زبانیں عام طور پر ارتقا کے طویل اور بتدریج مرحلہ وار اقدامات کے بعد کہیں جا کر اہم تبدیلیوں سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ ان میں شعوری طور پر فیصلہ کُن تغیر کے امکانات کم ہی ہوتے ہیں۔ یا شاید میں← مزید پڑھیے
اگر مجھ جیسے شاعر کو مصرع طرح دے کر یہ کہا جائے کہ اس پر طبع آزمائی کرو تو وہ یہی کچھ لکھ سکے گا۔ کچھ بر س پہلے غالب اکادمی (مسی ساگا) کینیڈا کے مرحوم دوست اطہر رضوی کی،← مزید پڑھیے
اک مستغیث ، بد گو، تہمت تراشتا ہے کیڑے نکالتا ہے، کیچڑ اچھالتا ہے بدعت، دروغ حلفی اس کی شہادتیں ہیں دھوکا دھڑی میں ماہر، سب کو پچھاڑتا ہے سالوس، ڈھونگیا ہے، بکواس جھاڑتا ہے جھوٹا، دروغ گو تو ۔۔← مزید پڑھیے
خط7 ڈئیررضوانہ ! یہ تو اچھا ہوا بالآ خر آپ نے اپنے منہ سے اعتراف کر ہی لیا کہ آپ وہی رضوانہ صدیقی ہیں جن کو میں تلاش کر رہا ہوں۔۔۔یہ علیحدہ بات کہ اب آپ رضوانہ حسین بن چکی← مزید پڑھیے
یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ کہ جب دل میں تمھیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند یقیناً صنعت ِ ترسیع وہ تسبیع ہے جس سے سبھی ارکان← مزید پڑھیے
“یہ ایک ٹانگ سے لنگڑا ہے اور چہرہ دیکھو کتنا مطمئن ہے یار، اور کیسے پھرتی سے چھلی بھون رہا ہے ۔۔ لگتا ہی نہیں کہیں سے بھی اسے دکھ ہے اپنی معذوری کا ۔۔۔” حاشر اور سعد فیکٹری سے← مزید پڑھیے
(ایک نظم جس میں صرف ستیہ پال آنند ہی محو کلام ہیں۔ مرزا غالب شاید عالمِ لاہوت میں ان کی شکائتیں سن رہے ہیں) اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں، در← مزید پڑھیے
وہ صبح بالکل عام صبحوں جیسی تھی ، نرم گرم دھوپ میں لپٹی شور مچاتی صبح ۔ چھوٹے بیٹے عدنان کے سکول جاتے ہی جیسے شور نے سکون کا سانس لے لیا ۔ سارے گھر میں بچوں کی پھیلائی ہوئی← مزید پڑھیے
گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیوں کر ہو ۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند عجیب حلیہ ہے اس شعر کا، جناب من ہے فارسی کا فقط ایک لفظ گنتی← مزید پڑھیے
زندہ درگور اور قبرستان میں بیٹھے ہوئے میت کے ساتھی لوگ جن میں پوپلے منہ کے بڑے بوڑھے ضعیف العمر بیوہ عورتیں بُدبُداتے، سر ہلاتے اور رہ رہ کر سناتے اُن کے قصے جو کبھی زندہ تھے۔۔اور اب اپنی قبروں← مزید پڑھیے
ڈئیررضوانہ ! اگر آپ کے پہلے خط میں مشرقی محبوبہ والا انداز تھا ؎ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں تو دوسرے خط میں روایتی دلہن والی کیفیت ہے جس سے جب مولوی نکاح پڑھاتے ہوئے پوچھتا ہے← مزید پڑھیے
تغا تیمور کی آنکھ کھلی تو اس کی نگاہ ساتھ میں سوئی ہوئی توراکینہ پر پڑی۔ وہ سوتے ہوئے بھی بہت حسین لگ رہی تھی۔ سوئی ہوئی توراکینہ اور پچھلی رات کے شان دار سیکس نے تغا تیمور کی دنیا← مزید پڑھیے
اپنی ساٹھویں سالگرہ(1977) کے دن تحریر کردہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سن تو، ستیہ پال آنند وید، شاستر، گیتا عمر کی اکائیوں کو آشرم سمجھتے ہیں چار آشرم، جیسے زندگی کے عرصے میں وقت کے پڑاؤ ہیں عازم ِ سفر ہونا شرط ہے← مزید پڑھیے
بھاری بوٹوں کی چاپ نے خیالوں میں مگن اکبر کو چونکا دیا۔ ’میں تو شور کو سُنا اَن سنا کر دیتا ہوں لیکن آج مجھے کیا ہو گیا! وہ تو پتا نہیں کب سے لیٹ کر چھت کو گھور رہا← مزید پڑھیے
ان کی باتوں میں اک خوئے دلنوازی تھی۔ادائۓدلبری تھی۔ پریم کی دھارا , توجہ کی رم جھم تھی۔ بات کرتے سمے اپنے پن کے ہزاروں عکس ٹوٹتے اور بنتے تھے۔ محبوب کی چھپر چھاؤں میں بیٹھنا کتنا حسیں عمل اور← مزید پڑھیے
سلور گرے بالوں والے اُس اجنبی ٹیکسی ڈرائیور نے یہ قطعاً جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اُڑی اُڑی رنگت والی وہ لڑکی جو حددرجہ ہراساں اور خوف زدہ سی نظر آتی ہے جس کا پہناوا اُسے برصغیر کے کسی← مزید پڑھیے
تمہیں پتہ ہے۔۔جب شہروں کی کوئی اور نہیں سنتا تو یہاں کی دیواریں کسی رات کےپچھلے پہر چپکے سے وہاں اپنے قریب آنے والے ادیبوں کو اپنا سب کچھ مان کر اپنے چہرے پہ لکھی کہانیاں اور دل کے سب← مزید پڑھیے
محترمہ رضوانہ صدیقی صاحبہ ! جو حال بیس سال پیشتر تھا وہی چال آج بھی ہے یعنی ؎ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کیسا پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں ماضی میں تو یہ پردہ← مزید پڑھیے
دونوں وقت ملتے تھے جب وہ برآمد ے میں آئی اور کُرسی پر بیٹھی۔ا ُس وقت پروائی ہوائیں اُس کے لان میں اُگے کیلوں اور پپیتے کے پتوں پر دھیرے دھیرے بہہ رہی تھیں۔نیلا شفاف آسمان قدرے سیاہی مائل نظر← مزید پڑھیے
ہم موحد ہیں، ہمارا کیش ہے ترک ِ ر سوم ملتیں جب مٹ گئیں ، اجزائے ایماں ہو گئیں ۰۰ ۰۰ ۰۰ ستیہ پال آنند آپ اگر منظور فرمائیں تو بسم اللہ کریں مر زا غالب ہاں، عزیزی، صبح کاہنگام← مزید پڑھیے