ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 99 )

میرے جیون کا اکتوبر۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کہرے کی اک میلی چادر تنی ہوئی ہے اپنے گھر میں بیٹھا میں کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوں باہر سارے پیڑ دریدہ، پیلے، یرقانی پتّوں کے مَٹ مَیلے ملبوس میں لپٹے، نصف برہنہ باد ِ خزاں سے الجھ رہے←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/بغداد یونیورسٹی کے اساتذہ سے ملاقات(قسط15)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اسی دوران افلاق کا فون آیا اُس نے کہا تھا۔”تم سیدھے بغداد یونیورسٹی آجاؤ۔“ میں گھونٹ گھونٹ دودھ پیتی باہر منظروں کو دیکھتی تھی۔گاڑی اُسی راستے پر بھاگی جاتی تھی جس پر گزشتہ دنوں سے بار بار گھوم رہی تھی۔اب←  مزید پڑھیے

قصّہ دراز میرا۔۔رؤف الحسن

عزیزِ جاں! رات اپنے آخری پہر میں داخل ہونے کو بے تاب ہے۔ ستاروں کی جھلملاہٹ تیرتے بادلوں کے سائے میں کبھی روشن کبھی مدہم ہو تی الگ ہی قصّہ  سنا رہی ہے۔ اکتوبر کے مہینے کی ٹھنڈی ہوا جسم پر لگتی محسوس تو ہوتی ہے، لیکن ابھی اس میں اتنی خنکی نہیں کہ لحاف لینے کی طلب ہو←  مزید پڑھیے

عہد ظلمات۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی لوٹ مار کی کہانی ۔۔لیاقت علی ایڈووکیٹ

تحریکِ  قیامِ  پاکستان اپنے جوہر میں سامراج مخالف کی بجائے ہندو دشمنی پر فوکس تھی۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں برطانوی سامراج اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے بارے میں علمی اور تحقیقی کام نہ ہونے کے برابرہوا ہے۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی لوٹ مار اور برطانوی سامراج کی سیاسی و سماجی پالیسیوں بارے لٹریچر مفقود ہے۔←  مزید پڑھیے

کاکولیات۔۔سلیم مرزا

(کاکولیات/سلیم مرزا)میری فرینڈ لسٹ میں فوجی بھائی اتنے ہی ہیں جتنی میری زندگی میں خوشحالی۔مجھے اگر پتہ چل جائے کہ سرکار افسر ہیں تو میں ان کے سامنے جانے کی بجائے گھوڑے کے پیچھے چھپنے کو ترجیح دیتا ہوں کہ←  مزید پڑھیے

الفخرو عرف سامانِ تسکینِ فیلِ مست ۔۔ خنجر عظیم آبادی

اے برقی کھاتوں کے نکتہ ساز ! خیالِ خنجرِ جاں گداز ! تعویذِ دل ! شاگرد کامل!حکمِ خداوندی ہے، نہ میں پیر مغاں نہ مجھے شوقِ رندی ہے۔ مالک کائنات کا حکم واجب تعمیل ہے۔ واقعہ عجب بلکہ عجب العجائب←  مزید پڑھیے

سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار/ قسط 4۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

ادب خاص طور پہ سرائیکی ادب میں دلچسپی رکھنے والے احباب کی خدمت میں سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار کی چوتھی قسط دس قدیم و جدید سرائیکی اشعار کے ساتھ بمع اردو ترجمہ حاضر خدمت ہے←  مزید پڑھیے

مچھلی(محبت کُھرک ہے سے اقتباس)۔۔سلیم مرزا

(محبت کُھرک ہے سے اقتباس)←  مزید پڑھیے

ہجوم ۔۔عارف خٹک

ترقی یافتہ شہروں کی زندگی بہت تیز ہے۔ اتنی تیز کہ میرے جیسا بندہ تھک جائے۔ ایک ہجوم ہے، جو بے سمت بھاگ رہا ہے اور آپ اس ہجوم کیساتھ بے سمت بھاگے جارہے ہیں۔←  مزید پڑھیے

سنو سائیں۔۔ڈاکٹر صابرہ شاہین

سنو  سائیں ترے لہجے کا مصنوعی یہ بھاری پن وفا کی راگنی جاناں لگاوٹ کے سبھی پلٹے یہ آروئی  و امروہی مگر، ان تیز سانسوں لچکتی ڈال سے کومل بدن پہ ہونٹ کی سرگم یہ رعنائی وفا کے سارے وعدوں←  مزید پڑھیے

