ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 108 )

انا ابھی فعال ہے۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

نہیں، نہیں کہ جان کا خروج نا گزیر ہو تو ہو مگر مری انا کا ذات سے خروج ایک جھوٹ ہے بتا چکا بتا چکا، نجومیوں کو، غیب دان کاہنوں کو ہاتفوں کو، کااشفوں کو جوگیوں کو، راہبوں کو لاکھ←  مزید پڑھیے

چپڑ چپڑ۔۔سیّد محمد زاہد

”میرا خیال تھا کہ  آج وہ مجھے نظر انداز نہیں کر سکتا۔ ہائے ہائے! مجھے تو بتایا گیا تھا کہ وہ بڑا پرہیز گار ومتقی  عالم ہے۔ صرف پڑھنا پڑھانا ہی اس کا  واحد شوق ہے۔  استادالاساتذہ ہے۔ اُف اللہ!←  مزید پڑھیے

ادب نامہ۔ “ابلاغ” (مائیکرو فکشن)۔۔نیّر عامر

“یہاں آئیے! یہ دیکھیے! ہم آپ کو بتائیں گے، یہاں کتنی گندگی ہے۔ اتنے کوڑے میں کیا کیا غلاظتیں چھپی ہیں، ہم ہر ایک کی مکمل تفصیلات تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں، اگر کوئی آپ تک←  مزید پڑھیے

میری نظریہ سازی میں کیا کچھ محرک ثابت ہوا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گزشتہ صدی کی چھٹی دہائی میں میرے مطالعہ کی رفتار بہت تیز تھی۔ یونیورسٹی میں دو پیریڈ پڑھانے کے بعد میرا معمول دوپہر کو قیلولہ کرنا نہیں تھا، لائبریری میں بیٹھ کر کتابیں پڑھنا تھا۔انہی برسوں میں میں نے کروچےؔ←  مزید پڑھیے

سِکّہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میں آج بد نما، گھسا پٹا ہوا پُرانا، مَیل خوردہ سکّہ ہوں۔۔ مجھے چھُوا ہے سینکڑوں غلیظ انگلیوں کے مَیل نے مجھے بھرا گیا ہے گندی تھیلیوں میں بٹوؤں میں ٹھونس ٹھونس کر سدا مجھے دیا گیا ہے کاروبار، لین←  مزید پڑھیے

تین زاویے۔۔عنبر عابر

“کافی اداس کن تصویر ہے” میرے دوست نے سامنے میز پر پڑی تصویر کو بغور دیکھتے ہوئے افسردہ لہجے میں کہا۔تصویر میں ایک چھوٹی بچی کسی ریڑھی کے پاس کھڑی رو رہی تھی۔قریب ہی اس کا ہم عمر بچہ پلیٹ←  مزید پڑھیے

قصہ ایک پیڑ کا۔۔ادریس آزاد

اک شجر کا قصہ ہے درد کی کہانی ہے جس کی بیکراں شاخیں آسماں کو چھوتی تھیں رعب دار تھا اتنا مشک بار تھا اتنا اس کے سبز شملے کو سرفراز پتوں کو سب شجر ترستے تھے اس کی شان←  مزید پڑھیے

پیشِ نظر۔۔نیّر عامر

سرکاری ہسپتال کے زچگی وارڈ سے متصل نرسری کا اندرونی منظر ہے۔ اپنی مخصوص چرچراہٹ کے ساتھ دروازہ کھلتا ہے۔ اس آواز کے ساتھ ہی فرش پر ادھر ادھر آوارہ پھرتے چھوٹے چھوٹے چوہے، کونے کھدروں میں بنی، اپنی پناہ←  مزید پڑھیے

بسم اللہ اولہ وآخرہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

دروازہ کھلتے ہوئے ہلکی سی احتجاجی آواز نکالتا جس کا گلا گھونٹنے کے لیے ٹی وی کی آواز ضروری تھی۔ وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ چپل اتار کر ہاتھ میں تھامی اور خاموشی سے کوریڈور میں بڑھتا چلا گیا۔ کوریڈور ختم ہونے پر ٹی وی لاؤنج واقع تھا۔ قریب چار فٹ دور ہی سے وہ جھک گیا اور دبے قدموں چلتا ہوا بائیں ہاتھ پر واقع کمرے میں چلا گیا۔←  مزید پڑھیے

فریبِ اختیار۔۔عنبر عابر

میں اپنے بیٹے کے بغلوں میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے پیروں پر چلا رہا ہوں۔یہ اس کیلئے ایک نیا تجربہ ہے۔وہ چلتے ہوئے بار بار سر جھکا کر اپنے پیروں کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔شاید وہ اس نئے تجربے←  مزید پڑھیے

