نگارشات    ( صفحہ نمبر 685 )

پاکستان کی موزہ چور فیمینسٹس۔۔۔۔علی اختر

مضمون کے شروع ہی میں عرض کرنا تھا کہ  مضمون نگار ایک غیر جانب دار معصوم سا انسان ہے جسکا لیفٹ اور رائٹ ونگ وغیرہ سے کوئی  تعلق نہیں مگر محض تحقیقی بنیادوں پر اپنا ناقص تجزیہ قارئین کے سامنے←  مزید پڑھیے

کیا ہمیں جدید ہتھیار بنانے چاہیے؟ ۔۔۔۔۔ملک گوہر اقبال خان رما خیل

ہم پشاور سے جہلم تک با پیادہ سفر کرتے ہوئے پہنچے اور راستے میں کچھ کام بھی کرتے تھے یعنی باغیوں سے اسلحہ چھیننا اور ان کو پھانسیوں پر لٹکانا۔ اور یہ معلوم ہونے پر کہ اس قسم کی موت←  مزید پڑھیے

پردے میں رہنے دو۔۔۔۔۔نزہت وسیم

 ایتھوپیا میں رہنے والا خالد نت نئے قہوے بنانے اور ان کے اثرات جانچنے کا شوقین تھا ۔ وہ بھیڑ بکریاں چراتا اور اپنی بھیڑوں کو چرانے کے لیے گھاس پھونس کے میدان ڈھونڈتا رہتا ۔ اسی دوران وہ اپنے←  مزید پڑھیے

مچھلی سے گدھے تک ۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی/دوسری،آخری قسط

 جنرل ضیاءالحق کے دورِ اقتدار میں سب سے زیادہ نقصان نظامِ تعلیم کو پہنچا، عہدِ رفتہ کی عظمتوں اور امتِ مسلمہ کے سنہری دور کے گُن گانا ہی حقیقی قابلیت مانا گیا، جبکہ دورِ حاضر کے علمی تقاضے اور مستقبل←  مزید پڑھیے

ایمنسٹی یا رسہ گیری ۔۔۔۔اعظم معراج

وہ جدوجہد اور قربانیوں سے حاصل کی گئی ایک فلاحی ریاست تھی بانیان ریاست کے جلدی فوت ہو جانے سے ہوس زرو اقتدار کے پجاری اس کے مالک بن بیٹھے حکمرانوں کے ساتھ مل کر اشرافیہ لوٹ کھسوٹ اور معاشی←  مزید پڑھیے

انسانی معاشرہ ہمیشہ “پدرسری “کیوں رہا ہے؟۔۔۔۔محمد مشتاق

ہماری لبرل خواتین کو یہ گلہ رہتا ہے ، اور ان کی تان میں تان ملانے کا کام ہمارے بعض “نان اسلامسٹ مولوی” بھی کرتے ہیں ، کہ ہمارا معاشرہ پدرسری ہے ، ہماری سوچ پدر سری ہے، قرآن و←  مزید پڑھیے

سر سبز و شاداب پاکستان۔۔۔۔نصیر اللہ خان

پاکستان کی ترقی و خوشحالی سرسبز و شادابی میں مضمر ہے۔ پاکستان کے مستقبل کے پیش نظر ہریالی اور ہرا بھرا پاکستان سب کیلئے اچھا اور نیک شگون ہے۔ جہاں ہر طرف ہریالی ہو ،کھیت کھلیان  ہوں ۔ سینکڑوں میلوں←  مزید پڑھیے

آٹھ مارچ کا عورت مارچ۔۔محمد حسنین اشرف

مابعد الجدیدی ذہن مسائل کے حل سے زیادہ مسائل سے حظ اٹھاتا ہے. اور اسی کے لطف میں زندگی بسر کردیتا ہے۔ آپ سوشلزم کی ابحاث دیکھیے، غربت کی لاش پر سالوں ہمارے دوست بین کرتے رہے، بجائے حل تلاش←  مزید پڑھیے

ہمارا مطالبہ توازن ہےبرتری نہیں۔۔۔ ایمان شاہ

ایڈیٹر نوٹ: ادارہ مکالمہ آزادی اظہار رائے پر مکمل یقین رکھتے ہوئے ہر جانب کی رائے شائع کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ ذیل مضمون کو باقی کے مضامین کی طرح ایک جانب کی رائے سمجھا جائے۔   عورت آزادی مارچ←  مزید پڑھیے

قسمت اور مقدر پر میرا اپنا بیانیہ ۔۔۔۔نذر محمد چوہان

دنیاوی زندگی کے مقابلہ کے اونچ نیچ کو قسمت کہا جاتا ہے اور قدرت کے معاملات کو مقدر ۔ بہت ہی سادہ ، اس سے بہتر شاید ہی کوئی  تعریف ہو ان دونوں کی ۔ جب بھٹو جمہوری طور پر←  مزید پڑھیے

