ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 104 )

نوسترادامُس۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(یہ نظم پہلے انگریزی میں لکھی گئی) کہا تھا اس نے کہ پیدائش و فنا دونوں رواں ہیں اپنے مداروں میں آفرینش سے مدار زیست ہے اک دائرے کا قرۃ العین فنا بھی اس کی ہی گردش میں ہے شریکِ←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/عراق اور شام کے حکمرانوں کو اِس مذہبی سیاحت کی اہمیت جانے کب سمجھ آئے گی؟(قسط3)۔۔۔سلمیٰ اعوان

صحرا کی رات دیکھنے کا میرا تجربہ نہیں تھا۔صحرائی شاموں کی دید سے میں شام میں خوب لُطف اندوز ہوئی تھی۔کہیں دمشق میں پل پل نیچے اُترتے سورج کے نظارے، کہیں حلب میں ڈوبتا سورج کہیں حمص میں اس کی←  مزید پڑھیے

ڈاکٹرستیہ پال آنند کی ایک نظم”انٹیگنی سے ایک مکالمہ”۔۔نصیر احمد ناصر

​مختلف ادوار میں کلاسیکی اور ضرب المثل کرداروں کی بازیافت ہر زبان کے شعرو ادب میں پائی جاتی ہے۔ یونانی ادب میں ارسطو کے شمار کردہ ٹریجڈی کے لوازمات میں ایک یہ بھی شامل ہے کہ اسے کس قسم کے←  مزید پڑھیے

مرے زائچے کے اجرام۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یہ جنتری میرے روز و شب کی کہ جس کے برجوں میں زحل و مرّیخ و مشتری زائچے کے اجرام اپنا ڈیرہ جمائے بیٹھے ہیں ہر برس مجھ کو یہ بتاتے ہیں قرض کتنا ہنوز باقی ہے، پیر ِ دوراں←  مزید پڑھیے

تمہاری اور میری ایک ر یکھا تھی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(اکیس برس کی عمر میں لکھی گئی ایک نظم) ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ریکھا بیچ کی انگلی سے چلتی تھی زقندوں میں ہتھیلی کی جسامت پھاند کر میری کلائی تک پہنچتی تھی صعودی اوج کا کوئی ٹھکانہ اب کہاں ہو گا عجب←  مزید پڑھیے

مقابلے کا امتحان (ڈرامہ)۔۔محمد وقاص رشید

کردار۔ پروردگارو شہنشاہِ عالم۔ فرشتے اور جنات ، ابلیس۔ آدم۔ حوا (پہلا سین) نور کا ایک دربار سجا ہوا ہے۔ ۔یہ دربار ازل سے ابد تک کے شہنشاہ کا دربار ہے۔ شہنشاہِ عالم۔۔۔ باشاہِ کائنات خدا کا دربار بہت سے←  مزید پڑھیے

سفرنامہ روس /دستِ جنوں رہے نہ رہے، آستیں رہے(حصّہ نہم)۔۔سیّد مہدی بخاری

ماں سرہانے بیٹھی ماتھے پر پانی میں بھیگی ٹھنڈی پٹیاں رکھ رہی ہے۔ والد کمرے سے باہر بے چینی میں ٹہلتے رہے۔ برسات کی رات کا تیسرا پہر بیت رہا تھا۔ “تجھے کتنی بار کہا ہے کہ نہ جایا کر←  مزید پڑھیے

“کتھا چار جنموں کی” میں سے ایک اقتباس/فراق گورکھپوری سے ایک ملاقات۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پنجاب یونیورسٹی چنڈی گڑھ میں میرے رفقائے کار میں ڈاکٹر مسز نرمل مکرجی بھی تھیں، جو امریکہ کی کسی یونیورسٹی سے انگریزی کے ہندوستانی ناول نویس آر کے نارائینؔ پر ڈاکٹریٹ کر کے لوٹی تھیں۔ ان سے معلوم ہوا کہ←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/دمشق سیٹیڈل ، دمشق شہرکا موتی ہے۔(قسط2)۔۔۔سلمیٰ اعوان

رضیہ حمید نے جب واپس آکر فلسطین کے شہروں حیفہ، غزہ،رام اللہ،عکا، یروشلم وغیرہ کی گردان کی۔غزہ کی بوڑھی عورت کے زیتون کے باغ میں زیتون کے درختوں پر چڑھنے، انہیں توڑ کر گھر لانے اور دستی مشین سے تیل←  مزید پڑھیے

