کہرے کی اک میلی چادر تنی ہوئی ہے اپنے گھر میں بیٹھا میں کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوں باہر سارے پیڑ دریدہ، پیلے، یرقانی پتّوں کے مَٹ مَیلے ملبوس میں لپٹے، نصف برہنہ باد ِ خزاں سے الجھ رہے← مزید پڑھیے
اسی دوران افلاق کا فون آیا اُس نے کہا تھا۔”تم سیدھے بغداد یونیورسٹی آجاؤ۔“ میں گھونٹ گھونٹ دودھ پیتی باہر منظروں کو دیکھتی تھی۔گاڑی اُسی راستے پر بھاگی جاتی تھی جس پر گزشتہ دنوں سے بار بار گھوم رہی تھی۔اب← مزید پڑھیے
عزیزِ جاں!
رات اپنے آخری پہر میں داخل ہونے کو بے تاب ہے۔ ستاروں کی جھلملاہٹ تیرتے بادلوں کے سائے میں کبھی روشن کبھی مدہم ہو تی الگ ہی قصّہ سنا رہی ہے۔ اکتوبر کے مہینے کی ٹھنڈی ہوا جسم پر لگتی محسوس تو ہوتی ہے، لیکن ابھی اس میں اتنی خنکی نہیں کہ لحاف لینے کی طلب ہو← مزید پڑھیے
تحریکِ قیامِ پاکستان اپنے جوہر میں سامراج مخالف کی بجائے ہندو دشمنی پر فوکس تھی۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں برطانوی سامراج اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے بارے میں علمی اور تحقیقی کام نہ ہونے کے برابرہوا ہے۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی لوٹ مار اور برطانوی سامراج کی سیاسی و سماجی پالیسیوں بارے لٹریچر مفقود ہے۔← مزید پڑھیے
(کاکولیات/سلیم مرزا)میری فرینڈ لسٹ میں فوجی بھائی اتنے ہی ہیں جتنی میری زندگی میں خوشحالی۔مجھے اگر پتہ چل جائے کہ سرکار افسر ہیں تو میں ان کے سامنے جانے کی بجائے گھوڑے کے پیچھے چھپنے کو ترجیح دیتا ہوں کہ← مزید پڑھیے
اے برقی کھاتوں کے نکتہ ساز ! خیالِ خنجرِ جاں گداز ! تعویذِ دل ! شاگرد کامل!حکمِ خداوندی ہے، نہ میں پیر مغاں نہ مجھے شوقِ رندی ہے۔ مالک کائنات کا حکم واجب تعمیل ہے۔ واقعہ عجب بلکہ عجب العجائب← مزید پڑھیے
ادب خاص طور پہ سرائیکی ادب میں دلچسپی رکھنے والے احباب کی خدمت میں سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار کی چوتھی قسط دس قدیم و جدید سرائیکی اشعار کے ساتھ بمع اردو ترجمہ حاضر خدمت ہے← مزید پڑھیے
ترقی یافتہ شہروں کی زندگی بہت تیز ہے۔ اتنی تیز کہ میرے جیسا بندہ تھک جائے۔ ایک ہجوم ہے، جو بے سمت بھاگ رہا ہے اور آپ اس ہجوم کیساتھ بے سمت بھاگے جارہے ہیں۔← مزید پڑھیے
سنو سائیں ترے لہجے کا مصنوعی یہ بھاری پن وفا کی راگنی جاناں لگاوٹ کے سبھی پلٹے یہ آروئی و امروہی مگر، ان تیز سانسوں لچکتی ڈال سے کومل بدن پہ ہونٹ کی سرگم یہ رعنائی وفا کے سارے وعدوں← مزید پڑھیے
خواتین و حضرات !میرا نام کرن کرونائی ہے اورمیرا تعلق کرونائی مذہب سے ہے۔ میں مذاہبِ عالم کی اس 2120 کی بین الاقوامی کانفرنس میں آپ سب مہمانوں کو خوش آمدید کہتی ہوں۔ مجھ سے پہلے آپ جن مذاہب کے نمائندوں← مزید پڑھیے
میری ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مجھ سے کسی کی خوشامد نہیں ہوتی۔ اگرچہ میں آٹھویں پاس ہوں لیکن جب میرے ماموں نے مجھے ایک اخبار میں صحافی لگوایا تو میں نے دل و جان سے← مزید پڑھیے
وہ نوجوان اپنے دیہات سے اٹلی کے دارالحکومت روم میں سیر کی غرض سے پہنچا تھا۔ یہ اُس کا پہلا سفر تھا۔ نہ تو اُس کی عمر اتنی کم تھی اور نہ ہی وہ ایسا سیدھا سادھا تھا کہ یہ← مزید پڑھیے
اب بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ ہم ولیمے میں سو لوگ لائیں گے؟ جب ہم لوگ بارات میں پچاس لوگ لے کر جا رہے ہیں تو انہیں بھی ولیمے میں پچاس ہی لوگوں کو لانا چاہیے، کہ اسی طرح← مزید پڑھیے
ہمارے لئیے زبیدہ ہمیشہ سے تاریخ میں نور جہاں کی ٹکر کی رہی۔نور جہاں کی کہانیوں نے اگر مسحور کیا تو ہارون کی چہیتی زبیدہ بھی کِسی سے پیچھے نہیں تھی۔اُس انجینئر کی آنکھوں کی چمک اور لہجے سے چھلکتا← مزید پڑھیے
“ضرورت ہی نہیں میری” محبت ڈھونڈنے نکلی تو جنگل میں۔۔۔۔۔ کئی وحشی درندے لوبھ کے مارے جناور راہ کو روکے ہوئے اپنے بدن کے خفتہ حصوں کو کھجاتے۔ گھورتے جاتے تھے صدیوں سے۔۔۔۔میری جانب٠٠٠٠ کئی قرنوں سے میں اپنے← مزید پڑھیے
گھوڑے اور احمق والے کھیل میں جب بھی پھونک مارنے کا وقت آیا میں نے گھوڑا بننے کو ترجیح دی ۔پہلی پھونک ہمیشہ میری ہی ہوتی تھی ۔۔ بس ایک بار ہار گیا، کیونکہ اس بار پائپ کے دوسری طرف← مزید پڑھیے
عرض ِ حال ٹی ایس ایلیٹ نے اپنی طویل نظم The Dry Salvages میں کہا ہے: There is no end, but additions: the trailing Consequences of further days and hours While emotion takes to itself the emotionless Years of living← مزید پڑھیے
جانے والے! رکو سیپیاں، مونگھے، موتی وہیں رہ گئے میری چنری کی رنگت سیہ پڑ گئی میں نے کشتی کھیوئیے کو آواز دی کتنے ترلے کئے،ہاتھ جوڑے بہت سارے ساتھی درختوں نے منت بھی کی نیم تڑپی بہت کیکروں نے← مزید پڑھیے
مری چشم بینا سے پٹّی تو کھولو مجھے دیکھنے دو یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہاں جنگ کی آگ میں جلتے ملکوں سے بھاگے ہوئے مرد و زن، صد ہزاروں سمندر کی بے رحم لہروں میں غرق ِ اجل ہو← مزید پڑھیے