ضیاء :غزل رسم تو نہیں کہ مٹائی جا سکے ، اگر یہ’’ تخلیقی تاریخ‘‘ کا درجہ حاصل کر چکی ہے تو اس کی مادر زاد ’’عصمت ‘‘ کو برقرار رہنا چایئے ۔ آنند: کون کمبخت کہتا ہے کہ غزل کو← مزید پڑھیے
ایا صوفیہ میوزیم نماز، ظہر کے بعد ایک ریسٹورنٹ میں دوپہر کا کھانا کھایا،تین بجے ایا صوفیہ عجائب گھر کے ٹکٹ گائیڈ نے خریدے،ٹکٹ گھر میں بہت زیادہ رش تھا،غیر ملکی سیاح جن میں زیادہ تر جاپانی،چینی اور دریائی علاقے← مزید پڑھیے
بوڑھے کوہستانی نے دور سامنے نظر آتے پہاڑوں پر نظر ڈالی۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ دور پہاڑ جن کی چوٹیاں گرمیوں میں لکیر دار ہوجاتی ہیں، دھوپ جہاں جیت جائے وہاں برف پگھل جاتی ہے، پانی کی لکیر← مزید پڑھیے
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب موت کیا ہے انہی اجزاءکا پریشاں ہونا برج نرائن چکبست کا شمار اردو کے بڑے شعراءمیں کیا جاتا ہے۔چکبست جس دور میں شاعری کر رہے تھے وہ شاعری کے عروج کا دور تھا← مزید پڑھیے
رفیق میرے تمھاری آنکھوں میں زرد موسم ٹھہر گیا ہے وہ زندگی سے جڑی تمنا وہ ساحلوں سی سبک روانی تمام جذبوں میں گندھ کے نکھری سنہری مٹی سی مست جوانی گھنے اندھیروں میں روشنی کی قلم لگانے کا خواب← مزید پڑھیے
نمازِ ظہر اور بلیو مسجد جب ہم اس بلیو مسجد سے فارغ ہوئے تو نمازِ ظہر ا وقت ہوگیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام اور ترکی کے مشہور مسجد نیلی مسجد میں ادا کرنے کا موقع دیا۔یہ مسجد فنِ تعمیراپنے← مزید پڑھیے
بارش برس رہی تھی اور کمرے کے وسط میں جلنے والی لالٹین کی مدھم روشنی میں بچوں کے چہرے نہایت خوفناک نظر آرہے تھے۔میرے سمیت وہ سب کمبلوں میں دبکے ہوئے تھے اور ہمہ تن گوش ہوکر میری کہانی سن← مزید پڑھیے
ہمارے بڑے کہہ چکے ہیں کہ ہم پڑھتے ہیں تاکہ ہم انسانوں کو اور بہتر جان سکیں اور ہماری جھوٹی کہانی اس سچائی سے کہی جانی چاہیے کہ قاری اسے جھوٹ جانتے ہوئے بھی سچ مان لے اور ہم نے← مزید پڑھیے
محترم بھائی ذوقی عالم صاحب کا ناول مرگ انبوہ ایک ایسا دستاویز ہے جو بیک وقت اردو ادب کا بہترین شاہکار بھی ہے کل اور آج کا موازنہ بھی اور تواریخ بھی ۔یہ ناول سچ پر مبنی ایک آنکھ کھول← مزید پڑھیے
بی بی رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی۔ آنسو بے روک ٹوک گالوں پر نکل کھڑے ہوئے تھے۔ “مجھے کوئی خوشی راس نہیں آتی۔ میرا نصیب ہی ایسا ہے۔ جو خوشی ملتی ہے، ایسی ملتی ہے کہ گویا کوکا← مزید پڑھیے
مرنے والوں کے ساتھ اگر مرا جاتا تو حسرت وہ آدمی تھا جس کے ساتھ میں خوشی سے مر جاتا۔دونوں کی قبریں ایک ساتھ ہوتیں۔ نہ بھی ہوتیں توکوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا۔فرصت کے یہ رات دن ہمیں کہاں← مزید پڑھیے
تم نے دیکھی ہے کبھی سولی پر لٹکی آس خزاں میں درختوں پر سوکھتی امید سمندر میں ڈوبتی خواہش صحرا میں سلگتی خوشی خاک ہوئی بصیرت راکھ ہوئی سماعت نیزے پر لٹکی سوچ بھٹکتی ہوئی دیوانگی تڑپتی ہوئی حسرتیں سسکتے← مزید پڑھیے
ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافر پاؤں بھی شل ہیں ،شوق سفر بھی نہیں جاتا! “اجالا! تمہارا پیمانِ وفا اب تلک یاد ہے مجھے ،اب تک تمہارے اس دلاسے کے سہارے شب و روز گزارتا ہوں کہ ساتھ نہیں چھوٹے← مزید پڑھیے
ٹوپکاپی سرائے میوزیم گائیڈ نے پورے گروپ کے ٹکٹ خود خریدے،یہ میوزیم درحقیقت شاہی خاندان کی رہائش،اُن کی خواتین کی حریم،فوجی تربیت گاہ،سفارت خانہ اور اُس دوران استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا اسلحہ خانہ،اور موجودہ دور میں سیاحوں کے لیے← مزید پڑھیے
علامہ اقبال رح نے رموز بےخودی میں’’در معنی حریت اسلامیہ و سیر حادثہ کربلا‘‘ کے عنوان سے امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کو خراج عقیدت پیش کر کے اپنے کلام کو دوام بخشا ہے۔ واقعہ کربلا← مزید پڑھیے
رونا اور یوں رونا کہ ہڈیاں آنکھ سے گھل کے بہنے لگیں لکھنا اور یوں لکھنا کہ قلم یوسفِ حرف کے دیکھنے کو بہ مثلِ دیدئہ یعقوب نابینا ہو جائے فقط اک کارِ زیاں ہے سو اب اس تسلسل سے← مزید پڑھیے
تکیہ، سلیمانیہ بھی دمشق کی خاص الخاص چیزوں میں سے ایک ہے۔ ایک تو عثمانی خلیفہ کی بنوائی ہوئی۔ رنگ ڈھنگ کا تڑکا بھی اُن کے انداز کا لگا ہوا۔نہر برادہBarada کے کنارے نے خوبصورتی اور محل وقوع کو اور← مزید پڑھیے
اس کو صرف کتابیں پسند ہیں دنیا کھوجنے کا شوق رکھتا ہے رنگ برنگے موسموں کو پڑھتا ہے محبت کی الگ الگ دنیا دیکھتا ہے کتابوں میں ہجر اور وصل کو دیکھتا ہے سمندر کے شور کا مطلب سمجھتا ہے← مزید پڑھیے
بے خار جھاڑیوں اور پتھروں پر چھوٹی چھوٹی چڑیاں اُچھل کود رہی تھیں اور چہک رہی تھیں۔مشرقی جنگل پوراانہی سے بھرا ہواتھا۔مشرقی سمت چڑیوں کی چہکاریں تھیں تو مغربی سمت نیچے پانیوں کی گونج۔سوائے اس کے یہاں زندگی سوئی ہوئی← مزید پڑھیے
لگا کہ وقت کچھ تھم سا گیا ہے ۔۔۔۔ میں جو صوفے پر اکڑوں بیٹھا تھا ،ایک دم پیچھے کو ہو لیا اور سر صوفے کی پشت کے ساتھ ٹکا لیا ۔۔ مگر نظریں اس کی نظروں سے آزاد نہ← مزید پڑھیے