ضیا : کیا شاعری ان عطایا میں سے ہے جس کو کاروباری فضیلت بنانا اس فن کی توہین ہے ۔۔۔؟ آنند “:جی ہاں، یقیناً ہے، لیکن مارکیٹ اکانومی میں آپ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں کہ آپ اسے کاروباری← مزید پڑھیے
“سانپ کے ڈسے ہوئے لوگ مر جاتے ہیں لیکن زندگی کے ڈسے ہوئے لوگ مرتے تو نہیں مگر ان کی زبانوں پہ چپ لگ جاتی ہے۔” وہ بھاگے جا رہی تھی، اُس کی آنکھوں کے سامنے وہی منظر بار بار← مزید پڑھیے
لفاظی مغالطے ،مبالغے طرازی وسوے،ولولے لذتوں کے ہجوم میں ذلتوں کی دھوم میں جبلتوں کے لزوم میں وضاحتوں کے ابہام میں چاہتوں کے الزام میں اندیشوں کے الہام میں لہجوں کی تھکن ہے سپنوں کی چبھن ہے سینوں کی جلن← مزید پڑھیے
ضیا ۔شاعری اگر تہذیب ہے تو سوسائٹی کو کن ’’آداب ‘‘ سے بطور اصول نوازنے کے قابل ہوئی ہے ۔ آنند: اس سوال میں تین الفاظ ایسے ہیں، جن کی عندالمعانی شناخت ضروری ہے۔ ’تہذیب‘ ، ’آداب ‘ اور ’اصول‘← مزید پڑھیے
میں اس کو جب بھی چھوتا ہوں میرے ہاتھوں میں جیسے نور کا ریشم پھسلتا ہے میں اس کی ریشمی بانہوں میں بانہیں ڈال کے جس راہ چلتا ہوں وہاں تارے برستے ہیں میں ان آنکھوں میں جھانکوں تو نگاہوں← مزید پڑھیے
علامہ محمد اقبال محض ایک شاعر یا مفکر نہیں بلکہ ایک دبستان، تحریک اور عہد کا نام ہیں۔ ان پر اب تک اندرون و بیرون ملک ہزاروں کتب لکھی جا چکی ہیں اور ان میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ← مزید پڑھیے
بخدمت جناب عطاءالحق قاسمی صاحب ۔ میں مسمی سلیم مرزا ،عمر پچاس سال ,رنگ کافی حد تک استعمال شدہ سکنہ کامونکی عرض پرداز ہوں کہ فدوی گذشتہ ڈھائی تین سال قبل موٹر سائکل اور مزدا ٹرک کے بےجوڑ حادثے میں← مزید پڑھیے
1 ـ” Journey of the Magi ” T.S. ELIOT “A cold coking we had of it,2 Just the worst time of the year For a journey, and such a long journey: The ways deep and the weather sharp, 5 The← مزید پڑھیے
پاکستان کے مشہور ماہر تعلیم اختر شمار کا شعر دیکھیے کہ جس نے خاموشی کے پس جواز تلاشنے میں مدد دی کہ: میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ← مزید پڑھیے
یہیں کچھ دور ۔۔ ایک بازار کے آخری سِرے پر وہ اکثر آتی۔ کبھی اکیلی کبھی سکھیوں کے سنگ ،ہنستی گاتی مجمع لگاتی۔ اپنے سارے درد چھپا کے گھر رکھ آتی ۔۔۔کتنے ہی لوگوں کی نظریں اس کی خاطر گھات← مزید پڑھیے
نوٹ۔۔۔ اردو شاعری کی مروجہ اصناف میں ، ڈرامہ کے تحت ، جہاں طربیہ تمثیل کا ذکر آتا ہے، وہاں لوک ناٹک کی اس صنف کی طرف کسی نے توجہ مبذول نہیں کی، جس میں مزاحیہ یا طنزیہ دکھاوا، تلبیس،← مزید پڑھیے
تاحد ِ نظر سناٹے اور تاریکیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ آسمان پر دسمبر کی خنکی پُر غرور انداز میں براجمان تھی ۔وہ کالے رنگ کی سادہ سی شلوار قمیض میں ملبوس تھی۔ اس کو گھر سے نکالتے وقت چادر پکڑنے کی← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط: شمیم چائے کی پیالی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی، ’’رات میں سردی بہت زیادہ ہوتی ہے اور پالا بھی گرتا ہے۔ اس لیے اس وقت چائے بہت ضروری تھی۔‘‘ ’’میں پہلی بار تمھارے ہاتھ سے بنی چائے← مزید پڑھیے
اردو ادب کو جن ناول نگاروں پر ناز ہے ان میں قرۃالعین حیدر کا نام سرِ فہرست آتا ہے۔ قرۃالعین حیدر کو اہلِ ادب اردو کی ورجینا وولف کہتے ہیں اور ادبی لوگوں میں وہ عینی آپا کے نام سے← مزید پڑھیے
کہتے ہیں دنیا میں سب سے طاقت ور اور عزیز ترین شے اولاد ہے لوگ اس کے لئے کچھ بھی کر دینے کو تیار رہتے ہیں۔ میں صاحب اولاد تو نہیں، بلکہ ابھی تک کسی کی اولاد کا صاحب بھی← مزید پڑھیے
دل مجاور ہے اسکی چوکھٹ کا غیر کی چاکری نہیں ہوگی اس کی آنکھوں کو آج دیکھ لیا مجھ سے اب شاعری نہیں ہوگی کیسری رنگ مجھ پہ ڈالا گیا اب کہیں حاضری نہیں ہوگی سونے پیپل کی نرم چھاؤں← مزید پڑھیے
اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں، در پردہ ’یا رب‘ ہا (۱۸۱۶ ۰۰۰۰۰۰۰ قوافی ’رّب‘ و ’تب‘، ’مطلب‘، ردیف اک صوت، یعنی ہا ؑعجب حلیہ ہے اس حلقوم مقطع کا کہ ’یا← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط: ’’رحیم سنار کی بات سچی ہے یا نہیں؟‘‘ اس نے تحکم آمیز لہجے میں اس سے سوال کیا۔ ’’اس کی بات میں سچائی ہے، مگر میں نے وہ ہار حیدری کے کہنے پر بنوایا تھا۔‘‘ ’’حیدری کے کہنے← مزید پڑھیے
(روی شنکر کی ستار دُھنوں کے صوتی انسلاکات پر ایک نظم) برلن میوزک فیسٹیول میں ستار نواز روی شنکر کے لیے ایک ہال تین گھنٹوں کے لیے مخصوص تھا۔ اس عالمی شو میں اس بے بدل کلا کار نے صرف← مزید پڑھیے
ہمارے لئے بہت مشکل ہے کہ ہم عام انسان کی طرح جی سکیں۔آپ جو یہاں سامنے بیٹھے ہیں۔یا جو گھروں میں بیٹھے مجھے اس وقت دیکھ رہے ہیں ان کے لئے یہاں تک آنا بہت آسان رہا ہو گا۔مگر میں← مزید پڑھیے