سیاست، - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 3 )

مولوی سرخے: موہانی و بھاشانی/رشید یوسفزئی

وہ الگ زمانہ تھا جب مولوی بھی سُرخے ہوا کرتے تھے اور بائیں بازو  سے تعلق رکھنا، اشتراکی اقدار کا چیمپئن ہونا علما  کیلئے بھی قابل ِ فخر ہوتا تھا۔ تب سرخا ہونا گالی نہ تھی۔ اشتراکی ہونا معیوب نہ←  مزید پڑھیے

زہرِ ہلاہل کو کہہ نہ سکا قند/محمود چوہدری

ہم سے ساری دنیا ناراض ہی رہتی ہے ۔معتدل لکھنے والے سے کبھی کوئی خوش نہیں ہوتا ۔ کبھی ایک فریق ناراض تو کبھی دوسرا شاکی۔ آج کل ناراض ہونے کی باری ہے ن لیگ اور پی پی پی کے←  مزید پڑھیے

دوڑ پیچھے کو/کبیر خان

اللہ پوچھ نہ کرے، مبد فیض سے اجمل نیازی کو بے نیازی بھرکے عطا ہوئی تھی ۔ محبّی امجد اسلام امجد اورعطا الحق قاسمی کے تابڑ توڑ اور تیکھے جملے ناصرف سالم ہضم کر جاتے تھے بلکہ بسااوقات اپنی گرہ←  مزید پڑھیے

سفارشی آٹا/قمر رحیم

ہمارانظام ِحکومت اور معاشرہ ایک خارش زدہ کُتا ہے۔اس کی جِلد ختم ہو گئی ہے اور گوشت نکل آیا ہے۔ دھوپ سے گوشت جلتا ہے تو اس کی بدبو ہر طرف پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔مکھیاں اس پہ بھنبھنا رہی←  مزید پڑھیے

پارلیمنٹ کا ساتھ دو /نجم ولی خان

میں اس بحث میں جانا ہی نہیں چاہتا کہ کسی بھی مقدمے میں کس کے پاس کیا دلائل ہیں۔ یہ بتانا قانون دانوں کا مسئلہ ہے کہ اگر وزیراعظم کابینہ کے بغیر وزیراعظم نہیں ہے تو چیف جسٹس برادر ججوں←  مزید پڑھیے

عمران خان کیوں نہیں؟/ڈاکٹر اختر علی سیّد

عمران خان کے حامی اپنے نظریات اور خیالات کے اظہار میں جو شدت رکھتے ہیں اس سے ہم سب واقف ہیں۔ میں وقتاً فوقتاً اس شدت کو جانچنے کے لیے فیس بک پر ایک آدھ جملہ لکھ کر صرف یہ←  مزید پڑھیے

ابراہم جان نام کا ایک سیاست دان/قادر خان یوسف زئی

ایک زمانے میں ابراہم جان نام کا ایک سیاست دان تھا۔ جان بہت اثر و رسوخ اور طاقت کا حامل شخص تھا۔ بہت سے لوگوں نے ان کی تقریری قابلیت اور عوام کو متاثر کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے←  مزید پڑھیے

عدلیہ بمقابلہ پارلیمنٹ /نجم ولی خان

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں وزیراعظموں کو پھانسی پرچڑھانے والی، انہیں عہدوں سے ہٹانے والی، انہیں جیلوں میں ڈالنے والی اور مارشل لاوں کو جائزیت عطا کرنے والی عدلیہ ایک مرتبہ پھرآئین، کے نام پر اس پارلیمنٹ کے سامنے کھڑی←  مزید پڑھیے

پاکستانی سیاست؛عقل بڑی کہ بھینس؟-نذر حافی

چیف جسٹس نے الیکشن کرانے کا فیصلہ سنا دیا۔ پاکستانی سیاست میں مزید ہلچل آگئی۔ اس سیاسی ہلچل کو اب ہر طرف سے دین کا ٹچ لگانے کی ضرورت ہے۔ مولوی بھائیوں کے پاس ایک لفظ ہے “عقیدہ”۔ دنیا میں←  مزید پڑھیے

بھٹو ، سپریم کورٹ اور عمران خان/علی نقوی

پاکستانی عدلیہ کی تاریخ سیاہ ہے اور چار اپریل سیاہ ترین دن! میں بھٹو صاحب کی برسی پر پہلے لکھنا چاہتا تھا لیکن سوچا کہ  موجودہ چیف جسٹس محفوظ فیصلہ سنانے سے پہلے شاید ایک بار کلینڈر کی طرف دیکھ←  مزید پڑھیے

