نگارشات    ( صفحہ نمبر 606 )

یہ لوگ فرشتے ہیں؟ خدا ہیں؟ کیا ہیں؟۔۔۔ماریہ علی

اگر دنیا کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تنگ نظر اور زمانے کے تقاضوں کو مدنظر نہ رکھ کر چلنے والی قومیں پسماندہ ہی رہتی ہیں۔آج سے کچھ دہائیاں←  مزید پڑھیے

تحریکِ انصاف کا واٹس ایپ انصاف ، قوم کو مبارک ہو۔۔۔۔احسن بودلہ

مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللّہ کے خلاف منشیات برآمدگی کیس میں جب ان کے وکیل  فرہاد علی شاہ نے اپنے دلائل مکمل کیے تو عدالت کی طرف سے کاروائی کو ایک گھنٹے کےلیے روک دیا گیا ۔←  مزید پڑھیے

یہ کس کی زیست میں مسند ِاقتدار آگیا؟۔۔۔۔محمد وقار اسلم

اب تک میں اور ایف بی آر اتنی ریکوری نہ کر سکی تھی ملک میں کسیلا بحران امڈ آیا تھا سرمایہ داروں نے انویسٹمنٹ نکال لی تھی۔حالت ابتر سے ابتر ہو رہی تھی اور پھر پسندیدہ صنعت کاروں کو حکومت←  مزید پڑھیے

مرا شہر بچا لے اے مولا ۔۔۔۔عامر عثمان عادل

گولیوں کی تڑتڑاہٹ زخمیوں کی آہ و بکا، بازاروں میں تڑپتے انسان، انسانوں کے بہتے لہو سے رنگین گلیاں، بستی پہ ہر سو وحشت اور موت کا چھایا سناٹا ۔۔۔رکیے یہ منظر کشمیر کی وادی کا نہیں یہ تصویر میرے←  مزید پڑھیے

چراغ، یاک اور بیگم۔۔۔۔۔سید مہدی بخاری

پامیر کا دل اور واخان کاریڈور کی وادی بروغل میں دمکتی کرمبر جھیل تک پہنچتے مجھے مسلسل پیدل چلنے کی تھکاوٹ سے بخار ہو چکا تھا۔میرا پورٹر سیف اللہ جھیل سے واپسی والے دن میرے پاس آیا اور بولا “صاحب←  مزید پڑھیے

دی رائزنگ آف شکاگو۔۔۔۔ملک گوہر اقبال خان رما خیل

جب مون سون کی بارشیں شروع ہوتی ہیں تو ہوا کے دوش پر رقص سحاب ہوتا ہے۔ پھوار کا ہلکا سا نقاب حسینہ ء   فطرت کے چہرے پر آویزاں ہوتا ہے۔ ہر طرف سبزہ لہراتا ہے، پھول پتیاں بارش←  مزید پڑھیے

پیشہ ورانہ میدان میں مذہبی آزادی مسلم خواتین کا حق ہے۔۔۔۔راحیلہ کوثر

مجھے یاد ہے کہ جب میں 2012 میں صحافت کی طلبہ تھی تو میرے ادارے کی ان چند طالبات میں میرا بھی شمار ہوتا تھا جو برقعہ،حجاب یا ڈوپٹہ کولازم و ملزوم سمجھتی تھیں اور ہمیں کچھ ان الفاظ میں←  مزید پڑھیے

خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے:وزیر اعظم صاحب کے نام خط۔۔۔سعدیہ سلیم بٹ

خان صاحب! السلام علیکم! میں شروع کروں گی 2007 سے جب زمانہ طالبعلمی ختم ہوا تھا اور ابھی روزگار کی تلاش جاری تھی۔ ایسے میں فارغ وقت گزارنے کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لینا شروع کیا۔ ایک تو یہ کہ←  مزید پڑھیے

اذیت سی اذیت۔۔۔۔محمد منیب خان

میں مبہوت کھڑا ہوں۔ میرے سامنے ایک واقعہ رونما ہوا ہے۔ ایسا واقعہ کہ جس نے مجھ سے میری قوت گویائی چھین لی ہے۔ میں لب کشائی کرنا چاہ رہا ہوں لیکن الفاظ میرے حلق میں اٹک گئے ہیں۔ میری←  مزید پڑھیے

شادی ہمارے بھائی کی۔۔۔ابنِ ریاض

اس برس کی ابتدامیں ہی ہمیں گھر والوں نے بتا دیا تھا کہ چھوٹے بھائی کی شادی کرنی ہے۔ ۔،طے یہ پایا کہ ہماری تعطیلات کے دوران ہی اس فرض سے سبکدوش ہونا ہے،۔ ہم نے بزرگوں کو بہت سمجھایا←  مزید پڑھیے