ایک نیا مذہب۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

خواتین و حضرات !میرا نام کرن کرونائی ہے اورمیرا تعلق کرونائی مذہب سے ہے۔ میں مذاہبِ عالم کی اس 2120 کی بین الاقوامی کانفرنس میں آپ سب مہمانوں کو خوش آمدید کہتی ہوں۔ مجھ سے پہلے آپ جن مذاہب کے نمائندوں←  مزید پڑھیے

یہاں ٹیلنٹ کی کوئی قدر نہیں۔۔گُل نوخیز اختر

میری ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مجھ سے کسی کی خوشامد نہیں ہوتی۔ اگرچہ میں آٹھویں پاس ہوں لیکن جب میرے ماموں نے مجھے ایک اخبار میں صحافی لگوایا تو میں نے دل و جان سے←  مزید پڑھیے

اِک نایاب حسینہ سے ملاقات۔۔مصنف: ولیم سین سم/مترجم:محسن علی خان

وہ نوجوان اپنے دیہات سے اٹلی کے دارالحکومت روم میں سیر کی غرض سے پہنچا تھا۔ یہ اُس کا پہلا سفر تھا۔ نہ تو اُس کی عمر اتنی کم تھی اور نہ ہی وہ ایسا سیدھا سادھا تھا کہ یہ←  مزید پڑھیے

سوز ِنہاں۔۔شاہین کمال

اب بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ ہم ولیمے میں سو لوگ لائیں  گے؟ جب ہم لوگ بارات میں پچاس لوگ لے کر جا رہے ہیں تو انہیں بھی ولیمے میں پچاس ہی لوگوں کو لانا چاہیے، کہ اسی طرح←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/ہارون الرشید کی زبیدہ سے ملاقات(قسط14)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ہمارے لئیے زبیدہ ہمیشہ سے تاریخ میں نور جہاں کی ٹکر کی رہی۔نور جہاں کی کہانیوں نے اگر مسحور کیا تو ہارون کی چہیتی زبیدہ بھی کِسی سے پیچھے نہیں تھی۔اُس انجینئر کی آنکھوں کی چمک اور لہجے سے چھلکتا←  مزید پڑھیے

ضرورت ہی نہیں میری….ڈاکٹر صابرہ شاہین

“ضرورت ہی نہیں میری”   محبت ڈھونڈنے نکلی تو جنگل میں۔۔۔۔۔ کئی وحشی درندے لوبھ کے مارے جناور راہ  کو روکے ہوئے اپنے بدن کے خفتہ حصوں کو کھجاتے۔ گھورتے جاتے تھے صدیوں سے۔۔۔۔میری جانب٠٠٠٠ کئی قرنوں سے میں اپنے←  مزید پڑھیے

محبت کُھرک ہے۔۔سلیم مرزا

گھوڑے اور احمق والے کھیل میں جب بھی پھونک مارنے کا وقت آیا میں نے گھوڑا بننے کو ترجیح دی ۔پہلی پھونک ہمیشہ میری ہی ہوتی تھی ۔۔ بس ایک بار ہار گیا، کیونکہ اس بار پائپ کے دوسری طرف←  مزید پڑھیے

میرے بارہویں شعری مجموعے “بیاض ِ عمر کھولی ہے” (۲۰۱۱)ء کا دیباچہ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

عرض ِ حال ٹی ایس ایلیٹ نے اپنی طویل نظم The Dry Salvages میں کہا ہے: There is no end, but additions: the trailing Consequences of further days and hours While emotion takes to itself the emotionless Years of living←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر صابرہ شاہین ڈیروی صاحبہ کی نظم پر ڈاکٹر ستیہ پال آنند صاحب کا تبصرہ

جانے والے! رکو سیپیاں، مونگھے، موتی وہیں رہ گئے میری چنری کی رنگت سیہ پڑ گئی میں نے کشتی کھیوئیے کو آواز دی کتنے ترلے کئے،ہاتھ جوڑے بہت سارے ساتھی درختوں نے منت بھی کی نیم تڑپی بہت کیکروں نے←  مزید پڑھیے

تھوکنا چاہتا ہوں(ایک غصیلی نظم)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مری چشم بینا سے پٹّی تو کھولو مجھے دیکھنے دو یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہاں جنگ کی آگ میں جلتے ملکوں سے بھاگے ہوئے مرد و زن، صد ہزاروں سمندر کی بے رحم لہروں میں غرق ِ اجل ہو←  مزید پڑھیے