طاقت کو کیسے برقرار رکھنا ہے اس پر حکمت عملی بنا رہے ہیں۔ ان کا حقیقی مقصد مزدور طبقے کے استحصال پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کو برقرار رکھنا ہے۔ ہر احتجاج یکساں نہیں ہوتا؛ اس کے معنی اور مقصد کا تعین اس میں شامل طبقات کے مفادات سے ہوتا ہے۔ موجودہ احتجاج کو سمجھنے کے لیے اس تناظر میں کچھ ماضی کے احتجاج کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں کچھ نکات درج ذیل ہیں:

1۔ 2017 کے مزدوروں کے اور 2019 کے احتجاج: یہ احتجاج مزدور طبقے اور محروموں کے غصے کا اظہار تھے، جو بنیادی معاشی مطالبات سے شروع ہوئے اور اسلامی جمہوریہ نظام کے مکمل خاتمے کے مطالبے تک پہنچ گئے۔ یہ تحریکیں بنیادی طور پر ترقی پسند اور انقلابی تھیں۔

2۔ 2022 کی “زن، زندگی، آزادی” تحریک: یہ بنیادی طور پر خواتین اور نوجوانوں کی انفرادی آزادیوں اور صنفی مساوات کے لیے جدوجہد تھی۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری مزدور طبقے کے ساتھ منظم روابط کا فقدان تھا، جس نے اس کے اثر کو محدود کر دیا۔ مزید برآں، اسے دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں (بادشاہت پسندوں سمیت) کے ہاتھوں اغوا ہونے کا خطرہ لاحق تھا۔

3۔ 2025 کے احتجاج: تاجروں اور دکانداروں کے یہ احتجاج بنیادی طور پر موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر اپنے کاروباروں کے تحفظ کے لیے معاشی استحکام کے مطالبات تھے۔ اگرچہ یہ احتجاج بھی حکومت کے خلاف ہیں، لیکن ان کا مقصد نظام کو گرانا نہیں بلکہ اس کے اندر اصلاحات کا طالب ہے۔ لہٰذا، ان کا مقصد اور طبقاتی بنیاد مزدوروں کے احتجاج سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔

کچھ فرقہ پرست بائیں بازو کے لوگ ہر احتجاج کو بغیر کسی طبقاتی تجزیے کے ‘مقدس’ سمجھتے ہیں۔ تاہم، ہر احتجاج کا جائزہ یہ دیکھنے کے لیے لیا جانا چاہیے کہ اس کا مقصد کیا ہے اور یہ کس طبقے کے مفادات کی نمائندگی کرتا ہے۔ محض احتجاج کرنا اسے خود بخود ترقی پسند یا انقلابی نہیں بنا دیتا۔ مغربی میڈیا اکثر کسی بھی ایرانی احتجاج کو آنے والے انقلاب کی چنگاری کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ کچھ حلقے زمینی حقائق کو دیکھے بغیر اس لمحے میں بہہ جاتے ہیں۔ کچھ بائیں بازو کے حلقوں میں ایک قسم کا رومانوی، “انقلاب برائے انقلاب” کا احساس پایا جاتا ہے، لیکن اس میں حقیقی طبقاتی بنیادوں پر حکمت عملی کا فقدان ہے۔ حالیہ احتجاج کی مثال لیجیے۔ کچھ مبصرین صرف سڑکوں پر لوگوں کی بہادری پر توجہ مرکوز کرتے رہے، یہ نظرانداز کرتے ہوئے کہ منظم محنت کش کتنے کمزور تھے یا موجودہ مزدور تحریکوں کو بڑھتے ہوئے دائیں بازو سے کتنا خطرہ یے۔ اسی طرح کچھ یونین کی کوششیں ایسا رویہ رکھتی ہیں جیسے بہتر اجرت ہی کافی ہو. یہ حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ معاشی جدوجہد فطری طور پر ایک جابر نظام کے خلاف سیاسی لڑائیاں ہیں۔ حکمران اشرافیہ میں تمام اختلافات کے باوجود مزدوروں اور احتجاج کو کچلنے ے میں متحد ہیں، لیکن ملک چلانے میں مکمل طور پر نااہل اور منتشر ہیں۔ اپنی تمام ظاہری شکل کے باوجود، اس کے تمام دھڑے سرمایہ دارانہ نظام اور آمریت کو برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔

julia rana solicitors london

سطح کے نیچے، ایرانی عوام کی گرجتی ہوئی پکار گلی کوچوں اور چھتوں سے گونج رہی ہے، یہ اس سڑی ہوئی مذہبی-بورژوا ریاست کے خلاف ایک بغاوت ہے۔ عوام اس وقت ایک تباہ کن معاشی بحران کے ہتھوڑے کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں، یہ بحران ان کا پیدا کردا نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ لوٹ اور سامراجی محکومیت کے سڑے ہوئے مرکز سے پیدا ہوا ہے۔ آزادی کی تڑپ کوئی تجریدی خواہش نہیں ہے بلکہ یہ ایک مادی قوت ہے جو کارخانوں، کلاس رومز اور غریب گھروں میں ڈھلی ہے۔ ہر احتجاج، پیشہ ورانہ گروہ کے انتباہ سے لے کر مزدور کے بغاوت تک تاریخ کی عظیم زنجیر میں یہ ایک کڑی ہے جسے کھینچا جا رہا ہے۔ ریاست کی حرکتیں کسی وزیر کی برطرفی، اپنے گارڈز کی تعیناتی وغیرہ ڈوبتے ہوئے جہاز کی ڈیک کرسیوں کو دوبارہ ترتیب دینے کی مایوسانہ کوششیں ہیں۔ مزدور طبقہ، نوجوان، اور ایران کی مظلوم خواتین اس نظام کے قبر کھودنے والے ہیں۔ روٹی، عزت، زندگی کی ان کی جدوجہد فطری طور پر طاقت کے لیے سیاسی جدوجہد ہے۔ جابر ڈھانچے کو مکمل انقلابی طور پر اکھاڑ پھینکے بغیر ملا اور ان کو سہارا دینے والے سرمایہ داروں کے ریاستی مشینری کو توڑے بغیر کوئی حقیقی “بہتری” ممکن نہیں ہے۔ اس تناظر میں ایک اہم سوال ابھرتا ہے: کیا ایران میں ایک ترقی پسند، آزاد، اور طبقاتی بنیادوں پر متبادل تعمیر کرنا ممکن ہے جو نہ تو موجودہ آمرانہ ریاست کو قبول کرے اور نہ ہی کسی غیر ملکی جارح طاقت کا آلہ کار بنے؟ اس سوال کا جواب ہاں میں ہے، کیونکہ ایرانی مزدور طبقے میں اس ریاست کو اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت موجود ہے اور تاہم کمزور مگر مختلف گروہ ایسے متبادل کی تعمیر کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ صرف مزدور طبقے کی منظم طاقت اور دیگر آزاد سماجی تحریکوں پر بھروسہ کر کے ہی ممکن ہے۔ حقیقی انقلابی تبدیلی تب ہی ممکن ہے جب، مزدور طبقے کی قیادت میں، مزدوروں، محروموں، خواتین اور دیگر مظلوم گروہوں کی تحریکیں ایک منظم، طبقاتی باشعور پروگرام کے تحت متحد ہو جائیں جو سیاسی آزادی، سماجی انصاف، اور قومی خودمختاری کی ضمانت دیتا ہو۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply