تیری رفتار ِ قلم ، جُنبش ِ بالِ جبریل ترا انداز ِ سخن شانہ ء زلف ِ ابہاؐم مقطع فخریہ یا شعر فقط اپنے لیے؟ جس سے ہو اپنی ، (فقط اپنی ) بڑائی مقصود خود ہی ہو اعلی تریں،← مزید پڑھیے
جھیل ہے پانی ہے پتے تیرتے ہیں عکس مٹ مَیلے ہیں پتوں کے کہ جو پانی میں جھُک کر اپنے چہرے دیکھتے ہیں دور مشر ق میں شفق پھولی ہوئی ہے اور اس کا جھلملاتا عکس مَٹ مَیلا نہیں ہے۔← مزید پڑھیے
مکان کی بوسیدگی کی گواہی اسکی رنگ و روغن سے عاری دیواریں ہی نہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار فرش بھی دے رہا تھا۔مزید برآں دیواروں کی دراڑیں یہاں موجود زندگی کے چہرے کی جھریاں نظر آتی تھیں۔مکان میں بے سروسامانی← مزید پڑھیے
آنند نے جب سچ اور جھوٹ کے بارے میں ان سے پوچھا، تو بولے تتھا گت سچ کی تختی پیشانی پر لٹکا کر تم کیا کر لو گے؟ جھوٹ کا تیر چلانے والے دور سے سچ کی تختی کو پہچان← مزید پڑھیے
سورج جب چمکنے لگتا ہے تو بڑی روشنی ہوتی ہے۔ دن چڑھ آتا ہے ، دھوپ پھیلتی ہے ، حدت ہوتی ہے، تپش ہوتی ہے، لیکن یہ پھیلی ہوئی گرمی جلاتی نہیں آگ نہیں لگاتی ۔ اور جب یہ روشنی← مزید پڑھیے
ایک مکالماتی نظم، جو قاری اساس تنقید کی تھیوری کو بآسانی سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ : (یہ نظم پہلے انگریزی میں تحریر کی گئی) قاری (1) مصنف ہی اگر مر کھپ چکا ہوپانچ صدیاں پیشتر تو *← مزید پڑھیے
(اپنی ایک ہندی نظم کا سیدھا اور سادہ اردو روپ) آٹھ سالہ طفل مجھ کو دم بخود سا دیکھتا ہے ’’واقعی؟ سچ مُچ ؟‘‘ وہ مجھ سے پوچھتا ہے ’’واقعی جب بھی کبھی تم طیش میں آتے ہو تو صبر← مزید پڑھیے
“تم دنیا کی سب سے خوبصورت عورت ہو ” اُس نے میری بات سنی , تھوڑا شرمائی, پھر گویا ہوئی۔۔ واقعی, سچ کہتے ہو ؟ میں نے کبھی غور نہیں کیا ہے “۔ “تمھارے میاں نے بھی تمھیں نہیں بتایا← مزید پڑھیے
میں چاہتا ہوں کہ ایک دن اپنےننھے بیٹے کے ننھے سائز کے بُوٹ پہنوں اور اس کی آنکھوں سے خود کو دیکھوں طوالتِ قد میں کتنا اونچا دکھائی دیتا ہوں؟ اس کا احساس اس کو اچھا ہے یا برا ہے؟← مزید پڑھیے
امید و ناامیدی کے بیچ کا وقت ایسا ہوتا ہے جسے گندھی ہوئی کچی مٹی چاک پر ،جسے نہیں معلوم وہ کل کو چاک پر چڑھ کر کیا روپ دھارے گی۔ ایسے لمحات جب خمیر لگ چکنے کے بعد دودھ← مزید پڑھیے
جہاں میں ٹھنڈے فرش پر بیٹھا تھا وہاں درجن بھر پاکستانی تھے۔ یہ ایک عارضی قید خانہ تھا جو ہوائی اڈے کی بیسمنٹ میں واقع تھا۔ اس وسیع ہال کے وسط میں چند کرسیاں تھیں جن پر سیاہ فام مرد← مزید پڑھیے
صلیب پر جڑی ہوئی ہتھیلیوں سے قطرہ قطرہ سارا خوں ٹپک گیا لہو چشیدہ کیل اپنے آہنی لبوں کو چاٹ چاٹ کر خوشی سے جیسے “زنگ رنگ” ہو گئے جو کیل دونوں پاؤں میں جڑے ہوئے تھے دور تک وہ← مزید پڑھیے
گھڑی شام کے چار بجا رہی تھی۔ اس چھوٹے سے ہال میں بیٹھے آٹھ گھنٹے بیت چکے تھے۔ صبح نو بجے جب مجھے اس ہال میں لایا گیا اس وقت دیگر ممالک کے آٹھ دس افراد یہاں موجود تھے۔ ان← مزید پڑھیے
کہا تھا اُس نے کہ چین میں چومتے نہیں ہیں کہا تھا میں نے کہ چومنا فطرتاً روا ہے کہا تھا اُس نے کہ ہونٹ اس کے چھوئے نہیں ہیں کسی نے اب تک کہا تھا میں نے یہ تجربہ← مزید پڑھیے
ایسے لوگ ہیں جو ماضی کے بارے غمگین و اداس یادیں رکھتے ہیں۔ایسے لوگوں کے عموما حال و مستقبل کے بارے میں بھی اسی طرح کے افسردہ کن تصورات ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں ماضی کے بارے جن کی← مزید پڑھیے
کسی نے کہا ہے شادی ایسا لڈو ہے جو کھائے وہ بھی پچھتائے جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے اس لیے کھا کر پچھتانا بہتر ہے۔ہمیں اس شخص کی عرصے سے تلاش ہے جس نے شادی کو لڈو جیسی خوش← مزید پڑھیے
روح تھی شاعر کی مجھ میں اور میں سُکڑا ہوا، سِمٹا ہوا اک جسم میں محبوس تھا، جو اغلباً اک مے گسار و شکوہ سنج و نالہ کش کے واسطے پیدا ہوا تھا شعر کہنے کی صلاحیت تو مالک سے← مزید پڑھیے
چند سال قبل روحانی ٹیکسٹ بک بورڈ بنا ہے، تاکہ نونہالانِ وطن کے لیے معیاری کتب شائع ہو سکیں اور نصابی کتب ایسے مواد پہ مشتمل ہوں جس سے بچوں کی اخروی زندگی بہتر ہو سکے۔ یہ دنیا تو عارضی← مزید پڑھیے
سخت گرمی تھی، اندھیرا گھُپ تھا اندر ہم فقط چھ سات ہی تھے ریل کےڈ ـبے میں، جس کی کھڑکیا ں سب بند تھیں ( کوشش بھی کی تھی ہم نے، پرکھلتی نہیں تھیں) سخت گرمی میں پسینہ پونچھتے کچھ← مزید پڑھیے
ہمارے ہاں جتنے بھی عاقل و بالغ نفوس ہیں، ان سب کو حکمت کا ہڑکا ہوتا ہے۔جب تک وہ اپنے صدری و پشتینی نسخہ جات آپ کے ساتھ شیئر نہ کرلیں ان پر ایک بے کلی سی چھائی رہتی ہے← مزید پڑھیے