وہ ایک ادارے میں اچھی پوسٹ پر ملازمت کرتا تھا‘ زندگی کے شب و روز اچھے انداز میں کٹ رہے تھے۔ ادارے نے رضا کارانہ علیحدگی کی سکیم متعارف کروائی تو موصوف نے اسے اپنانے کے لیے اپنی رضا مندی← مزید پڑھیے
رک کیوں گئے؟ چلتے کیوں نہیں؟ تمہارے پیروں کی وہ تیزی کیا ہوئی؟ کیا تمہارے قویٰ سچ کمزور ہوگئے یا تم پر سستی غالب آگئی؟ تمہاری چاپ کی وہ دھمک جس کے تصور سے زمین آج بھی کانپ جاتی ہے← مزید پڑھیے
مر زا غالب کے مصارع پر مبنی مختصر نظمیں جو تفسیر و تاویل عقدہ کشائی اور معنی و مفتاح کی کلیدہیں۔ پردہ ء ساز لے، سُر ، الاپ تھے، مگر “منہ بند” ہم بھی تھے اخفا میں تھا سکوت بباطن← مزید پڑھیے
سکھ مذہب کی بنیاد بابا گرو نانک نے پندرھویں صدی عیسویں میں رکھی تھی جس میں اس کے بانی گرو نانک نے اسلام اور ہندو مت کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور دونوں مذاہب کے ماننے والوں کے مشترکہ← مزید پڑھیے
صرف باتوں سے ہی دل بہلانا ہو تو جو چاہے کہتے پھریں مگر حقائق تو ہمیشہ ناقابلِ تردید ہی رہتے ہیں ۔۔۔ کوئی بتائے کہ یہ جو طاقتور لوگ سندھ میں آئی جی تک کو اس کے قلعہ بند گھر← مزید پڑھیے
پاکستان میں شعبہ صفائی سے وابستہ اٹھانوے فیصد افراد کا تعلق پاکستان کے 33لاکھ مسیحیوں اور پانچ لاکھ شیڈول کاسٹ ہندوؤں میں سے ہے۔گوکہ ان میں پہلے روسں ، امریکہ اور اب ہمارے دور اندیشوں کی کوشش سے ہزاروں افغانی← مزید پڑھیے
ارشاد ہوا کہ “اے نبی! آپ کے اردگرد بتہیرے منافق ہیں جنہیں آپ نہیں جانتے، مگر ہم جانتے ہیں”، سورہ توبہ کی یہ آیت کیا ان بقراطوں کے لیے کافی نہیں جو آئے دن لوگوں کے منافق ہونے کا فیصلہ← مزید پڑھیے
اس ملک کا تیسرا بڑا المیہ لسانی اور صوبائی انتہا پسندی ہے۔ اس انتہا پسندی نے پاکستان کو چاروں طرف سے بُری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔اس تعصب اور تشدد یا انتہا پسندی کا شکار زیادہ تر وہ← مزید پڑھیے
آج سعودی عرب کے معاشی لحاظ سے سب سے اہم اور امیر ترین شہر کی آوارہ گردی کا دل کیا ہے، امید ہے شہر کی تفریح سے آپ لوگ بھی محظوظ ہوں گے۔ یہ تین جڑواں شہر سعودی عرب کے← مزید پڑھیے
آج کے اِس ترقی یافتہ دور میں برقی آلات کی کرشمہ سازیوں نے مطالعہ کی اہمیت اور افادیت کو وقتی طور پر پس پشت ڈال دیا ہے ہر چند کہ موبائل کلچر نے عوام کے ہاتھوں سے کتابیں چھین کر← مزید پڑھیے
کسی بھی قوم کی پہچان ان کی زبان، ان کے رہن سہن اور ثقافت سے ہوتی ہے۔ہر قوم اپنی ثقافت سے محبت کرتی ہے اور یہ بات باعث ِ فخر بھی ہونی چاہیے۔ جب بھی کسی قوم کو اجتماعی طور← مزید پڑھیے
اس شہرِ دل فگاراں کی کیا تہذیب تھی کہ جب تک علی ہجویری کو بھی شہر میں داخلے کا اذن نہ ملا وہ راوی کے دوسرے کنارے بیٹھے رہے خیر وہ تو ولی تھے جو سب رمزوں کو سمجھتے تھے← مزید پڑھیے
ذرا سوچئیے کہ ایک دشمن جو آپکے سامنے کھڑا ہے, ڈنکے کی چوٹ پر آپ پر سب و شتم کر رہا ہے, کُھل کر آپ پر حملے کر رہا ہے وہ زیادہ خطرناک ہے بہ نسبت ایک ایسے دشمن کے← مزید پڑھیے
اللہ میاں کا بنایا ہوا کمپیوٹر “انسان”، خود انسان کے اپنے بنائے کمپیوٹر سے زیادہ دیر پا ہے۔ خدائی کمپیوٹر کو صرف خوراک اور پانی درکار ہے۔ اس خوراک میں کیا شامل ہو، اکثر اوقات انسان کی اپنی فطرت خود← مزید پڑھیے
فیس بک ابلاغ اور سماجی واقفیت کا ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے جس سے کروڑوں لوگ وابستہ ہیں۔اس پلیٹ فارم نے جہاں مختلف قومیتوں،مذاہب،مکاتب فکر اور مفکرین کو نزدیک لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے وہاں بیشمار نفسیاتی← مزید پڑھیے
کھیل جو ہم نے کھیلے یہ تو تھا گھر آنگن کا اور لڑکیوں بالیوں کے مشغلوں کا حال۔ اب یہ دیکھئے ان لونڈے لپاڑیوں نے گلیوں اور میدانوں میں کیا لونڈھار، مچائی ہوئی ہیں۔ اس کے لئے آپ کو← مزید پڑھیے
جب ہمالیہ کی گود میں ہزاروں سال سے بوڑھی ہوتی برفوں سے من سرور کی کوکھ سے سندھو پھوٹا تھآ۔ تب سے انکے اجداد اس شیر دریا اور اسکے معاونین دریاؤں پر پنپتی تہذیب کے باسی تھے۔ وہ زرخیز زمینوں← مزید پڑھیے
تصاویر میں نظر آنے والی جگہ سڑک نہیں بلکہ صحرا میں یہ بہتا پانی ہے، یہ سعودی عرب کے وسط میں واقع ایک ایسا صحرا ہے جس میں پانی آبشاروں کی طرح بہتا ہے۔ یہ جگہ شمال مغربی ریاض میں← مزید پڑھیے
ہم لوگ انسان ہونے کے ناطے حس ِلطافت سے بالکل محروم ہوتےجا رہے ہیں زندگی کی چیرہ دستیوں نے ہمیں بہت تلخ اور کڑوا بنا دیا ہے ۔ہماری بصارت حسن کے نظاروں کو دیکھنے سے بالکل قاصر ہو چکی ہے← مزید پڑھیے
ہارورڈ یونیورسٹی کے مطابق بچے کے پیدا ہونے سے لے کر سات سال تک کا وقت بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور یہ دور اس کی زندگی اور شخصیت پر گہرے نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ ـبچے کو ماں کی← مزید پڑھیے