یہ کیسا مرد ہے بھائی؟۔۔۔۔۔دُر بی بی

‎بلوچ معاشرے میں فن و فنون کی بڑی قدر ہوتی ہے، فُٹ بال ہو یا پینٹنگ یا گائیکی ہو یا کوئی اور فن جو نوجوان کے پاس ہو ، اسے ہم بہت سراہتے ہیں اور سراہنا بھی چاہیے کیوں کہ←  مزید پڑھیے

ڈگریاں اور پروفیشنل تعلیم۔۔۔مدثر سلیم میاں

ٹیوٹا ، ڈاہٹسو ، ڈاٹسن ، ہینو ، ہونڈا ،سوزوکی ، کاواساکی ، لیکسس ، مزدا ، مٹسوبشی ، نسان ، اسوزو اور یاماہا یہ تمام برانڈز جاپان کی ہیں جبکہ شیورلیٹ ، ہونڈائی اور ڈائیوو جنوبی کوریا بناتا ہے←  مزید پڑھیے

مارچ میں مارچ اور عورت۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

ایک سماج جو مختلف طبقات میں تقسیم ہو کی عورتوں کے استحصال کی جڑیں خاندان میں عورت کے مخصوص کردار میں موجود ہیں. ایک خاندان میں بطور صرف ‘نسل بڑھانے والا فرد’ عورت کے خاندان کے اندر اور اُسی کے←  مزید پڑھیے

عالمی یومِ خواتین۔۔۔۔ربیعہ فاطمہ بخاری

عورت کو کبھی ہیچ سمجھنا نہ خدارا عورت کبھی مریم، کبھی حوّا، کبھی زہرہ۔۔۔ ‌ہم نے کل عالمی یومِ خواتین منایا۔ کوئی   شک نہیں کہ آگہی بہت بڑی نعمت ہے۔ کوئی بھی انسان جو اپنے حقوق اورفرائض سے مکمل←  مزید پڑھیے

انڈیا کی فوجی ٹوپی۔۔۔۔شجاعت بشیر عباسی

گزشتہ دن ٹی وی آن کیا چینل سرچ کرتے ہوئے ایک اسپورٹس چینل پر نظر ٹھہری لائیو کرکٹ میچ جاری تھا انڈیا فیلڈنگ کر رہا تھا جبکہ آسٹریلیا کی بیٹنگ جاری تھی۔ دونوں آسٹریلین اوپنرز دل کھول کر انڈین بولرز←  مزید پڑھیے

عذرِ حیا۔۔۔۔ سلیم مرزا

خواتین کے عالمی دن کے موقع پہ میں ان تمام عورتوں کا مشکور ھوں جن کا میری زندگی میں کسی نہ کسی حوالے سے کردار رھا، میری ماں ۔۔۔ جس نے پلاسٹک کی چپلوں سے مجھے ٹھوک بجا کر “گنئے←  مزید پڑھیے

میرا شہر۔۔۔۔ طاہر حسین

میرا شہر کونسا ہے۔۔ چکوال؟ جہاں میری نال گڑی۔ جس کی مٹی میں میری قیمتی امنانتیں دفن ہیں۔ مگر یہ شہر میرا کیسے ہوا۔۔ یہاں تو بس زندگی کے ابتدائی چند سال گزرے۔ ہاں یہ خواہش میرے دل میں ضرور←  مزید پڑھیے

مچھلی سے گدھے تک۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی/پہلی قسط

یہ ساٹھ کی دہائی کا اختتام تھا، رنگ پور گاؤں کے پانچ سو کے قریب گھرانے مقامی دریا کے کنارے آباد ،بلکہ شاد تھے۔ یہاں کی بہترین آب وہوا کا متبادل دنیا میں کہیں اور نہ تھا، مقامی افراد کا←  مزید پڑھیے

خوشی اور اس کا وجود۔۔۔۔حمزہ حنیف مُسائد

زندگی بہتر اور پُرسکون ہوتی ہے جب ہم خوش ہوتے ہیں لیکن زندگی بہترین تب ہوتی ہے جب دوسرے ہماری وجہ سے خوش ہوں یہ مثالیں اب تو عام سی ہوگئی ہیں لیکن یہ پتہ نہیں کہ ہم کب اتنی←  مزید پڑھیے

آزادی نسواں کے نام پر جہالت کا فروغ۔۔۔۔صدف مرزا

آزادئ نسواں کے نام پر جہالت کا فروغ نعروں کے نام پر لچر پن حقوق کے نام پر درونِ ذات کی غلاظت بینرز پر لکھ کر گلی کوچوں میں بوچھاڑ کرنے کی کوشش میں ہلکان معزز خواتین سے میرا محض←  مزید پڑھیے