حصّہ اوّل۔۔ہاں ابھی تو میں بھی ہوں کئی برس بیتے، تب لہو جسم کی نالیوں میں یوں دوڑتا تھا کہ نہ سرد ہوا کاٹنے کو آتی نہ ہی تپتی لو کے تھپیڑے محسوس ہوا کرتے تھے۔ تب ساری کائنات جوان← مزید پڑھیے
کردار ایک حسن تابندہ ہےروشن ہے ، قمرہے براق خود بھی روشن ہے ، جہاں کو بھی خیرہ کرتا ہے حسن سادہ ہو کہ ہو وضع میں تزئین آراء حسن تو حسن ہے، اس کا کوئی ثانی ہی نہیں کردار← مزید پڑھیے
اس چہرے کی سب تصویریں میں نے جو آغاز ِ جوانی میں دیکھی تھیں اب تک آنکھوں میں تازہ ہیں بھوری زلفیں، نیلی آنکھیں رخساروں کے خم،لبوں پر کھلتے پھولوں سی مسکانیں مغرب کی اک گوری محبوبہ کا چہرہ مغرب،← مزید پڑھیے
Mythun and YANG-YIN سلسلہ در سلسلہ یہ بُت اجنتا میں کھڑے ہیں اپنی تنہائی میں گُم، اپنے خیالوں میں بھٹکتے وقت کی اس بہتی رَو میں جانے کس دنیا سے چل کر آج تک ان کا سفر جاری رہا ہے← مزید پڑھیے
وہ روز ہمارے گھر آتی تھی، اور ہم سارے بچے مل کر چھپن چھپائی کھیلتے تھے۔ اس کے سنہرے چمکیلے بال اور نیلی آنکھیں سب بچوں میں اس کو منفرد بناتی تھیں۔ ہم سب بچے اس کی خوبصورتی سے احساس← مزید پڑھیے
شاعر کو مست کرتی ہے تعریفِ شعر امیر سو بوتلوں کا نشہ ہے اس واہ واہ میں لفظ کا نشہ بڑا ظالم ہوتا ہے۔ایک گھونٹ،ایک چسکی میں سو بوتلوں کا نشہ اسی میں دیکھا۔ یہ وہ واحد نشہ ہے جس← مزید پڑھیے
ناگ پھنی(کیکٹس) ناگ پھنی کے پھول بہت شوبھا دیتے ہیں لیکن ناگ پھنی کی سندرتا پر مرنے والو، سوچو اس کے اُٹھے ہوئے ہاتھوں پر بِچھی ہوئی آنکھوں کے پیچھے اس کی کانٹوں والی پلکیں اپنی چبھن کے زہر کی← مزید پڑھیے
عادل ریت پر لیٹا ہوا تھا، ایک دن کا پیاسا کئی دنوں سے بھوکا۔ اس کا جسم شاید بےجان ہو چکا تھا اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ کسی عضو کو ہلا سکے۔ ہر چند لمحات کے بعد وہ← مزید پڑھیے
میں بہت انٹروورٹ(introvert) ہوں دوست نہیں بنا پاتی۔ کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ اتنی طویل عمر میں میری دوستیں چھنگلی کی پوروں سے بھی کم ہیں۔ میرا ذہن پورا پیراگراف بولتا ہے اور منہ سے بمشکل ایک ٹھٹھرا← مزید پڑھیے
بھاپ سی اٹھتی ہے میرے ذہن کے تحت الثرا سے دھند کا محلول بادل الکحل کی نشہ آور گرم چادر سا مجھے چاروں طرف سے ڈھانپ کر للکارتا ہے ’’گہری نا بینائی کے عالم میں آنکھوں کے دیے بجھنے سے← مزید پڑھیے
بد صورت، مکروہ چڑیلوں کی مانند گلا پھاڑتی، بال نوچتی دھاڑیں مارتی، چھاتی پیٹتی باہر ایک غصیلی آندھی پتے، شاخیں، کوڑ کباڑ، کتابیں اپنے ساتھ اڑاتی مُردہ گِدھوں کے پنجوں سے جھٹک جھٹک کر زندہ حیوانوں سے ان کی جان← مزید پڑھیے
(ایک) پس منظر سانپ کے ڈسنے سے جب آنند نیلا پڑ گیا، تو بھکشوؤں نے ماتمی چادر سے اس کو ڈھک دیا تھا پھر یکا یک اُس نے آنکھیں کھول دیں تھیں اور واپس آ گیا تھا زندہ لوگوں کے← مزید پڑھیے
میرا فلیٹ ایک بہت ہی معروف و مصروف چوراہے کے بالمقابل ہے۔ ساتویں منزل پر ہونے کی وجہ سے دور دور تک کے نظارے دکھائی دیتے ہیں۔ ویسے دیکھنے کو ایسا کچھ خاص ہے نہیں، وہی بے ہنگم ٹریفک اور← مزید پڑھیے
اور پھر ایسے ہوا کہ بھیڑ ساری چھٹ گئی ۔۔۔ اور آخری بھکشو بھی’’گچھّامی‘‘ کا منتر جاپ کرتا لوٹ آیا اپنے کُش آسن پہ بیٹھے بُدھّ اپنی آتما کی آنکھ کھولے دھیان میں اگلے جنم کو دیکھنے میں محو تھے← مزید پڑھیے
رباعی کہنا تو کجا موزوں شعر کہنا بھی جوئے شیرِ لانے کے مترادف ہے۔ رباعی ایک ایسی صنفِ سخن ہے جس پر ہاتھ ڈالتے ہوئے بڑے بڑے اساتذہ کا کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ہم مکالمہ کے قارئین کے لیے رباعی← مزید پڑھیے
آج ماریا کچھ زیادہ ہی محبت سے بچوں کو سکول جانے کے لئے تیار کروا رہی تھی ۔ ناشتہ بھی ان کی پسند بنوایا اور لنچ بھی ان کا من چاہا ۔ ان کے بال بنانے کے دوران وہ بےاختیار← مزید پڑھیے
اور پھر جب میرے پیچھے اپنا پھاٹک بند کر کے اور اس پر ’’داخلہ ممنوع ہے” کے امتناعی حکم کا نوٹس لگا کر مجھ کو باہر برف زا موسم کی سردی میں اکیلا چھوڑ کر (اگلے پڑاؤ پر پہنچنے کے← مزید پڑھیے
رات کا تیسرا پہر شروع ہو چکا تھا جب پستول سے ہونے والے دو فائروں نے فضا میں قبرستان کا سکوت توڑا، گھر میں ثلاثہ اشجار پر رات بسر کرتے ہوئے پرندوں نے فائرنگ کی آواز سن کر اڑان بھر← مزید پڑھیے
’ٗٗقصّے سناتے رہو کہ لوگ شاید سوچ بچار کریں ۔‘‘ قال الملاٗرکوع ۱۱، الاعراف ۶، (القران) پہلا قصہ بارش ہے اور میں ویپنگ وِلّو کے ساتھ جُڑا بیٹھا ہوں ٹپ ٹپ اشک بہاتی وِلّو، اور میں، دونوں بچپن سے اک← مزید پڑھیے
ایک دوست نے اس آزاد نظم کو “مُو کش جراحی”۔۔(“بال توڑ”) کے طنزیہ خطاب سے نوازا۔ یک الف بیش نہیں صیقلِ آئینہ ہنوز چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا (نسخۂ حمیدیہ سے ماخوذ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یک الف ؟بیش← مزید پڑھیے