نگارشات    ( صفحہ نمبر 607 )

کشمیر!ہم سب مجرم ہیں ۔۔۔۔آصف جیلانی

پچھلے اکہترسال سے کشمیرکے ایک کڑوڑاکہترلاکھ عوام کوان کے حق خود ارادیت اور آزادی سے محروم رکھنے کے سب سے بڑے مجرم بلا شبہ، جواہر لعل نہرو ہیں جو خود کشمیر النسل ہوتے ہوئے کشمیریوں کی خواہشات سے با خبرتھے←  مزید پڑھیے

آئی ایس آئی یا انٹر سروسز انٹیلیجنس۔۔۔۔عارف خٹک/قسط1

مکالمہ ←  مزید پڑھیے

دھوبی کا کتا، گھر کا نہ گھاٹ کا ۔۔۔ شاہ عالم

کتا تو آپ سب کو معلوم ہی ہوگا کہ کون ہوتا ہے؟۔ تاہم کتوں کوخود بھی اپنے کتے ہونے کا علم ہوتا ہے یا نہیں؟۔ اس بابت کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ انسانوں میں بھی تو بہت سے ایسے نابغے موجود ہیں جنہیں اپنے انسان ہونے کا نہیں معلوم اور وہ جانوروں کی سی حرکات کرتے ہیں۔ البتہ "کتکا" لکڑی کے اس مستطیل ٹکڑے کو کہا جاتا ہے جس سے دھوبی کپڑوں پر تشدد کرتے ہیں تاکہ کپڑوں کا اندرونی میل باہر آسکے۔ پولیس والے بھی اسی مقصد کے لیے کتکا استعمال کرتے ہیں مگر وہ لکڑی کا نہیں ہوتا چنانچہ اسے چھتر کہا جاتا ہے۔←  مزید پڑھیے

عوام کا اعتماد مزید مجروح نہ کیجیے ۔۔۔محمد اسد شاہ

مکالمہ←  مزید پڑھیے

عجیب لوگ تھے۔۔۔ اللہ والے/عدیل رضا عابدی

ہر برس محرم الحرام کی آمد کے ساتھ میرا ماضی مجھے آ لپکتا ہے، خود کو آم کے درخت کے سائے میں سہ پہر 3 بجے لکڑی کی  چوکی پر بیٹھا ہوا پاتا ہوں۔ “خالہ” جنہوں نے میری ماں کو←  مزید پڑھیے

مکالمہ کی تیسری سالگرہ۔۔۔۔محمد حسنین اشرف

فیس بک کی اردو دان دنیا میں جب قدم رکھا تو گوشہ نشین سا ہو رہا کیونکہ اس میدان میں قلم اٹھانے والوں میں فرنود اور حسنین جمال ایسے نام شامل تھے۔ فرنود کی تحاریر تھیں جس نے اردو زبان←  مزید پڑھیے

چائے چاہیے۔۔۔۔ناصر خان ناصر

چائے چاہیے کونسی جناب؟ لپٹن عمدہ ہے لپٹن ہی تو ہے لپٹن لیجیے لپٹن پیجیے۔۔۔چائے چاہیے؟ کون سی جناب؟ لپٹن عمدہ ہے! لپٹن ہی تو ہے۔ لپٹن دیجیے لپٹن لیجیے لپٹن پیجیے ہمارے زمانے میں اداکارہ روزینہ اور فلمسٹار نرالا←  مزید پڑھیے

کشمیر سے جڑا جنوبی ایشاء کا امن۔۔۔ذوالقرنین ہندل

موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو بخوبی علم ہوتا ہے کہ، جہاں مقبوضہ کشمیر میں برسوں سے انسانیت اور امن کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔وہیں جنوبی ایشاء کا امن بھی داؤ پر لگا ہے۔جنوب ایشیاء میں متنازعہ علاقہ کشمیر،بھارت←  مزید پڑھیے

آدابِ اختلاف۔۔۔شاکرہ نندنی

آدابِ اختلاف کی اصطلاح ہمارے معاشرے میں امن کی طرح ناپید ہے، بہت ہی دکھ کا مقام ہے کہ ہمارے معاشرے میں لفظ پروٹوکول صرف سیاستدانوں کی حفاظت تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے، کسی کی رائے کا←  مزید پڑھیے

مکالمہ کی تیسری سالگرہ اور انعام رانا۔۔۔عامر کاکازئی

کوئی چار سال پہلے ہمارے دوست، بھائی ثاقب ملک نے ہماری ہمت افزائی کی کہ ہم لکھیں۔ پوچھا کہ کون چھاپے گا۔۔ بولے کہ ہم اپنی سائیٹ پر چھاپیں گے۔ اس طرح ہم نے لکھاریوں کے میدان میں قدم رکھا۔←  مزید پڑھیے

ہندو دہشتگردی تاریخی پسِ منظر میں۔ دہشت گردی ہندو کی رگ رگ میں رچی بسی ہے!

