نگارشات    ( صفحہ نمبر 672 )

آن لائن صحافت اور سوشل میڈیا میں فرق۔۔۔محمد جواد رشید

1970 میں ٹیلی ڈیکست کے نام سے یو کے میں متعارف ہونے واال ٹول ڈیجیٹل صحافت کا نقطہ آغاز تسلیم کیا جاتا ہے. یہ ایک نظام تھا جس میں صارف کو موقع دیا جاتا تھا کے وہ پہلے کون سی←  مزید پڑھیے

پولیو ویکسین اور ہماری فکری معذوری۔۔۔علیم احمد

آپ سازشی نظریات پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں، مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں۔ لیکن ایک بات آپ سب سے پوچھنا چاہتا ہوں، خاص کر اُن سے جو جاگتے ذہن رکھنے کے دعویدار ہیں:   مان لیا کہ پولیو←  مزید پڑھیے

عورت کا اپنا گھر۔۔۔راحیلہ خان

چوتھی منزل تک پہنچتے پہنچتے میری بری حالت ہو گئی  ۔ایک سیڑھی بھی نہ  چڑھی جا رہی تھی وہیں سے ہنستے ہوئے آواز لگائی ۔۔۔لے جاؤ کوئی مجھے ۔ انکو خبر تو پہلےسےتھی کہ ناشتے پر پہنچے گے۔ اتنے طویل←  مزید پڑھیے

پہلی رات کے خون کی پیاس۔۔۔وقار عظیم

کل رات ٹوئٹر پر ایک خبر پڑھی کہ ایک سولہ سالہ لڑکی کو محض اس لیے قتل کر دیا گیا کہ وہ  “کنواری: ثابت نہ  ہو سکی۔۔۔کافی لوگ اس وقت چونک گئے ہوں گے کہ ایسے بھی لوگ دنیا میں←  مزید پڑھیے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں۔۔عنائیت اللہ کامران

غریب عوام، غلام بے دام بن چکی ہے۔ آنکھوں میں سہانے سپنے سجا کر، تبدیلی کے ترانوں کی دھنوں پر مدہوش ، ملک کے فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر ایک نئے نظام اور نئے پاکستان کی بنیاد کا←  مزید پڑھیے

ٹھرکی کہیں یا مہا ٹھرکی۔۔۔۔فوزیہ قریشی

آج ایک گورے کو پہلی بار ٹرین میں آنکھ مارتے دیکھا تو پاکستان کی یاد تازہ ہوگئی۔ ایک ایک کرکے محلے اور کالج کے باہر ملنے والے سارے عظیم ٹھرکی آنکھوں کے گرد گھومنے لگے۔ لگا میں نے پھر سے←  مزید پڑھیے

چھپا بچہ ۔۔۔ نادیہ ناز

  بحیثیت انسان دیکھا جائے تو ہر انسان خواہ مرد ہو یا عورت بچہ ہو یا بڑا اس میں ایک چھوٹا سا بچہ چھپا ہوتا ہے (اب آپ بچہ چھپنے کا یہ مطلب نہ سمجھیں کہ حقیقی بچہ چھپا ہوتا←  مزید پڑھیے

پُھلاں بی۔۔۔محمد خان چوہدری

یہ کہانی، لفظ بہ لفظ دھیرے دھیرے پڑھنے سے سمجھ آئے گی! “پھُلاں بی بی” عجیب زمانہ تھا، نر پسندی، کا یہ حال کہ کسی کے بیٹی پیدا ہونے پر باقاعدہ تعزیت کی جاتی،اور کسی کی گاۓ وچھی دے،گھوڑی وچھیری←  مزید پڑھیے

موت کے سوداگر۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی/قسط4

دس اقساط کی چوتھی قسط سکندر کا سانس جیسے رکا ہوا تھا وہ اتنا ڈرپوک یا کمزور دل کا مالک نہیں تھا مگر اُسے یہ پریشانی ہو رہی تھی کہ اگر آنے والے اُسے دیکھ لیں تو لازمی بات ہے←  مزید پڑھیے

عزت برائے فروخت۔۔۔قراة العین خالد

  وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔۔۔ اگر دیکھا جائے تو یہ مصرع دنیا کے ہر ذی شعور انسان نے پڑھا بھی ہو گا اور یقیناً اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتا←  مزید پڑھیے

