سمندر میں تیرتی کشتی کے ساتھ سمندر میں کسی لمحے کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔ پرسکون پانیوں میں کسی وقت بھی تلاطم برپا ہو سکتا ہے اور سمندری طوفان میں چلنے والی ہوائیں کشتی کے مسافروں کے اوسان خطا← مزید پڑھیے
رنگون کے مسلمانوں نے 1905 میں درخواست کی کہ بہادر شاہ ظفر کی قبر پر نشانی لگانے کی اجازت دی جائے۔ “بطور انسان اور بادشاہ، وہ ہماری تعریف کے مستحق بے شک نہ ہوں، لیکن اس کے مستحق ضرور ہیں← مزید پڑھیے
یہ جھنڈا کسی طور پر بھی کیک نہیں ہے اس کا کیک بنا کے مت کاٹیے ۔ جب جھنڈے والا کیک ہو اور اس پہ پاکستان بھی لکھا ہو تو کیک کو کٹتے دیکھ کے جانے کیوں دل کو کچھ← مزید پڑھیے
بفضلِ الہٰی، کل پاکستان کا یومِ آزادی گزرا ہے۔ آج سے تقریباً74 سال پہلےخالقِ کائنات کی مدد و نصرت کی بدولت، ماہِ ررمضان کی بابرکت ساعتوں کے جھرمٹ میں 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب ، آزادی ءِ پاکستان← مزید پڑھیے
آج کی مجلس میں طالب علم نے غلامی کے طویل دور کی وضاحت چاہی۔ ابوالحسن نے کہا۔دیکھ، انسان کی ترقی انسان کے لیے دشمن ثابت ہو گی۔ انسان چھوٹی چھوٹی مشینوں کا اس قدر عادی ہو جائے گا کہ ان← مزید پڑھیے
اسلامی عقائد کو سمجھنے کے لیے مسلمانوں کے مکاتب فکر اور ان کی روشوں کا علم ہونا انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اکثر لوگ عقائد کے معاملے میں مسلمانوں کے مکاتب فکر اور ان کی روشوں سے آگاہ نہیں← مزید پڑھیے
کئی کہانیاں لکھنے کے بعد بھی مجھے ذرا سی بھی شہرت نہیں مل سکی تھی۔ میری کہانی کو دس بارہ لوگ ہی پڑھتے تھے اور میرے نام کو دو چار لوگ ہی جانتے تھے۔ پر اب مجھے اس الجھن کی← مزید پڑھیے
پرانے زمانے میں کسی دشوار گزار جگہ ایک ادھیڑ عمر خاتون رہتی تھی۔اس کی جھونپڑی میں پانی کے دو ہی پرانے سے برتن تھے جن میں وہ روز دور ندی سے خود جا کر پانی بھر کر لاتی تھی اور← مزید پڑھیے
اسے غلامی کا بہت شوق تھا۔ شاید اس لیے کہ اسے آزادی سے نفرت تھی۔ اسی لئے اس نے خود کو بری طرح جکڑا ہوا تھا۔ اس کا جسم چست پتلون اور کالے کوٹ تلے قید تھا۔ اس کی زبان← مزید پڑھیے
میں آج برسوں بعد اپنی مٹی کی طرف رختِ سفر تھا۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے۔ جب میں نے آخری بار اپنی مُقدس مٹی کو چُھوا تھا۔۔ لیکن پھر مجھے یہ سعادت برسوں نصیب نہ ہو سکی۔ میں← مزید پڑھیے
گلی کی نکڑ پر کھڑے ، دیوار سے ٹیک لگائے پچھلے بیس منٹ سے وہ اپنی بات دہرائے جارہا تھا کہ کچھ کریں۔ گردو پیش سے بیگانہ ، میری آنکھوں میں موجود بے بسی سے نظریں ملائے بغیر اپنی ہی← مزید پڑھیے
آزادی کا اعلان ہو چکا تھا۔ ہندوستان سے مہاجرین قافلوں کی صورت میں مملکت خدادا پاکستان کو آباد کرنے پہنچ رہے تھے۔ فسادات کی آگ میں کسی قافلے کا خیر و عافیت کے ساتھ پہنچنا کسی معجزے سے کم نہ← مزید پڑھیے
بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947ء کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: آپ دیکھیں گے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ,ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان،مسلمان نہیں رہیں گے۔مذہبی معنوں میں نہیں کیونکہ← مزید پڑھیے
30 اکتوبر 2019 کی ایک ٹھٹھرتی ہوئی شام تھی۔ ملٹی سٹوری بلڈنگ خالی ہوچکی تھی۔ سکیورٹی گارڈز بھی جانے کی تیاریوں میں تھے۔ اچانک سٹیو کے فون پر ایک میسج آیا ۔اس نے باقی سکیورٹی گارڈز کو مخاطب کرتے ہوئے← مزید پڑھیے
آج کی مجلس میں طالب علم نے انسان کے حقوق کی بات کی اور کہا۔زمین پر رہنے کا مسئلہ انسان کے حقوق سے حل ہو سکتا ہے۔ ابوالحسن نے کہا۔نہیں طالب علم نہیں۔ اب تو انسان کو کوئی حق حاصل← مزید پڑھیے
جب دہلی گرا تو نہ صرف شہر اور مغلیہ دربار بلکہ مغلوں کے ساتھ منسلک سیاسی اور کلچرل خوداعتمادی اور اتھارٹی بھی۔ جس قدر فاش شکست تھی اور جس قدر بڑی تباہی اور جس قدر ذلت، اس نے نہ صرف← مزید پڑھیے
آج کچھ پل تنہائی میں بیٹھ کر سوچیئے گا ہم نے یہ الگ وطن کس مقصد کے لیے حاصل کیا تھا۔ کیا اس لیے کہ شاندار اور سٹیٹ آف دی آرٹ اپنی الگ عبادت گاہیں بنا سکیں۔ لیکن فقیدالنظیر مسجدیں← مزید پڑھیے
اس آزاد وطن کے لیے جدوجہد و قربانیوں کی لازوال داستانوں کی بابت سب ہی کچھ نہ کچھ جانتے ہوں گے۔ ان کو دہرانے کی بجائے آج میں آپ کی توجہ برما جو اب میانمار کہلاتا ہے اور جہاں ہندوستان← مزید پڑھیے
وہ اٹھا اس نے زمین کو ٹھوکر ماری ،آسمان کی جانب دیکھا اور منظرسے غائب ہوگیا۔۔ اس کا سفر 73 سال قبل شروع ہوا تھا۔۔ 14 اگست 1947 کو وہ اس ٹرین میں سوار تھا جس میں ہندوؤں اور سکھوں← مزید پڑھیے
آزادی ایک احساس کا نام ہے۔ آزادی کی وادی میں داخل ہونے کے بعد اسکی لذت محسوس کرنے اور اس سے مستفید ہونے سے دل و دماغ کو جو سکون محسوس ہوتا ہے وہی اصل آزادی ہے۔ آزادی ایک ایسا← مزید پڑھیے