رات کی رانی۔۔فیصل فارانی

ہجر کے اندھیرے میں چشمِ تر کے گھیرے میں یاد کے سبھی جگنو ٹمٹماتے رہتے ہیں آنکھ میں کئی لمحے جگمگاتے رہتے ہیں رات یوں مہکتی ہے جیسے رات کی رانی چاندنی میں اِٹھلائے شبنمی سی ٹھنڈک کو خوشبوؤں میں←  مزید پڑھیے

دو افسانچے۔۔جنید جاذب

ملاقات دونوں پورا ہفتہ  اتنے مصروف رہتے تھے کہ ایک  ہی چھت کے نیچے ہوتے ہوئے بھی ملاقات سرسری اور روا  روی میں ہی ہوتی ۔ اس ویک اینڈ پہ انھوں نے  کہیں باہر ملنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں تقریباً←  مزید پڑھیے

وہ ایک ہی لڑکی تھی۔۔اقبال توروالی

وہ ایک ہی لڑکی تھی اور وہ لڑکی بھی کمال تھی۔۔ وہ جاگتے لمحوں کی انگڑائی میں قُرب کے خیالستان طغیانِ ذوق میں نگارستان حُسن جیسی پُر کشش تھی۔ درودیوار پر دمادم رقص کرتی چاندنی اور ماورائے بیان پُرخمار و←  مزید پڑھیے

تھپڑ۔۔عنبر عابر

چٹاخ کی آواز سنائی دی اور چیک پوسٹ پر موجود لمبی قطار کے سرے پر کھڑے ادھیڑ عمر شخص کا دایاں گال سرخ ہوتا گیا۔ تھپڑ سے پڑنے والا سرخ رنگ سمندر کا سا سینہ رکھتا ہے، اس میں بیک←  مزید پڑھیے

آدھا ادھورا شخص۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آدھا ادھورا شخص bi-polar یعنی دو متضاد شخصیتوں میں منقسم ایک مریض کا قصہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا روز کا معمول تھا، سونے سے پہلے باتیں کرنے اور جھگڑنے کا گلے شکوے کہ جن میں اگلی پچھلی ساری باتیں یاد کر کے←  مزید پڑھیے

بابا ڈورا۔۔محمد خان چوہدری

میر سلطان کا باپ راجہ شیر زمان شہر کا متمول زمیندار ، کامیاب سوداگر اور معزز شخصیت تھا۔قوت ِ ارادی اتنی مضبوط کہ بڑی سے بڑی مصیبت اسکے چہرے پر شکن نہ لاتی، نہ کوئی  خوشی اسکے ہونٹوں پر ہلکی←  مزید پڑھیے

ذائقہ۔۔ربیعہ سلیم مرزا

کہانی ہمیشہ سادہ ہوتی ہے، بنا کسی الجھاؤ کے،لفاظی کے بغیر ۔۔ رہا “ڈرامہ۔۔۔ تو وہ ڈراموں میں ہوتا ہے ۔ نورا  ۔۔شکورے کا چچیرا بھائی تھا۔ دونوں پیدائشی زمیندار تھے ۔دادے کی زمین مکان کے سانجھے وارث ۔ شریکا←  مزید پڑھیے

بار ِوفا۔۔پروفیسر رضوانہ انجم

مہرو نے زبیر احمد کی بریل پر پھسلتی سانولی انگلیوں کو دلچسپی سے دیکھا۔وہ تیس نابینا بچوں کو لائبریری کے پیریڈ میں بریل سے کہانی پڑھ کر سنا رہا تھا۔درمیانے سائز کے کمرے میں اسکی مردانہ آواز کا اتار چڑھاؤ،جملوں←  مزید پڑھیے

شناختی کارڑ: محمود درویش/ترجمہ: اشرف لون

لکھ لو میں ایک عرب ہوں اور میرے شناختی کارڑ کا نمبر پچاس ہزار ہے میرے آٹھ بچے ہیں اور نواں موسم ِ گرماکے بعد آئے گا کیا تم ناراض ہوجاؤ گے؟ لکھ ڈالو میں ایک عرب ہوں پتھر کی←  مزید پڑھیے

غزل پلس(13)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بول کر سب کو سنا، اے ستیہ پال آنند! بول اپنی رامائن کتھا، اے ستیہ پال آنند ! بول تو کہ کامل تھا کبھی، اب نصف سے کم رہ گیا دیکھ اپنا آئنہ ، اے ستیہ پال آنند ! بول←  مزید پڑھیے