برصغیر بالخصوص پاکستان کے مسلمان آج بھاتی ہندوؤں کی منظم دہشتگردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی ہندو کی رگ رگ میں رچی بسی ہے۔ اٹھارویں صدی عیسوی کے وسط میں ہندو دہشت گرد سورج←  مزید پڑھیے

رٹو طوطے۔۔۔۔نادیہ عنبر لودھی

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے – اس تنزلی کا سب سے زیادہ شکار تعلیم کا میدان ہے -نصاب برسوں پرانا رائج ہے -وہی گھسے پٹے طریقے ہیں -یہاں گریڈز اہم ہیں لہذا رٹو طوطے کامیاب ہیں -شوقیہ پڑھنے  والوں←  مزید پڑھیے

میڈیٹیشن۔ آغاز کی طرف سفر۔۔۔۔۔ڈاکٹر اشفاق احمد

(مِیڈیٹیشن کے حوالے سے ایک مضمون کا آغاز کیا ہے۔ اس موضوع کا پورا احاطہ اس ایک تحریر میں ممکن نہیں لہذاس پراٹھنے والے سوالات کے جوابات اور مزید تفصیل آئندہ جاری رہے گی انشاءاللہ) آپ نے میڈیٹیشن کا نام←  مزید پڑھیے

سیب۔۔۔عنبر عابر

چہار سو رات کا ہولناک اندھیرا سرسرا رہا تھا اور فضا میں گولوں کی گھن گرج سنائی دے رہی تھی. ایک سنسان گھر کے تاریک کمرے میں نو سالہ احمد اپنی چودہ سالہ بہن رمشا سے چمٹا ہوا تھا۔رمشا اس←  مزید پڑھیے

مکالمہ کے تین سال۔۔۔۔رحمن عباس

انعام رانا کی ادارت میں ایک ہمہ وقت سرگرم ٹیم کے ساتھ مکالمہ نے تین سال مکمل کر لیے ہیں اور یہ تین سال خود اس بات کی شہادت ہیں کہ مکالمہ جس ڈھب کی صحافت اردو قارئین کے سامنے←  مزید پڑھیے

مکالمہ کی سالگرہ۔۔۔آصف محمود

مکالمہ کو تین سال ہو گئے ۔ مبارک سلامت کا شور ہے اور میں بھی برادرم انعام رانا کی کامیابی اور کامرانیوں کی دعا ئیں لیے مبارک دینے آیا ہوں لیکن اپنا معاملہ وہی غالب والا ہے : اپنا احوال←  مزید پڑھیے

ملحد کا حسین۔۔۔ انعام رانا

محرم شروع ہوتے ہی کچھ لوگ غم کرتے ہیں، کچھ ملمع تو کچھ طعن و تشنیع کو مذہبی عقیدت سے شروع کر دیتے ہیں۔ اک طعنہ اکثر شروع ہو جاتا ہے کہ سارا سال ملحد رہنے والے اب شیعہ ہو←  مزید پڑھیے

مکالمہ، تیسری منزل پر پہنچ گیا۔۔۔۔محمود شفیع بھٹی

آج مکالمہ ڈاٹ کام کی تیسری سالگرہ ہے۔ مطلب کہ آن لائن اس مطالعاتی جریدہ کی اشاعت کو تین برس ہوگئے۔ میرا بطور لکھاری آغاز ہم سب سے ہوا۔ جہاں پر قبلہ عدنان کاکڑ صاحب نے میری لکھنے کی تکنیک←  مزید پڑھیے

مکالمہ کی تیسری سالگرہ۔۔۔۔ربیعہ فاطمہ بخاری

مکالمہ آج پورے تین سال کا ہو گیا۔ میں بہت خواہش رکھنے کے باوجود بھی بوجوہ آج کے خاص دن پر مکالمہ کیلئے کچھ خاص نہیں لکھ پائی۔ مجھے تین، چار سال ہو گئے آن لائن لکھتے ہوئے۔ اس سے←  مزید پڑھیے

مکالمہ کی سالگرہ پر دانشوروں کے تاثرات

   ←  مزید پڑھیے