شہید المحراب عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔۔محمد عمران ملک

نبی اکرم ؐ نے حضرت عمرؓ کو شہادت کی خوشخبری سنائی تھی۔ زندگی کے آخری دنوں میں آپؓ مسلسل دعا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے شہادت عطا فرما اور میری موت آئے تو تیرے حبیب کے شہر میں آئے۔←  مزید پڑھیے

بہت سی ہاجرائیں۔۔۔ہما

عورت کو محبت کی اک بوند ملتی ہے تو وہ بارش سمجھ کر اس میں بھیگنے لگتی ہےاور مرد، مرد کیا کرتا ہے اک بوند پھینک کر عورت کے پاگل پن کا تماشہ دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ہم “چینل کے ڈرامہ←  مزید پڑھیے

مکالمہ کی تیسری سالگرہ۔۔۔۔حسین مرزا

ہوا کچھ یوں تھا کہ  مجھے اِس بات کا کہا گیا تھا کہ کوئی الفاظ لکھو، جو مکالمہ کی ویب سائٹ کے بارے میں کچھ بتائیں، کیونکہ اِس کے تین سال پورے ہو چکے ہیں۔ سچ بولوں! سچ کا کس←  مزید پڑھیے

علمِ دین اور دنیاوی مناصب۔۔۔۔حافظ صفوان محمد

دین کا علم حاصل کرنے سے کیا مقصود ہونا چاہیے، یہ سوال برِ عظیم میں اس وقت سے گردش میں ہے جب علمِ دین حاصل کرنے والوں کو مدد معاش کے لیے قرار واقعی عملی میدان میں اترنا ٹھہرا اور←  مزید پڑھیے

تلاش گمشدہ علمائے حق ۔۔۔سید عارف مصطفٰی

میں کئی روز سے سخت مضطرب ہوں کیونکہ امت پہ عجب سخت وقت آکے پڑا ہے اور خود کو زور و شور سےانبیاء کا وارث ٹھہرانے والے علمائے کرام لاپتہ ہیں، خصوصاً وہ حضرت کہ نامور و مشہور فنکاروں سے←  مزید پڑھیے

مطالعہ کشمیر۔۔۔علی اختر

پاکستان کے نام میں لفظ  “ک”کشمیر کی نمائندگی کرتا ہے اور اسی سے ظاہر ہے کہ  کشمیر ہماری شہ رگ ہے ۔ بد قسمتی سے گزشتہ ستر برس سے ہمارے کشمیری بھائی  ہندوستان کی قابض فوج کے ظلم و بربریت←  مزید پڑھیے

فروا۔۔۔۔۔نادیہ عنبر لودھی

وہ بھولی بھالی شکل وصورت والی معصوم بچی تھی جس کی عمر آٹھ سال تھی اس کا نام فروا تھی -اس کے والدین ملازمت پیشہ تھے -ماں ایک اسکول میں استانی تھی اور باپ ایک سرکاری محکمے میں ملازم تھا←  مزید پڑھیے

کالی بھیڑیں اور سفید بھیڑیے۔۔۔عزیز خان

“مینوں مارو گے تے نئیں ؟میں اک گل پوُچھنی سی تُسیں مارنا کتھوں سیکھیا اے؟” یہ ہیں وہ الفاظ جو مرحوم صلاح الدین نے پولیس افسر کو تفتیش کے دوران کہے اور وہ پولیس والا بولتا ہے میں تھانیدار ہوں←  مزید پڑھیے

یونیفارم والے قاتلوں کے گینگ سے مُردے صلاح الدین کا سوال۔۔۔۔رمشا تبسم

یہ دنیا ہم جیسے کئی  انسانوں کے لئے اب رہنے کے قابل نہیں یا شاید ہم ہی اس دنیا میں رہنے کے قابل نہیں کیونکہ ظلم و جبر , زیادتی قتل و غارت کے دور میں ایک عام آدمی واقعی←  مزید پڑھیے

سڑسٹھ الفاظ کے وزن تلے دبی ہوئی دنیا۔۔۔۔حبیب شیخ

جب یہ 67 الفاظ لکھے گئے تو لکھنے والے کو بھی یقیناً اس کا اندازہ نہیں ہوگا کہ اس مختصر تحریر کا نتیجہ اس کی سوچ کی وسعتوں سے کہیں زیادہ ہو گا۔ اگر ہم دنیا کی سیاست اور معیشت←  مزید پڑھیے