لڑکی تھی چھ سات برس کی دُبلی ، پتلی، اَدھ مریل سی پھٹا پرانا کُرتا پہنے اک میلی سی چادر اوڑھے سوکھے بالوں، پچکے گالوں بہتی ناک سے سوں سوں کرتی سڑک کے موڑ پہ دو کھمبوں کے بیچ میں← مزید پڑھیے
اسلام و علیکم ابو جی مجھے تو زندگی میں آ پ سے جنت کی خوشبو آ تی تھی،اب اگر یہ آ رہی ہے تومجھے پتا ہے آ پ وہاں ہیں اور اپنے امی ابو اور بھائیوں کے پاس بہت خوش← مزید پڑھیے
“ہر تین بندوں کیلئے ایک گلاس پانی کی منظوری ہوئی ہے” منادی کرنے والے کی آواز بستی کی ریتیلی گلیوں میں گونج رہی تھی اور صدیوں کی پیاسی بے کراں ریت کا ہر ذرہ سراب بن کر تصورات سے دل← مزید پڑھیے
“لویا دو،لیلن دو، پرانیاں جوتیاں دو، چھان بُورا دو”۔ سورج ابھی سوا نیزے پہ نہیں آیا تھا لیکن کرم دین اپنی پوری توانائی سے ایک خاص لَے میں یہ آواز لگا رہا تھا۔ یہ الفاظ اور کرم دین کا انداز← مزید پڑھیے
شام کا وقت ہونے کی وجہ سے رش قدرے زیادہ تھا لیکن اس کے باوجود بھی تانگہ آدھے گھنٹے میں مطلوبہ پتے پر یعنی شاہدرہ پہنچ گیا، صدیق نے تانگے سے اترتے ہی پندرہ روپے تانگے والے کو تھمائے اور← مزید پڑھیے
لندن میں یا اس کے قریب ہی اپنی یونیورسٹی (برٹش اوپن یونیورسٹی، ملٹن کینز) میں رہتے ہوئے تب تک ایک برس بیت چکا تھا۔ چچا ملک (ڈاکٹر ملک راج آنند) سے اس دوران میں دو بار ملاقات ہوئی۔چونکہ ان کے← مزید پڑھیے
وہ لڑکا اپنا بیشتر وقت بلند اور سرسبز و شاداب پہاڑوں کے دامن میں گزارتا۔اس کی بھیڑیں، جن کی تعداد سو تھی ،اس کی بانسری کے ہر راگ سے واقف تھیں، وہ بھیڑیں بانسری کے پُرسوز لے پر ناچتیں اور← مزید پڑھیے
تھانیدار کے سیکریٹری نے فون اٹھایا۔ ہیلو۔۔ جی ہماری مدد کریں ۔ ہمارے گاؤں پہ راشٹریہ سنگھ کے لوگ حملہ کرنے والے ہیں، وہ ہم کو مار ڈالیں گے، ہمارے مکان جلا دیں گے، ہماری فصل کو آگ لگا دیں← مزید پڑھیے
وہ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک پرانے کھنڈر میں ایک ٹھوٹی چھت کے نیچے ٹاٹ پر لیٹ گیا ۔ اسکا دوست اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔۔۔ “ایسے جیسے تمہارے ماتھے پر حشرات بھنبھنا رہے ہوں”۔۔ “تم میرے لئے← مزید پڑھیے
وقت بدل گیا تھا اور فنِ اداکاری اپنے عروج پر تھا۔ڈرامہ و فلم انڈسٹری سے منسلک کالجز دھڑا دھڑ اداکار پیدا کر رہے تھے اور روز بروز نئی فلموں، نئے ڈراموں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا ۔تفریح کے← مزید پڑھیے
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں “اے ریشمہ سن میری بات” ضحی کی اماں نے چھوٹی بیٹی کو آواز دی ۔ “جی اماں کیا ہے؟” اور وہ ضحی کے← مزید پڑھیے
اکادمی ادبیات کی چھپی ہوئی ضخیم کتاب ’’مزاحمتی ادب ۔اردو‘‘، شاید جناب ماجدؔ سرحدی کے توسط سے مجھ تک 1996 میں پہنچی تھی۔ اس کتاب کے مختصر پیش لفظ میں فخر زماں صاحب نے تحریر کیا تھا۔ ’’1977ء کا مارشل← مزید پڑھیے
لیکن چودھری صدیق وہ تیری نرینہ اولاد ہے، کیا تجھے یاد نہیں کہ تو نے اس کی پیدائش پر کیسی خوشیاں منائی تھیں، کیا یہ بھی تو بھول گیا کہ کتنی مَنتوں اور دعاؤں کے بعد ہمیں اولاد کی خوشی← مزید پڑھیے
یعنی کہ وہی بات ہوئی جس کا مجھے خدشہ تھا۔ پہلے تو آپ اقبال کے اس مقولے پر مضبوطی سے قائم تھے کہ ’’دل‘‘ اور ’’دماغ‘‘ میں کدورت کے امکان کے بارے میں سوچنا ہی غلط ہے۔ دل تو ایک← مزید پڑھیے
“ فیروز میں تمہارے ماں باپ دونوں کی جگہ ہوں۔ تم واحد میرا میکہ بھی ہو۔ بہت سوچ سمجھ کے اور تحقیق کر کے ہم نے یہ رشتہ تمہارے لئے فائنل کیا ہے۔ اب ہمارا میکہ، عزت اور وقار تمہارے← مزید پڑھیے
ویٹی کن سٹی o شاہی قلعے جیسی بلندو بالا پُرہیبت دیوار کے سائے میں چلتی سیکورٹی کے لام ڈور والے سلسلوں سے گزرتی لائن کے سلسلے اکتاہٹ کے ساتھ ساتھ دلچسپی لئیے ہوئے بھی تھے۔ o ڈریس کوڈ کی پابندی← مزید پڑھیے
“میں نوراں ہوں” .ماں کہتی ھے، اپنے نام کی طرح سوہنی ہوں ۔ سارا پنڈ اور فضل دین بھی تو کہتا ہے ۔میں جن دنوں،فضل دین کو دل وجان سے دیکھ رہی تھی تب کسی ویاہ میں نذیر نےپہلی بار← مزید پڑھیے
ویسے تو ہمارے خواجہ صاحب ہر معاملے ہی میں کچھ نہ کچھ فرماتے ہیں لیکن معاملہ دال کا ہو تو بالکل چپ ہوجاتے ہیں ، انکے خیال میں یہ عین خاموشی کی جا ہے کیونکہ دال ولیوں کی خوراک ہے← مزید پڑھیے
وہ مجھے قتل کر دیں گے ۔نہیں چھوڑیں گے۔۔ فون سے اس کی اندیشوں بھری آواز آ رہی تھی ۔مارے خوف کے اس سے بات بھی نہیں ہو رہی تھی ۔ ایسے تھوڑی مار دیں گے ۔اتنا آسان نہیں ہوتا← مزید پڑھیے
گرداور صاحب تو انسائیکلوپیڈیا تھے، چھوٹے بڑے سب راجہ جی بلاتے اور جناب ہر عمر کے احباب کے ساتھ جہاں ہوتے محفل لگ جاتی، گفتگو کے فن میں اوج کمال تھا، چوہدری فیروز کے ڈیرے پر ایک ٹانگے والے سے← مزید پڑھیے