عشق ۔۔۔اجمل صدیقی

لفاظی
مغالطے ،مبالغے

طرازی
وسوے،ولولے

لذتوں کے ہجوم میں
ذلتوں کی دھوم میں
جبلتوں کے لزوم میں
وضاحتوں کے ابہام میں
چاہتوں کے الزام میں
اندیشوں کے الہام میں

لہجوں کی تھکن ہے
سپنوں کی چبھن ہے
سینوں کی جلن ہے

اظہار کی کشاکش ہے
اقرار کی خواہش ہے
اصرار کی کاہش ہے

سانس کے الاؤ میں
جسم کے کھچاؤ میں
خون کے بہاؤ میں

اَن سُنی آہٹیں ہیں
اَن کہی رکاوٹیں ہیں
درد بھری اکساہٹیں ہیں

کبھی رنگین حماقت ہے
کبھی سنگین مسافت ہے
کبھی حسین رفاقت ہے
بہت کچھ کہنے کی آرزو میں
کچھ بھی کہہ  نہ سکنا
کسی کے ساتھ رہنے کی آرزو میں
اپنے ساتھ بھی رہ نہ سکنا
لفاظی
مغالطے ، مبالغے ۔۔۔۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply