(ہراسانی کے اندوہناک واقعہ میں رکشے میں دونوں خواتین کے درمیان میں بیٹھی بچی کے منظوم تاثرات ) ماں ۔۔ ماں کون ہیں یہ ؟ کون ہیں یہ اور کیا چاہتے ہیں ہم نے انکا کیا بگاڑا ہے یہ کیوں← مزید پڑھیے
شہر کے اس معروف چوراہے میں اس قدر رش تھا کہ خود کو ڈھونڈنا بھی دشوار تھا۔۔میں یہی تو کر رہا تھا، خود کو ڈھونڈ رہا تھا، اپنا پرتو تلاش کر رہا تھا۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ میں اس شخص← مزید پڑھیے
دجلہ نے مجھے تھوڑا سا نہیں قدرے زیادہ مایوس کیا ہے۔میری زمانوں کی پالی ہوئی فینٹسی نے ہلکا سا نہیں ذرا زیادہ زور سے جھٹکا کھایا ہے۔ ”تو یہ دجلہ ہے۔“اندر کی بے کلی نکل کر باہر آگئی تھی۔ میرے← مزید پڑھیے
پانچ سے ایک زائد، چھٹا پانڈؤوں کا وہ فاضل برادر، جسے چھوڑ آئے تھے لاشوں کے انبار میں جو کہ کُنتی کی نادیدنی نال سے منسلک تھا ابھی-1 سائے سا اُن کے پیچھے رواں ہے ۔۔۔چھٹا پانچ کا زائدہ چھنگلی← مزید پڑھیے
اب اس بیری پر پتھر نہیں پڑتے کیوں ؟ کیوں کہ زمین بنجر ہوچکی ہے ۔ اب اس کی کوک بچے نہیں جن سکتی بہار کے انتظار میں چہروں پر جُھریاں آگئ ہیں اور دیکھو اس کی بانہیں خشک شاخوں← مزید پڑھیے
اب بھی ایسا ہوتاہے۔۔ کسی کونے میں بیٹھ کر ۔۔۔موبائل پہ، اسے دیکھنے ہی لگتی ہوں تو آواز آتی ہے “ماما، میری نیلی پینٹ کہاں ہے “؟ ایک پینٹ ڈھونڈنے نکلوں تو ایک سے جڑا ایک کام پکڑتے پکڑتے رات← مزید پڑھیے
سوال:آپ شاعر ہیں آپ اپنی تخلیقی صلاحیت کا سرچشمہ کہاں دیکھتے ہیں ؟ جواب: :سائنسی نقطہ نظر سے دیکھیں تو سے ابتدا کی جا سکتی ہے۔ میری ماں پنجابی میں اشلوک، دوہرے، دوہڑے، اور لوک شاعری کی دیگر اصناف میں← مزید پڑھیے
اُٹھ کر جو گیا پیر ِ حرف ِ گیر جہاں سے خلقت نے کہا، آج خزانہ ہوا خالی الفاظ کی دولت جو لٹاتا تھا یہ بخشی اک اشرفی کیا، ادھی ، ادھیلی نہ رہے گی الفاظ کا اندوختہ، نظموں کا← مزید پڑھیے
ریگستان صحرا کے شمال مغربی کنارے پر واقع بی بی جان کلا کی چھوٹی سی منڈی میں صبح سویرے سنگلاخ ٹیلوں پر مال سجا دیا جاتا۔ دور دراز سے آنے والے خریداروں کا ہجوم سارا دن موجود رہتا پھر بھی← مزید پڑھیے
جواب/آنـنـد: ’منزل مِن اللہ‘ ، ’توقیفی نصاب ‘ اور ’فنی ورزش‘ ان تین کلیدی اصطلاحات کے معانی سمجھنے کی کوشش کرنا میر ا فرض ہے۔(۱) منزل مِن اللہ تو شاعر کے الفاظ میں (شایدآتش)ؔ ؎ ہماری منزل اوّل جو تھی← مزید پڑھیے
