کل رات ٹوئٹر پر ایک خبر پڑھی کہ ایک سولہ سالہ لڑکی کو محض اس لیے قتل کر دیا گیا کہ وہ “کنواری: ثابت نہ ہو سکی۔۔۔کافی لوگ اس وقت چونک گئے ہوں گے کہ ایسے بھی لوگ دنیا میں← مزید پڑھیے
غریب عوام، غلام بے دام بن چکی ہے۔ آنکھوں میں سہانے سپنے سجا کر، تبدیلی کے ترانوں کی دھنوں پر مدہوش ، ملک کے فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر ایک نئے نظام اور نئے پاکستان کی بنیاد کا← مزید پڑھیے
آج ایک گورے کو پہلی بار ٹرین میں آنکھ مارتے دیکھا تو پاکستان کی یاد تازہ ہوگئی۔ ایک ایک کرکے محلے اور کالج کے باہر ملنے والے سارے عظیم ٹھرکی آنکھوں کے گرد گھومنے لگے۔ لگا میں نے پھر سے← مزید پڑھیے
بحیثیت انسان دیکھا جائے تو ہر انسان خواہ مرد ہو یا عورت بچہ ہو یا بڑا اس میں ایک چھوٹا سا بچہ چھپا ہوتا ہے (اب آپ بچہ چھپنے کا یہ مطلب نہ سمجھیں کہ حقیقی بچہ چھپا ہوتا← مزید پڑھیے
یہ کہانی، لفظ بہ لفظ دھیرے دھیرے پڑھنے سے سمجھ آئے گی! “پھُلاں بی بی” عجیب زمانہ تھا، نر پسندی، کا یہ حال کہ کسی کے بیٹی پیدا ہونے پر باقاعدہ تعزیت کی جاتی،اور کسی کی گاۓ وچھی دے،گھوڑی وچھیری← مزید پڑھیے
دس اقساط کی چوتھی قسط سکندر کا سانس جیسے رکا ہوا تھا وہ اتنا ڈرپوک یا کمزور دل کا مالک نہیں تھا مگر اُسے یہ پریشانی ہو رہی تھی کہ اگر آنے والے اُسے دیکھ لیں تو لازمی بات ہے← مزید پڑھیے
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔۔۔ اگر دیکھا جائے تو یہ مصرع دنیا کے ہر ذی شعور انسان نے پڑھا بھی ہو گا اور یقیناً اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتا← مزید پڑھیے
جدید تھیٹر اور ڈرامے میں ریڈیکل اور نفس دانش کے حوالے سے کئی رجحانات سامنے آئے۔ جن میں ناگہانی خوف وہیبت/ PANIC کے تھیٹریٹکل نظرئیے نے ساٹھ کی دہائی میں مغرب میں فکری اور فنکارانہ انقلاب پیدا کردیا۔ “پینک تھیٹر”← مزید پڑھیے
مجھے نہیں معلوم کہ اہل استنباط کیا رائے استوار کریں گے مجھے ناامیدی پھیلانے والا ایجنٹ کہیں گے یا موردالزام ٹھہرائیں گے کہ میں نے ان کے نزدیک حقائق کو مندمل کرنے کی گردان کی ہے۔پاکستاں میں آنشور ڈرلنگ کا← مزید پڑھیے
کچھ دنوں سے پے در پے چند ایسے مضامین پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جن میں بچپن کے قصے، سہانے دنوں کی یادیں تھیں۔ جب شام بھی ہوا کرتی تھی اور اب تو صبح کے بعد سیدھی رات ہو جاتی ہے۔← مزید پڑھیے
دین اسلام میں جس طرح نماز کو اہمیت حاصل ہے تو بالکل اسی طرح اذان بھی ہے جو کہ اسلام کی اہم ستون نماز کی طرف بلاوے کاذریعہ ہے،آج کی اس تحریر میں اذان کی مشروعیت اورفضائل بیان کریں گے۔← مزید پڑھیے
میاں محمد بخش نے کہا تھا نیچاں دی اٙ شنائی کولوں فیض کسے نئیں پایا کیلر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا وہی ہوا جس کا ڈر تھا،نیچاں دی آشنائی نے وہ گل کھلا دئیے کہ پرائے تو پرائے خود← مزید پڑھیے
یہ وہ سوال ہے جو بڑھتے ہوۓ کچرے کو دیکھ کر کچھ بڑے دماغوں میں اٹھا، سنہ 2002 ایتھوپئین سائنسدانوں نے لاوے میں کچرا تلف کرنے کا تجربہ کیا تھا اس تجربے کے کیا نتائج تھے اس بات کو بعد← مزید پڑھیے
سردیوں کے دن شروع ہو چکے تھے ۔۔۔اور اماں بھی اسے متعد د بار کہہ چکی تھی کہ رضائیاں بستر نکال کر دھوپ لگوالے تاکہ استعمال کے قابل ہو سکیں لیکن ایک تو اس کی صبح سے شام تک کی← مزید پڑھیے
ڈوبنا اپنا مقدر ہے ذرا دیکھ تو لیں کون ساحل پہ کھڑا ہم کو سدا دیتا ہے کہتے ہیں زندگی ایک ایسا کھیل جس میں آپ جیت نہیں سکتے ہیں برابر نہیں ہو سکتے ہیں اور نہ ہی آپ نہ← مزید پڑھیے
اردو کے چند سوالات یاد کرنے کے بعد سفید پوشاک میں ملبوس وہ چار پانچ لوگ ہمارے سامنے سے گزرتے ہوئے خضر علیہ السلام کے ڈیرے کی طرف چل پڑتے. اس وقت غالباً میں چھٹی جماعت میں پڑھ رہا تھا.← مزید پڑھیے
1۔ فی الحال عدم تشدد اور بہت احترام سے تمھیں سمجھایا جا رہا ہے، تمھیں نعرے سے تکلیف ہے لیکن نعرہ ایک معمولی سی چیز ہے ۔ پشتون نوجوان تو ابھی ریہرسل کر رہے ہیں ۔ وہ وقت آئیگا جب← مزید پڑھیے
جس طرح بعض مقامات (مثلاًمسجد الحرام اورمسجد نبوی وغیرہ) دوسرے مقامات پرفضیلت رکھتے ہیں اوران مقامات پر نیکیوں کے اجر و ثواب میں بھی کئی گنااضافہ ہوجاتاہے۔ اسی طرح کچھ دن ، مہینے اورساعتیں زیادہ فضیلت والی ہیں۔ان میں نیکیوں← مزید پڑھیے
ہم سب نے بچپن میں گلیوں میں بھیک مانگنے آنے والے دولے شاہ کے چوہے دیکھے ہیں۔چند صحت مند مرد حضرات ہاتھوں میں چھڑی پکڑ کر ان کے پیچھے ہوتے اور یہ دولے شاہ کے چوہے سبز چولا پہنے,گلے میں← مزید پڑھیے
2 فروری، 1974 کے کسی دن کا کوئی وقت تھا۔ میں سی ایم ایچ اسپتال ، راولپنڈی کے ایک کمرے میں اپنی ماں کے ہاتھ پہ سر رکھے اُسے دیکھے چلے جا رہا تھا۔ وہ نیم کوما Coma حالت میں← مزید پڑھیے