ہیبت/ خوف کا تھیٹر ۔۔۔۔احمد سہیل

جدید تھیٹر اور ڈرامے میں ریڈیکل اور نفس دانش کے حوالے سے کئی رجحانات سامنے آئے۔ جن میں ناگہانی خوف وہیبت/ PANIC کے تھیٹریٹکل نظرئیے نے ساٹھ کی دہائی میں مغرب میں فکری اور فنکارانہ انقلاب پیدا کردیا۔ “پینک تھیٹر”←  مزید پڑھیے

ملک میں تیل نکلے گا!عوام کا؟ ۔۔۔۔محمد وقار اسلم

مجھے نہیں معلوم کہ  اہل استنباط کیا رائے استوار کریں گے مجھے ناامیدی  پھیلانے والا ایجنٹ کہیں گے یا موردالزام ٹھہرائیں گے کہ میں نے ان کے نزدیک حقائق کو مندمل کرنے کی گردان کی ہے۔پاکستاں میں آنشور ڈرلنگ کا←  مزید پڑھیے

اب تک ہماری عمر کا بچپن نہیں گیا ۔۔۔۔۔عبدالباسط ذوالفقار

کچھ دنوں سے پے در پے چند ایسے مضامین پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جن میں بچپن کے قصے، سہانے دنوں کی یادیں تھیں۔ جب شام بھی ہوا کرتی تھی اور اب تو صبح کے بعد سیدھی رات ہو جاتی ہے۔←  مزید پڑھیے

اذان کی مشروعیت اور فضائل احادیث کی روشنی میں۔۔۔مولانا رضوان اللہ پشاوری

دین اسلام میں جس طرح نماز کو اہمیت حاصل ہے تو بالکل اسی طرح اذان بھی ہے جو کہ اسلام کی اہم ستون نماز کی طرف بلاوے کاذریعہ ہے،آج کی اس تحریر میں اذان کی مشروعیت اورفضائل بیان کریں گے۔←  مزید پڑھیے

نیچاں دی اٙشنائی۔۔۔۔ایم ۔اے۔صبور ملک

میاں محمد بخش نے کہا تھا نیچاں دی  اٙ شنائی کولوں فیض کسے نئیں  پایا کیلر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا وہی ہوا جس کا ڈر تھا،نیچاں دی آشنائی نے وہ گل کھلا  دئیے کہ پرائے تو پرائے خود←  مزید پڑھیے

کیا ہم کچرے کو لاوے میں پھینک کر تلف نہیں کرسکتے؟۔۔۔ضیغم قدیر

یہ وہ سوال ہے جو بڑھتے ہوۓ کچرے کو دیکھ کر کچھ بڑے دماغوں میں اٹھا، سنہ 2002 ایتھوپئین سائنسدانوں نے لاوے میں کچرا تلف کرنے کا تجربہ کیا تھا اس تجربے کے کیا نتائج تھے اس بات کو بعد←  مزید پڑھیے

گڑیا ۔۔۔۔ارشد علی/افسانہ

سردیوں کے دن شروع ہو چکے تھے ۔۔۔اور اماں بھی اسے متعد د بار کہہ چکی تھی کہ رضائیاں بستر نکال کر دھوپ لگوالے تاکہ استعمال کے قابل ہو سکیں لیکن ایک تو اس کی صبح سے شام تک کی←  مزید پڑھیے

لٹیرا تبدیل کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟۔۔۔فراست محمود

ڈوبنا اپنا مقدر ہے ذرا دیکھ تو لیں کون ساحل پہ کھڑا ہم کو سدا دیتا ہے کہتے ہیں زندگی ایک ایسا کھیل جس میں آپ جیت نہیں سکتے ہیں برابر نہیں ہو سکتے ہیں اور نہ ہی آپ نہ←  مزید پڑھیے

چندن جیسا سخنور۔۔۔جاوید حیات

اردو کے چند سوالات یاد کرنے کے بعد سفید پوشاک میں ملبوس وہ چار پانچ لوگ ہمارے سامنے سے گزرتے ہوئے خضر علیہ السلام کے ڈیرے کی طرف چل پڑتے. اس وقت غالباً میں چھٹی جماعت میں پڑھ رہا تھا.←  مزید پڑھیے

پشاور جلسے میں منظور پشتین کی تقریر کے غور طلب نکات۔۔۔۔ خالد داؤد خان

1۔ فی الحال عدم تشدد اور بہت احترام سے تمھیں سمجھایا جا رہا ہے، تمھیں نعرے سے تکلیف ہے لیکن نعرہ ایک معمولی سی چیز ہے ۔ پشتون نوجوان تو ابھی ریہرسل کر رہے ہیں ۔ وہ وقت آئیگا جب←  مزید پڑھیے