دنیا میں لکھاریوں کا دن منایا جا رہا ہے۔ پاکستان لکھاریوں کا دن بلکہ زندگی اصل میں پبلشر مناتے ہیں، اور کئی نسلوں تک مناتے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں اپنے شعبے کے سوا ہر چیز پر بات کرنے کا رواج← مزید پڑھیے
ہندوستان نے اپنے پنجاب اور جموں کی سرحد پر شاہ پور کنڈھی بیراج بنایا ہے اور پاکستان کے دریائے راوی میں آنے والا پانی بالکل روک دیا گیا ہے۔ اس بیراج کا سنگ بنیاد 30 سال پہلے نرسمہا راؤ نے← مزید پڑھیے
ہمارے معاشرے میں مایوسی کی باتیں کرنا جتنا آسان ہے، اُمید کی باتیں کرنا اُتنا ہی مشکل ہو گیا ہے۔ کئی دوستوں اور پڑھنے والوں نے انباکس میں بھی بارہا اِس کا مطالبہ یا فرمائش کی ہے کہ کچھ جیتنے← مزید پڑھیے
سی جی یُنگ کے مطابق ہمارے اندر قدیم دور سے کچھ گہرے نقوش کھدے ہوئے ہیں جنھیں اُس نے آرکی ٹائپس کا نام دیا۔ ہم اِن نقوش کے مطابق ہی عمل کرتے ہیں، مثلاً تولید اور بچوں کو پالنے کے← مزید پڑھیے
کچھ دوستوں نے سوال کیا اور پوچھا ہے کہ تاریخ پڑھنے سے کیا حاصل؟ اگر کوئی مزدور یا کلرک یا جسمانی محنت کرنے والا شخص تہذیب اور تاریخ یا تہذیب کی کہانی پڑھے تو اِس سے اُس کو کیا فائدہ← مزید پڑھیے
عمرانی عفریت ایک آئیڈیا ہے، وہ ایک بیمار خواب اور نظریاتی بساندھ ہے، وہ ہماری تاریک پرچھائیں ہے جسے ہم نے برسوں پال کر ہر طرف پھیلا دیا ہے۔ یوول نوح ہراری نے اپنی کتاب سیپیئنز میں جو چند ایک← مزید پڑھیے
تین چیزیں ایسی ہیں، جنھیں میں کبھی شروع سے آخر تک پورا نہیں پڑھ پایا۔ ایک ویٹنگ فار گوڈو، دوسری متھ آف سسیفس اور تیسرا فرانز کافکا کا ’’دی کاسل۔‘‘ مؤخر الذکر ناول 1997 میں ترجمہ کرنا شروع کیا اور← مزید پڑھیے
ہم کیوں لکھتے ہیں؟ اِس پر بہت سے بڑے بڑے لوگوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ لیکن لکھنا انسان کے اظہار کی ایک پائیدار صورت ہے۔ اِس کے ذریعے ہم بہت آسانی سے یہ بتا جاتے ہیں کہ ہم بھی← مزید پڑھیے
پنجابی زبان کے حق میں جلوس نکلتا ہے تو پچیس تیس لوگ سامنے آتے ہیں، پنجابی قوم پرست سوشلسٹ تنظیموں کے ساتھ مل کر مہنگائی کے خلاف کوئی احتجاج ریلی منعقد کرتے ہیں تو فی تنظیم ایک ایک دو دو← مزید پڑھیے
ہم وسطی پنجاب کے رہنے والے لوگ بلتستان سے لے کر جنوبی پنجاب، اور سندھ و بلوچستان کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے۔ شمالی علاقوں میں ہر سال لاکھوں لاہوریے اور گوجرانوالیے وغیرہ جاتے ہیں، مگر عموماً وہی چیزیں کھا← مزید پڑھیے
جب سرخ معبد والیاں بانس کے ڈنڈے ہاتھ میں لیے سڑک پر نکلتی ہیں تو سب کے سر احترام اور خوف سے جھک جاتے ہیں۔ کوئی غریدہ غرودہ ہمت بھی نہیں کرتی جا کر اُن سے بحث کرنے کی۔ بحث← مزید پڑھیے
چادر اور چار دیواری کا تقدس، آئین کی پاس داری، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت، مذہب میں انسانی حقوق، ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل، قانون کی بالادستی….. یہ سب بکواس جملے ہیں جو حکمران طبقے نے اخلاقی← مزید پڑھیے
کسی کانفرنس یا کلچرل ایونٹ کے متعلق مجموعی طور پر بات تبھی کی جا سکتی ہے جب آپ نے ساری کانفرنس اٹینڈ کی ہو۔ میں نے نہیں کی، صرف آخری روز چند گھنٹے کے لیے ہی گیا۔ مجھے یہ بات← مزید پڑھیے
انسانیت کی ڈکشنری میں محبت لفظ سب سے زیادہ مبہم ہے۔ اِس سے کچھ بھی مراد لی جا سکتی ہے، اور کچھ بھی منفی کیا جا سکتا ہے۔ آپ کو جانوروں یا مٹھائی یا قتل و غارت یا پھولوں اور← مزید پڑھیے
ہمارے ہاں، ترقی پسندوں اور روشن خیالوں نے بھی عموماً اپنے اپنے کچھ بابے پکڑے ہوئے ہیں۔ پنجابی قوم پرستوں کو اپنے صوفی شعرا عقل و خرد کا آخری پڑاؤ لگتے ہیں جن کا کہا اور لکھا ہوا یا فرضی← مزید پڑھیے
میں ایسے کسی شخص کو نہیں جانتا جس کو شکوہ ہو کہ احمد سلیم نے اُسے نقصان پہنچایا یا اُس کے ساتھ زیادتی کی۔ میں کسی ایسے شخص کو بھی جانتا جس سے احمد سلیم کو شکوہ نہ رہا ہو۔← مزید پڑھیے
سکندر کی فارس کے خلاف فتح ایک موزَیک میں دکھائی گئی جو جزواً ایک زلزلے میں تباہ ہونے کے باوجود دنیا کی عظیم ترین موزیک شمار ہوتی ہے۔ اس حصے میں سکندر کے وار سے ایک فارسی مر رہا ہے۔← مزید پڑھیے
اگر ہم گزشتہ پچیس صدیوں کے لیے ایک لائن بنا کر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر پچیس چھوٹے چھوٹے دائرے لگائیں تو گزشتہ ڈھائی ہزار سال کے متعلق اپنی معلومات کا چھوٹا سا خاکہ تیار کر سکتے ہیں۔ جس صدی کے← مزید پڑھیے
ہمارے ہاں سیکڑوں یونیورسٹیوں میں سائنس، فلسفہ اور نفسیات کے ہزاروں پی ایچ ڈیز پڑھاتے ہیں۔ اُن کے عہدے بڑے بڑے ہیں، اور دماغ بھی۔ لیکن اُنھیں معلوم ہے کہ کبھی کوئی ہلکی سی بھی اِدھر اُدھر کی بات کی،← مزید پڑھیے
ویٹیکن کی چھت پینٹنگ کا ایک شاہکار ہے جو مائیکل اینجلو نے سولہویں صدی کے آغاز میں پینٹ کی۔ کہتے ہیں کہ وہ ایک مچان پر لیٹ کر پینٹ کیا کرتا تھا، اور کئی سال کام کے بعد جب بھی← مزید پڑھیے