میں اس اجنبی شہر میں تازہ تازہ وارد ہوا تھا۔ یہاں کی فضا نامانوس تھی اور موسم ان چھؤا پر اس اجنبیت میں بھی ایک عجیب سا بےساختہ پن تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہ سب وقت کے کسی← مزید پڑھیے
صبح میں وہاڑی کیلئے تیار ہورہا تھا تو بیگم کہنے لگی ۔ “آپ تو شاعر نہیں ،آپ کا مشاعرے میں کیا کام “؟ کیا بتاتا کہ ،میں وہ غبارہ ہوں جو محبوبہ کی سالگرہ پہ اس کے گھر جاتے ہوئے← مزید پڑھیے
نئے او- سی صاحب پہلے دن یونٹ کے معائنے پر نکلے۔ یونٹ خوب تیار کی گئی تھی، لوگ رات گئے تک یونٹ کی صفائی ستھرائی میں مصروف رہے تھے۔ یونٹ میں لگے درختوں کے تنے تین فٹ تک چونے سے← مزید پڑھیے
میں اک شاہپارہ ء قدرت ہوں ، یعنی آدمی ہوں میں جسے انسان کہتے ہیں، وہ فخر ِِ زندگی ہوں میں گناہوں میں چڑھی پروان، وہ دوشیزگی ہوں میں ہر اک شاعر کی فطرت میں ہے جو آوارگی، ہوں میں← مزید پڑھیے
اگر آپ بیوروکریٹ یا ریٹائرڈ فوجی کے پاس بیٹھیں تو آپ کو علم ہوگا کہ وہ تو ماضی میں جی رہا ہے۔ اس کے پاس آپ کو سنانے کے لیے اپنی نوکری کی کہانیاں ہوتی ہیں، وہ کہانیاں سناتا ہے،← مزید پڑھیے
(کس جرم کی پاداش میں مارا گیا ہوں) اک سر جو معلق ہے سوا نیزے پر اک سر جو کسی جسم سے کاٹا گیا تھا اک سر کہ ٹپکتے ہیں ابھی تک جس سے لو دیتے ہوۓ گرم لہو کے← مزید پڑھیے
“پَطرس میرے استاد تھے۔ ان سے پہلی ملاقات تب ہوئی، جب گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے انگلش میں داخلہ لینے کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انٹر ویو بورڈ تین ارکین پر مشتمل تھا پروفیسر ڈکنسن (صدر← مزید پڑھیے
ہند سے آئے اے ساون کے اندھے، ہرا نہ دیکھ ۔۔ یہاں پر کچھ بھی تو سر سبز نہیں ہے بادل ہے بے فیض، زمیں بے آب کہ اس کی بنجر کوکھ فقط جنتی ہےریت کے ٹیلے ہریالی کا نام← مزید پڑھیے
یک رخا شعر جلد موت سے ہم کنار ہو جاتا ہے۔چونکہ معنیاتی پہلوئوں کے بغیر اُس میں صرف ایک لفظی پرت ہوتی ہے،جو اُس کے سطحی چہرے سے فوراً پردا اٹھا دیتی ہے۔ عروس ِ سخن کا یوں عریاں ہونا← مزید پڑھیے
اختر الایمان تب باندرہ میں کین روڈ پر بینڈ اسٹینڈ بلڈنگ میں رہتے تھے۔ ہم ، یعنی میں اور فلم فوٹوگرافر شیام چڈھا صاحب، بلڈنگ کے نمبر 55 کے اپارٹمنٹ میں پہنچے، تو چڈھا صاحب کو دیکھ کر خوش ہوئے۔← مزید پڑھیے
صحن میں رینگتی، مسکین سی، مَیلی سی دھوپآ
اور منڈیر پر اک کوے کی کائیں کائیں
عود، اگر بتّی جلاتا ہوا بوڑھا پنڈت
زیر لب باتوں میں مصروف کچھ گائوں کے لوگ← مزید پڑھیے
16 دسمبر 1971 کو ملک دو لخت ہوا اور میں یعنی شہباز علی ولد نثار علی اسی سیاہ رات تولد ہوا۔ کیسا محروم بچہ جس کی پہلی چیخ کے ساتھ اس کی ماں اور دادی کی آہ و بکا بھی← مزید پڑھیے
اس نے شہر کی معروف مارکیٹ میں گاڑی روکی اور وہاں پرہجوم دیکھ کر ایک لمحے کو اس نے سوچا کہ واپس چلی جائے ۔ مگر پھر اسے والدہ کا خیال آیا ، جو پچھلے تین دن سے اس کو← مزید پڑھیے
اوّلون و التمش۔۔۔ابداع، ابجد، الفا ، بِیٹا اور پھر یکلخت ختمہ، ٹرمینل، التام، القط عشق پیدا میشود در لمحۂ گزران و استعجال شاید اور غالب زندگی اور عشق کے دورانیے کو شعشعہ میں ڈھالتا ہے۔۔ برق ہنستی ہے کہ فرصت← مزید پڑھیے
بچپن سے سنتے آئے ہیں سفر وسیلہ ظفر، لیکن کچھ سفر ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں دل گھائل ہوتا ہے اور تل تل ڈوبتا ہے۔ منزل جیسے جیسے قریب آتی جاتی ہے ، روح بدن کا ساتھ چھوڑتی محسوس← مزید پڑھیے
رن آن سطور میں لکھی گئی ایک نظم مستغیث ایک میں الفاظ کا بخیہ گر ہوں، مجھے اچھا لگتا ہے حرف و سخن کا توازن مقفیٰ، مسّجع، وہ الفاظ جن سے ترنم کی چشمک ، تغزل کا جادو سریلی، مدھُر،← مزید پڑھیے
میری طبیعت بہت دنوں سے خراب تھی اور میں انتظار کی کوفت سے خائف ہسپتال جانے سے گریزاں تھا، پر جب سینے کی دکھن بڑھی اور سانس بھی غیر متوازن ہوئی تو ہسپتال کی راہ لینی ہی پڑی۔ حسب ِ← مزید پڑھیے
خدا بخش گھبرایا گھبرایا سا تھا اتنے سارے لوگ، کچھ پڑھے لکھے، کچھ دولت کی انا میں اکڑے ہوئے، کچھ سرکاری عہدوں پر فائز آقا بنے ہوئے۔ اسے انجینئر کے کمرے تک پہنچنا تھا۔ وہ تو پانچ ایکڑ زمین کا← مزید پڑھیے
اس لیے میں نے محافظ نہیں رکھے اپنے مرے دشمن مرے اس جسم سے باہر کم ہیں پانچ دن بعد شام کے وقت وہ پرندوں کو مغربی سمت میں لوٹتا دیکھ رہی تھی ۔شاید زندگی کی طرف لوٹنے کا وقت← مزید پڑھیے
اعجاز آج خاصے خوشگوار موڈ میں تھا۔ وہ سعد کے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد پہلی مرتبہ اس کے گھر آیا تھا اور ساتھ میں بہت سے پھل، جوس کے ڈبے اور کھانے پینے کا کافی سامان بھی لے← مزید پڑھیے