ماضی بُلاتا ہے۔نمل فاطمہ

کبھی انجان رستوں پر کبھی بے نام سمتوں سے صدائیں آ کے ٹکراتی ہیں جب میری سماعت سے مجھے محسوس ہوتا ہے بہت سی ان کہی باتیں جو لفظوں میں نہ ڈھل پائیں وہ میرا پیچھا کرتی ہیں ادھورے خواب←  مزید پڑھیے

کانا۔۔ربیعہ سلیم مرزا

نور تب پانچویں میں پڑھتی تھی ۔ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ۔سکول سے واپس آکر، کھانا کھاکر اور دوپہر میں کچھ دیر آرام کرکے ۔گھر کے پاس مدرسہ میں پارہ پڑھنےجاتی ۔مدرسے کے باہر برف کے گولے،آلو چنے،←  مزید پڑھیے

میں نے پوچھا تھا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہاں چھیاسی مرتبہ آیا ہے ، صدقے اور خیراتوں کی بابت ذکر ، لیکن کون ان سب آیتوں کو یاد رکھتا ہے جہاں میں؟ میں نے پوچھا تھا مبارک ماہ ہے ر مضان کا ، تم جانتے ہو شہر کے←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم(قسط1)۔۔۔سلمیٰ اعوان

سچ تو یہ تھا کہ ایک کہانی کی تخلیق کیلئے میں اپنے بھیجے کا تیل نکالنے میں کسی کولہو کے بیل کی طرح آنکھوں پر کھوپے چڑھائے چوبی ہل کے ساتھ جُتی دن رات چکر پر چکر کاٹے چلی جا←  مزید پڑھیے

گم نام موت کا ڈر۔۔احمد بٹ

شہر کے باہر ایک شاہراہ پر واقع بوسیدہ عمارت کے تیسرے فلور پر ایک چھوٹا سا کمرہ ، جس کا ایک واحد دروازہ باہر لاؤنج میں کھلتا تھا۔ کمرے میں دروازے کے بالکل سامنے والی دیوار پر ایک کھڑکی تھی←  مزید پڑھیے

“نور مقدم ” (ریاست کے نام)۔۔محمد وقاص رشید

جو نور مقدم تھی ،وہ اب بےنور اور غیر مقدم ہو چکی ہائے اک اور زندگی یہاں ہے سے تھی میں مدغم ہو چکی اک اور وحشی مرد نے یہاں خون کی ہولی کھیلی ہے ملت کی اک اور بیٹی←  مزید پڑھیے

غالب فہمی سیریز(1)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دل و جگر میں پُر افشاں جو ایک موجہ ء خوں ہے ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے ستیہ پال آنند حضور، اس شعر کی تصویر یہ بنتی ہے ذہنوں میں کہ متموج ہے اک←  مزید پڑھیے

بن بیاہی بیوہ اور معلق بوسہ۔۔سیّد محمد زاہد

Nobel laureate John Glasworthy`s SALTA PRO NOBIS written in 1923 during the interwar period is that much related to the recent Afghan conflict and its effects on society. ”مشری مورہ! وہ بہت غمگین ہے۔ اپنے ہاتھوں کے کاسہ میں منہ←  مزید پڑھیے

آئیڈینٹٹی کرائسس(My Identity Crisis)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اب بھی جب میں بھا گتا ہوں دور خود سے، اپنے ماضی سے تو لگتا ہے کہ جیسے ساتھ میرے چل رہے ہوں چرچراتے، بوڑھے تا نگوں میں جُتے مردود گھوڑے سست، مریل چال سے چلتے ہوئے مدقوق رکشے پھٹپھٹاتے،←  مزید پڑھیے

ڈس کوالیفائیڈ ٹیم(2،آخری حصّہ)۔۔عاطف ملک

اصل چار سو میٹر کی دوڑ دو سو میٹر کے بعد شروع ہوتی ہے، بل کھاتے ٹریک پراب طاقت لگائی جاتی ہے، اِدھر آخری دو سو میٹر آئے اور رفتار کی تیزی نظر آنے لگ جاتی ہے، مگر یہ خیال←  مزید پڑھیے

ڈس کوالیفائیڈ ٹیم(1)۔۔عاطف ملک

وقت رُکا تھا، تھما ہوا، شاید ہوا چل رہی تھی یا شاید رُکی تھی، شاید دھوپ تھی یا شاید بادل سورج کے سامنے تھا، اُسے کچھ علم نہ تھا۔ اُس کے ماتھے پر پسینہ تھا، دونوں بھوؤں کو تر کرتا۔←  مزید پڑھیے