بغداد کا نقشہ پوچھا۔نہیں تھا۔پرانے بغداد کیلئے رہنمائی چاہی۔ یہ کاظمین یا الکاظمیہAL.Kazimiaa ملحقہ حرّیہ (Huriya)آگے قدیم شہر یہیں وہ جگہ جہاں مدینتہ المنصورکی بنیاد رکھی گئی۔بس ذرا احتیاط۔ بغداد میں لاء اینڈ آرڈر کی صورت خاصی مایوس کن ہے۔شنوائی← مزید پڑھیے
دوستو: میں غالب کے کلیدی اشعار کو یورپی اور امریکی جامعات میں مستعمل طریق کارVirtual Textual Analysis کی رو سے منظوم تشریح و تفسیر و دید بافی کے عمل سے گذار رہا ہوں۔ اب تک تیس نظمیں ہو چکی ہیں۔← مزید پڑھیے
ایک لڑکا سر کے بل ایسے کھڑاہے نرم گیلی ریت پر، جیسے اسے آکاش کی اونچائی میں پانی سمندر کی اتھاہ گہرائی میں آکاش ساحل پر جمے لوگوں کے جمگھٹ سب کو اُلٹا دیکھنا ہے۔ ایک چوزہ، سر کٹا ،← مزید پڑھیے
بہاولنگر ریلوے اسٹیشن پر ریاست بہاول پور میں باقی رہ جانے والے ہندو اور سکھ مہاجرین کو ہندوستان پہنچانے والی ٹرین کا کچھ مقامی مسلمان شدت سے انتظار کر رہے تھے ان میں چند جوشیلے اور جذباتی افراد بہاولنگر کے← مزید پڑھیے
تماشا جاری تھا اور رنگا رنگ روشنیوں کی چکا چوند میں شعبدہ باز اپنے فن سے تماش بینوں کی آنکھیں خیرہ کر رہا تھا۔ یہ عجیب تماشا تھا۔برس ہا برس سے جاری اور نہ ختم ہونے والا۔یہ کہنا بجا ہوگا← مزید پڑھیے
بغداد کا پہلا وار ہی بڑا تیکھا اور کڑا تھا۔خوبصورت چہرے والے ٹیکسی ڈرائیور کو ایک صرف انگریزی کی شُدبُد نہیں تھی۔ باقی سب چویتیوں (ہوشیاریوں) اور سیاحوں کو ڈاج دینے کی چالاکیوں میں وہ اگر دس نمبریا نہیں تو← مزید پڑھیے
” بہ نوک ِ خار می رقصم” کہا اس نے “بہ نوک خار می رقصم” بڑے اندوہگیں لہجے میں دہرایا کہا میں نے ۔۔۔”یہ نوک ِ خار آخر کون سے افلاک پر پاؤں میں چُبھتی ہے؟ “کہ اس کمر ے← مزید پڑھیے
آج مجھے یہ معلوم کرکے رہنا ہے کہ مشرق کا کوئی شائستہ و مہذب شخص یعنی شریف زادہ آخر کب تک روز روزایک ہی گھسے پٹے سوال کا جواب کیسے دے سکتا ہے اور اس دوران وہ مسلسل معقول بھی← مزید پڑھیے
غربت نے اس کے کاندھے سے بستہ اتار کر مزدوری کا بوجھ لاد دیا بھوک نے ہاتھوں سے قلم چھین کر اوزار تھما دیے اور یوں شعور کو احتیاج نے آنکھ کھلنے سے پہلے ہی گلا گھونٹ کر مار دیا۔بھوکی← مزید پڑھیے
Reader’s Response Criticism (A dialogue) قاری (۱) مصنف ہی اگر مر کھپ چکا * ہو چار صدیاں پیشترتو اس کے تحریری متن کو کیسے سمجھے گا وہ قاری جو”زماں” میں پانچ چھ صدیاں “مکاں “میں پانچ چھ سو میل دوری← مزید پڑھیے