زمین کھاگئی آسماں کیسے کیسے۔ درمیانی اور تیسری تصویر جو سادگی اور حسن کا منفرد پیکر تھی،کے بارے میں مجھے کوئی خبر نہیں ملی۔میں ان تصاویر کو دیر تک دیکھتا رہا۔تصویریں بولتی ہیں۔کچی مٹی کی چھت والی اس سراہے میں← مزید پڑھیے
ممبئی کی جن گنی چنی چیزوں کو نوینہ کو عادت ہوگئی تھی ان میں سے ایک لورا تھی۔ نکلتا ہوا قد، چکنی، گیہواں رنگ، سڈول جسم اور سوالیہ آنکھوں والی گووا کی لورا۔ اصل میں اس کی آنکھوں میں ہمیشہ← مزید پڑھیے
دونوں کی باتیں ختم نہیں ہوئی تھیں۔ بس ایک عمر تک کی پوری ہوچکی تھیں ،دونوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ کچھ تو بائیس سال کے بعد ملنے کی خوشی، تیز رفتار اور آج کی ریل پیل میں← مزید پڑھیے
صفدر زیدی کا ناول ” چینی جو میٹھی نہ تھی“ نو آبادیاتی جبر کے تاریخی تناظر میں لکھا گیا ہے۔ یہ ناول پس کربیہ یا ناسٹلجیائی کیفیت اورنقل مکانی کے المیات کو فنکارانہ سیاق و انداز میں پیش کرتا ہے← مزید پڑھیے
ہوری کو دفن میں جانے سے سخت نفرت تھی۔ اس لیے وہ کسی کی موت کی خبر ملنے کے دو تین دن بعد اس کے گھر والوں کے یہاں افسوس کرنے جاتی تھی۔ لیکن آج شام وہ ایک دفن میں← مزید پڑھیے
چترال شہر پہاڑوں کے حصارمیں ہے: چترال شہر پہاڑوں کے حصار میں کَسا ہوا ہے۔بہت مضبوطی سے نہ سہی کچھ ڈھیلے بازوؤں سے ہی سہی۔ایک مٹیالہ دریا اس کے بیچوں بیچ بہتا ہے۔کسی تیز رفتار اَژدھے کی طرح دوڑتا نظر← مزید پڑھیے
گنتی کے چند دن کیسے گزرے ،پتہ ہی نہیں چلا اور آج اس نے یونٹ جانا تھا ۔ سب نے اپنا خیال رکھنے کی تاکید کی اور بوجھل دل کے ساتھ اسے رخصت کیا ۔ وہ سوچ رہا تھا کہ← مزید پڑھیے
اماں کی گود میں سر رکھے اُن سے بچپن کی کہانیاں سن رہا تھا کہ تبھی خمدار بوڑھے سنتری نے سلاخوں سے میرے منہ پر تمہارا خط مارا اور مجھے یاد آیا ،میں تو یہاں قیدِ زنداں میں پڑا ہوں۔← مزید پڑھیے
تنہا گھر: دروش کے کسی گاؤں میں ہم نماز کے لیے رکے۔وضو کیا تو طبعیت ترو تازہ ہو گئی۔نماز اَدا کی اَور آگے چل پڑے۔گاڑی میں گفتگو،باہر کے مناظرپر تبصرے تھے یا پھر شاہد حفیظ کو ہدایات تھیں۔علاوہ رستے کی← مزید پڑھیے
پیرس ائیرپورٹ پر اترتے ہی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ شہر ٹورسٹس کے لئے ہی بنا ہے۔ فرانس کی ٹورازم انڈسٹری 77 بلین ڈالرز سالانہ پر مشتمل ہے اور 9 کروڑ سیاح ہر سال فرانس آتے ہیں۔ صرف پیرس دیکھنے← مزید پڑھیے