ڈی چوک کا تھیٹر/سیّد محمد زاہد

بہت سی فلمیں ہیرو نہیں ولن کے ڈائیلاگ کی وجہ سے مقبول ہوئیں۔ مولا جٹ بہت بڑا نام ہے، لیکن نوری نت کا سوہنیا نہ ہوتا تو فلم سو فی صد فلاپ تھی۔ مسٹر انڈیا کا ‘موگیمبو خوش ہوا’ تو←  مزید پڑھیے

اشرافیہ کا “سرکاراما” اور ریاستی بحران /ناصر منصور

عدالتی بحران جس شدت کے ساتھ اُبھر رہا ہے اس کی جڑیں ملک میں مقتدرہ قوتوں کے درمیان جاری طاقت کے توازن میں تبدیلی کی جنگ سے جوڑنے کے سِوا کوئی چارہ ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک←  مزید پڑھیے

مریم نواز کے جلسے/نجم ولی خان

مسلم لیگ نون والے کہتے ہیں کہ یہ جلسے نہیں ہیں بلکہ صرف ورکرز کنونشن ہیں،جلسے انتخابی مہم میں ہوں گے۔ ابھی مریم نواز بطور چیف آرگنائزر مختلف شہروں میں جا کے وہاں پارٹی عہدیداروں، خواتین، نوجوانوں اور سوشل میڈیا←  مزید پڑھیے

کالے کرتوت والے کالےحاکم/ناصر خان ناصر

برصغیر کی غیر منصفانہ تقسیم پر اتنی قیامت ہرگز نہ ٹوٹتی اگر اسے منظم طریقے سے کروایا جاتا۔ انگریزوں نے ملک چھوڑ کر جاتے جاتے برصغیر کے لوگوں سے اپنی حزیمت کا بھاری انتقام لیا اور جان بوجھ کر اتنی←  مزید پڑھیے

عمران خان واپس آرہے ہیں ؟-نجم ولی خان

یہ بہت سارے لوگ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان دو تہائی اکثریت سے واپس آ رہے ہیں۔ یہ بہت سارے لوگ ننانوے فیصد پی ٹی آئی سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اس سے پہلے یعنی گذشتہ بر س←  مزید پڑھیے

جوڈیشنل اسٹیبلشمنٹ کی سیاست /قادر خان یوسف زئی

عدلیہ   وہ نظام ہے جو قانون کی تشریح اور اطلاق کرتا ہے۔ یہ ملک کے جمہوری فریم ورک کا ایک لازمی جزو ہے اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں←  مزید پڑھیے

پاکستان کا خیر خواہ – کیا واقعی؟/غیور شاہ ترمذی

امریکی اسٹیبلشمنٹ کے وہ اہم ہرکارہ  اگرچہ اپنی زندگی کی 72 ویں سالگرہ آج امریکہ میں منا رہا ہے لیکن وہ پیدا افغانستان کے شہر مزار شریف میں ایک مقامی قبیلہ نورزئی میں 22 مارچ سنہ 1951ء کو ہوا تھا۔←  مزید پڑھیے

سیاسی کارکن کی موت: دوسرا پہلو/نجم ولی خان

کون انکار کرتا ہے کہ موت دکھ بھری ہوتی ہے مگر ایک منطقی سوال ہے کہ کیا اس موت کا سودا آپ نے سب کچھ دیکھتے بھالتے خود کیا ہے یا آپ کے پیاروں پر یہ دکھ جبری مسلط کیا←  مزید پڑھیے

دو سیاسی ایک عدالتی “شاعر” کا کلام/حیدر جاوید سیّد

الحمدللہ عمران خان صحت یاب ہوگئے، ڈاکٹروں نے بھی سیاسی سرگرمیوں کے لئے گرین سگنل دے دیا ہے۔ صحت یابی کے بعد پہلے دن انہوں نے اپنا جو تازہ کلام سنایا اس میں ارشاد ہوا، ” میں بات کرنے کو←  مزید پڑھیے

حکمرانوں کچھ تو خیال کرو/ڈاکٹر ابرار ماجد

اگر غربت کا حل آپ کے پاس نہیں تو کم از کم عوام کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو تو کم کر دیں۔ خزانے سے تنخواہیں اور مراعات لینے والوں کے اندر ظالمانہ تفریق کو ہی ختم کر دیں۔←  مزید پڑھیے