مکالمہ نہ ہو تو جنگ ہو تی ہے۔اختلاف بڑھتا ہے۔ شدت پیدا ہوتی ہے۔ نظریات دفن ہوتے ہیں۔عقائد ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔ ہیجان میں اضافہ ہوتا ہے۔ بات گالی سے گولی تک پہنچتی ہے۔ احساسات کا قتل ہوتا ہے۔← مزید پڑھیے
ہم خود کو فخر سے ایک امت کہتے ہیں۔ یقین کریں اور اب آنکھیں کھول کر حقیقت کا سامنا کریں کہ ھم اب ایک امت نہیں بلکہ ایک امت کا گلتا سڑتا، ڈی کمپوز ھوتا ھوا لاشہ ھیں۔ اکثر یہ← مزید پڑھیے
لاکھوں سوشل میڈیا اکاونٹس، ہزاروں ویب سائٹس اور ان گنت بلاگز کے سیلاب بلا خیز میں ایک قطرے کا اضافہ ’’مکالمہ‘‘ کی صورت آپ کے سامنے ہے۔ ایشیائی مبالغہ نہ بھی کیا جائے تو اسے کم از کم ایک خوشگوار← مزید پڑھیے
پاکستان کا قیام کسی جنگ کا نتیجہ تھا نہ کسی جنگی شکست کے بعد کوئی شرمناک معاہدہ صلح اس کی بنیاد بنا ، پھر بھی خود سے پانچ گنا بڑےپڑوسی کے جارحانہ عزائم نے اسے اس وقت کی “بائی پولر← مزید پڑھیے
آس، آرزو، خواہش، انتظار تاحتٰی یقین، امید کے ہی پرتو ہیں۔ یہ امید بھی عجب کیفیت ہے جو شاید کائنات کی مانند لامتناہی اور الوہ کی مانند ابدی ہے۔ امید کے لیے بہت سے محاورے اور کہاوتیں ہیں جن← مزید پڑھیے
برادرم انعام رانا سے تعارف کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ مختلف پوسٹوں پر ان کے کمنٹس دیکھتا رہا۔ پھر ہم سب میں شائد انہوں نے اپنی پہلی تحریر لکھی تھی، ہم سب ہی میں انہوں نے اڑنا سیکھا اور پھر← مزید پڑھیے
انعام رانا جیسے بانکے جوان، جن کی شوخی تحریر اپنی شرارتوں کے ہمراہ ساون موسموں کی طرح گدگداتی چلی جاتی ہے ،اگر مکالمے جیسی سنجیدہ اور علمی روایت کا احیاء کرنا چاہتے ہیں تو اس کا خیر مقدم ہی نہیں← مزید پڑھیے
آگے بڑھنے سے قبل دو باتیں آپ کی خدمت میں عرض کرنا ازبس ضروری ہیں۔ اولاََ یہ کہ میں 1437 سال سے مسلمان ہوں۔ 730 سال سے سرائیکی اور 69 سال سے پاکستانی ہوں (730 سال قبل میرے جدِ امجد← مزید پڑھیے
عجب جذبات ہیں۔ قلم میں وہی لرزش ہے جو پہلے بوسے کے وقت ہونٹوں پر ہوتی ہے اور دل ویسے ہی تجسس، خوشی اور خدشات سے لبریز ہے جیسا ایک عاشق صادق کا لمحات وصل سے ذرا قبل ہوتا ہے۔← مزید پڑھیے