آسمان میں جابجا گھونسلے بن گئے تھے اور ننھے رنگین پرندے جب اپنے آشیانوں سے نکلتے تو کبھی لوٹ کے نہ آتے۔مشہور تھا کہ یہ گھونسلے محبت کی آماجگاہیں ہیں اور شوخ و شنگ پرندے محبت کے ڈر سے وہاں← مزید پڑھیے
جب تھر کے سفر کا ارادہ بنا تو کچھ احباب نے خصوصی فرمائش کی اور اپنی بھی ذاتی خواہش تھی تھر میں جو قادیانیت کے فروغ کی باتیں ہورہی ہیں اس کی حقیقت کیا ہے۔ہم مقامی علماء کرام سے بھی← مزید پڑھیے
مدالسا نے میٹھی گرم چائے کی ایک چسکی لی۔ میلے، پرانی چائے جمے برتن میں، جس میں دودھ، چینی، چائے کی پتی سب ایک ساتھ ڈال کر کئی بار اُبالی گئی اور ڈگمگاتے، تکونے گلاسوں میں خوب اوپر سے انڈیلی← مزید پڑھیے
31 فروری2020 شاہ رخ کے قتل پر ملک بھر میں احتجاج کشن گنج میں بسیں جل گئیں۔ہندوستان ٹائمز اورنگ آباد میں ایم ایل اے نے دلتوں کے ساتھ مل کر شاہ رخ کے لیے جلائی موم بتیاں۔دی ہندو- آخر کیوں← مزید پڑھیے
دیوار پہ لٹکے کیلنڈر کو دیکھ کر زین کو یاد آیا کہ آج تو بائیس اگست ہے احمد کی سالگرہ ،وہ احمد جو زندگی کی شوخیوں سے بھر پور نوجوان تھا ۔ کشادہ پیشانی اور روشن آنکھوں والا لڑکا جس← مزید پڑھیے
پرتبھا اپنے سر کو بار بار جھٹکا دے رہی تھی۔ اس کے خالی کھوکھلے دماغ میں، جو یاد کے چند قطرے چپکے رہ گئے تھے، اب دھیرے دھیرے پھسل کر، دھند جمے شیشے پر شفاف نقش بنارہے تھے۔ وہ انھیں← مزید پڑھیے
کافی دیر تک غور کرنے کے بعد غور فکر میں اور پھر ماتھے پر ٹھنڈے پسینے کی شکل میں بدل گئی کیونکہ جس جانب میں نے جانا تھا وہاں سے تو ایک جم غفیر جسم پر کفن نما احرام باندھے میری ہی جانب چلے آرہا تھا۔ سوچا تھا تیس کے پیٹے میں چلتا “کڑیل جوان” ہوں، دیکھ لوں گا کون روکتا ہے۔ پر صاحب، دو چار گھڑی ٹس سے مس نہ ہو پایا تو کعبہ کے سامنے موت کی فضیلت دماغ میں ابھرنے لگی۔← مزید پڑھیے
کالندی بڑے فخر سے کہا کرتی تھی کہ تتلی اس کی سب سے اچھی دوست ہے اور جب تتلی بھی یہی دوہراتی تو اس کی آنکھیں فخر سے نم ہوجاتیں۔ صحیح! اس نے بالکل صحیح فیصلہ کیا تھا جو نوکری← مزید پڑھیے
دل کیا قائد سے ملاقات کر آوں پر بات کیا کرونگا وہ تو ٹودی پوائنٹ بات کرینگے بیٹھ گیا واپس پر دل میں خیال جڑ پکڑ گیا تھا اٹھ گیا رکشے والا ڈھائی سو سے کم پر راضی نہیں ہوا← مزید پڑھیے
اردو کے کلاسیکی ادب کا تذکرہ”خوش معرکہ زیبا” جس کو نواب سعادت علی خاں ناصر نے لکھا ہے۔ناصر کی پیدائش کی تاریخ اور سال کا علم نہیں۔البتہ کہا جاتا ہے ان کا انتقال 1857 اور 1871 کے درمیان ہوا۔ناصر نے← مزید پڑھیے